بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 6: عہد حسن و معاویہ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

گورنروں پر ظلم کی تہمت

باغی راویوں اور ان سے متاثرہ مورخین نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف جو چارج شیٹ تیار کی ہے، اس میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے گورنروں کو کھلی چھوٹ دے دی تھی اور وہ لوگوں پر ظلم و ستم کیا کرتے تھے۔  حضرت معاویہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرتے  تھے، جس کی وجہ سے ان گورنروں کا ظلم و ستم بہت بڑھ گیا۔  یہ دعوی جتنے شدو مد سے کیا گیا ہے، اسے ثابت کرنے کے لیے ہونا تو یہ چاہیے  تھا کہ واقعات کا ایک انبار لگا دیا جائے جس میں گورنر ظلم کرتے دکھائی دیں لیکن بمشکل چند ایک ایسے واقعات ملتے ہیں جن کی بنیاد پر یہ دعوی کیا گیا ہے۔  یہاں ہم انہی کا جائزہ پیش کریں گے۔

1۔ سن 40/660 میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہوئے لشکر کے کمانڈر بسر بن ابی ارطاۃ نے یمن میں قتل عام کیا اور حضرت عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے دو کمسن بچوں کو مار  دیا۔

2۔ بسر بن ابی ارطاۃ  نے پہلے ہمدان اور پھر یمن پر حملہ کیا اور وہاں کی مسلمان خواتین کو لونڈیاں بنا کر بازاروں میں بیچ دیا۔ یہ پہلی مسلم خواتین تھیں، جنہیں لونڈیاں بنایا گیا۔

3۔ بصرہ کے گورنر ابن غیلان کو خطبہ دیتے ہوئے ایک شخص نے پتھر مار دیا تو اس نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ اسی طرح   زیاد بن ابی سفیان پر بھی کوفہ میں دوران خطبہ کنکروں کی بارش ہوئی تو انہوں نے بھی ان لوگوں کے ہاتھ کٹوا دیے۔

5۔ مخالفین کا سر کاٹ کر پیش کرنے کے عمل کا آغاز حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیا اور تاریخ اسلام میں جو پہلا سر کاٹ کر پیش کیا گیا ، وہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا تھا۔ دوسرا سر عمرو بن حمق کا تھا  جو قاتلین عثمان میں شامل تھا۔ 

6۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خفیہ طور پر زہر دلوا کر سیاسی مخالفین کو قتل کروایا۔

اب ہم ان میں سے ایک ایک واقعے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

کیا یمن میں قتل عام کیا گیا؟

یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور سے متعلق ایک جھوٹی روایت ہے جس پر ہم تفصیلی بحث کر چکے ہیں۔  اس میں صرف حضرت معاویہ ہی نہیں بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہما کی بھیجی ہوئی فوج پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان افواج نے قتل عام کیا تھا۔ اس کا آپ وہاں جائزہ لے سکتے ہیں۔

کیا ہمدان اور یمن کی خواتین کو لونڈیاں بنایا گیا؟

یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جو ایک ایسی مردود روایت میں بیان ہوا ہے جسے سوائے ابن عبد البر کے، کسی مورخ نے اپنی کتاب میں درج نہیں کیا حتی کہ ابو مخنف اور ہشام کلبی جیسے لوگوں کی نظر بھی اس پر نہ پڑی، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف رائی کا پہاڑ اور بے پر کی اڑانے  کے لیے مشہور ہیں۔  روایت کی سند یہ ہے: حدثنا أحمد بن عبدالله بن محمد بن علي قال حدثنا ابي قال حدثنا عبدالله ابن يونس قال حدثنا بقي بن مخلد قال حدثنا ابو بكر بن أبي شيبة قال حدثنا زيد بن الحباب قال حدثنا موسى بن عبيدة قال حدثنا زيد بن عبدالرحمن بن أبي سلامة عن أبي أرباب۔ سند کا آغاز ہی دو نامعلوم افراد سے ہو رہا ہے۔ ایک کی کنیت ابو ارباب بیان ہوئی ہے اور دوسرے  کا نام زید بن عبد الرحمن۔ رجال کی کتب میں ان کے کوئی حالات ہمیں نہیں مل سکے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ حضرات بھی باغی تحریک کے رکن رہے ہوں جس کا مقصد ہی ڈس انفارمیشن پھیلانا تھا۔

درایت کے اصولوں کے اعتبار سے دیکھیے کہ تو مسلم خواتین کا مسلمانوں کے ہاتھوں بازاروں میں بیچنا ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس پر عالم اسلام کا دل دہل جائے۔  اگر ایسا ہوا ہوتا تو  سینکڑوں لوگ اس واقعے کو دیکھتے اور پھر بے شمار لوگ اس واقعے کو بیان کر رہے ہوتے  لیکن سوائے اس ایک مردود روایت کے، کسی اور روایت میں اس کا تذکرہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ابو مخنف اور ہشام کلبی جیسے لوگ بھی اس با ت سے بے خبر ہیں جن کی زندگیوں کا مقصد ہی بغض معاویہ کو فروغ دینا ہے۔

کیا گورنر کنکر مارنے والوں کے ہاتھ کٹوا دیتے تھے؟

تاریخ کی کتب میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کےد ور سے متعلق ایسے دو واقعے بیان ہوئے ہیں۔  ایک واقعہ 50/671 کا ہے اور دوسرا 55/675 کا ۔ ہم ان کا الگ الگ جائزہ لیتے ہیں:

زیاد بن ابی سفیان کا واقعہ

پہلا واقعہ حضرت زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ زیاد مشرقی صوبوں کے گورنر تھے اور بصرہ میں رہ کر افغانستان تک کے علاقے پر حکومت کرتے تھے۔ کوفہ کے گورنر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تھے جن کی وفات  50/671 میں ہوئی۔  آپ کے بارے میں ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ آپ نہایت حلم او رتدبر سے کام لیتے تھے۔ آپ کی نرمی کو کوفی باغیوں نے کمزوری سمجھا اور اپنے بغض کا اظہار اس طرح کیا کہ آپ پر دوران خطبہ کنکر برسائے لیکن آپ نے پھر بھی نرمی اختیار کی۔

زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ انہوں نے اس درجے میں مشرقی صوبوں میں نظم قائم کر دیا تھا کہ افغانستان میں اگر کسی کی رسی بھی چوری ہوتی تو انہیں بصرہ میں اس کی اطلاع مل جاتی۔ اس کارکردگی کو دیکھتے ہوئے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ بھی انہی کے سپرد کر دیا جو عالم اسلام کا سب سے زیادہ خطرناک اور مشکل علاقہ بن چکا تھا۔ یہیں سے شمالی صوبے بھی کنٹرول کیے جاتے تھے۔ جب زیاد یہاں آئے تو اہل کوفہ نے ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو وہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کرتے تھے یعنی وہ جب خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو کوفی باغیوں نے ان پر بھی کنکر برسائے۔ اس واقعے کی جو تفصیلات طبری نے بیان کی ہیں، ہم یہاں نقل کر رہے ہیں:

حدثني عمر، قال: حدثني علي، عن مسلمة بن محارب: زیاد جب کوفہ آئے تو منبر پر جا کر حمد و ثنا کی اور پھر کہا: "میں بصرہ میں تھا کہ مجھے یہ خدمت تفویض کی گئی۔ میں نے ارادہ کیا کہ بصرہ کی پولیس میں سے دو ہزار سپاہیوں کے ساتھ یہاں آؤں لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ آپ لوگ اہل حق ہیں اور آپ کے حق نے بہت مرتبہ باطل کو دفع کیا ہے۔ اس لیے فقط اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر آپ کے پاس چلا آیا ہوں۔ الحمد للہ! لوگوں نے مجھے جتنا  پست کیا تھا، اتنا ہی اللہ تعالی نے بلند کر دیا۔ لوگوں نے جس بات کو ضائع کر دیا تو اللہ نے اس کی حفاظت کی۔ "

جب زیاد خطبہ سے فارغ ہوئے اور ابھی منبر ہی پر تھے کہ لوگوں نے ان پر سنگریزے مارنا شروع کر دیے۔ جب  تک سنگریزوں کی بارش ہوتی رہی، زیاد وہیں بیٹھے رہے۔ پھر اپنے خاص لوگوں کو بلا کر حکم دیا کہ مسجد کے تمام دروازے بند کر دیں۔ پھر کہا : "ہر شخص اپنے پاس والے آدمی کو پکڑ لے۔ ہرگز ہرگز کوئی نہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ میرے پاس کون بیٹھا تھا؟"  اس کے بعد زیاد نے اپنے لیے  ایک کرسی مسجد کے دروازے پر رکھوائی اور چار چار افراد کو بلا کر قسم لی کہ ہم میں سے کسی نے پتھر نہیں مارا۔ جس نے قسم کھا لی، اسے چھوڑ دیا اور جس نے قسم نہ کھائی، اسے علیحدہ روک رکھا۔ یہ سب تیس آدمی تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسی افراد تھے۔ اسی جگہ ان سب کے ہاتھ کاٹ ڈالے گئے۔[1]

روایت کی سند پر غور فرمائیے ۔ پہلے راوی کا نام عمر ہے لیکن اس نام کے تو ہزاروں آدمی ہوں گے۔ طبری کی دیگر روایات کا جائزہ لیا جائے تو ان کا نام عمر بن شبہ (173-262/789-875)معلوم ہوتا ہے۔  یہ بھی ایک بڑے مورخ اور اخباری تھے۔ تیسرے صاحب مسلمہ بن محارب ہیں اور ان کے حالات نامعلوم ہیں۔  کتب رجال میں ان کا ذکر نہیں ملتا کہ یہ قابل اعتماد ہیں یا نہیں۔

سند سے قطع نظر اگر واقعے کو درست بھی مان لیا جائے تو اس میں چند نکات قابل غور ہیں۔ کسی عام آدمی کو کیا غرض ہے کہ وہ گورنر پر دوران خطبہ پتھر برسائے۔ یہ وہی قاتلین عثمان  اور ان کے حامیوں کا گروپ تھا جنہوں نے اب کوفہ کو اپنا بیس کیمپ بنا رکھا تھا  اور یہاں اپنی تحریک کو منظم کر رہے تھے۔ زیاد بن ابی سفیان کے سامنے چیلنج یہ تھا کہ اس گروپ کی بیخ کنی کی جائے۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نرمی کا رویہ اختیار کیا تھا اور خود کو نگرانی تک محدود رکھا تھا۔ اس سے یہ شیر ہو گئے تھےاور نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ  گورنر پر بھی سنگ باری کرنے لگے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان لوگوں کو پکڑ کر ان کی گردنیں اڑا دی جاتیں لیکن یہ زیاد کی نرمی تھی کہ انہوں نے اس گروپ کے لوگوں کے ہاتھ کٹوانے پر اکتفا کیا۔ اس میں بھی انہوں نے باقاعدہ تفتیش کی اور صرف انہی لوگوں کے ہاتھ کٹوائے جنہوں نے  قسم کھانے سے انکار کیا تھا۔ ایک آدمی اگر باغی تحریک میں شامل نہیں ہے، تو اسے قسم کھانے میں کیا چیز مانع تھی؟ باغی بھی جھوٹی قسم کھا کر جان چھڑا سکتے تھے لیکن جن لوگوں کے ہاتھ کٹوائے گئے، وہ سرکشی کی اس انتہا پر پہنچ چکے تھے کہ انہوں نے سر عام تسلیم کر لیا کہ وہ باغی تحریک کا حصہ ہیں۔

اگر زیاد کےا س عمل کو بھی کوئی شخص ظلم کہتا ہے تو اس کےبارے میں پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس کے لیے امن و امان کو قائم رکھنا اور باغی تحریکوں کی سرکوبی کوئی اہم کام نہیں ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ جو شخص بھی حکومت  کے خلاف بغاوت کی تیاری کرے، حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کے گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے، اس کا منہ چومے اور اقتدار کو طشتری میں رکھ کر اسے پیش کر دے۔ اگر اسی اصول کو درست قرار دے دیا جائے تو پھر  اس شخص کو آج کے دور کی تمام حکومتوں کو مشورہ دینا چاہیے کہ جہاں  ان کے خلاف کوئی تحریک اٹھنا شروع ہو، وہ ایسا ہی کریں۔ اس شخص کو خود بھی جتنا اقتدار حاصل ہے، اسے چاہیے کہ وہ اسے چھوڑ کر اپنے مخالفین کے حوالے کر دے۔

ہاں زیاد پر یہ اعتراض ضرور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ان باغیوں کو ذرا نرم سزا بھی دے سکتے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ نرم سز ا کا ان کی ڈھیٹ ہڈیوں پر اثر نہیں ہو رہا تھا۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ اس سے پہلے انہیں قید بھی کر کے دیکھ چکے تھے اور زبانی سرزنش بھی کر چکے تھے۔ لیکن یہ لوگ کسی طرح اپنی سرکشی سے باز نہیں آ رہے تھے بلکہ یہ سزائیں ان کی طاقت میں اضافہ کر رہی تھیں جیسے اینٹی بایوٹک ادویات سے بسا اوقات جراثیم مزید طاقتور ہو جاتے ہیں۔  ضرورت اس امر کی تھی کہ ان کے خلاف سخت کاروائی کی جاتی تاکہ لوگ ان کی حمایت سے باز آتے۔ زیاد نے ایسا ہی کیا اور انہیں یہی کرنا چاہیے تھا۔ 

اس واقعے کے بعد زیاد نے کوفہ کی باغی تحریک کےبارے میں تفصیلی تحقیقات کروائیں اور اس کے سرغنوں کو پکڑ کر شام بھجوا دیا۔ ان لوگوں پر مقدمہ چلا اور بہت سے لوگوں نے ان کی سرگرمیوں کے بارے میں گواہیاں دیں۔ اس جرم کی پاداش میں ان سب کو قتل کر دیا گیا اور ان میں حُجر بن عدی بھی شامل تھے۔ اس کی تفصیل آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔

ابن غیلان کا واقعہ

سب سے پہلے ہم اس واقعے کی روایت کو طبری سے بیان کرتے ہیں اور پھر اس پر اپنا تبصرہ پیش کریں گے:

حدثنا الوليد بن هشام وعلي بن محمد: اسی سال (55/675) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمرو بن غیلان کو بصرہ سے معزول کر کے عبیداللہ بن زیاد کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا۔ وجہ یہ ہوئی کہ عبداللہ بن عمرو بصرہ کے منبر پر خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص خیبر بن ضحاک نے بنو ضبہ میں سے (یا بنو ضرار میں سے) انہیں ایک سنگریزہ کھینچ مارا۔ عبداللہ نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا۔ بنو ضبہ نے آ کر کہا کہ ہماری برادری کے ایک شخص سے جو غلطی ہونی تھی، ہو گئی اور گورنر نے بھی سزا بھی اسے مناسب ہی دی ہے لیکن اب ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ یہ خبر امیر المومنین کو پہنچ جائے گی اور وہاں سے بھی کوئی عذاب کسی خاص شخص یا برادری پر نازل ہو جائے گا۔ اس لیے آپ مناسب سمجھیں تو خود ہی امیر المومنین کے نام ایک خط لکھ کر ہمیں دے دیجیے ، ہم اپنے لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ بھجوا دیں گے۔ اس میں یہ لکھ دیجیے کہ ہاتھ (چوری کے) شبہ میں کاٹا گیا ہے، جرم واضح نہیں ہے۔

عبداللہ بن عمرو نے حضرت معاویہ کے نام خط لکھ کر انہیں دے دیا۔ سال بھر یا چھ مہینے یہ خط پڑا رہا ۔ اس کے بعد عبداللہ خود معاویہ کے پاس گئے یا یہ واقعہ لکھ کر روانہ کر دیا۔ بنو ضبہ بھی حضرت معاویہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے: "امیر المومنین! عبداللہ نے ہمارے ایک بھائی کا ہاتھ ناحق کٹوا دیا۔" اور یہ خط ان کا آپ کے نام موجود ہے۔ حضرت معاویہ نے خط پڑھ کر فرمایا: "میرے مقرر کردہ گورنروں سے قصاص لینا تو درست نہیں ہے۔ اس کا تو کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہاں اگر تم کہو تو دیت دلوا سکتا ہوں۔" یہ لوگ دیت پر راضی ہو گئے۔ حضرت معاویہ نے بیت المال سے انہیں دیت دلوا دی اور عبداللہ بن غیلان کو معزول کر دیا۔ [2]

اس واقعے میں خط کشیدہ الفاظ پر غور کیجیے کہ متعلقہ شخص کا ہاتھ کٹوانے کی وجہ سے اس کی برادری کو کیا خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ البدایہ و النہایہ میں یہ واقعہ جہاں بیان ہوا ہے، وہاں ان لوگوں کا خدشہ یہ بیان کیا گیا ہے جو انہوں نے ابن غیلان سے کیا: "اگر امیر المومنین کو یہ علم ہو گیا کہ  آپ نے اس کا ہاتھ اصل میں کس وجہ سے کاٹا ہے تو وہ اس کے اور اس کی قوم کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو حجر بن عدی کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس وجہ سے آپ ہمیں تحریر لکھ دیجیے آپ نے ہمارے آدمی کا ہاتھ شبہ کی بنیاد پر کاٹا ہے۔" اس سے اصل کہانی واضح ہو جاتی ہے  کہ یہ شخص دراصل باغی تحریک کا رکن تھا۔ اسے سزا محض کنکری مارنے پر نہیں دی گئی تھی بلکہ اس کی باغیانہ سرگرمیوں کی وجہ سے دی گئی تھی اور وہ اسی سلوک کا مستحق تھا۔  اس کے قبیلے کے لوگوں نے رونا پیٹنا مچا کر گورنر سے خط لکھوا لیا اور گورنر نے بھی محض سادگی میں خط لکھ دیا اور پھر  اس کی پاداش میں معزول بھی ہوئے۔ اگر وہ پوری صورتحال اسی وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجتے تو اس پورے گروپ کا وہی حشر ہوتا ، جو حجر بن عدی کا ہوا تھا۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر ان کے اس جملے کی وجہ سے اعتراض یہ کیا گیا ہے  اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے گورنروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی: " میرے مقرر کردہ گورنروں سے قصاص لینا تو درست نہیں ہے۔ اس کا تو کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہاں اگر تم کہو تو دیت دلوا سکتا ہوں۔" یہ اسلام ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا عام قانون ہے کہ اگر جج سے فیصلہ کرنے میں غلطی ہو جائے اور وہ مجرم کو مثلاً پھانسی کی سزا دے بیٹھے تو پھر اس جج سے قصاص نہیں لیا جاتا ہے۔  غلطی کا امکان ہر شخص سے ہوتا ہے اور جج بھی بہرحال انسان ہی ہوتا ہے۔ اگر یہ قانون بنا دیا جائے کہ جج کے غلط فیصلے کی وجہ سے اگر کسی ملزم کو نقصان پہنچے تو جج سے بدلہ لیا جائے تو پھر کوئی شخص بھی عدلیہ میں عہدہ قبول نہ کرے گا۔ ہاں جج کے فیصلے میں غلطی پائی جائے اور یہ معلوم ہو جائے کہ اس نے سوچ سمجھ کر فیصلہ نہیں کیا تو اس کے خلاف محکمانہ کاروائی  کی جا سکتی ہے اور اسے معزول کیا جا سکتا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا اور اپنے گورنر کو معزول کر دیا۔  ان تک جو بات پہنچی ، وہ یہی تھی کہ گورنر نے شبہ میں ایک شخص کا ہاتھ کٹوا دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں ملزم کو شک کا فائدہ (Benefit of Doubt) دینا چاہیے تھا، نہیں دیا۔ یہ ایک ایسی غلطی ہے جو کسی بھی جج سے ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ اس دور میں تقسیم عمل (Segregation of Duties) کا اصول دریافت نہیں ہوا تھا اور فوج، انتظامیہ اور عدلیہ ایک ہی گورنر کے ماتحت ہوتی تھی۔ صوبے کی ہائی کورٹ کا سربراہ بھی گورنر ہی ہوتا تھا اور مرکزی سپریم کورٹ کی ذمہ داری خلیفہ کے سپرد ہوتی تھی۔

 اس واقعے کی سند پر بھی غور فرمائیے۔ طبری نے صرف دو راویوں کا ذکر کیا ہے، ایک ولید بن ہشام اور دوسرے علی بن محمدالمدائنی (135-225/752-840)۔  مدائنی اس واقعہ کے اسی نوے برس بعد پیدا ہوئے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ واقعہ کن کن لوگوں سے گزر کر ان تک پہنچا ہے۔  پھر مدائنی بھی اخباری ہیں جن کے بارے میں محدثین کی آراء ملی جلی ہیں کہ یہ قابل اعتماد ہیں یا نہیں۔ ولید بن ہشام کا کوئی تذکرہ ہمیں نہیں مل سکا ہے۔  تہذیب الکمال جیسے بڑے انسائیکلو پیڈیا میں بھی ولید بن ہشام نام کے تین راوی ہمیشہ مل سکے ہیں  اور تینوں کا تعلق پہلی صدی ہجری سے ہے اور ظاہر ہے کہ طبری اپنی پیدائش سے ڈیڑھ سو برس پہلے کے لوگوں سے روایت نہیں سن سکتے ہیں۔ درمیان کے  راویوں نے بات میں کیا کچھ ملاوٹ کر دی ہو، ہم نہیں جانتے ہیں۔   اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سند کے اعتبار سے یہ واقعہ نہایت ہی کمزور طریقے سے طبری تک پہنچا ہے۔

کیا حضرت معاویہ کے سامنے سر کٹوا کر پیش کیے گئے؟

اس ضمن میں تواریخ میں دو واقعات ملتے ہیں۔ ایک حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا اور دوسرا عمرو بن حمق کا ، جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا براہ راست قاتل تھا۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے بارے مسند احمد میں یہ ر وایت موجود ہے:

حنظلہ بن خویلد العنبری کا بیان ہے کہ میں حضرت معاویہ کے پاس تھا کہ دو آدمی حضرت عمار کے سر کے بارے میں بحث کرتے ہوئے آئے اور ان میں سے ہر ایک کہہ رہا تھا کہ میں نے انہیں قتل کیا۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: "تم دونوں میں سے ہر ایک اپنے صاحب (یعنی حضرت عمار) کے بارے میں دل خوش کرنے کے لیے کہہ رہا ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ "اے عمار! تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ " حضرت معاویہ نے پوچھا: "تو پھر آپ ہمارے ساتھ کیوں ہیں؟" وہ بولے: میرے والد نے میری شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھی تو آپ نے فرمایا تھا: "جب تک زندہ رہو، اپنے والد کی اطاعت کرو اور ان کی نافرمانی نہ کرو۔" میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں لیکن میں نے جنگ نہیں کی ہے۔" [3]

اس روایت میں کہیں یہ بیان نہیں ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے  حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا سر کاٹ کر لانے کا حکم دیا تھا بلکہ صرف یہ بیان ہوا ہے کہ دو آدمیوں میں آپ کے سر کے بارے میں بحث ہوئی کہ آپ کو قتل کرنے والا کون بدبخت ہے۔  یہ دعوی کرنا کہ اسلام کے دور میں جو پہلا سر کاٹا گیا، وہ حضرت عمار کا تھا، درست نہیں ہے بلکہ ہم جنگ جمل کے سلسلے میں یہ روایت نقل کر چکے ہیں کہ اس واقعے سے پہلے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے قاتل عمرو بن جرموز نے بھی ان کا سر کاٹ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا تھا تو انہوں نے  اسے جہنم کی وعید سنائی تھی۔

عمرو بن حمق کے قتل کا جو واقعہ طبری ہشام کلبی اور ابو مخنف کی سند سے بیان ہوا ہے، وہ یہ ہے:

قال هشام بن محمد؛ عن أبي مخنف، وحدثني المجالد بن سعيد، عن الشعبي وزكرياء بن أبي زائدة، عن أبي إسحاق۔ (جب کوفہ کی باغی تحریک کے بارے میں زیاد نے گرفتاریاں شروع کیں، تو) عمرو بن حمق اور رفاعہ بن شداد  کوفہ سے نکل کر مدائن جا پہنچے اور پھر وہاں سے موصل چلے آئے۔ یہاں یہ ایک پہاڑ میں چھپے رہے۔ اس گاؤں کے سربراہ ، جس کا نام عبداللہ بن ابی بلتعہ تھا، کو خبر ہوئی کہ دو شخص اس پہاڑ کے دامن میں چھپے ہوئے ہیں، اسے ان دونوں پر شک گزرا۔ ۔۔۔ عمرو گرفتار ہو گیا۔ انہوں نے پوچھا: "تم کون ہو؟" وہ بولا: "میں وہ شخص ہوں کہ جسے چھوڑ دو گے تو تمہارے لیے اچھا ہو گا اور اگر قتل کرو گے تو تمہارے لیے برا ہو گا۔" ان لوگوں نے بہت پوچھا مگر اس نے نہ بتایا۔

ابن ابی بلتعہ نے عمرو کو موصل کے گورنر عبدالرحمن ثقفی کے پاس بھیج دیا۔ انہوں نےا سے دیکھتے ہی پہچان لیا اور حضرت معاویہ کو اس کا حال لکھ بھیجا۔ حضرت معاویہ نے جواب میں لکھا: "عمرو نے حضرت عثمان پر اپنے بھالے سے نو وار کیے تھے۔ میں نہیں چاہتا کہ اس پر زیادتی کی جائے۔ اس نے حضرت عثمان پر نو وار کیے تھے، تم بھی اس پر نو مرتبہ ہی وار کرنا۔" اس حکم پر عمرو کو نکال کر باہر لائے اور نو وار شروع کیے لیکن وہ پہلے یا دوسرے وار ہی پر مر گیا۔ [4]

 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمرو کے ساتھ وہی سلوک ہوا، جس کا وہ حق دار تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل کے ساتھ  جو معاملہ کیا گیا، وہ عین انصاف تھا۔ ہشام کلبی اور ابو مخنف، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بدنام کرنے کے لیے خود روایتیں گھڑتے ہیں، انہوں نے بھی ایسا کوئی ذکر نہیں کیا کہ عمرو کے سر کو کاٹ کر پیش کیا گیا ہو۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ جھوٹا الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے سر کٹوا کر پیش کرنے کی رسم جاری کی۔ یہ بھی اسی پراپیگنڈا مہم کا حصہ ہے جو باغی تحریک کے راویوں نے اختیار کی۔

کیا سیاسی مخالفین کو زہر دلوایا گیا؟

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر تین افراد کو  زہر دلوا کر قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے: مالک اشتر، عبدالرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہما اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ۔  اب ہم ان تینوں سے متعلق روایات کا جائزہ پیش کرتے ہیں۔

مالک بن حارث الاشتر

مالک اشتر کے بارے میں معلوم و معروف ہے کہ وہ باغی تحریک کا نمایاں لیڈر تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر جس پارٹی نے حملہ کر کے انہیں شہید کیا،  اس کا یہ سرغنہ تھا۔ اس کے بعد جس گروپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے  گرد گھیرا ڈال کر ان کے نام پر خود حکومت کرنے کی مذموم کوشش کی، اس گروپ کا سربراہ بھی یہی تھا۔  یہی وہ گروپ تھا جس نے جنگ جمل اور جنگ صفین کروائی ۔ ان وجوہات کی بنیاد پر اگر  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل بھی کروا دیا ہو، تو اس میں کوئی مضائقہ نہ تھا کہ وہ اسی کا مستحق تھا۔ جب دو فریق برسر جنگ ہوں، تو وہ ایک دوسرے کی بلائیں نہیں لیتے اور نہ ہی ایک دوسرے سے پیار محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ مخالف فوج کے ماسٹر مائنڈ جرنیلوں کو اگر ایجنٹ بھیج کر قتل  کروا دیا جائے تو جنگی اخلاقیات کے تحت اسے کوئی غلط نہیں سمجھتا ہے۔ 

طبری میں اس کے قتل کے تفصیلات ابو مخنف نے بغیر کسی سند کے بیان کی ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک غیر مسلم کسان، جس کا نام جایستار تھا،  کو اس کام پر مقرر کیا۔ اشتر مصر کا گورنر بننے جا رہا تھا کہ راستے میں اسی جایستار کے پاس ٹھہرا اور اس کسان نے شہد میں اسے زہر دے دیا جسے پیتے ہی اس نے دم توڑ دیا۔ اگر ابو مخنف کی روایت کو درست بھی مان لیا جائے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ کارنامہ قابل داد ہے کہ انہوں نے ایک نازک موقع پر باغی تحریک کے اس ماسٹر مائنڈ کا خاتمہ کر دیا۔ تاہم اس واقعے کی تصدیق ناممکن ہے کیونکہ سوائے ابو مخنف کے، کسی اور نے اسے بیان نہیں کیا ہے۔ 

بعض  حضرات طبری کی ان روایتوں پر تنقید کرتے ہیں جن میں مالک الاشتر کو باغی تحریک کا سرغنہ بتایا گیا ہے اور اس کے بعد بڑے طمطراق سے دعوی کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک معصوم انسان کو زہر دلوا دیا۔ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔  مالک الاشتر کا باغی تحریک کا سرغنہ ہونا تو اتنی زیادہ روایات سے ثابت ہے کہ یہ حد تواتر تک پہنچ جاتی ہیں۔ اگر ان سینکڑوں روایات  کو غلط مان لیا جائے جن میں مالک الاشتر کا باغی تحریک میں شامل ہونا بیان ہوا ہے، تو پھر اس ایک روایت کو بھی نہیں ماننا چاہیے جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر زہر دلوانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

عبدالرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہما

یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے قریبی ساتھی تھے اور ان کے بارے میں بھی طبری میں حدثني عمر، قال: حدثني علي، عن مسلمة ابن محارب  کی سند سے ایک  ایسی روایت نقل ہوئی ہے جس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر تہمت لگائی گئی ہے کہ انہوں نے انہیں زہر دلوا کر قتل کر دیا تھا۔  اس کی وجہ یہ بیان ہوئی ہے کہ یہ بہت اپنے جلیل القدر والد کی طرح بہت جفاکش تھے اور سرزمین شام میں ان کی شان بہت بڑھ گئی تھی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان سے سیاسی خطرہ ہوا تو ایک عیسائی ابن اثال کے ہاتھوں انہیں زہر دلوا دیا۔  جب اس کا علم خالد بن عبدالرحمن کو ہوا تو انہوں نے ابن اثال کو قتل کر دیا۔ [5]

 اس روایت کی سند پر غور کیجیے تو اس میں  ایک علی بن محمد ہیں اور دوسرے مسلمہ بن محارب۔ علی بن محمد کے قابل اعتماد ہونے کے بارے میں محدثین میں اختلاف پایا جاتا ہے جبکہ مسلمہ بن محارب کے حالات ہی سرے سے نامعلوم ہیں۔ اس وجہ سے یہ روایت سرے سے قابل اعتماد نہیں ہے۔ یہ واقعہ طبری نے 46/666 کے باب میں بیان کیا ہے۔ اسی روایت کے بعد  47/667 کا باب ہے جو کہ نہایت ہی مختصر ہے اور اس کے فوراً بعد 48/668 کا باب شروع ہوتا ہے۔ اس کے بالکل آغاز میں طبری نے اس سال کے عہدے داروں کے نام نقل کیے ہیں ، جس نے اس روایت کے جھوٹ کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔  طبری لکھتے ہیں:

پھر سن 48 ہجری شروع ہوا۔ اس کے واقعات کا ذکر یہ ہے۔ اس سال ابو عبدالرحمن قینی نے انطاکیہ میں سردی کا موسم بسر کیا اور عبداللہ بن قیس فزاری نے گرمیوں کا جہاد کیا۔ مالک بن ہبیرہ سکونی نے سمندر میں جنگ کی اور  عقبہ بن عامر جہنی نے اہل مصر کو ساتھ لے کر  سمندر میں جنگ کی اور اہل مدینہ بھی ان کے ساتھ ہی تھے۔ اہل مدینہ کے کمانڈر منذر بن زہیر تھے اور ان سب کے کمانڈر انچیف خالد بن عبدالرحمن بن خالد بن ولید تھے۔ [6]

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت معاویہ نے عبدالرحمن  کو زہر دلوایا ہوتا تو ان کے بیٹے  خالد کو کس طرح اتنی اہم کاروائیوں کا کمانڈر  انچیف بنا دیا۔  اگر یہ کہا جائے کہ خالد کو اس سازش کا علم نہیں تھا تو یہ درست نہیں ہے کیونکہ زہر والی روایت میں یہ بیان ہوا ہے کہ خالد کو علم ہوا تھا اور انہوں نے ابن اثال کو قتل کر دیا تھا۔ اگر انہیں سازش کا علم نہیں ہوا تو پھر راویوں کو اس کا علم کیسے ہو گیا۔ روایت کا مرکزی راوی مسلمہ بن محارب ہے جس کے بارے میں کچھ علم نہیں کہ وہ کون ہے اور اسے ۔ عین ممکن ہے کہ یہ بھی اسی باغی تحریک کا رکن رہا ہو اور محض حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بدنام کرنے کے لیے اس نے روایت گھڑی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ابن اثال عیسائی نے عبد الرحمن کو زہر دیا ہو لیکن اس کا محرک دراصل قیصر روم ہو، جس کا ناطقہ عبد الرحمن نے خشکی اور سمندر دونوں میں بند کر رکھا تھا۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات سے متعلق طبری میں کوئی روایت موجود نہیں ہے۔ آپ کی وفات کے متعلق یہ کہانی مشہور کی گئی ہے کہ آپ کی اہلیہ جعدہ بنت الاشعث بن قیس نے آپ کو زہر دیا تھا کیونکہ یزید بن معاویہ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ آپ کو زہر دے دیں تو وہ ان سے شادی کر لے گا۔ یہ کہانی طبری، بلاذری، ابن اثیر  وغیرہ کسی مورخ نے بیان نہیں کی ہے۔  یہ محض ایک جھوٹ ہے جو باغی تحریک کے راویوں نے گھڑا ہے لیکن اتنی نامعقولیت سے گھڑا ہے کہ تاریخ کی کسی کتاب میں اس کا سراغ نہیں ملتا ہے۔

ابن الاثیر (555-630/1160-1233)نے "اسد الغابہ" میں بغیر کسی سند کے یہ کہانی نقل کی ہے۔

آپ کی وفات کا سبب یہ ہوا کہ آپ کی بیوی جعدہ بنت الاشعث بن قیس نے آپ کو زہر دیا۔ چالیس دن تک آپ کے نیچے طشت رکھا جاتا جس میں آپ فارغ ہوتے۔ یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ آپ فوت ہو گئے۔ جب آپ کے مرض نے شدت اختیار کر لی تو آپ نے اپنے بھائی حسین رضی اللہ عنہما سے فرمایا: "میرے بھائی! میں نے تین مرتبہ زہر پیا ہے لیکن اس جیسا نہیں پیا۔ اس نے میرا کلیجہ چھلنی کر دیا ہے۔" حسین نے عرض کی: "بھائی جان! آپ کو کس نے زہر دیا؟" فرمایا: "آپ یہ سوال کیوں کر رہے ہیں؟ کیا اسے قتل کرنا چاہتے ہیں؟ میں اس کے بارے میں اللہ عزوجل سے بات کروں گا۔" [7]

نہ تو ابن اثیر نے اس بات کی سند بیان کی ہے کہ یہ زہر جعدہ ہی نے دیا تھا اور نہ ہی  کسی اور نے۔ تاریخ کی کسی کتاب میں یہ ذکر نہیں ملتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جعدہ کو قتل کا ملزم قرار دیا ہو یا پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر الزام دھرا ہو۔ واقعہ کربلا کے موقع پر بھی آپ  نے یزید پر کم از کم یہ الزام عائد نہیں کیا کہ اس نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ زہر دلوایا۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کہانی کا کوئی سر پاؤں نہیں ہے اور جس نے بھی یہ کہانی گھڑی ہے، محض حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بغض میں گھڑی ہے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اہلیہ پر بھی یہ الزام سراسر جھوٹ ہے۔   اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی  ہے کہ حضرت حسن کے سسر اشعث بن قیس نے جنگ صفین کو ختم کروانے میں بھرپور کردار ادا کیا تھا جس کی پاداش میں باغیوں نے ان کی کردار کشی کی تھی۔ یہی سلسلہ بعد میں ان کی بیٹی اور سیدنا حسن کی اہلیہ کے سلسلے میں بھی جاری رکھی گئی۔

خود ابو مخنف کی روایات کے مطابق حضرت حسین اس سانحے کے بعد بھی ہر سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما  کے پاس جاتے رہے اور وہ انہیں عطیات دیتے رہے۔ کیا ایسا ممکن تھا کہ آپ حضرت معاویہ ہی کو حضرت حسن رضی اللہ عنہما کا قاتل سمجھتے اور پھر بھی ہر سال انہی کے مہمان بنتے؟

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  طبری۔ 4/1-73

[2]  طبری۔ 4/1-113

[3]  احمد بن حنبل۔ المسند ۔ باب عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما۔ حدیث 6538, 6929

[4]  طبری۔ 4/1-92

[5]  ایضاً ۔ 4/1-72

[6]  ایضا

[7]  ابن اثیر۔ اسد الغابہ۔  باب حسن بن علی رضی اللہ عنہما۔ 6/112۔ مکتبہ مشکاۃ الاسلامیہ۔  www.almeshkat.net (ac. 1 Feb 2012)