بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 6: عہد حسن و معاویہ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

بیت المال میں کرپشن کی تہمت

یہ  ایک ایسی تہمت ہے جو باغی راویوں نے چند  روایتیں گھڑ کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر عائد کی ہے۔ تاریخ کی کتب میں ایسی روایات  کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جن میں ایسی کوئی بات ہے جس کی بنیاد پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ تہمت عائد کی گئی ہے اور جب ہم ان روایتوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ان سب  کی سند میں کوئی نہ کوئی ایسا راوی نکلتا ہے جس کا تعلق اسی باغی تحریک سے ہو۔ حضرت معاویہ کے زمانے میں بہت سے جلیل القدر صحابہ ابھی زندہ تھے۔ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما بھی آپ کے دور میں موجود تھے۔ اگر حضرت معاویہ،  نعوذ باللہ  کوئی بدعنوانی کرتے تو یہ حضرات ان کا ہاتھ پکڑتے یا انہیں کم از کم تنبیہ تو کرتے۔  لیکن ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے۔ اب ہم ان تمام روایات کا ایک ایک کر کے جائزہ لیتے ہیں۔

تاریخ طبری میں اس ضمن میں صرف  ایک واقعہ ہمیں مل سکا ہے، جو ہم یہاں بیان کر رہے ہیں:

(جنگ اشل  جو شمال مغربی ایران کے علاقے میں ہوئی تھی، کے بعد) حکم اپنی راہ سے الگ ہو کر ہرات (موجودہ افغانستان) کی طرف  چلے آئے تھے۔ پھر یہاں سے مرو (موجودہ ایران) کی طرف پلٹ گئے۔ زیاد (بن ابی سفیان گورنر ایران) کو مال غنیمت  کی خبر پہنچی تو حکم کو لکھا: "امیر المومنین نے مجھے لکھ بھیجا ہے کہ سونا چاندی اور تمام نادر اشیاء ان کے لیے نکال لی جائیں۔ جب تک یہ چیزیں نکالی نہ جائیں، ہرگز ہرگز مال غنیمت میں تصرف نہ کرنا۔ " حکم نے اس کے جواب میں لکھا: "آپ کا خط ملا، آپ نے کہا ہے کہ امیر المومنین نے آپ کو لکھ بھیجا ہے کہ سونا چاندی اور تمام نادر اشیاء ان کے لیے نکال لی جائیں۔ جب تک یہ چیزیں نکالی نہ جائیں، ہرگز ہرگز مال غنیمت میں تصرف نہ کرنا۔ اللہ عزوجل کا حکم امیر المومنین کے حکم سے پہلے آ چکا ہے ۔ واللہ! خدا سے ڈرنے والے کے لیے زمین و آسمان کی راہیں بند بھی ہو جائیں، جب بھی حق سبحانہ وتعالی اس کے لیے کوئی راستہ نکال ہی دے گا۔ " پھر لوگوں سے کہا کہ اپنا اپنا مال غنیمت لے لو۔ سب لوگ آئے۔ حکم نے 1/5 حصہ الگ کر کے تمام مال غنیمت لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ اس پر زیاد نے ان کو لکھا: "اگر میں زندہ رہا تو تمہارے ٹکڑے اڑا دوں گا۔ " حکم نے دعا کی: "یا رب! تیرے پاس آنے میں میرے لیے بہتری ہو تو مجھے بلا لے۔" اس کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔[1]

اس واقعے کو بیان کر کے  بعض لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مال غنیمت میں سے سونا چاندی اور نوادرات اپنے لیے الگ کروا لیتے تھے حالانکہ یہ تاثر سرے سے غلط ہے۔  اس سلسلے میں چند نکات قابل غور ہیں:

1۔ واقعے کی سند طبری میں یہ بیان ہوئی ہے: حدثني عمر، قال: حدثني حاتم بن قبيصة، قال: حدثنا غالب ابن سليمان، عن عبد الرحمن بن صبح۔  تینوں راوی حاتم بن قبیصہ، غالب بن سلیمان اور عبد الرحمن بن صبح کے حالات نامعلوم ہیں۔ ان کے بارے میں فن رجال کے انسائیکلو پیڈیاز میں کوئی معلومات موجود نہیں ہیں جن سے اندازہ ہو سکے کہ یہ کون لوگ تھے، کس درجے میں قابل اعتماد تھے اور کیا ان کا کوئی تعلق باغی تحریک سے تھا؟

2۔ کتب تواریخ میں یہ ایک ہی واقعہ ہے اور اس کے علاوہ کوئی ایسا واقعہ نہیں ملتا ہے جس میں ایسا حکم دیا گیا ہو۔

3۔ ابن کثیر نے  یہ وضاحت کی ہے کہ اس سونا چاندی وغیرہ کو حضرت معاویہ کی ذات کے لیے نہیں بلکہ بیت المال کے لیے الگ کرنے کا حکم تھا تاکہ اسے عام لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔ [2] اس کی وجہ یہ تھی کہ جبل اشل کی جس قوم کے ساتھ جہاد کیا گیا تھا، ان کے ہاں سونا اتنی کثرت سے موجود تھا کہ ان کے برتن بھی سونے کے تھے۔ شرعی قاعدہ ہے کہ جنگ کے دوران دشمن سے جو مال غنیمت حاصل ہو، اس کا 1/5 بیت المال میں جمع کر دیا جائے اور 4/5 فوج میں تقسیم کر دیا جائے۔  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اندازہ ہو گا کہ یہ سونا چاندی  مل کر 1/5 کے برابر ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ اس موقع پر بیت المال میں سونے چاندی کی کمی واقع ہو گئی ہو، جس کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا ہو۔

4۔ طبری کی روایت کے مطابق یہ حکم حضرت معاویہ نے نہیں بلکہ ایران کے گورنر زیاد بن ابی سفیان نے دیا تھا۔ روایت میں ان کے خط کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ راوی نے اپنے الفاظ میں  بات کی ہے اور بات کو بالکل مجمل انداز میں بیان کرتے ہوئے کوئی اضافی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

اس تجزیے کے بعد صرف وہی شخص حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بدگمانی کر سکتا ہے جسے ایسا کرنے کی عادت ہو۔ ظاہر ہے کہ جس شخص کے نزدیک بدگمانی ایک جائز فعل ہو، وہ تو معمولی سے نکتے سے رائی کا پہاڑ کھڑا کر دے گا لیکن جس شخص کے دل میں ذرا سا بھی خوف خدا ہو، وہ محض اس ایک روایت کی بنیاد پر بدگمانی کو جگہ نہ دے گا۔ اس کے برعکس طبری ہی میں ہمیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ملتی ہے جو آپ اپنے گورنروں کو فرماتے تھے۔ اس سے آپ کی پالیسی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

عبیداللہ کی بات سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے والی خراسان مقرر کیا  اور پھر یہ فرمایا: "آپ کے لیے بھی میرے وہی احکام ہیں جو دوسرے عہدے داروں کے لیے ہیں۔ اس کے علاوہ قرابت کے لحاظ سے آپ کو میں وصیت کرتا ہوں کہ آپ  کا میرے ساتھ خاص رشتہ ہے۔

·       کم کے لیے زیادہ کو ہرگز نہ چھوڑیے۔

·       اپنے نفس کا محاسبہ اپنے ہی نفس سے کیجیے۔

·       آپ کے اور آپ کے دشمن کے درمیان جو معاملہ ہو، اس میں وعدے کی پابندی کیجیے کیونکہ اس سے آپ پر اور آپ کے ذریعے ہم پر بوجھ کم پڑے گا۔

·       لوگوں کے لیے اپنا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھیے کہ آپ کو ان کے حالات معلوم ہوتے رہیں گے۔ وہ اور آپ برابر ہیں۔ 

·       جب کسی مہم کا قصد کیجیے تو لوگوں پر اسے ظاہر کر دیجیے  لیکن کسی مفاد پرست کا اس میں دخل نہ ہونے پائے۔ جب اس مہم کو انجام دینا آپ کے لیے ممکن ہو تو ہرگز کوئی (مفاد پرست) آپ کی بات کو مسترد نہ کر پائے۔

·       جنگ میں اگر دشمن زمین کے اوپر آپ پر غالب بھی ہو جائیں تو یہ سمجھ رکھیے کہ زمین کے اندر وہ آپ پر غالب نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ کے رفقاء پر ایسا وقت پڑے جائے کہ اپنی جان سے آپ کو ان کی مدد کرنا پڑے تو ایسا ہی کیجیے۔ کند تلوار بھی اگر کاٹ نہ سکتی ہو، تو اسے قبضے سے الگ نہ کیجیے (یعنی ہر صورت مقابلہ جاری رکھیے۔)

·       اللہ سے ڈرتے رہیے اور اس سے بڑھ کر کسی چیز کو نہ سمجھیے کہ خوف خدا میں بے شک ثواب ہے۔

·       اپنی آبرو کو داغ سے بچائے رکھیے اور کسی سے جب وعدہ کریں تو اسے پورا کیجیے۔ 

·       اپنے کسی ارادے کو پختگی سے پہلے ظاہر نہ کیجیے لیکن جب ظاہر ہو جائے تو پھر کسی کو اس کی مخالفت نہ کرنے دیجیے۔

·       جب دشمن سے لڑائی چھڑ جائے تو جتنی فوج آپ کے پاس ہے، اس سے زیادہ کا انتظام کیجیے (یعنی ریزرو افواج رکھیے۔)

·       مال غنیمت کی تقسیم قرآن کے مطابق کیجیے اور کسی کو ایسی چیز کا لالچ نہ دیجیے جس کا وہ مستحق نہ ہو۔ اور نہ ہی کسی کو اس کے حق سے مایوس کیجیے۔[3]

روایت کے الفاظ سے واضح ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی پالیسی، اپنے سے پہلے خلفاء راشدین سے مختلف نہ تھی۔ اسی کی روشنی میں دیگر روایات کو دیکھنا چاہیے اور جس روایت میں باغی راویوں نے آپ کے خلاف بغض کا اظہار کیا ہو، اسے مسترد کر دینا چاہیے۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر تہمت لگاتے ہوئے ایک اور روایت  بیان کی جاتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ حضرت معاویہ بے تحاشا مال صرف کر کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں، آپ بھی ایسا ہی کیجیے۔ انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ میں ایسے ناورا طریقوں سے کامیابی حاصل کروں۔ اس روایت کا جھوٹ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زبان سے نہج البلاغہ میں یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں:

کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ معاویہ تو تند مزاج جفا کاروں کو دعوت دیتے ہیں اور وہ بغیر کسی بخشش اور عطیہ کے ان کی پیروی کرتے ہیں۔ میں تمہیں تمہارے مقرر کردہ عطیات کے علاوہ مزید رقم بھی دیتا ہوں، پھر بھی تم مجھ سے الگ ہوئے جاتے ہو۔  [4]

طبری میں ہے:

حضرت علی جب اہل بصرہ کی بیعت سے فار غ ہوئے تو انہوں نے بیت المال کا جائزہ لیا۔ اس میں ساٹھ لاکھ درہم سے زائد رقم موجود تھی جو انہوں نے ان لوگوں میں تقسیم کر دی جو آپ کے ساتھ جنگ میں شریک تھے۔ ہر شخص کے حصے میں پانچ پانچ سو کی رقم آئی۔ پھر ان سے فرمایا: "اللہ تعالی شام میں آپ لوگوں کو فتح یاب کرے تو اتنی ہی رقم عطیات کےعلاوہ تمہیں ملے گی۔"[5]

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین کے خلاف لوگوں کے جذبات اس قدر شدید تھے کہ وہ بغیر کسی معاوضے کے لالچ کے، حضرت معاویہ کے پاس آ کر ان کی فوج میں دھڑا دھڑ شامل ہو رہے تھے۔ دوسری جانب باغی تحریک کے لوگوں کا مقصد چونکہ محض مال و دولت اکٹھا کرنا تھا، اس وجہ سے وہ حضرت علی سے عطیات تو وصول کرتے تھے مگر آپ کے ساتھ شریک نہ ہوتے تھے۔ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں ہی نے بیت المال میں خیانت نہیں فرمائی۔ ان دونوں حضرات نے  جس کسی کو جو بھی عطیات دیے، وہ عین اسی اصول کے مطابق تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے جاری تھا۔  ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ اسلام  کے نظام معیشت کا مقصد ہی  دولت کی تقسیم تھا تاکہ ہر ہر شخص کی ضرورتیں پوری ہو سکیں۔ تمام خلفاء راشدین کا یہ دستور تھا کہ وہ بیت المال کی رقم کو زیادہ سے زیادہ تقسیم کرتے تھے تاکہ ہر ہر شخص تک مال پہنچ سکے۔ قبائلی سرداروں کے بارے میں جو تواریخ میں ذکر ملتا ہے کہ انہیں اتنے لاکھ یا اتنے ہزار درہم ملے تو یہ رقم ان کی ذات کے لیے نہیں بلکہ اپنے قبیلے کے لوگوں میں تقسیم کے  لیے دی جاتی تھی۔ اس کے لیے وہ باقاعدہ رجسٹروں میں اندراج کرتے تھے اور حکومت کی جانب سے اس کا آڈٹ کیا جاتا تھا۔ حضرت عثمان، علی اور معاویہ رضی اللہ عنہم نے  اپنے اپنے زمانوں میں اسی دستور کو جاری رکھا۔ ریگولر آرمی اور سول سروس کے ساتھ ساتھ ریزرو افواج موجود رہتیں اور انہی کے لیے قبائلی سرداروں اور خاندانوں کے سربراہوں کو لاکھوں کی مقدار میں عطیات دیے جاتے۔ 

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  طبری۔ 4/1-82

[2]  ابن کثیر ۔ 11/169

[3]  طبری۔ 41-/112

[4]  سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خطبہ 180۔

[5]  طبری۔ 3/2-160