بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 6: عہد حسن و معاویہ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

استلحاق زیاد

استلحاق کا مطلب ہے کسی کو اپنے خاندان میں شامل کرنا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر ایک اور اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو اپنا بھائی قرار دے دیا تھا اور یہ عمل شریعت کے منافی ہے۔  انہوں نے نے محض سیاسی اغراض کے لیے یہ خلاف شریعت کام کیا۔ یہ اعتراض بقیہ اعتراضات کی نسبت بہت ہی ہلکا ہے لیکن چونکہ باغی راویوں اور ان سے متاثر ہونے والے لوگوں کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض  ہے، اس وجہ سے انہوں نے اس بات کو بھی نمک مرچ لگا کر پیش کیا اور اسے ایک اسکینڈل کی شکل دے دی۔ پہلے ہم صورتحال کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے اور پھر یہ دیکھیں گے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی غرض کیا تھی اور ان پر باغیوں نے کیا اعتراضات کیے۔

زیاد بن ابی سفیان کا مسئلہ کیا تھا؟

دور جاہلیت میں نکاح کی متعدد اقسام رائج تھیں جن میں سے ایک متعہ بھی تھا۔ بعض لوگ جب سفر وغیرہ پر جاتے تو متعہ بھی کر لیتے جو کہ عارضی نکاح کی ایک شکل تھی۔  چونکہ یہ دور جاہلیت میں ایک "جائز نکاح" تصور کیا جاتا تھا، اس وجہ سے اس سے ہونے والی اولاد بھی جائز ہی سمجھی جاتی۔ چونکہ اس وقت تک اسلام کی روشنی نہ پھیلی تھی، اس وجہ سے اس دور کے لوگوں کو قصور وار بھی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ حضرت معاویہ کے والد ابو سفیان رضی اللہ عنہما  دور جاہلیت ہی میں طائف گئے تو وہاں ایک کی لونڈی سمیہ سے ایسا ہی ایک میعادی نکاح کر لیا، جس سے زیاد کی ولادت ہوئی۔ اپنی کسی ذاتی وجہ سے ابو سفیان نے کھلے عام اس کا اقرار نہ کیامگر نجی طور پر بعض لوگوں کو بتا دیا کہ سمیہ سے میں نے عارضی شادی کی تھی اور زیاد میرا ہی بیٹا ہے۔

اسی زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قریش مکہ کی کشمکش چل رہی تھی، جس میں ابو سفیان کفار مکہ کے لیڈر تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر یہ تمام حضرات اسلام لے آئے اور نہایت ہی مخلص مسلمان ثابت ہوئے۔  زیاد کی والدہ سمیہ بھی ایمان لے آئیں اور ان کے اخیافی (ماں کی طرف سے) بھائی ابوبکرہ (رضی اللہ عنہم) ایک مشہور صحابی ہیں۔ زیاد کی پیدائش کے بارے میں چار اقوال موجود ہیں جن کے مطابق زیاد کی پیدائش ہجرت سے پہلے، ہجرت کے سال، غزوہ بد ر کے دن اور فتح مکہ کے دن کی روایات موجود ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ زیاد کی پیدائش ہجرت نبوی اور فتح مکہ کے درمیانی عرصے میں ہوئی ہو گی۔ عہد رسالت اور عہد صدیقی میں یہ بات نہ کھلی کہ زیاد ، ابو سفیان ہی کے بیٹے ہیں۔ تاہم ابو سفیان نے ذاتی طور پر بعض لوگوں کو یہ بات بتا دی۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں زیاد  ایک نہایت ہی ٹیلنٹڈ نوجوان کے طور پر سامنے آئے۔  خلافت راشدہ کا طریقہ یہ تھا کہ جو لوگ سول سروس میں آتے ، انہیں پہلے کسی چھوٹے علاقے کی حکومت دی جاتی اور پھر پرفارمنس کو دیکھتے ہوئے انہیں پروموشن دے کر بڑے علاقوں کا گورنر بنایا جاتا۔ زیاد کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضر موت کا گورنر بنایا جو کہ یمن کا مشہور شہر ہے۔ انہوں نے جلد ہی بہت ترقی کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بصرہ جیسے اہم شہر کے نائب گورنر کے عہدے تک پہنچ گئے۔ بصرہ کے گورنر حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے خلاف بعض لوگوں نے حضرت عمر کو شکایت کی کہ  انہوں نے تمام معاملات حکومت زیاد ہی کے سپرد کر دیے ہیں۔ حضرت عمر نے ابو موسی رضی اللہ عنہما سے اس معاملے میں وضاحت   طلب کی تو انہوں نے جواب دیا  کہ "میں نے ان کے اندر شرافت اور عقل مندی دیکھی ہے، اس لیے میں نے اپنے کام ان کے سپرد کیے ہیں۔"

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زیاد کو بلوایا تو دیکھا کہ وہ سفید لباس پہنے ہیں۔ آپ نے اس کی قیمت دریافت کی تو انہوں نے جو قیمت بتائی، وہ بہت ہی غیر معمولی تھی۔  حضرت عمر نے پوچھا: "آپ کی تنخواہ کیا ہے؟" انہوں نے کہا: "دو ہزار۔" پوچھا: "آپ کو پہلے جو وظیفہ (بونس) دیا گیا تھا، اسے آپ نے کہاں خرچ کیا تھا؟" وہ بولے: "میں نے پہلے وظیفہ پر اپنی والدہ کو خرید کر آزاد کیا اور جب دوسرا وظیفہ ملا تو اپنے پرورش یافتہ لڑکے عبید کو خرید کر آزاد کیا۔" فرمایا: "آپ نے بہت اچھا کام کیا۔" اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زیاد سے فرائض، سنن اور قرآن مجید کے احکام دریافت کیے تو ان کا دینی علم بھی ایک فقیہ کے درجے کا تھا۔ چنانچہ آپ ، زیاد سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہیں بصرہ واپس بھجوایا اور  وہاں کے عہدے داروں کو ہدایت دی کہ وہ زیاد کی رائے پر عمل کیا کریں۔[1]

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی زیاد متعدد عہدوں پر فائز رہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی صلاحیتوں کو محسوس کرتے ہوئے انہیں  اس وقت ایران کا گورنر مقرر کیاجب اہل ایران بغاوت کر چکے تھے اور زیاد نے اسے کامیابی سے فرو کر لیا تھا۔ [2] حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت زیاد ایران کے گورنر تھے۔ اس زمانے میں جو چار لوگ سیاسی معاملات کے زبردست ماہرسمجھے جاتے تھے، ان میں سے ایک زیاد بھی تھے۔

زیاد بن ابی سفیان کو بدنام کیوں کیا گیا؟

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زیاد بن ابی سفیان، جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے، کو اس قدر بدنام کیوں گیا ہے۔ دراصل استلحاق کے ایک سال بعد جو واقعات پیش  آئے، انہوں نے باغیوں کو اس بات پر ابھارا کہ وہ زیاد اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں زبان طعن دراز کریں۔ ہوا یوں کہ سن 45/662 میں  حضرت معاویہ نے زیا دکو بصرہ کا گورنر مقرر کیا اور خراسان اور سیستان (موجودہ ایران اور افغانستان)، بلوچستان اور بحرین کے علاقے بھی ان کے ماتحت کر دیے۔  اس طرح زیاد، اب افغانستان سے عراق تک کے گورنر بن گئے۔ قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں اس علاقے میں باغی تحریک پھر اپنے قدم جما رہی تھی اور ان  باغیوں کے خاندان اور قبیلے والے محض اپنی رشتے داری کے سبب ان کی سرگرمیوں پر پردہ ڈال رہے تھے اور انہیں پناہ دیے ہوئے تھے۔

طبری کا بیان ہے کہ جب زیاد بصرہ پہنچے تو وہاں اعلانیہ فسق و فجور پھیلا ہوا تھا۔ واضح رہے کہ ایسا نہیں ہو گا کہ بصرہ کا ہر شخص ہی فسق و فجور میں مبتلا ہو گیا ہو گابلکہ جب کسی جگہ معمول سے کچھ زیادہ لوگ برائی میں مبتلا ہو جائیں تو محاورتاً یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ وہاں فسق و فجور پھیل گیا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی ملک میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہوں اور وہاں اچانک ایک ہفتے میں چار پانچ وارداتیں ہو جائیں تو محاورتاً کہہ  دیا جاتا ہے کہ یہ ملک تو جرائم کا گڑھ بن گیا ہے۔ زیاد نے وہاں پہنچ کر جو خطبہ دیا، اس سے اس زمانے کے حالات کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس خطبے کی بلاغت کی بہت سے لوگوں نے تعریف کی ہے، ہم کوشش کرتے ہیں کہ اس بلاغت کو اردو میں منتقل کریں:

اللہ  کے فضل اور احسان کا شکر ہے اور ہم اس سے مزید رحمت کے طلب گار ہیں۔ اے اللہ! جس طرح تو نے نعمتیں ہمیں عطا فرمائی ہیں، اسی طرح ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے  کی بھی ہمیں توفیق دے۔

سنیے! سخت جہالت،  اندھا دھند گمراہی اور بدکاری ، جہنم کی آگ کو بھڑکاتی ہے۔ ان کاموں میں آپ کے بعض نالائق لوگ مبتلا ہو گئے ہیں اور انہوں نے عقل مندوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ بڑے بھی ان کاموں سے اجتناب نہیں کرتے  اور بچے وہی باتیں سیکھتے جا رہے ہیں۔  ایسا لگتا ہے کہ آپ لوگوں نے اللہ کی آیات کو نہیں سنا اور اللہ کی کتاب کو نہیں پڑھا اور اطاعت گزاروں کے لیے ثواب اور گناہ گاروں کے لیے عذاب سے آپ لوگ ناواقف محسوس ہوتے ہیں۔  دنیا کے لالچ نے ان لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک دی ہے۔ ہوس و خواہش نے ان کے کانوں میں آواز دی ہے اور جنہوں نے باقی رہنے والی (آخرت) کو چھوڑ کر فنا ہونے والی (دنیا) کو پسند کر لیا ہے۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ آپ نے اسلام میں وہ بدعت پیدا کر دی ہے جو پہلے کسی نے نہ کی۔ خرابی کے راستے کھلے رہنے دیے، کثیر تعداد میں کمزور اور لاچار لوگوں کو دن دہاڑے لٹنے دیا۔ باغیوں کو دن کی لوٹ مار اور رات کی سرگرمیوں سے آپ لوگوں نے نہ روکا۔ دین سے دوری اختیار کر کے آپ لوگوں نے محض رشتے داری کا خیال کیا۔ بغیر کسی عذر کے آپ لوگ معذور بنتے ہیں اور ان چور اچکوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔

آپ لوگوں میں ہر شخص کسی نہ کسی نااہل کی سرپرستی کرتا ہے جیسے کسی کو نہ عذاب کا ڈر ہو نہ قیامت کا اندیشہ۔ اگر آپ ان نالائقوں کے نقش قدم پر چلیں گے تو پھر خود کہاں کے لائق رہیں گے۔ آپ نے انہیں اس طرح پناہ دیے رکھی کہ انہوں نے اسلام کو کمزور کیا اور پھر آپ کے پاس آ کر گوشہ رسوائی میں آ کر چھپ رہے۔ جب تک میں ان (باغیوں) کی جائے پناہ کو ڈھا نہ لوں اور جلا کر خاک نہ کر دوں، مجھ پر (اچھا) کھانا پینا حرام  ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس معاملے کا انجام وہی ہو گا جیسا اس کا آغاز ہوا تھا (یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے آغاز ہوا تو انجام اب ان باغیوں کے قتل پر ہو گا۔) ہم نرمی کریں گے لیکن ایسی جس میں کمزوری نہ ہو۔ ہم سختی کریں گے مگر ایسی کہ اس میں ظلم نہ ہو۔ واللہ! اب میں غلام کے کرتوتوں کی پوچھ گچھ اس ے آقا، مسافر کے اعمال  کی پوچھ گچھ (اسے پناہ دینے والے) میزبان سے، آگے بڑھ کر کاروائی کرنے والے کا مواخذہ پیچھے رہ کر اسے سپورٹ کرنے والے سے اور صحت مند کا مواخذہ بیماری کا بہانہ بنا کر خاموش حمایت کرنے والے سے لوں گا۔  آپ میں سے کوئی شخص دوست سے ملے گا تو یہ مثل اس کی زبان پر ہو گی: "سعد! ٹھیک ہو جاؤ، سعید مارا گیا ہے۔" یا پھر یہ ہو گا کہ آپ کی برچھیاں میرے لیے سیدھی ہو جائیں گی (یعنی آپ میرے خون کے پیاسے ہو جائیں گے۔)

منبر پر جھوٹ بولنا دائمی رسوائی کا باعث ہوتا ہے۔ آپ پر میرا کوئی جھوٹ ثابت ہو جائے تو میری نافرمانی آپ کے لیے جائز ہے۔ آپ میں سے کسی کے گھر ڈاکہ پڑے پڑے تو اس کے  نقصان کا ذمہ دار میں ہوں۔ دیکھیے! رات کو خفیہ سرگرمیوں کی شکایت میرے پاس نہ آنے پائے۔ جو رات کی سرگرمیوں کے جرم میں گرفتار ہو کر میرے پاس آئے گا، اسے میں قتل کر دوں گا۔ آپ لوگوں کو اتنی مہلت دیتا ہوں کہ جتنے عرصے میں کوفہ  تک خبر پہنچ کر واپس آ سکتی ہے۔ دیکھیے! مجھ تک کسی کی جاہلیت کی آواز نہ پہنچے (یعنی قبیلہ اور خاندان کی بنیاد پر مجرموں کی پشت پناہی نہ کی جائے۔) جس کے بارے میں میں نے ایسی بات سنی تو اس کی زبان ہی کاٹ دوں گا۔ آپ لوگوں نے نئے نئے حیلے ایجاد کیے ہیں تو ہم نے بھی ایسے ہر گناہ کے لیے سزا ایجاد کی ہے۔ اگر کسی نے دوسرے کو ڈبو کر ہلاک کیا تو میں بھی اسے ڈبو کر ہلاک کروں گا۔ کوئی آگ لگائے گا تو میں اسے جلا دوں گا۔ کوئی کسی کے گھر میں نقب لگائے گا  تو میں اس کے سینے میں سوراخ کروں گا۔ کوئی کسی کے لیے قبر کھودے گا تو میں اسی کو اس میں زندہ دفن کروا دوں گا۔ اگر آپ اپنے ہاتھ اور اپنی زبان کو مجھ پر دراز نہ کریں تو  میں بھی اپنا ہاتھ آ پ کو تکلیف دینے سے بازر کھوں گا۔ خلاف قانون حرکت اگر کسی سے سرزد ہوئی تو میں اس کی گردن پر ضرب لگاؤں  گا۔  میرے اور کچھ لوگوں کے درمیان پہلے دشمنی چلی آ رہی ہے۔ اب میں ان باتوں کو پس پشت اور پاؤں تلے ڈال دیا (یعنی نظر انداز کر  کے معاف کر دیا ہے۔) آپ میں سے  جو نیک لوگ ہیں، انہیں چاہیے کہ نیکی میں اضافہ کریں اور جو برے ہیں، وہ اپنی برائی سے باز رہیں۔  اگر مجھے یہ علم ہو کہ محض میری ذاتی دشمنی میں کسی سے قتل بھی ہو گیا ہے  تو میں اس کا بھی پردہ فاش نہ کروں گا جب تک کہ وہ اعلانیہ سرکشی کا رویہ اختیار نہ کرے۔ پھر اس صورت میں میں اسے دم نہ لینے دوں گا۔

اب آپ لوگ اپنے اپنے کام کیجیے، اپنے خیالات درست رکھیے۔ کتنے ہی لوگ میرے آنے سے افسردہ ہوئے ہوں گے، وہ خوش ہو جائیں گے۔ اور کتنے ہی لوگ میرے آنے سے خوش ہوئے ہوں گے، وہ اب افسردہ ہوں گے۔ اے لوگو! ہم لوگ آپ ہی کے  حکمران ہیں۔ اللہ نے جو حکومت ہمیں عطا کی ہے، اس میں ہم آپ کی حمایت کرنے والے ہیں۔ آپ کے ذمے ہمارا حق یہ ہے کہ آپ ہماری اطاعت کریں اور آپ کا حق ہمارے ذمے یہ ہے کہ ہم عدل و انصاف کو فروغ دیں۔ ہماری خیر خواہی کیجیے، آپ خود کو ہمارے عدل اور مال کا حق دار بنا لیں گے۔ یہ بات یاد رکھیے کہ  مجھ سے کوئی کوتاہی سرزد ہو بھی تو تین معاملے ایسے ہیں جن میں میں ہرگز کوتاہی نہ کروں گا:

1۔ اگر کوئی ضرورت مند آدھی رات کو بھی میرے پاس آئے گا تو میں  اس سے ملنے سے انکار نہ کروں گا۔

2۔ کسی کی تنخواہ یا بونس کو عین وقت پر ادا ہونے سے نہیں روکوں گا۔

3۔ آپ کے خلاف فوج کشی نہ کروں گا۔

آپ کو چاہیے کہ اپنے حکمرانوں کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ یہ سب آپ کے اپنے حکمران ہیں ۔ یہ آپ کو مہذب بنانے والے ہیں  اور آپ کی جائے پناہ ہیں۔ انہی کے سہارا (باغیوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف) آپ کو حاصل ہے۔ سنیے، آپ اچھے ہوں گے تو یہ حکمران بھی اچھے ہوں گے۔ ان کی طرف سے دل میں بغض نہ رکھیے ورنہ آپ ہمیشہ غم وغصہ ہی میں جلتے بھنتے رہیں گے۔ ایسی ضروریات کے درپے نہ ہو جائیے جو اگر پوری کی جائے تو خود آپ کو نقصان پہنچے۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہر ایک کی مدد، ہر ایک (باغی) کے مقابلے میں کرے۔ جب آپ دیکھیں کہ میں آپ لوگوں میں کوئی نیا حکم جاری کرنا چاہتا ہوں، تو اسے آسانی سے جاری ہونے دیجیے۔ واللہ! آپ میں سے بہت سے (باغی) لوگ میرے ہاتھوں مارے جائیں گے ۔ ہر شخص کو چاہیے کہ  میرے ہاتھوں مقتول ہونے سے بچے۔ [3]

زیاد رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ٹیلنٹڈ  لوگوں کو اپنے ٹیم کا حصہ بنایا۔  حضرت عمران بن حصین کو بصرہ کا چیف جسٹس مقرر کیا، حضرت حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا گورنر بنایا اور سمرہ بن جندب، انس بن مالک اور عبدلرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہم کو مختلف عہدے دیے۔ انہوں نے عبداللہ بن حصن کو محکمہ پولیس کا سربراہ بنایا اور شاہراہوں کی نگرانی سخت کر دی۔ انہوں نے باغیوں پر بہت سختی کی اور رات کو خفیہ سرگرمیوں میں شریک ہونے والوں کو قتل کرنا شروع کیا۔

اس موقع پر باغی راویوں نے بڑا واویلا بنایا ہے کہ انہوں نے بعض بے گناہوں کو بھی مار دیا  اور محض الزام لگنے پر بغیر تحقیق کے سزا دی لیکن یہ سب ان کی اپنی من گھڑت روایات ہیں۔ کسی بے گناہ کا قتل اسلام میں جائز نہیں ہے بلکہ یہ باغی اور چور ڈاکو ہی تھے جنہیں قتل کیا گیا۔  طبری کی روایت کے مطابق اب عراق میں امن و امان کا یہ عالم ہو گیا  کہ اگر کسی کی کوئی چیز راستے میں گر جاتی تو کوئی نہ اٹھاتا۔ پھر جب اس شخص کو یاد آتا تو وہ واپس آ کر اسے اٹھا لیتا۔ خواتین اپنے گھروں کےد روازے کھلے رکھ کر سو جاتیں اور انہیں کوئی خطرہ نہ ہوتا۔  مال و دولت کی تقسیم کے لیے زیاد نے جو وئیر ہاؤس تعمیر کروایا، وہ اتنا بڑا تھا کہ اسے "مدینۃ الرزق" یعنی رزق کے شہر کا نام دیا گیا۔  اس کے ذریعے دولت کو عام آدمی میں تقسیم کیا گیا اور لوگ خوشحال ہونے لگے۔ انٹیلی جنس کا ایسا نظام زیاد نے قائم کیا کہ افغانستان میں کسی کی رسی بھی چوری ہو جاتی تو زیاد کو بصرہ میں اس کی خبر معلوم ہو جاتی۔  اس سے زیاد کی اہلیت اور دیانت کا اندازہ ہوتا ہے۔

ان تمام اقدامات کا بھرپور فائدہ ایک عام آدمی کو پہنچا لیکن باغی تحریک کی لٹیا ڈوب گئی۔ انہیں اب کوئی راستہ نہ مل رہا تھا کہ وہ کسی طرح  اپنی کاروائیاں جاری رکھ سکیں۔  یہی وجہ ہے کہ  باغی راویوں نے زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے خاص بغض کا اظہار کیا اور ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں روایتوں میں داخل کر دیں۔ 

عالم اسلام کے مشرقی حصے میں ان گورنروں کے غیر معمولی اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ پندرہ بیس برس تک عراق میں امن قائم رہا اور باغی تحریک کو یہاں پنپنے کا موقع نہ مل سکا۔ تاہم انہوں نے گھروں کے اندر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور بغاوت کے جراثیم کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پورے زمانے میں وہ اٹھ نہ سکے لیکن آپ کی وفات کے فوراً بعد انہوں نے اپنی شورش کا آغاز کر دیا، جس کی تفصیل کا مطالعہ ہم آگے کریں گے۔

استلحاق زیاد کیسے ہوا؟

جب حضرت حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان اتحاد ہوا تو  زیاد نے بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی اور آپ کی اجازت سے کوفہ میں آ کر مقیم ہو گئے۔ اس بات کو تین سال گزر گئے اور سن 44/664 میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا، جس کی وجہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو زیاد کے والد کی تحقیق کروانا پڑی۔ طبری نے واقعے کو اس طرح بیان کیا ہے:

اسی سال حضرت معاویہ نے زیاد بن سمیہ کو اپنے والد ابو سفیان کے نسب میں شریک کیا۔ زیاد جب حضرت معاویہ کے پاس حاضر ہوئے تو ایک شخص بنو عبد قیس کا بھی ان کے ساتھ آیا تھا۔ اس نے زیاد سے کہا: "ابن عامر میرے محسنوں میں سے ہے، آپ اجازت دیں تو ان سے مل لوں۔" (ابن عامر اور زیاد میں کچھ رنجش تھی۔) زیاد نے کہا: "اس شرط پر آپ مل لیجیے کہ آپ کے اور ان کے درمیان جو باتیں ہوں، وہ مجھے ضرور بتائیے گا۔" اس نے کہا: "بہت اچھا۔" اب یہ ابن عامر سے ملا تو ابن عامر نے کہا: "ابن سمیہ (زیاد) میرے معاملات میں اعتراض کرتا ہے اور میرے مقرر کردہ عہدے داروں پر تنقید کرتا ہے، میں نے ارادہ کیا ہے کہ قریش میں سے کچھ افراد  سے حلف اٹھواؤں گا کہ ابو سفیان نے تو کبھی سمیہ کی صورت بھی نہیں دیکھی۔" جب وہ شخص واپس آیا تو زیاد نے تفصیل پوچھی۔ پہلے تو اس نے بتانے سے انکار کیا لیکن جب زیا دنے کسی طرح  نہ چھوڑا تو  اس نے تفصیل بتا دی۔ (ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس بات سے زیاد کو کس قدر تکلیف پہنچی ہو گی۔) زیاد سے یہ ساری تفصیل جا کر حضرت معاویہ کو سنا دی (اور انہیں بھی اس بات کا شدید صدمہ ہوا۔)

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے گارڈ کو حکم دیا کہ اگر ابن عامر ان کے پاس آئیں تو وہ  پھاٹک کو (محاورتاً) ان کے منہ پر مار کر واپس بھیج دے۔ گارڈ نے ایسا ہی کیا تو ابن عامر نے یزید (حضرت معاویہ کا بیٹا) کے پاس آ کر شکایت کی۔ یزید نے پوچھا: "آپ نے کہیں زیاد کے بارے میں کوئی بات تو نہیں کی تھی؟" ابن عامر نے کہا: "ہاں، کچھ کہا تو تھا۔" یہ سن کر یزید انہیں لے کر حضرت معاویہ کے پاس آیا۔ انہوں نے ابن عامر کو دیکھتے ہی مجلس برخاست کی اور اندر چلے گئے (یعنی ناراضی کا اظہار کیا۔) یزید نے دیکھا تو  ابن عامر سے کہا: "آپ بیٹھیں، وہ کب تک گھر کے اندر بیٹھے رہیں گے (یعنی کچھ دیر بعد تو نکلیں گے۔)

کافی دیر بعد حضرت معاویہ باہر آئے ، آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی  جس سے آپ دروازوں  کو بجا رہے تھے اور یہ شعر پڑھ رہے تھے: "ہماری راہ اور ہے اور تمہاری اور۔ اس بات کو لوگ جان چکے ہیں۔" پھر بیٹھ گئے اور ابن عامر سے فرمایا: "کیا آپ نے زیاد کے بارے میں کوئی بات کہی ہے؟ سنیے! واللہ! پورا عرب اس بات سے آگاہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں میں سب سے معزز تھا (کہ سردار قریش کا بیٹا تھا) اور اسلام نے میری عزت اور بڑھا دی ہے۔ میرے ساتھیوں میں کوئی ایسی کمی نہ تھی، جو زیاد نے پوری کر دی ہو یا میری ذلت کو عزت میں بدل دیا ہو۔ یہ بات ہرگز نہیں ہے۔ ہاں ! میں نے انہیں جس چیز کا حق دار پایا ہے، وہ سلوک ان کے ساتھ میں نے کیا ہے۔" ابن عامر نے کہا: "امیر المومنین! میں اپنی بات سے رجوع کرتا ہوں، زیاد کی جس میں خوشی ہو گی، وہی بات زبان سے نکالوں گا۔ " معاویہ نے کہا: "اب ہم بھی پھر وہی بات کریں گے، جو آپ چاہتے ہیں۔ " ابن عامر اٹھ کر زیاد کے پاس گئے اور انہیں راضی کر لیا۔

اس کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کوئی فیصلہ یا اعلان نہیں کیا بلکہ ان لوگوں کی تلاش کروائی جن کے سامنے حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کی والدہ سمیہ سے اپنے نکاح کا اعتراف کیا تھا اور زیاد کو اپنا بیٹا تسلیم کیا تھا۔ [4] دس صحابہ ایسے ملے جنہوں نے یہ گواہی دی جن میں حضرت معاویہ اور زیاد رضی اللہ عنہما کی بہن جویریہ بنت ابی سفیان بھی شامل تھیں۔ گواہوں نے یہ گواہی دی کہ انہوں نے خود حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے منہ سے یہ سنا ہے کہ  زیاد ان کا بیٹا ہے۔ ایک گواہ منذر بن زبیر رضی اللہ عنہما نے یہ گواہی دی کہ میں نے خود تو نہیں سنا البتہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ انہوں نے ابو سفیان سے یہ بات سنی تھی۔گواہوں نے علی الاعلان یہ گواہی مسجد میں دی اور اس کی بنیاد پر حضرت معاویہ نے زیاد کو اپنا بھائی تسلیم کر لیا اور انہیں اپنے خاندان کا حصہ بنا لیا۔[5]

آپ خود  اندازہ کر سکتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کی نفسیاتی حالت کیا ہو گی، جس کے والد کا لوگوں کو علانیہ علم نہ ہو۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے باقاعدہ قانونی کاروائی کر کے اور ثبوت اکٹھے کر کے اپنے بھائی کو ان کا حق دیا تو اس میں کیا برائی تھی؟ ان کے اس فعل پر نہ تو شرعاً  کوئی اعتراض وارد ہوتا ہے اور نہ ہی عقلاً۔ اس واقعے سے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ ایک ایسا شخص، جس کا نام و نسب مشکوک ہو، کو اپنے خاندان کا حصہ بنا لینا دل گردے کا کام ہے۔ ہم میں سے کون اتنا حوصلہ رکھتا ہے کہ کسی ایسے شخص کو، جسے ماں باپ  کے طعنے دیے جاتے ہوں، کو اپنا بھائی قرار دے کر اسے اپنے والد کی جائیداد میں حصہ بنا لے۔  اس کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ کیے بغیر ایک بے خانماں شخص کو اس کا حق دلوایا۔  رہا یہ سوال کہ انہوں نے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا تو اس کی وجہ دراصل ابن عامر کی تحریک تھی۔ کسی ذاتی رنجش کی وجہ سے انہوں نے زیاد کو بدنام کرنے کی مہم چلانے کا ارادہ کیا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بہت صدمہ ہوا اور انہوں نے پوری کاروائی کر کے یہ اعلان کیا۔  اس واقعے پر تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی عظمت کو سلام کرنے کو دل چاہتا ہے۔لیکن باغیوں کو چونکہ حضرت معاویہ سے خاص دشمنی تھی کیونکہ انہوں نے ان کے عزائم کو ناکام بنایا تھا، اس وجہ سے انہوں نے اس بات کا بتنگڑ بنا کر حضرت معاویہ پر اعتراضات شروع کر دیے۔ وہ اعتراضات یہ تھے:

1۔ معاویہ نے زیاد کو محض سیاسی فوائد کے لیے اپنا بھائی  قرار دیا۔ یہ محض ایک سیاسی چال تھی۔

2۔ معاویہ کا یہ عمل  شرعاً حرام تھا کیونکہ  نسب میں تبدیلی گناہ ہے۔

3۔ دیگر صحابہ نے بھی حضرت معاویہ کے اس  فیصلے پر تنقید کی۔

اب ہم ایک ایک کر کے ان اعتراضات اور باغیوں اور ان سے متاثر ہونے والے مورخین کے دلائل  کا جائزہ لیتے ہیں:

کیا استلحاق زیاد ایک سیاسی چال تھی؟

باغیوں اور ان کے متاثرین کا کہنا  ہے کہ زیاد کو اپنے خاندان میں شامل کرنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاسی چال تھی۔ انہیں خطرہ تھا کہ زیاد کہیں بغاوت نہ کر دیں اور دوسرے وہ ایک نہایت ہی قابل شخص کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ اس بات کی کمزوری اسی سے ظاہر ہو جاتی ہے کہ حضرت معاویہ کو زیاد رضی اللہ عنہما سے اگر کوئی خطرہ تھا تو اس وقت تھا ، جب زیاد نے ان کی بیعت نہ  کی تھی۔  زیاد ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لائق ترین گورنروں میں سے تھے اور انہوں نے ایران و خراسان کے وسیع علاقے کو نہایت خوبی سے سنبھال رکھا تھا۔ ان کے ساتھ فوج بھی موجود تھی۔ اگر انہوں نے بغاوت کرنا ہوتی تو 41/661 میں کرتے لیکن جیسے ہی حضرت حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہما کا اتحاد ہوا، زیاد نے بھی دمشق آ کر حضرت معاویہ کی بیعت کر لی۔ اگر حضرت معاویہ کا مقصد محض سیاسی چال چلنا ہوتا، تو یہ چال وہ اس وقت 41/661 میں چلتے ، نہ کہ تین سال بعد جا کر 44/664 میں زیاد کے اپنا بھائی ہونے کا اعلان کرتے جب زیاد کے پاس نہ تو کوئی عہدہ تھا اور نہ فوج، نہ ان کے باغی تحریک سے تعلقات تھے اور نہ ہی کوئی خاندانی  یا قبائلی حیثیت۔ 

رہی بات زیاد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی، تو یہ کام تو استلحاق کے بغیر بھی ہو سکتا تھا۔ زیاد فوجی اور سول ایڈمنسٹریشن کا زبردست ٹیلنٹ رکھتے تھے اور اسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور سے اب تک ثابت کرتے چلے آ رہے تھے۔ یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ جو شخص جس ٹیلنٹ  کا مالک ہو، اسے جب اپنے مطلب کا کام مل جائے، تو اس کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آ جاتی ہیں۔ جب زیاد ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کی بیعت کر چکے تھے تو پھر اس میں کیا مانع تھا کہ انہیں جو عہدہ دیا جاتا، اسے قبول کر لیتے۔

کیا استلحاق زیاد خلاف شریعت تھا؟

باغی راویوں اور ان سے متاثر ہونے والے بعض مورخین نے بڑا زور لگایا ہے کہ وہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ کے زیاد سے متعلق اعلان کو  خلاف شریعت ثابت کر دیں۔ ان کی بنیادی دلیل یہ حدیث ہے:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرا ہے، اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ جس سال مکہ فتح ہوا، اس بچے کو سعد بن ابی وقاص نے اپنی تحویل میں لے لیا اور کہا کہ یہ میرا بھتیجا ہے، میرے بھائی نے اس کے متعلق وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ کھڑے ہوئے ہوئے اور کہا کہ یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی کنیز کا بیٹا ہے اور میرے باپ ہی کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ دونوں اپنا مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور (اپنا دعوی پیش کیا۔۔۔۔) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عبد بن زمعہ! اس بچے کی پرورش آپ کے ذمہ ہے ۔ " پھر فرمایا: "بچہ اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور بدکاری کرنے والے کے لیے پتھر ہیں۔ " پھر (ام المومنین) سودہ بنت زمعہ  رضی اللہ عنہا سے فرمایا: "اس بچے سے پردہ کرنا کیونکہ اس میں عتبہ کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ اس بچے نے سیدہ سودہ کو ان کی وفات تک نہ دیکھا۔[6]

اس حدیث کی بنیاد پر یہ قانون بنایا گیا کہ اگر کسی شخص نے کسی شادی شدہ خاتون سے بدکاری کی اور اس سے بچہ ہو گیا تو  اس بچے کی پرورش کا حق  اس خاتون کے خاوند کو ہو گا،اگر وہ  اسے قبول کر لے۔ باغی راویوں نے یہ پراپیگنڈا کیا کہ حضرت معاویہ نے زیاد رضی اللہ عنہما کو اپنا بھائی قرار دے کر ان کا نسب اپنے والد ابو سفیان سے جوڑ لیا اور ایک گناہ کا کام کیا حالانکہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ حدیث میں بیان ہونے والے واقعے کی صورتحال ، زیاد سے بالکل مختلف تھی۔

1۔ حدیث میں جو واقعہ بیان ہوا ہے، وہ بدکاری کا کیس تھا جبکہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کی والدہ سے بدکاری نہیں کی تھی بلکہ میعادی نکاح کیا تھا، جو دور جاہلیت کے رواج کے تحت ایک جائز عمل تھا۔ دور جاہلیت میں یہ عام رواج تھا کہ لونڈیوں کے آقا پیسے لے کر انہیں مخصوص مدت کے لیے دوسرے لوگوں سے بیاہ دیتے تھے۔ اسلام نے اس ظالمانہ رسم کا خاتمہ کیا۔ اس کی تفصیل آپ راقم الحروف کی کتاب "اسلام میں ذہنی و جسمانی غلامی کے انسداد کی تاریخ" میں دیکھ سکتے ہیں۔

2۔ حدیث میں جو واقعہ ہے ، وہ ایک کم عمر بچے کا تھا جس کی پرورش کے سلسلے میں دو افراد میں جھگڑا کھڑا ہو گیا تھا۔  زیاد ایک جوان شخص تھے  اور ان کے والد کے بارے میں کوئی جھگڑا نہ تھا۔ لوگوں کو بالعموم یہ معلوم تھا کہ ان کے والد ابوسفیان ہی ہیں لیکن اس بات کو سرکاری ریکارڈ میں تسلیم نہ کیا گیا تھا۔ ابو سفیان کے علاوہ کوئی اور شخص ان کا باپ ہونے کا دعوے دار نہ تھا۔  ایسا نہیں تھا کہ زیاد کا باپ کسی اور شخص کو سمجھا جاتا تھا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کی بجائے ابو سفیان کو ان کا والد قرار دیا۔ انہوں نے صرف اتنا کیا کہ پوری قانونی کاروائی کر کے زیاد کی ولدیت کو تسلیم کر لیا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث مذکور میں بیان کردہ ارشاد نبوی کا کوئی اطلاق حضرت زیاد رضی اللہ عنہ کے معاملے پر نہیں ہوتا ہے۔  باغی تحریک کو پنپنے سے روکنے کے لیے چونکہ زیاد نے غیر معمولی کاروائی کی تھی، اس وجہ سے انہیں بدنام کرنے کے لیے ان باغیوں نے حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور زیاد کی والدہ سمیہ کے متعلق طرح طرح کے اسیکنڈل تراشے، انہیں بدکاری کا مجرم قرار دے کر زیاد کو ولد الحرام کا خطاب دیا  اور انہیں روایات کا حصہ بنا کر زیا دپر طعنہ جوئی کی جس کا سبب سوائے ان کے بغض اور تعصب کے اور کچھ نہ تھا۔

ان باغیوں کا یہ عمل مسلمہ انسانی اخلاقیات کی خلاف ورزی تھا۔ اسے ہم ایک مثال کی مدد سے واضح کرتے ہیں۔ ہم اپنے زمانے میں دیکھتے ہیں کہ یورپ کے ملحدین کے ہاں بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کے تعلق  کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ قانونی کاروائیوں سے بچنے کے لیے جوڑے اکٹھے رہتے ہیں اور اس میں ان کے بچے بھی ہو جاتے ہیں۔ اب اگر ایسا ہی کوئی جوڑا اور اس کی اولاد اسلام قبول  کر لے اور اپنے کردار سے نہایت ہی اعلی درجے کا مسلمان ثابت ہو تو کیا یہ بات جائز ہو گی کہ ان کی ماقبل اسلام سرگرمیوں کا طعنہ دے کر  انہیں بدکار اور ان  کے بچوں پر "ولد الحرام" ہونے کی پھبتی کسی جائے جبکہ  اسلام سے پہلے انہوں نے اپنے غیر مسلم معاشرے کے قانون اور رسم کے لحاظ سے  ایک جائز کام کیا۔ اسلام کے اصولوں کی پابندی کا اطلاق تو ان پر تب ہو گا جب وہ اسلام کے دائرے میں آ جائیں گے۔ سابقہ افعال کا طعنہ وہی دے سکتا ہے جس کا مقصد ہی سیاسی وجوہات کی بنیاد پر کسی کی کردار کشی ہو۔

کیا اکابر صحابہ نے حضرت معاویہ کے فیصلے پر تنقید کی؟

بعض مورخین نے دعوی کیا ہے کہ اکابر صحابہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فیصلے  کو تسلیم نہیں کیا، جس سے اس کی غلطی واضح ہے۔  حضرت معاویہ کی بہن ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہما  نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور  زیاد سے مسلسل پردہ کرتی رہیں۔  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس فیصلے کو شروع میں تسلیم نہیں کیا تاہم  بعد میں اسے مان لیا۔ یہ ساری باتیں ابن عبد البر (368-463/979-1071)نے اپنی مشہور کتاب "الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب" میں نقل کی ہیں جو انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات پر لکھی ہے۔

الاستیعاب میں "زیاد بن ابی سفیان" کے عنوان سے ایک طویل روایت نقل ہوئی ہے  جس میں جی بھر کر اس پورے واقعے کو ایک اسکینڈل کی شکل میں لکھا گیا ہے، حضرت زیاد اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے سارے معاملے کو نہایت ہی مشکوک انداز میں بیان کیا گیا ہے اور گویا کہ ان حضرات کے بارے میں ایک چارج شیٹ تیار کی گئی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اگر اس روایت کی سند ہی کو دیکھ لیا جائے تو سارا معاملہ صاف ہو جاتا ہے۔ سند یہ ہے: حدثنا الحسن بن منصور قال حدثنا عبيد بن ابي السري البغدادي قال حدثنا هشام بن محمد بن السائب عن أبيه عن أبي صالح عن ابن عباس۔[7]  سند کے خط کشیدہ الفاظ کو دیکھیے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ قصہ کس کا گھڑا ہوا ہے۔ یہ وہی مشہور ہشام کلبی ہے جو اپنے باپ محمد بن سائب الکلبی سے روایت کر رہا ہے۔  کتاب کے شروع میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ شخص جھوٹ گھڑنے کے لیے مشہور ہے اور صحابہ کرام کے بارے میں اتنا متعصب ہے کہ انہیں بدنام کرنے کا کوئی  موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ اس واقعے پر اعتراضات کی جو کہانی ہے، وہ اسی کی تیار کردہ ہے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  ایضاً ۔ 3/1-208

[2]  ایضاً ۔ 3/2-326

[3]  ایضاً ۔ 4/1-66

[4]  ایضاً ۔ 4/1-63

[5]  ابن حجر عسقلانی۔ الاصابہ  فی تمییز الصحابہ۔ باب زیاد بن ابی سفیان۔ شخصیت نمبر 3001۔ 4/141۔ قاہرہ: مرکز البحوث و الدراسات العربیہ و الاسلامیہ۔

[6]  بخاری، کتاب البیوع، حدیث 1948

[7]  ابن عبد البر۔ الاستیعاب۔  1/312۔ باب زیاد بن ابی سفیان