بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 6: عہد حسن و معاویہ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

حضرت معاویہ اور باغی پارٹیاں

خلیفہ بننے کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے دو باغی پارٹیاں موجود تھیں: خوارج اور بقیہ قاتلین عثمان۔ ان میں سے خوارج زیادہ منظم اور پر تشدد تھے۔ بقیہ باغیوں کے اہم لیڈر مارے جا چکے تھے اور ان سب نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی اطاعت قبول  کر لی تھی۔ اس وجہ سے حضرت معاویہ نے سب سے پہلے خوارج کی بیخ کنی کی۔ اس جنگ کا آغاز بھی خوارج ہی کی طرف سے ہوا اور انہوں نے کوفہ پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے اہل کوفہ کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اس کے بعد ان سے جنگوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس میں خوارج کو پے در پے شکستیں دے کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عراق میں امن قائم کیا۔

باغیوں کے دوسرے گروپ کی بصرہ شاخ کا تو اسی وقت خاتمہ ہو چکا تھا جب حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کی سرکوبی کی تھی۔ مصر میں ان کی پارٹی کا حضرت عمرو بن عاص اور معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہما نے خاتمہ کر دیا تھا۔ چنانچہ اب یہ ہر طرف سے سمٹ سمٹا کر کوفہ میں آ گئے اور اسے اپنا مرکز بنا لیا۔ انہوں نے اپنی سرگرمیاں خفیہ رکھیں اور اندر ہی اندر اپنی پارٹی کو منظم کر نا شروع کر دیا۔ انہوں نے حضرات حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی لیکن اس میں ناکام رہے۔  اس ضمن میں ہم اخبار الطوال کی ایک روایت اوپر پیش کر چکے ہیں جس کے مطابق باغی پارٹی کے حجر بن عدی نے ان دونوں حضرات کو قائل کرنے کی کوشش کی لیکن ان حضرات  نے ان کی بات نہ مانتے ہوئے مسلمانوں کے اتفاق و اتحاد کو فوقیت دی۔ 

اب باغی پارٹی کو ان کے قائدین نے از سر نو منظم کرنا شروع کر دیا اور کم و بیش دس بارہ سال تک خفیہ کام کرتے رہے۔ اس کی تفصیلات خود ہشام کلبی اور ابو مخنف نے بیان کی ہیں اور چونکہ یہ گھر کی گواہی ہے، اس وجہ سے قابل اعتماد سمجھی جا سکتی ہے۔   ہو سکتا ہے کہ ابو مخنف نے اپنے زمانے کی باغی پارٹی کے خون کو گرمانے کے لیے یہ تفصیلات بیان کی ہوں اور طبری نے انہیں نقل کر دیا ہو۔ 41/660 میں حضرت معاویہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا تھا اور آپ دس برس اس عہدے پر قائم رہے تھے۔  آپ نے باغی پارٹی کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کیا اور ان پر زیادہ سختی نہ کی۔آپ کا مقصد یہ تھا کہ ان لوگوں کو نرمی سے ڈیل کیا جائے تاکہ یہ کوئی بغاوت برپا نہ کریں۔  حضرت مغیرہ کا طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے باغی پارٹی کے معروف لیڈروں کو اس بات کا پابند کر رکھا تھا کہ وہ ہر نماز مسجد میں ان کے ساتھ ادا کریں۔ اس طرح آپ ان پر نظر رکھتے تھے۔ اپنی گورنری کے آخری زمانے میں ایک مرتبہ خطبہ  دیتے ہوئے  حضرت مغیرہ نے فرمایا:

اے اللہ ! عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر رحم فرما۔ ان سے درگز کر اور ان کی نیکیوں کی انہیں جزا دے۔ انہوں نے تیری کتاب پر عمل کیا اور تیرے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا اتباع کیا۔ انہوں نے ہم لوگوں میں اتفاق قائم رکھا ، ہم میں خونریزی نہ ہونے دی اور ناحق شہید کیے گئے۔ اے اللہ! ان کے انصار، ان کے دوستوں، ان سے محبت کرنے والوں اور ان  کے خون کا قصاص لینے والوں پر رحم فرما۔ اس کے بعد آپ نے حضرت عثمان کے قاتلوں کے لیے بددعا فرمائی۔

یہ سن کر حجر بن عدی کھڑے ہو گئے اور مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر ایک نعرہ بلند کیا کہ مسجد میں جتنے لوگ بیٹھے تھے اور جو باہر تھے، انہوں نے سنا۔   حجر نے کہا: "کس شخص کے دھوکے میں تم آ گئے ہو۔ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ بڑھاپے کے سبب اس کی عقل جاتی رہی ہے۔ اے شخص! ہماری تنخواہوں اور عطیوں کو جاری کرنے کا اب حکم دو۔ تم نے ہمارا رزق بند کر رکھا ہے، اس کا تمہیں کیا اختیار ہے؟تم سے پہلے جو حکام گزرے، انہوں نے تو کبھی اس کی طمع نہیں کی۔ تم نے امیر المومنین (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کی مذمت اور مجرمین کی ستائش کا شیوہ اختیار کیا ہے۔" یہ سن کر مسجد میں دو تہائی سے زیادہ آدمی اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے: "واللہ! حجر نے سچ کہا اور نیکی کی۔ ہماری تنخواہوں اور عطیات کے جاری کر دینے کا حکم دو۔"[1]

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے زیادہ تعرض نہ کیا اور منبر سے اتر گئے۔ 51/670 میں ان کی وفات ہوئی تو کوفہ زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے ماتحت آ گیا۔ زیاد نے بھی کوفہ آ کر جو پہلا خطبہ دیا، اس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں  پر لعنت بھیجی۔ حجر بن عدی نے ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو وہ اس سے پہلے حضرت مغیرہ کے ساتھ کر چکا تھا۔ زیاد نے عمرو بن حریث کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور بصرہ چلے گئے۔ بعد میں پتا چلا کہ حجر بن عدی کے پاس باغی پارٹی کا مجمع لگا رہتا ہے اور یہ لوگ اعلانیہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر لعنت بھیجتے ہیں۔  انہوں نے عمرو بن حریث پر بھی مسجد میں کنکریاں اور سنگریزے برسائے ہیں۔  زیاد اب خود کوفہ گئے اور انہوں نے  پہلے جلیل القدر صحابہ حضرت عدی بن حاتم، جریر بن عبداللہ بجلی اور خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہم کے ذریعے حجر کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن حجر نے ان سے نہایت بدتمیزی کی۔

طبری ہی کی دیگر روایت کے مطابق حجر بن عدی نے باقاعدہ بغاوت کر دی اور پولیس سے مقابلہ کیا۔ ان کے اکثر ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے اور وہ فرار ہو کر مالک الاشتر کے بھائی عبداللہ بن حارث کے گھر جا چھپے۔ یہاں ایک لونڈی کی مخبری کی۔ حجر نے گرفتاری کے لیے شرط یہ عائد کی کہ مجھے شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا جائے۔ زیاد نے اس شرط کو منظور کیا اور انہیں گرفتار کر لیا۔ دو باغی عمرو بن حمق اور رفاعہ بن شداد کوفہ سے فرار ہو کر شمالی عراق  میں موصل  کے پاس پہنچے اور ایک پہاڑی غار میں چھپ گئے۔ یہاں قریبی گاؤں کے لوگوں کو علم ہوا تو انہیں گرفتار کر کے موصل کے گورنر کے پاس پیش کیا۔ ان دونوں کو قتل کر دیا گیا۔ دیگر بہت سے باغی بھی فرار ہو کر ادھر ادھر بھاگے۔ زیاد نے ان کا تعاقب کروا کر انہیں گرفتار کیا۔  انہوں نے پھر پورے واقعے کی تحقیقات کروائیں اور لوگوں کی گواہیاں اکٹھی کیں۔  ابو مخنف نے ان تمام گواہوں کے نام بھی درج کیے ہیں اور ان میں حضرت وائل بن حجر، خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ  اور موسی بن طلحہ اور ابوبردہ رحمہما اللہ جیسے جلیل القدر تابعین بھی شامل ہیں۔

زیاد نے ان باغیوں کو گرفتار کر کے شام بھجوایا اور ساتھ ہی تمام تفصیلات بشمول گواہیوں کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجیں۔ اب ان کے پاس سفارشیوں نے سفارشیں کرنا شروع کر دیں اور حجر اور ان کے ساتھیوں کو معاف کر دینے کا مطالبہ کیا۔ حضرت معاویہ نے تمام تحقیقات کا جائزہ لیا اور پھر حجر کو سات ساتھیوں سمیت موت کی سزا دی اور ان کے سات ساتھیوں کو معاف کر دیا۔ اس طرح سے اس بغاوت کے سرکردہ لوگ اپنے انجام کو پہنچے اور یہ پھول بن کھلے ہی مرجھا گیا۔

باغیوں کے ساتھیوں نے اس واقعے کو خوب نمک مرچ لگا کر پیش کیا اور حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں کے قتل کو ظلم قرار دیا۔ انہوں نے مرثیے کہے اور باغیوں  کی اگلی نسلوں کو بھڑکایا۔  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آج کے دور کے کسی بھی ملک میں کوئی باغی تحریک منظم کرے اور حکومت کے خلاف تحریک چلائے  اور فتنہ و فساد پھیلانے کی کوشش کرے تو حکومت کیا اسے پھولوں کے ہار پہنائے گی؟  ظاہر ہے کہ  اسے سزا ہی دی جائے گی اور یہ جرم کی مناسبت سے ہو گا۔ عام طور پر حکومتیں باغیوں کے بڑے لیڈروں کو موت کی سزا دیتی ہیں اور چھوٹے موٹے ورکروں کو کم سزا دیتی ہیں یا پھر معاف کر دیتی ہیں تاکہ باغی تحریک زیادہ پھلے پھولے نہیں۔ اس وجہ سے  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر نہ تو شرعاً کوئی اعتراض کیا جا سکتا ہے اور نہ عقلاً۔

بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ طبری کی روایت کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس قتل پر تنقید کی اور فرمایا: "اے معاویہ! آپ کو حجر کو قتل کرتے ہوئے خدا کا خوف نہ ہوا؟" یہ روایت ابو مخنف کی ہے اور انہوں نے حسب عادت اپنے الفاظ سیدہ کی طرف منسوب کیے ہیں۔ [2] ظاہر ہے کہ سیدہ کو حکومت کی بجائے ان باغیوں سے کیا ہمدردی ہو سکتی تھی جن میں سے بعض حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ کی شہادت میں بلا واسطہ یا بالواسطہ شریک تھے اور انہی باغیوں کے خلاف سیدہ خود بھی جنگ جمل میں اقدام کر چکی تھیں۔

اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدہ نے عبدالرحمن بن حارث کو پیغام دے کر حضرت معاویہ کے پاس بھیجا تھا لیکن جب وہ پہنچے تو حجر اور اس کے ساتھی قتل ہو چکے تھے۔ عبدالرحمن نے کہا: "ابو سفیان کا سا حلم جو آپ میں تھا، وہ آپ نے کب چھوڑ دیا۔" حضرت معاویہ نے جواب دیا: "جب سے آپ جیسے اہل حلم نے مجھے چھوڑ دیا۔" ممکن ہے کہ یہ بات درست ہو۔ شاید سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خیال رہا ہو کہ حجر بن عدی کو سزا دینا سیاسی حکمت کے خلاف ہے کہ اس کے قتل سے بغاوت اور بھڑک اٹھے گی چنانچہ انہوں نے حضرت معاویہ کو حلم اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ ابن عبد البر نے سیدہ کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: "حجر اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں آپ میں ابو سفیان والا حلم کہاں چلا گیا؟ آپ نے ایسا کیوں نہ کیا کہ انہیں قید خانوں میں بند رکھتے اور طاعون کا شکار ہونے دیتے۔"[3] ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ سیدہ یہ چاہتی تھیں کہ حجر کے قتل کا الزام حضرت معاویہ پر نہ آئے تاکہ ان کے خلاف بغاوت نہ بھڑکے۔ یہ ایک سیاسی مشورہ ہو سکتا ہے ، لیکن شرعی اعتبار سے حجر کا قتل ایک بالکل درست معاملہ تھا۔ جس شخص نے بغاوتی تحریک منظم کی ہو اور فتنہ و فساد پھیلایا ہو، اسے قانون کے مطابق سزا دینے میں کیا چیز مانع ہو سکتی ہے؟

بعض باغیوں نے حجر بن عدی کے مرتبے کو بڑھانے کے لیے انہیں مرتبہ صحابیت پر فائز کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے۔  ابن حجر عسقلانی (773-852/1371-1448)نے صحابہ کرام سے متعلق اپنے مشہور انسائیکلو پیڈیا "الاصابہ من تمییز الصحابہ" میں حجر کو صحابہ میں شمار نہیں کیا۔ ابن الاثیر الجزری (555-630/1160-1233)نے اپنی کتاب "اسد الغابہ" میں ایسا کیا ہے لیکن انہوں نے اس بات کی کوئی سند پیش نہیں کی کہ حجر صحابہ میں شمار ہوتے ہیں یا نہیں۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  طبری۔ 4/1-83

[2]  ایضاً۔ 4/1-101

[3]  ابن عبد البر۔ 1/198۔ باب حجر بن عدی۔