بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 6: عہد حسن و معاویہ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

حضرت علی پر سب و شتم

سب و شتم کا مطلب ہے برا بھلا کہنا۔ عربی میں ان الفاظ کا مفہوم وسیع ہے اور اس میں تنقید بھی شامل ہے۔  یہ تنقید سخت الفاظ میں بھی ممکن ہے اور نرم الفاظ میں بھی۔ اس میں گالی دینے کا مفہوم بھی شامل ہے اور نرم انداز میں ناقدانہ تبصرے کا بھی۔

باغی راویوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ تہمت عائد کی ہے کہ ان کے زمانے میں وہ اور ان کے مقرر کردہ گورنر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے خطبہ کے دوران معاذ اللہ گالیاں دیا کرتے تھے۔  اس تہمت کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ بنو امیہ کے خلاف نفرت پیدا کر کے اپنی پارٹی کے نوجوانوں کو مشتعل کیا جائے۔ اس تہمت کا جھوٹ صرف اتنی سی بات سے واضح ہو سکتا ہے کہ اگر آج کے دور میں کوئی خطیب کسی بھی صحابی کے بارے میں یہ حرکت کرے تو کیا سننے والے اسے چھوڑ دیں گے؟  ہمارے ہاں تو اس مسئلے پر بارہا کشت و خون کی نوبت آ جاتی ہے۔ اس دور میں جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اپنی اولاد موجود تھی اور ان کے زمانے میں یہ حرکت کی گئی تو کیا یہ حضرات معاذ اللہ ایسے غیرت مند تھے کہ انہوں نے اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس وقت ان کی غیرت کہاں چلی گئی تھی؟

کیا ہم یہ تصور کر سکتے ہیں کہ آزادی اظہار کے اس دور میں اگر کوئی حکمران یہ رسم جاری کرے کہ جمعہ کے خطبوں میں منبر پر کھڑے ہو کر اپوزیشن کے فوت شدہ راہنماؤں کو  گالیاں دی جائیں؟ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کا رد عمل کیا ہو گا؟ کیا اس طرح وہ حکمران بغیر کسی مقصد کے اپنے خلاف مزاحمتی تحریک پیدا نہ کرے گا؟ ہم کسی بھی ایسے حکمران کے بارے میں یہ تصور نہیں کر سکتے جس میں عقل کا ذرا سا بھی شائبہ ہو۔  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے غیر معمولی تدبر، حلم اور سیاست کو  ان کے مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں۔ کیا ان سے اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ جنگ کی جس آگ کو انہوں نے اپنے حلم اور تدبر سے ٹھنڈا کیا تھا، وہ اسے ایک لایعنی  اور فضول حرکت سے دوبارہ بھڑکا دیں۔  پھر یہ حرکت پورے عالم اسلام کی مساجد میں عین جمعہ کے خطبے میں انجام دی جائے اور اس کے رد عمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی کی غیرت جوش نہ مارے اور کوئی مزاحمتی تحریک تو کجا یا کم از کم تنقید ہی ان حضرات کی جانب سے سامنے نہ آئے۔ اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب و شتم محض باغی راویوں کے ذہنوں میں تھا، جسے انہوں نے اپنے زمانے کے باغیوں کو بھڑکانے کے لیے روایات کی شکل میں بیان کیا۔

ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے۔ عربی میں لفظ ’’سبّ‘‘ کا مطلب صرف گالی دینا ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ زیادہ وسیع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً اگر ایک شخص ، دوسرے کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے اس پر تنقید کرے اور اپنے دلائل پیش کرے، تو اسے بھی ’سبّ‘ کہہ دیا جاتا ہے۔  اس طرح کا ’سبّ‘ ہمارے ہاں بہت سے لوگ ایک دوسرے کے لیے کرتے ہیں اور کوئی برا نہیں مانتا۔  صحیح مسلم کی ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے دوران لوگوں کو ایک تالاب کا پانی پینے سے منع فرمایا۔  دو افراد نے اس حکم کی نافرمانی کی تو آپ نے ان پر ’سبّ‘ فرمایا۔[1]  ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی شخص یہ بدگمانی نہیں کر سکتا کہ آپ نے انہیں معاذ اللہ گالیاں دی  ہوں گی۔ اس حدیث کا مطلب یہی ہے کہ آپ نے ان پر تنقید فرمائی ہو گی اور انہیں اپنی اصلاح کا کہا ہو گا۔

ممکن ہے کہ کسی  شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پالیسی پر تنقید کی ہو، تو ان راویوں نے ا س پر یہ بہتان گھڑ لیا کہ وہ معاذ اللہ حضرت علی کو گالیاں دیا کرتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو کیا ہم حضرت حسن، حسین  اور حضرت علی کے دیگر بیٹوں سے یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ خاموشی سے سنتے رہتے۔یہاں ہم وہ روایات بیان کر رہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان راویوں نے بات کا بتنگڑ بنا کر اسے کیا سے کیا کر دیا ہے۔  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کے دو گورنر ہیں، جن کے بارے میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف منبر پر سب و شتم کرتے تھے۔ ایک مروان بن حکم اور دوسرے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ۔ ان دونوں سے متعلق روایات کا ہم جائزہ لیتے ہیں۔

کیا مروان بن حکم نے سب و شتم کیا؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر مروان بن حکم نے اپنے خطبے میں "ابو تراب" کہہ کر کیا تو اسے ان باغیوں نے "سب و شتم" قرار دے دیا۔صحیح بخاری کی روایت ہے:

عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے روایت بیان کی، ان سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے اور ان سے ان کے والد نے کہ : ایک شخص حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: " امیر مدینہ (مروان بن حکم کے خاندان کا کوئی شخص) منبر پر کھڑے ہو کر حضرت علی  رضی اللہ عنہ کو سبّ کر رہے ہیں۔ " انہوں نے پوچھا : "وہ کیا کہتے ہیں؟" بولا: "وہ انہیں ابو تراب کہہ رہے ہیں۔" سہل یہ سن کر ہنس پڑے اور بولے: "واللہ! یہ نام تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا اور انہیں اس نام سے زیادہ کوئی اور نام پسند نہ تھا۔ "  میں (ابو حازم) نے ان سے پوچھا: "ابو عباس، یہ کیا معاملہ ہے؟" وہ بولے: علی، فاطمہ کے گھر میں داخل ہوئے، پھر باہر نکلے اور مسجد میں سو گئے۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ فاطمہ) سے پوچھا: "آپ کے چچا زاد کہاں گئے؟" وہ بولیں: "مسجد میں۔" آپ باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ ان (حضرت علی) کی چادر ان کی پیٹھ سے الگ ہوئی ہے اور مٹی سے ان کی کمر بھری ہوئی ہے۔ آپ نے ان کی کمر سے مٹی جھاڑ کر دو مرتبہ فرمایا: "ابو تراب (مٹی والے!) اب اٹھ بھی جاؤ۔"[2]

صحیح مسلم میں اس روایت کا ایک مختلف ورژن بیان ہوا ہے:

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز بن ابی حازم سے، وہ اپنے والد سے اور وہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مروان کے خاندان کا ایک آدمی مدینہ منورہ میں  کسی سرکاری عہدے پر مقرر کیا گیا۔ اس نے حضرت سہل بن سعد کو بلایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا کہیں۔ حضرت سہل نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس عہدے دار نے حضرت سہل سے کہا: "اگر  آپ انکار کر رہے ہیں تو یہی کہہ دیجیے کہ ابو تراب پر اللہ کی لعنت ہو۔" حضرت سہل فرمانے لگے: "علی کو تو ابو تراب سے زیادہ کوئی نام محبوب نہ تھا۔ جب انہیں اس نام سے پکارا جاتا تو وہ خوش ہوتے تھے۔ " وہ عہدے دار حضرت سہل سے کہنے لگا: "یہ بتائیے کہ ان کا نام ابو تراب کیوں رکھا گیا۔"[3] ۔۔۔ (اس کے بعد حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے وہی بات سنائی جو اوپر بیان ہوئی ہے۔)

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مروان کے خاندان کا ایک شخص ، جس کا نام معلوم نہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا۔ روایت میں نہ تو اس کا نام مذکور ہے اور نہ ہی اس کا عہدہ۔  یہ وہ واضح ہے کہ وہ گورنر نہیں تھا۔ پھر اس نے اپنے بغض کا اظہار برسر منبر نہیں بلکہ نجی محفل میں کیا۔ اس دور میں چونکہ ناصبی فرقے کا ارتقاء ہو رہا تھا، اس وجہ سے ایسے لوگوں کی موجودگی  کا امکان موجود ہے۔ تاہم یہ نہ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا مقرر کردہ گورنر تھا اور نہ ہی کوئی اور اہم عہدے دار۔ کسی چھوٹے موٹے عہدے پر فائز رہا ہو گا اور اس کے زعم میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کروانے چلا تھا لیکن حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے اسے منہ توڑ جواب دے کر خاموش کر دیا۔  مروان بن حکم سے متعلق طبری کی یہ روایت بھی قابل غور ہے:

علی بن حسین رضی اللہ عنہما نے مروان کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا کہ جس زمانے میں بنو امیہ مدینہ سے نکالے گئے تھے، انہوں نے مروان کے مال و متاع کو اور ان کی بیوی ام ابان بنت عثمان رضی اللہ عنہ کو لٹنے سے بچا لیا تھا اور اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔ پھر جب ام ابان طائف کی طرف روانہ ہوئیں تو علی بن حسین نے ان کی حفاظت کے لیے اپنے بیٹے عبداللہ کو ان کے ساتھ کر دیا تھا۔ مروان نے اس احسان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ [4]

اس روایت میں 63/683 میں ہونے والی اہل مدینہ کی بغاوت کا ذکر ہے۔ جب اہل مدینہ نے یزید کے خلاف بغاوت کی تو انہوں نے مدینہ میں مقیم بنو امیہ پر حملے کیے۔ اس موقع پر حضرت علی بن حسین زین العابدین رضی اللہ عنہما سامنے آئے اور انہوں نے مروان اور ان کی اہلیہ کو گھر میں پناہ دی۔ اگر مروان بن حکم ، برسر منبر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے، تو کیا انہی حضرت علی کے پوتے زین العابدین انہیں اپنے گھر میں پناہ دیتے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دو بیٹیوں کی شادیاں مروان کے دو بیٹوں معاویہ اور عبدالملک سے ہوئیں۔ اس کے علاوہ آپ کی متعدد پوتیوں کی شادیاں مروان کے گھرانے میں ہوئی۔ [5] اگر مروان بن حکم نے ایسی حرکت کی ہوتی تو پھر کم از کم یہ رشتے داریاں ہمیں نظر نہ آتیں۔ 

کیا حضرت مغیرہ بن شعبہ نے سب و شتم کیا؟

غالی راوی ابو مخنف نے تاریخ طبری میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دعوی کیا ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سب و شتم کرتے تھے لیکن ساتھ خود ہی ان کے الفاظ نقل کر کے اپنا بھانڈہ خود ہی پھوڑ دیا ہےروایت یہ ہے:

ابو مخنف نے صقعب بن زہیر سے روایت کی اور انہوں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا: مغیرہ کے بعد ایسا کوئی حاکم ہمارا نہیں ہوا، اگرچہ ان حکام کی نسبت جو پہلے گزرے تھے،  یہ نیک شخص تھے۔ مغیرہ نے سات برس چند ماہ معاویہ کے گورنر کے طور پر کوفہ میں حکومت کی ہے اور بڑے نیک سیرت، امن و عافیت کے خواہش مند تھے۔ مگر علی کو برا کہنا اور ان کی مذمت کرنا، قاتلان عثمان پر لعنت اور ان کی عیب جوئی کرنا، اور عثمان کے لیے دعائے رحمت و مغفرت اور ان کے ساتھیوں کی تعریف  کو انہوں نے کبھی ترک نہیں کیا۔

اس کی چند سطروں بعد ابو مخنف ہی نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا وہ خطبہ بیان کر دیا ہے، جس کے بارے میں اس کا دعوی ہے کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے پر مشتمل تھا۔ خطبے کے الفاظ خود ابو مخنف کے الفاظ میں ہم یہاں درج کر رہے ہیں، اسے دیکھ کر عربی جاننے والے تمام حضرات خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کیا سب و شتم کیا گیا ہے:

كان في آخر إمارته قام المغيرة فقال في علي وعثمان كما كان يقول، وكانت مقالته: اللهم ارحم عثمان بن عفان وتجاوز عنه، وأجزه بأحسن عمله، فإنه عمل بكتابك، واتبع سنة نبيك صلى الله عليه وسلم، وجمع كلمتنا، وحقن دماءنا، وقتل مظلوما؛ اللهم فارحم أنصاره وأولياءه ومحبيه والطالبين بدمه! ويدعو على قتلته. فقام حجر بن عدي فنعر نعرة بالمغيرة سمعها كل من كان في المسجد وخارجا منه.

مغیرہ نے اپنی امارت کے آخری زمانے میں خطبہ پڑھا اور علی و عثمان کے بارے میں وہ جو بات ہمیشہ کہتے تھے، وہ اس انداز میں کہی: "اے اللہ! عثمان بن عفان پر رحمت فرمائیے  ۔  ان سے درگزر فرمائیے  اور نیک اعمال کی انہیں جزا دیجیے۔ انہوں نے آپ کی کتاب پر عمل کیا اور تیرے نبی کی سنت کا اتباع کیا۔ انہوں نے ہم لوگوں میں اتفاق رکھا اور خونریزی نہ ہونے دی اور  وہ ناحق شہید  کیے گئے۔ اے اللہ! ان کے مدد گاروں، دوستوں، محبوں اور ان کے خون کا قصاص لینے والوں پر رحم فرمائیے ۔ " اس کے بعد آپ نے قاتلین عثمان کے لیے بددعا کی۔ یہ سن کر حجر بن عدی اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے مغیرہ کی جانب دیکھ کر ایک نعرہ لگایا۔  جو لوگ بھی مسجد میں اور اس کے باہر تھے، انہوں نے اس نعرے کو سنا۔ [6]

اس روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس چیز کو ان باغی راویوں نے  حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم قرار دیا ہے، وہ دراصل قاتلین عثمان کے لیے بددعا تھی۔ ان باغیوں کی کوشش یہ رہی ہے کہ کھینچ تان کر حضرت علی کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت میں ملوث کر دیا جائے۔ اس وجہ سے انہوں نے اپنے پر ہونے والی لعنت و ملامت کا رخ معاذ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف پھیرنے کی کوشش کی ہے اور یہ مشہور کر دیا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے ان کے گورنر معاذ اللہ  حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کیا کرتے تھے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ تاریخی کتب میں جہاں جہاں ایسی روایتیں پائی جاتی ہیں جن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کا ذکر ہے، وہ سب کی سب ابو مخنف یا ان کی پارٹی کے لوگوں کی روایت کردہ ہیں۔ ایسی ہر روایت کی سند کو دیکھ کر اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے ان کے گورنر ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبروں پر برا بھلا کہتے تو یہ ایسی بات تھی  کہ جسے ہزاروں آدمی سنتے۔ ان ہزاروں میں سے کم از کم پچاس سو آدمی تو اسے آگے بیان کرتے۔ پھر ان پچاس سو افراد سے سن کر آگے بیان کرنے والے بھی سینکڑوں  ہوتے جو کہ سو سال بعد ہزاروں ہو جاتے۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ  سوائے اس ایک ابو مخنف اور ان کی پارٹی  کے چند لوگوں کے، کوئی بھی شخص یہ روایات بیان نہیں کرتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب انہی لوگوں کی گھڑی ہوئی داستان ہے۔

ہاں یہ بات قرین قیاس ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے ان کے گورنر خطبات میں قاتلین عثمان کی باغی پارٹی کے مکر و فریب اور برائی کو بیان کرتے ہوں گے تاکہ لوگ ان سے محتاط رہیں اور ان کے پراپیگنڈا کا شکار نہ ہوں۔ اس گروہ کی مذمت میں وہ سخت باتیں بھی کہتے ہوں گے، انہیں لعنت ملامت بھی کرتے ہوں گے اور ان کے لیے بددعا بھی کرتے ہوں گے۔ اس سب کا مقصد یہی رہا ہو گا کہ باغی پارٹی کے پراپیگنڈا کا توڑ کیا جائے۔  ابو مخنف کی اوپر بیان کردہ روایت سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے خود پر کی گئی تنقید کا ملبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ڈال دیا تاکہ خلفاء اور ان کے گورنروں سے متعلق  غلط فہمیاں پھیلائی جائیں اور ان کے خلاف مزید باغی تحریکیں منظم کی جائیں۔

صحیح مسلم کی روایت کا مفہوم کیا ہے؟

باغیوں کے پراپیگنڈا سے متاثر بعض لوگ اس ضمن میں صحیح مسلم کی یہ روایت پیش کرتے ہیں:

حضرت معاویہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو امیر بنایا تو ان سے پوچھا: "آپ کو کس چیز نے منع کیا کہ آپ ابو تراب پر تنقید نہ کریں؟" انہوں نے کہا: "تین ایسی باتیں ہیں کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھیں، ان کے سبب میں انہیں برا نہیں کہتا۔ میرے نزدیک ان میں سے ایک بات بھی سرخ اونٹوں سے زیادہ پیاری ہے۔

1۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو اس وقت فرماتے سنا جب آپ نے کسی غزوے پر جاتے ہوئے علی کو پیچھے چھوڑ دیا۔ علی نے کہا: 'یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے بچوں اور خواتین کے پاس چھوڑے جا رہے ہیں؟' آپ نے فرمایا: ’کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ آپ کی مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون کی موسی سے تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد نبوت ختم ہو گئی؟‘

2۔ میں نے یوم خیبر، آپ کو یہ فرماتے سنا: 'کل میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس شخص سے محبت کرتے ہیں۔' ہم لوگ یہ سن کر انتظار میں رہے (کہ وہ کون ہو گا۔) پھر آپ نے  فرمایا: 'علی کو بلاؤ۔' انہیں بلایا گیا  تو ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں۔ آپ نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں پر لگایا اور جھنڈا  انہیں عطا فرما دیا۔ اللہ تعالی نے علی کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔

3۔ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: "(اے پیغمبر!) آپ فرمائیے کہ آؤ، ہم اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو بلا لائیں اور تم اپنوں کو۔۔۔" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین کو بلایا اور فرمایا: "اے اللہ! یہ میرے اہل و عیال ہیں۔"[7]

اس  روایت سے باغیوں کے پراپیگنڈا  سے متاثر بعض لوگ  یہ مطلب نکالتے ہیں کہ حضرت معاویہ، حضرت سعد رضی اللہ عنہما کو ترغیب دلا رہے تھے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کریں۔ یہ مطلب وہی نکال سکتا ہے جو ان حضرات کے کردار سے واقف نہ ہو۔ روایت کے ایک ایک لفظ سے حضرت سعد کی حضرت علی رضی اللہ عنہما کے لیے محبت ٹپک رہی ہے۔ اگر حضرت معاویہ کا مقصد انہیں ترغیب دلانا ہوتا تو وہ انہیں کوئی سخت جواب دیتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ کا مقصد  حضرت علی پر تنقید کی ترغیب نہ تھا بلکہ آپ یہ استفسار فرما رہے تھے کہ جب حضرت سعد نے جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی کا ساتھ نہیں دیا، تو پھر آپ کی حضرت علی کی پالیسی کے بارے میں رائے کیا تھی، کیا آپ اس پر تنقید کرتے ہیں؟ اس پر انہوں نے وضاحت کی کہ میری رائے ان کے بارے میں بہت اچھی تھی تاہم ساتھ نہ دینے کی وجوہات کچھ اور تھیں۔ 

ابو مخنف نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ لعنت بھیجنے کے اس سلسلے کا آغاز معاذ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے ہوا تھا۔ واقعہ تحکیم کی اطلاع جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے نمازوں میں حضرت معاویہ، عمرو بن عاص، ابو الاعور اسلمی، حبیب بن مسلمہ، عبدالرحمن بن خالد، ضحاک بن قیس اور ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہم پر لعنت بھیجنا شروع کر دی۔ جب حضرت معاویہ کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے نمازوں میں حضرت علی، ابن عباس، اشتر، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم پر لعنت بھیجنا شروع کر دی۔[8]

ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ابو مخنف کا جھوٹ ہے اور اس نے ایسا کر کے ان تمام حضرات کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کے بارے میں اپنے بغض کا اظہار کیا ہے۔  نہ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بدگمانی کی جا سکتی ہے کہ انہوں نے حالت نماز میں لعنت بھیجنے کے عمل کا آغاز فرمایا ہو گا اور نہ ہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے جوابی کاروائی کے طور پر ایسا کیا ہو گا۔ یہ سب ابو مخنف جیسے باغی راویوں کی  اپنی ایجاد ہے اور اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہ رہا ہو گا کہ ان بزرگوں سے اپنی نسل کے لوگوں کو بدظن کر کے اپنی باغی تحریک کو تقویت دی جائے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  مسلم، کتاب الفضائل، حدیث 706

[2]  بخاری، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث 3500

[3]  مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث 2409

[4]  طبری۔ 4/1-263

[5]  ابن حزم، جمہرۃ الانساب  العرب۔ 38, 87۔

[6]  طبری۔ 4/1-83

[7]  مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث 2404

[8]  طبری۔ 3/2-267