بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 6: عہد حسن و معاویہ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

حضرت معاویہ، بنو امیہ اور خلافت و ملوکیت

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کے دل میں بنو ہاشم کے خلاف بغض موجود تھا، اس وجہ سے انہوں نے بنو ہاشم کو دبا کر ان کی جگہ بنو امیہ کے اقتدار کو مضبوط کیا۔ اس طرح سے خلافت، ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔ اس سیکشن میں ہم انہی اعتراضات کا جائزہ لیں گے۔

کیا بنو امیہ اور بنو ہاشم میں دشمنی تھی؟

اس  الزام کا جواب دینے سے پہلے مناسب ہو گا کہ ہم بنو امیہ اور بنو ہاشم کے باہمی تعلقات کا جائزہ پیش کر دیں۔ امیہ اور ہاشم دونوں کوئی غیر نہیں بلکہ چچا بھتیجے تھے اور ایک ہی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ان کے باہمی رشتوں کا چارٹ ڈایا گرام میں دیا گیا ہے۔ اس چارٹ سے ظاہر ہے کہ  بنو امیہ اور بنو ہاشم کے سبھی لوگ ایک دوسرے کے کزن تھے۔ اس چارٹ میں جو لوگ ایک ہی  کزن گروپ سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں ایک ہی رنگ کے باکس میں دکھایا گیا ہے۔ عربوں میں جلد شادیوں کی وجہ سے  یہ کیفیت ہو جاتی تھی کہ کبھی چچا بھتیجا ہم عمر ہوتے تھے اور کبھی بھتیجا چچا سے زیادہ عمر کا ہوا کرتا تھا۔ اس وجہ سے ہم نے ایک ایج گروپ کے لوگوں کو ایک ہی لائن میں دکھایا ہے۔ چارٹ سے واضح ہے کہ حضرات عثمان، علی اور معاویہ رضی اللہ عنہم سبھی ایک دوسرے کے کزن تھے ۔  فرق صرف یہ تھا کہ کسی کا رشتہ قریب کا تھا اور کسی کا دور کا لیکن ان رشتوں کو مزید قربت اس طرح ملی کہ ان حضرات نے آپس میں ایک دوسرے کی اولادوں سے اپنی بیٹیوں کے رشتے کیے۔ اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔

دور جاہلیت کی یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ ہاشم اور امیہ میں سرداری کے مسئلے پر کچھ چپقلش تھی جو ان کی اولادوں کو منتقل ہوئی۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ یہ سب حضرات جاہلیت میں بھی خود کو ایک خاندان سمجھتے تھے اور  اس کے لیے ’’بنو عبد مناف‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی جو کہ ہاشم کے والد اور امیہ کے دادا تھے۔ بعد میں اسلام نے تو ان سب کو یک جان کئی قالب بنا دیا تھا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابو سفیان اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما قبول اسلام سے پہلے اور بعد میں ایک دوسرے کے گہرے دوست تھے اور حضرت عباس ہی کی تلقین پر اسلام لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسلام کی دعوت دی تو بالکل شروع کے سالوں میں اس دعوت پر بنو ہاشم کے ساتھ ساتھ بنو امیہ کے سعید الفطرت لوگ بھی ایمان لائے۔  بنو امیہ کے السابقون الاولون  صحابہ میں حضرت عثمان، ام حبیبہ، خالد بن سعید، عمرو بن سعیدرضی اللہ عنہم  کا نام پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے بہت سے حضرات نے حبشہ ہجرت کی۔  اگر بنو امیہ اور بنو ہاشم میں دشمنی ہوتی تو  بنو امیہ کے اتنے لوگ ایک ہاشمی پیغمبر پر ایمان نہ لاتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی مکی زندگی میں  قریش کی لیڈر شپ کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں بنو مخزوم کے ابو جہل اور ولید بن مغیرہ نمایاں تھے۔ بنو ہاشم میں ابو لہب، جو رسول اللہ کا سگا چچا تھا، آپ کی دعوت کا شدید مخالف تھا۔ اس کے برعکس ہمیں بنو امیہ میں ایسا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔  ابو سفیان، جنہیں اسلام مخالف ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے، نے مکی زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کوئی اذیت نہ پہنچائی۔ اس زمانے میں ان کے گھر میں اسلام داخل ہو چکا تھا اور ان کی جلیل القدر بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اسلام لا چکی تھیں۔  ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات راستے میں ہوئی۔ اس وقت آپ پیدل تھے جبکہ ابوسفیان، ان کی اہلیہ ہندہ اور بیٹے معاویہ سوار تھے۔ ابو سفیان نے معاویہ کو حکم دیا کہ وہ اتر کر پیدل چلیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ سوار ہو کر چلیں۔ اس دوران حضور نے اپنی دعوت ان کے سامنے پیش کی جسے انہوں نے سنجیدگی سے سنا۔

ابو سفیان کی جانب سے اسلام کی مخالفت  پہلی بار  ہجرت کے تین سال بعد غزوہ احد کے موقع پر سامنے آتی ہے۔ اس میں وہ قریش کے لشکر کے سردار تھے۔ پھر غزوہ خندق میں انہوں نے اس متحدہ لشکر  کی قیادت کی جو مدینہ پر حملہ آور ہوا۔ اس کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ابو سفیان کے دل کی دنیا بدل گئی اور ان کی جانب سے مخالفت ختم ہو گئی۔  فتح مکہ کے موقع پر انہوں نے اسلام قبول کیا اور اس کے بعد مخلص مسلمان رہے۔

اس کے بعد ہم یہ دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن لوگوں کو عہدے دیے، وہ زیادہ تر بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔  فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کا گورنر بھی ایک اموی نوجوان حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو نجران  اور ان کے بیٹے یزید کو تیماء کا گورنر مقرر فرمایا۔ حضرات ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما، جو ان دونوں خانوادوں سے ہٹ کر بالترتیب بنو تیم اور بنو عدی (قریش کے دیگر خاندان) سے تعلق رکھتے تھے، نے بھی بنو امیہ کے لوگوں کو زیادہ عہدے دیے۔  اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان اموی صحابہ پر کامل اعتماد موجود تھا۔  بنو امیہ کو زیادہ عہدے دینے کی وجہ یہی تھی کہ ان کے خاندان میں ایڈمنسٹریشن کا ٹیلنٹ پایا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 130برس تک عالم اسلام پر بہترین انداز میں حکومت کی اور کوئی فتنہ و فساد نہ پھیلنے دیا۔ پھر جب بنو عباس نے ان کی حکومت کا خاتمہ کیا تو اسپین میں یہی بنو امیہ مزید 300 سال تک حکومت کرتے رہے۔

بنو امیہ اور بنو ہاشم میں باہمی محبت کا سب سے بڑا ثبوت بنو امیہ کے دور کے اوائل میں بنو ہاشم کا طرز عمل ہے:

·       حضرت علی (ہاشمی) حضرت عثمان (اموی) کے دست راست رہے اور باغیوں کے خلاف ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

·       حضرت حسن   (ہاشمی) حضرت معاویہ (اموی) کے حق میں دستبردار ہو گئے۔ تمام بنو ہاشم نے ان کی بیعت کی۔

·       حضرت عبداللہ بن عباس (ہاشمی) نے عبد الملک بن مروان (اموی) کی بیعت کی اور اس پر اپنے آخری دم تک قائم رہے۔

·       حضرت زین العابدین (ہاشمی) نے پانچ اموی خلفاء یزید، مروان، عبدالملک،  ولید اور سلیمان کا زمانہ پایا اور ان سب کے ساتھ ان کے بہترین تعلقات رہے۔  یہی طرز عمل ان کے بیٹوں اور پوتوں میں منتقل ہوا جن میں حضرت محمد باقر اور جعفر صادق رحمہم اللہ نمایاں ہیں۔

·       بنو امیہ اور بنو ہاشم کے درمیان شادی بیاہ بھی ہوتے رہے۔  حضرت معاویہ کی دو بہنوں کا نکاح بنو ہاشم میں ہوا جبکہ حضرت علی کی دو بیٹیاں بنو امیہ میں بیاہی گئیں۔

اس طرح سے پہلی  صدی ہجری میں ہمیں بنو امیہ اور بنو ہاشم میں کسی چپقلش کا سراغ نہیں ملتا ہے۔ ان دونوں خاندانوں کے بعض افراد (سب نہیں) میں دشمنی  کا آغاز درحقیقت دوسری صدی ہجری میں اس وقت ہوا جب حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے کچھ پڑپوتوں بلکہ لکڑ پوتوں نے  بنو امیہ کو ہٹا کر ان کی جگہ برسر اقتدار آنا چاہا۔ یہ لوگ حضرت عباس اور علی رضی اللہ عنہما کی نسل میں پانچ چھ پشتوں کے بعد آتے ہیں۔ ان میں سے عباسی، علویوں کی نسبت زیادہ کامیاب رہے اور انہوں نے امویوں کا تختہ الٹ دیا۔ عباسیوں نے پہلے علویوں کو ساتھ ملایا اور بغاوت کر دی۔ اس کے بعد علویوں کو حکومت میں حصہ دینے سے انکار کر دیا۔  اس زمانے میں بھی حضرت عباس اور علی رضی اللہ عنہما کی اولاد کا ایک بڑا حصہ باہمی تنازعوں سے دور رہا۔ ان میں حضرت محمد باقر اور  جعفر الصادق رحمہما اللہ نمایاں تھے۔ ظاہر ہے کہ اس پوری سیاست کی کوئی ذمہ داری حضرت عباس، علی اور معاویہ رضی اللہ عنہم پر عائد نہیں ہوتی ہے کہ یہ حضرات تو ان واقعات سے  ستر اسی برس پہلے انتقال فرما چکے تھے۔

غالی مورخین ابو مخنف اور ہشام کلبی نے بنو امیہ اور بنو ہاشم کے اختلافات کو بھی بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے حالانکہ خود انہی کی روایتیں اس کی تردید کرتی ہیں۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں:

1۔ غالی راویوں کے مطابق حضرت ابوبکر کی بیعت کے موقع پر حضرت ابو سفیان (بنو امیہ) نے حضرت علی (بنو ہاشم) کو خلافت کا دعوی کرنے کی ترغیب دی تھی تو حضرت علی نے انہیں اس سے سختی سے منع کر دیا تھا۔

2۔ حضرت عثمان (بنو امیہ) سے پوچھا گیا کہ اگر آپ کو خلیفہ نہ بنایا جائے تو آپ کی رائے کس کے حق میں ہو گی؟ انہوں نے جواب دیا: علی (بنو ہاشم)کے حق میں۔  اسی طرح حضرت علی (بنو ہاشم) سے یہی سوال کیا گیا کہ اگر آپ کو خلیفہ نہ بنایا جائے تو آپ کی رائے کس کے حق میں ہو گی؟ انہوں نے جواب دیا: عثمان (بنو امیہ )کے حق میں۔

4۔ حضرت حسن (بنو ہاشم) حضرت معاویہ (بنو امیہ) کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوئے۔ حضرت معاویہ اپنے پورے دور خلافت میں حضرات حسن و حسین کے ساتھ بہترین سلوک کرتے رہے۔

5۔ اموی افواج جب حضرت زین العابدین کی جاگیر کے پاس سے گزریں تو انہوں نے انہیں چارہ پانی فراہم کیا۔ [1] رضی اللہ عنہم۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بنو امیہ کے بارے میں کیا رائے تھی، ملاحظہ فرمائیے:

أخبرنا عبد الرزاق، قال أخبرنا معمر بن أيوب عن ابن سيرين: ابن سیرین کہتے ہیں کہ ایک شخص نے علی سے پوچھا: ’’مجھے قریش کے بارے میں بتائیے؟‘‘ فرمایا: ’’ہم میں سب سے زیادہ صاحب عقل اور صاحب تحمل، ہمارے بھائی بنو امیہ ہیں اور بنو ہاشم جنگ کے وقت سب سے بہادر ہیں اور جو ان کی ملکیت ہو، اس میں سب سے زیادہ سخی ہیں۔ قریش کا پھول بنو مغیرہ ہیں جس سے ہم خوشبو حاصل کرتے ہیں۔ [2]

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ بنو امیہ اور بنو ہاشم کے مابین عہد صحابہ میں کوئی اختلافات نہ تھے۔ ممکن ہے کہ ان خاندانوں کے بعض لوگوں میں ایک دوسرے کے خلاف مسابقت کا جذبہ پایا جاتا ہو لیکن صحابہ کے جلیل القدر بزرگوں کے اندر ایسی کوئی بات نہ تھی۔ ہاں بنو امیہ کے دور کے آخر میں (دوسری صدی ہجری کا آغاز) بنو ہاشم میں ان کے خلاف رد عمل ضرور پیدا ہوا۔ اس کے اسباب بھی مذہبی سے زیادہ سیاسی تھے۔ لیکن یہ سب بھی بہت بعد میں ہوا۔ عہد صحابہ میں تو بنو امیہ اور بنو ہاشم، یک جان دو قالب تھے۔ دونوں خاندانوں کے سعید الفطرت لوگوں نے بالکل اوائل میں اسلام قبول کر لیا تھا اور اسلام کی خاطر مصیبتیں جھیلی تھیں۔

کیا حضرت معاویہ نے غزوہ بدر کا انتقام جنگ صفین کی صورت میں لیا؟

بعض لوگوں نے حضرت معاویہ پر یہ عجیب بے بنیاد تہمت عائد کی ہے کہ غزوہ بدر میں حضرت حمزہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے نانا عتبہ بن ربیعہ، کو قتل کیا تھا جبکہ ان کے ماموں ولید کو  حضرت علی رضی اللہ عنہ  قتل کیا تھا۔ ان کی والدہ ہندہ رضی اللہ عنہا نے جنگ احد کے موقع پر اپنے والد کا انتقام  حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کروا کر لیا اور ان کا کلیجہ چبایا۔ حضرت علی  رضی اللہ عنہ سے انتقام کو انہوں نے دل میں چھپائے رکھا اور اپنے بیٹے معاویہ میں منتقل کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت معاویہ نے ان سے جنگ کی اور ان کے بعد ان کے بیٹے یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کروا کر کے اس انتقام کی تکمیل کر دی۔

اس الزام کی کمزوری اسی بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں کبھی بھی یہ الزام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  پر عائد نہیں کیا۔ اگر ان حضرات میں ایسی کوئی دشمنی ہوتی تو یہ خود تو ظاہر کرتے۔ اسی طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چشم دید گواہ حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ نے کبھی اس رنگ میں نہ لیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جنگ صفین اور سانحہ کربلا کے بعد بھی حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے خاندانوں میں آپس میں شادی بیاہ ہوتے رہے۔  اگر ان حضرات میں ایسی کوئی دشمنی ہوتی تو پھر یہ خاندان آپس میں رشتے داریاں کیسے کرتے؟ کیا آج کے دور میں بھی کوئی اپنے مستقل دشمنوں کے گھروں میں شادی بیاہ کر سکتا ہے؟ 

یہ روایت ابن کثیر نے نقل کی ہے جس کے مطابق جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک یزید کے سامنے لایا گیا تو اس نے ایسے اشعار پڑھے جن کے مطابق سانحہ کربلا کو غزوہ بدر کا بدلہ قرار دیا۔ ابن کثیر نے اسی مقام پر اس روایت کی سند بھی دی ہے اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس روایت کا ماخذ کیا ہے۔ انہوں نے یہ سند بیان کی ہے: قال محمد بن حميد الرازي، وهو شيعي، ثنا محمد بن يحيي الأحمري، ثنا ليث، عن مجاهد۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ روایت محمد حمید الرازی کی ایجاد کردہ ہے جنہیں بنو امیہ سے خاص بغض تھا۔ [3]

کیا حضرت معاویہ نے بنو امیہ کا اقتدار مضبوط کیا؟

بہت سے مورخین بنو امیہ کے اقتدار کا زمانہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے شروع کر کے آخری اموی بادشاہ مروان الحمار پر ختم کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر بنو امیہ کی حکومت محض اس کا نام ہے کہ کوئی اموی خلیفہ تھا، تو یہ سلسلہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے شروع ہوتا ہے۔ حضرت معاویہ پر بعض لوگوں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ انہوں نے بنو امیہ کی حکومت کو مضبوط کیا۔ اس کا جواب دینے کے لیے مناسب ہو گا کہ ہم حضرت معاویہ کے دور کے اہم عہدے داروں کی ایک فہرست تیار کر کے دیکھ لیں کہ ان میں سے کتنے لوگ بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے:

نمبر شمار

عہدے دار[4]

علاقہ

قبیلہ[5]

1.    

مغیرہ بن شعبہ

گورنر کوفہ

بنو ثقیف

2.    

زیاد بن ابی سفیان

گورنر بصرہ اور  پھر گورنر کوفہ، ایران و خراسان

بنو امیہ

3.    

ضحاک بن قیس فہری

مرکزی پولیس چیف

بنو فہر

4.    

عبدالرحمن بن خالد بن ولید

گورنر شمالی شام

بنو مخزوم

5.    

بسر بن ابی ارطاۃ

کمانڈر فوج

بنو عامر

6.    

عبداللہ بن عامر

گورنر بصرہ

بنو امیہ

7.    

حکم بن عمرو

گورنر خراسان

بنو غفار

8.    

عمرو بن عاص

کمانڈر انچیف اور گورنر مصر

بنو مخزوم

9.    

عبداللہ بن عمرو بن عاص

گورنر مصر

بنو مخزوم

10.                      

مروان بن حکم

گورنر مدینہ

بنو امیہ

11.                      

سعید بن عثمان بن عفان

گورنر خراسان

بنو امیہ

12.                      

عمرو بن سعید بن عاص

گورنر مکہ

بنو  امیہ

13.                      

ولید بن عتبہ بن ابی سفیان

گورنر مدینہ

بنو امیہ

14.                      

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم

گورنر کوفہ

خزرج، انصار

15.                      

عبیداللہ بن زیاد

گورنر کوفہ

بنو امیہ

16.                      

فضالہ بن عبید

چیف جسٹس

اوس، انصار

17.                      

ابو ادریس الخولانی

چیف جسٹس

خولان

18.                      

قیس بن حمزہ

مرکزی پولیس چیف

نامعلوم قبیلہ

19.                      

زمل بن عمرو العذری

مرکزی پولیس چیف

العذرۃ

20.                      

سرجون بن منصور الرومی

سیکرٹری

غیر عرب، رومی

 ان کلیدی عہدے داروں میں آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے لوگ بنو امیہ کے ہیں۔ ان میں سے بھی جو لوگ بنو امیہ کے  ہیں، ان میں سے اکثر پہلے خلفاء کے دور میں گورنر رہ چکے تھے اور انہوں نے ٹھیک میرٹ پر یہ مقام حاصل کیا تھا۔  ان میں سب سے نمایاں زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ہیں جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی گورنر رہ چکے تھے۔

کیا حضرت معاویہ کے زمانے میں خلافت، ملوکیت میں تبدیل ہو گئی؟

یہ جملہ زبان زد عام ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مسلمانوں میں پہلے "سلطان" تھے اور آپ سے پہلے حضرت حسن رضی اللہ عنہ پر خلافت راشدہ ختم ہو گئی تھی۔ مناسب رہے گا کہ اس موقع پر پہلے ہم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور اقتدار کا موازنہ آپ سے پہلے کے خلفائے راشدین اور بعد کے غیر معیاری سلاطین کے طرز عمل سے کر لیں۔  واضح رہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد بھی بہت سے اچھے سلاطین گزرے ہیں، جن کا دور خلافت راشدہ کے آئیڈیل کے بہت قریب ہے۔ ان کی بجائے ہم موازنہ ان سلاطین سے کر رہے ہیں، جن کے طرز عمل کو بہت معیاری نہیں سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسی کی بدولت ہمیں حضرت معاویہ کے دور اقتدار کے صحیح مقام کا اندازہ ہو سکے گا۔

یہ تفصیل ہم ذیل کے چارٹ میں بیان کر رہے ہیں۔ اس چارٹ کی تیاری میں ہم نے ابو مخنف وغیرہ کی روایات کو نظر انداز کرتے ہوئے دیگر غیر جانبدار تاریخی روایات  اور احادیث کو معیار بنایا ہے۔ ورنہ ابو مخنف، ہشام کلبی، واقدی اور سیف بن عمر  کی روایات کو لیا جائے تو پھر حضرت معاویہ تو کیا، حضرات ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کو بھی خلیفہ راشد کہنا مشکل ہے۔ یہاں ہم نے جن خصوصیات کو اس تقابل کی بنیاد بنایا ہے، مسلمانوں ان پر سوائے ایک آدھ کے بالعموم متفق ہیں۔

نمبر

خصوصیت

خلفائے اربعہ

حضرت معاویہ

بعد کے غیر معیاری سلاطین

1

قانون کی بنیاد

قرآن و سنت

قرآن و سنت

قرآن و سنت

2

حکومتی فیصلوں کی بنیاد

باہمی مشورہ

باہمی مشورہ

حکمران طبقے کا مفاد

3

دولت کی تقسیم

پورے معاشرے میں  دولت تقسیم کی گئی

پورے معاشرے میں  دولت تقسیم کی گئی

چند ہاتھوں میں ارتکاز مگر غرباء کو پھر بھی بہت کچھ مل جاتا تھا

4

آزادی اظہار

مکمل اجازت

مکمل اجازت

حکومت پر تنقید پر پابندیاں

5

نماز کا نظام

خلیفہ اور گورنر خود  امامت کرتے تھے

خلیفہ اور گورنر خود  امامت کرتے تھے

حکومت  کے مقرر کردہ ائمہ امامت کرتے تھے

6

زکوۃ کا نظام

امراء سے لے کر غرباء میں تقسیم

امراء سے لے کر غرباء میں تقسیم

امراء سے لے کر غرباء میں تقسیم

7

انسانی جان، مال اور آبرو کا تحفظ

مکمل تحفظ

مکمل تحفظ

عام لوگوں کو مکمل تحفظ مگر حکمران  کبھی معمولی باتوں پر قتل  کر دیتے

8

معاہدوں کا احترام

مکمل احترام

مکمل احترام

اکثر احترام اور کبھی خلاف ورزی

9

اخلاقیات کی حیثیت

سیاست، اخلاقیات کے تابع تھی

سیاست، اخلاقیات کے تابع تھی

اخلاقیات، سیاست کے تابع تھی

10

امربالمعروف و نہی عن المنکر

حکومتی سطح پر اہتمام

حکومتی سطح پر اہتمام

حکومتی سطح پر اہتمام مگر کبھی خلاف ورزی ہو جاتی تھی

11

تقرری کی بنیاد

میرٹ

میرٹ

اقرباء پروری

12

حکمران طبقے کا اخلاقی کردار

نہایت بلند

نہایت بلند

پست

13

عدل و انصاف اور ظلم سے پرہیز

اولین ترجیح

اولین ترجیح

سیاست کے تابع

14

مساوات

ہرشہری برابر ہے

ہرشہری برابر ہے

حکمران طبقہ عوام سے افضل ہے

15

جواب دہی (Accountability)

حکومت جوابدہ ہے

حکومت جوابدہ ہے

حکومت جوابدہ  نہیں ہے

16

بیت المال کا تصور

اللہ اور پھر عوام کی امانت ہے

اللہ اور پھر عوام کی امانت ہے

حکمران کا ذاتی خزانہ ہے

17

صحابہ کرام کی حکومت میں شمولیت

بہت زیادہ

نسبتاً کم

۔۔۔۔

18

خلیفہ کا ذاتی لائف اسٹائل

نہایت سادہ

کسی قدر بلند معیار زندگی

اسراف کی حد تک شاہانہ

اس چارٹ کے بارے میں ہم پھر بتاتے چلیں کہ اس کی تیاری میں ہم نے ناقابل اعتماد راویوں کی روایات کو نظر انداز کر دیا ہے اور اس کی بجائے صرف صحیح احادیث اور غیر جانبدار تاریخی روایات کو معیار بنایا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور اقتدار پر جو اعتراض کیے جاتے ہیں، ان پر ہم تفصیل سے اس باب میں گفتگو کر کے بتا چکے ہیں کہ ان اعتراضات کی بنیاد ان راویوں کے بیانات پر ہے جو حضرت معاویہ کے بارے میں نہایت ہی متعصبانہ رویہ رکھتے ہیں۔

اس چارٹ کو دیکھ کر اگر خلفائے اربعہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے دور اقتدار کا موازنہ کیا جائے تو  معلوم ہوتا ہے کہ  حضرت معاویہ کے دور میں بعینہ وہی معیار برقرار تھا جو کہ پہلے چاروں خلفاء راشدین کا تھا۔ صرف چند امور ایسے ہیں، جن میں کچھ فرق پڑ گیا تھا اور وہ یہ تھے:

1۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں جو حضرات اعلی عہدوں پر تعینات تھے، وہ بالعموم اکابر صحابہ نہ تھے۔ آپ کے مقرر کردہ گورنروں میں صرف حضرت عمرو بن عاص، ان کے بیٹے عبداللہ  اور  مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم ایسے صحابی ہیں جنہوں نے عہد رسالت  میں خاصا وقت پایا تھا۔ ان کے علاوہ جتنے اکابر صحابہ تھے، وہ حضرت معاویہ کے زمانے تک یا تو فوت ہو چکے تھے یا پھر بہت ضعیف العمر تھے۔  وہ صحابہ، جو عہد رسالت میں ابھی بچے یا نوجوان تھے، حضرت معاویہ کے عہد میں زندہ  تھے لیکن ان میں سے بھی اکثر افراد ایسے تھے جنہیں حکومتی معاملات کی بجائے عوام کی تعلیم و تربیت میں زیادہ دلچسپی تھی۔

2۔ حضرت ابوبکر، عمر اور علی رضی اللہ عنہم کا لائف اسٹائل بہت سادہ تھا اور یہ اکثر پیوند لگے کپڑے پہن لیتے تھے۔ اس کے برعکس حضرت عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہما دنیاوی دولت سے فائدہ اٹھانے میں حرج محسوس نہ کرتے تھے لیکن یہ دونوں حضرات بھی ایسا اپنی ذاتی دولت پر کرتے تھے نہ کہ سرکاری خزانے پر۔ یہ دونوں حضرات بیت المال سے تنخواہ نہ لیتے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ اپنی وفات کے وقت انہوں نے اپنا آدھا مال بیت المال میں جمع کروا دیا تھا۔

اس زمانے میں امیر اور غریب کے لائف اسٹائل میں آج کل کی طرح بہت زیادہ فرق نہ تھا۔ صرف اتنا فرق تھا کہ امیر لوگ ذرا بڑے گھروں میں رہ لیتے تھے، اچھا لباس پہن لیتے تھے  اور ان کا دستر خوان زیادہ وسیع ہوتا تھا۔  حضرت عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے زمانے میں مال و دولت کی کثرت تھی اور یہ اس طرح تقسیم کیا جاتا تھا کہ ہر ہر شخص کی ضروریات پوری ہوتی رہتی تھیں۔ پورے عالم اسلام میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جسے روٹی، کپڑا ، مکان، تعلیم اور علاج  کی سہولت میسر نہ ہو۔ اس صورتحال میں ان خلفاء نے ضرورت محسوس نہ کی کہ خلیفہ بھی اپنا معیار زندگی پست کرے۔ 

ان دو امور سے صرف نظر کر کے دیکھیے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور بھی عین خلافت راشدہ ہی کا تسلسل تھا۔   یہ سلسلہ بعد کے بہت سے خلفاء میں بھی جاری رہا۔ بنو امیہ اور بنو عباس کے اکثر خلفاء شریعت کو نافذ کرتے تھے اور دولت کو معاشرے میں تقسیم کرتے تھے۔ ایسا ضرور تھا کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے بعض سلاطین کے ہاں کرپشن اور عیاشی پیدا ہوئی لیکن بحیثیت مجموعی ان کی پوری تاریخ خلافت راشدہ ہی کا تسلسل تھا۔

عام طور پر ایک حدیث پیش کی جاتی ہے، جس میں خلافت راشدہ کے تیس برس تک ہونے کا ذکر ہے۔ حدیث یہ ہے:

حدثنا سوار بن عبد اللّه، ثنا عبد الوارث بن سعيد، عن سعيد بن جُمْهان، عن سَفِينَة قال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نبوت کی خلافت تیس برس تک رہے گی۔ پھر اللہ تعالی اس حکومت کو جسے چاہیں گے، عطا فرما دیں گے۔ ‘‘ سعید کہتے ہیں کہ سفینہ نے مجھ سے کہا: ’’اسی پر قائم رہیے۔ ابوبکر کی خلافت دو سال تھی، عمر کی دس سال، عثمان کی بارہ سال اور اسی طرح علی کی (ساڑھے چار سال۔)‘‘ سعید کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ سے کہا: ’’یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ علی خلیفہ نہیں تھے۔‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’یہ ایسا جھوٹ ہے جسے ان بنی زرقاء نے اپنی سرین  سے گھڑ کر نکالا ہے۔‘‘ (راوی کہتے ہیں بنی زرقاء سے مراد بنو مروان ہیں۔) [6]

یہ حدیث ترمذی، ابو داؤد اور حدیث کی بے شمار کتب میں آئی ہے۔ ہمیں بھرپور تلاش کے بعد اس حدیث کے 75 طرق (Versions) ملے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان 75 کے 75 ورژنز میں اس حدیث کی سند کی ابتدا میں یہی دو حضرات ہیں: ایک حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے سعید بن جُمْهان۔  اگر ایک حدیث کے اتنے ورژن دستیاب ہوں تو انہیں بہت سے لوگوں کو روایت کرنا چاہیے  اور اس کی سند کو متنوع (diversified) ہونا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہے۔ پھر  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں مسلم تاریخ کی ایک نہایت ہی اہم حقیقت کو بیان فرمایا ہے  اور بعض طرق کے مطابق تیس سال والی یہ بات آپ  نے خطبہ دیتے وقت ارشاد فرمائی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی اہم بات کو صرف ایک صحابی حضرت سفینہ رضی  اللہ عنہ ہی کیوں بیان کرتے ہیں؟ ان کے علاوہ کوئی اور صحابی اس حدیث کو بیان نہیں کرتا ہے۔ پھر حضرت سفینہ سے جن لوگوں نے یہ روایت سنی، ان میں صرف ایک سعید بن جُمْهان (d. 136/754) ہیں جو اسے بیان کرتے ہیں۔ حالانکہ سعید سے سن کر بیسیوں افراد اسے روایت کرتے ہیں اور اس کے طرق کی تعداد 75 تک پہنچ جاتی ہے۔

سعید بن  جُمْهان کے بارے میں محدثین کا اختلاف ہے کہ یہ کس درجے میں قابل اعتماد ہیں۔ ان کی وجہ شہرت یہی ایک حدیث ہے۔ ماہرین جرح و تعدیل میں ابن معین اور  ابو داؤد  انہیں قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ ابن عدی کا کہنا ہے کہ ’’مجھے امید ہے کہ ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘ اس کے برعکس ابو حاتم انہیں قابل اعتماد نہیں سمجھتے ہیں۔ [7] ابو داؤد کا کہنا ہے کہ ’’محدثین کی ایک جماعت انہیں ضعیف سمجھتی ہے تاہم مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ وہ قابل اعتماد ہوں گے۔‘‘یہ سعید ، حضرت سفینہ کے باقاعدہ شاگرد نہیں ہیں بلکہ حج کے دنوں میں ان کے پاس آٹھ دن تک رکے تھے اور ان سے احادیث حاصل کی تھیں۔  [8]

اگرچہ دور جدید کے بعض محدثین  نے اس حدیث کو ’’حسن‘‘ کے درجے میں رکھا ہے تاہم سعید بن  جُمْهان کے  بارے میں بیان کردہ اس تفصیل سے علم ہوتا ہے کہ اس حدیث کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت مشکوک ہے کیونکہ سعید کے قابل اعتماد ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ماہرین جرح و تعدیل میں اختلاف پایا جاتا ہے۔  اگر حضرت سفینہ نے اس حدیث کو بیان کیا ہوتا تو پھر ان کے اور بھی بہت سے شاگرد  اس حدیث کو بیان کر رہے ہوتے۔ نہ صرف حضرت سفینہ بلکہ دیگر صحابہ بھی اسے بیان کرتے۔  روایت کے آخری حصے میں جس نوعیت کی بدکلامی اور فحش گوئی حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کی گئی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان جملوں کا تخلیق کار، بنو امیہ اور آل مروان کی حکومت سے شدید بغض رکھتا ہے ورنہ ہم حضرت سفینہ سے ایسی فحش کلامی کی بدگمانی نہیں کر سکتے ہیں۔ 

روایت کے ضعف کے متعلق ہم نے جو لکھا ہے، یہ تنہا ہماری رائے نہیں بلکہ قدیم اہل علم کی بھی یہی رائے ہے۔ ابن خلدون لکھتے ہیں:

مناسب تو یہی تھا کہ حضرت معاویہ کے حالات بھی سابق خلفاء کے حالات کے ساتھ ہی بیان کر دیے جاتے کیونکہ فضیلت،  امانت و دیانت اور صحابیت میں یہ انہی کے تابع تھے۔ حدیث ’’میرے بعد خلافت تیس سال تک رہے گی‘‘ کی طرف توجہ نہیں دینی چاہیے کیونکہ اس کی صحت پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی۔ حق یہی ہے کہ حضرت معاویہ کا شمار خلفاء ہی میں ہے۔[9]

یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نظام قائم کیا، کیا وہ معاذ اللہ اتنا کمزور تھا کہ محض تیس برس ہی میں جواب دے گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ اس کی تائید نہیں کرتی۔  جب ہم لفظ ملک، سلطان یا بادشاہ سنتے ہیں تو ہمارا ذہن فوری طور پر بیسویں صدی کے ایک ایسے عیاش آمر اور ڈکٹیٹر کی طرف چلا جاتا ہے جو مطلق العنان ہو اور کسی قانون کا پابند نہ ہو۔ مسلم سلاطین کے لیے یہ بات درست نہیں ہے۔  یہ سلاطین خواہ اچھے ہوتے یا برے، بہرحال ایک قانون اور ضابطے کے پابند رہے ہیں ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ جب خلافت راشدہ، ملوکیت میں تبدیل ہوئی تو ایک حد تک یہ اپنے آئیڈیل سے ہٹ گئی لیکن ایسا نہیں ہوا کہ آوے کا آوا ہی بگڑ گیا ہو۔ مسلمانوں کے دور عروج میں بنو امیہ، بنو عباس اور عثمانی سلاطین اپنے ساتھ اہل علم کو رکھتے جو انہیں ان کی غلطیوں پر ٹوکتے اور  ان کی اصلاح کرتے رہتے۔ عبدالملک بن مروان اور ان کے بعد کے تمام سلاطین کا اگر مطالعہ کیا جائے تو یہ واضح نظر آتا ہے کہ ہر خلیفہ اور سلطان اس بات  کی کوشش کرتا رہا ہے کہ وہ خلفائے راشدین کے معیار کے قریب سے قریب ہو۔  بعض سلاطین اس میں زیادہ کامیاب رہے ہیں او ربعض کم۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کو خلافت راشدہ ہی کا تسلسل کہنا چاہیے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  طبری۔ 4/1-268

[2]  عبد الرزاق۔ المصنف۔ روایت نمبر 9768، 5/451۔ بیروت: مکتب اسلامی

[3]  ابن کثیر 11/558

[4]  طبری۔ 4/1-28 to 129۔

[5]  قبیلے کی تفصیلات زیادہ تر ذہبی کی سیر الاعلام النبلاء سے لی گئی ہیں۔

[6]  ابو داؤد، کتاب السنۃ۔ حدیث 4647

[7] ذہبی۔ میزان الاعتدال۔ راوی نمبر 3152

[8] مزی۔ تہذیب الکمال۔ راوی نمبر 2246

[9]  ابن خلدون۔ دیوان المبتدا و الخبر۔ باب خلافت حسن۔ 2/650۔