بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 6: عہد حسن و معاویہ

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

حضرت معاویہ کے اہم کارنامے

اب تک ہم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر کی گئی تنقید کا جائزہ لیا ہے۔ اب ہم آپ کی شخصیت کے ان مثبت پہلوؤں کا ذکر کریں گے جنہیں لوگوں نے آپ کے بغض میں دبا دیا ہے۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اہم کارنامے کیا ہیں؟

اس باب میں ہم نے نہایت تفصیل سے ان اعتراضات کا جائزہ لیا ہے جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے  خلاف اٹھائے گئے ہیں۔ روایات کے تجزیے میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ آپ کے خلاف یہ روایتیں کس نے ایجاد کیں اور کس مقصد کے لیے کیں؟  افسوس کہ ان روایتوں کی وجہ سے آپ کی سیرت کا مثبت پہلو پس منظر میں چلا گیا ہےاور گویا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی پوری عمر سیاسی جوڑ توڑ، خانہ جنگیوں  اور سازشوں ہی میں گزری۔ مناسب ہو گا کہ اگر ہم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی  سیرت سے متعلق روایات بھی پیش کر دیں تاکہ یہ اندازہ ہو سکے کہ ان جلیل القدر صحابی کی اصل شخصیت کیسی تھی اور کیا ان جعلی روایتوں میں بیان کردہ کردار آپ سے منسوب کرنے کا ذرہ برابر بھی امکان باقی رہ جاتا ہے؟

حضرت معاویہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں معلوم و معروف ہے کہ آپ قریش کے سردار حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہما کے بیٹے تھے۔ آپ کی پیدائش  بعثت نبوی سے پانچ برس پہلے ہوئی۔ ہجرت نبوی کے وقت آپ اٹھارہ برس کے نوجوان تھے۔ آپ کے والد ابوسفیان کے اپنے گھر میں بالکل ابتدائی سالوں ہی میں داخل ہو گیا۔ حضرت معاویہ کی بڑی بہن سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہما بالکل ابتدا ہی میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں شامل ہیں۔ آپ کو دو مرتبہ ہجرت کرنے کا شرف حاصل ہے، ایک بار حبشہ اور دوسری مرتبہ مدینہ۔یقینی طور پر سیدہ کے ایمان، دعوت اور قربانی  کا اثر ان کے دیگر بہن بھائیوں پر بھی پڑا ہو گا۔  یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں جنگ احد اور جنگ خندق میں کفار کی قیادت اگرچہ حضرت ابو سفیان نے کی لیکن حضرت معاویہ اور ان کے بڑے بھائی یزید رضی اللہ عنہما کا اس موقع پر کوئی سراغ نہیں ملتا ہے۔ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی اسلام سے مخالفت کے بارے میں بھی واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ابو جہل اور ابو لہب جیسا کمینہ پن نہیں تھا اور انہوں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذاتی سطح پر تکلیف نہیں پہنچائی۔ مکی زندگی کے 13 سالوں میں بھی ان کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو تکلیف نہ پہنچی۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بظاہر فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا لیکن  آپ صلح حدیبیہ کے وقت ایمان لا چکے تھے۔ اس بات کی تائید ابن عساکر کی بیان کردہ اس حدیث سے بھی ہوتی ہے:

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن عصر کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گیا۔ آپ اس وقت سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر تھے۔ آپ نے فرمایا: ’’انس! فاطمہ کے گھر جائیے۔‘‘ آپ نے مجھے چار کیلے عطا فرمائے اور فرمایا: ’’ایک حسن کے لیے ہے، ایک حسین کے لیے اور دو فاطمہ کے لیے۔ پھر واپس میرے پاس آئیے۔‘‘

جب میں واپس آیا تو ام حبیبہ نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! آپ عام قریش میں سے اپنے ان صحابہ کو فضیلت دیتے ہیں  جنہوں نے درخت کے نیچے (حدیبیہ کے مقام پر) آپ کی بیعت کی اور میرے بھائی (معاویہ) پر بھی فخر کرتے ہیں۔‘‘ آپ نے  فرمایا: ’’کسی کو بھی ہرگز ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر جتلانا نہیں چاہیے۔ معاویہ نے بھی اسی طرح بیعت کی تھی جیسا کہ دوسروں نے کی۔‘‘

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ آپ مسجد کے دروازے پر بیٹھ گئے۔ ابوبکر، عمر، عثمان، علی اور بہت سے لوگ اکٹھے ہو گئے۔ رسول اللہ نے فرمایا: ’’ابو بکر!‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’میں حاضر ہوں، یا رسول اللہ۔‘‘ فرمایا: ’’کیا آپ کو یاد ہے کہ درخت کے نیچے کس شخص نے سب سے پہلے میری بیعت کی تھی؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’میں نے، یا رسول اللہ! اور پھر عمر اور علی بن ابی طالب نے۔‘‘ عثمان نے اپنا سر اٹھایا  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابوبکر! عثمان جب غائب تھے، تو میں ہی عثمان (کا قائم مقام) تھا۔ عثمان جب غائب تھے، تو میں ہی عثمان (کا قائم مقام) تھا۔‘‘ ابوبکر ہنس پڑے تو عثمان نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! علی، طلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبدالرحمن بن عوف اور ابوعبیدہ بن جراح  بھی تو تھے۔‘‘

حضور نے فرمایا: ’’اور کون تھا؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’یہی سب لوگ تھے اور ہم تھے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’معاویہ کہاں گئے؟‘‘  انہو ں نے عرض کیا: ’’وہ تو ہمارے ساتھ موجود نہیں تھے۔‘‘ رسول اللہ نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس نے مجھے برحق نبی بنایا، معاویہ بن ابی سفیان نے بھی یقیناً اسی طرح بیعت کی تھی جیسے آپ لوگوں نے کی تھی۔‘‘ ابوبکر نے عرض کیا: ’’اس بات کا ہمیں تو علم نہیں ہے، یا رسول اللہ۔‘‘ فرمایا: ’’اس وقت وہ اللہ کے قبضے میں تھے۔ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبدالرحمن بن عوف، ابو عبیدہ بن جراح اور معاویہ بن ابی سفیان اسی قبضے میں تھے۔  انہوں نے اسی طرح بیعت کی، جیسا کہ آپ لوگوں نے کی اور اسی طرح خیر خواہی کی جیسا کہ آپ لوگوں نے کی۔ اللہ نے انہیں بھی اسی طرح بخش دیا ہے جیسا کہ آپ  لوگوں کی مغفرت فرمائی ہے اور آپ ہی کی طرح انہیں بھی جنت کا حق دار بنایا ہے۔[1]

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بیعت رضوان کے موقع پر حضرت معاویہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی طریقے سے بیعت کی تھی۔ یا تو آپ خفیہ طور پر حاضر ہوئے ہوں گے یا پھر کسی کے ہاتھ پیغام بھیجا ہو گا کہ ان کا دل آپ کے ساتھ ہے یا پھر اللہ تعالی ہی نے بذریعہ وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان اہل مکہ کے بارے میں بتا دیا ہو گا جو  دل سے اسلام کے ساتھ تھے۔

جب سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا  کا شوہر حبشہ میں عیسائی ہو گیا تھا اور  وہ کسمپرسی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو  جب اس کا علم ہوا تو آپ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا اور بادشاہ حبشہ نجاشی رضی اللہ عنہ نے ان کا نکاح کر کے انہیں مدینہ روانہ کیا۔ یہ وہی وقت ہے جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں ایمان نے گھر کر لیا۔ اس واقعے سے حضرت ابو سفیان  اور ان کی اہلیہ ہندہ رضی اللہ عنہما بھی بہت متاثر ہوئے اور اس شادی کے بعد انہوں نے کبھی اسلام کی مخالفت نہیں کی۔ فتح مکہ کے موقع پر یہ پورا گھرانہ ایمان لایا۔ اس کے بعد حضرت ابوسفیان اور ان کے بیٹے  جنگ حنین میں مسلمانوں کی طرف سے شریک رہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نجران کا گورنر مقرر کیا۔ دوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مستقل طور پر مدینہ آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا کاتب (سیکرٹری) مقرر کیا۔ آپ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرح  مستقلاً حضور کی خدمت میں رہتے تھے اور قرآن مجید کی کتابت کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا:

عبد الرحمن بن ابی عمیرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ کو فرمایا: ’’اے اللہ! انہیں ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا اور انہیں ہدایت عطا فرما۔ [2]

اس حدیث کے تمام راوی وہ ہیں، جن سے امام مسلم روایتیں قبول کرتے ہیں۔ ترمذی کی اگلی روایت میں ہے کہ یہ عبدالرحمن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ حمص کے گورنر تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں معزول کر کے اس علاقے کو حضرت معاویہ کے تحت کر دیا تھا۔ کسی خوشامدی نے عبد الرحمن کے سامنے حضرت معاویہ کی برائی کی تو انہوں نے اسے منع کرتے ہوئے اسے یہ حدیث سنائی۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب شام پر لشکر کشی ہوئی تو حضرت ابو سفیان کے دونوں بیٹے یزید اور معاویہ رضی اللہ عنہم اس فوج کے آفیسر تھے۔  ان دونوں بھائیوں نے وہاں غیر معمولی کارنامے سر انجام دیے۔ حضرت ابوبکر نے حضرت یزید بن ابی سفیان کو شام کا گورنر مقرر کیا اور  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کو ان کا نائب بنایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ان عہدوں پر بحال رکھا۔ 19/640 میں حضرت معاویہ نے رومیوں کی مشہور فوجی چھاؤنی "قیساریہ" کو فتح کر لیا۔ اگلے برس ان کے بھائی یزید نے طاعون  کے مرض میں مبتلا ہو کر وفات پائی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی جگہ حضرت معاویہ کو مقرر کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب روم، قیصر کے قبضے سے نکل رہا تھا۔ حضرت معاویہ نے رومن ایمپائر کی افواج کو پے در پے شکستیں دے کر پورے شام کو فتح کر لیا۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے گورنروں سے کم ہی مطمئن ہوتے تھے اور ان کا تبادلہ کرتے رہتے تھے۔ یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی پرفارمنس تھی، جس کی وجہ سے حضرت عمر نے اتنے غیر معمولی اور حساس صوبے پر آپ کو گورنر مقرر کیے رکھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے عہدے پر بحال رکھا اور ان کے حسن انتظام کی وجہ سے دیگر علاقے بھی  انہی کی گورنری میں دے دیے۔  حضرت معاویہ نے حضرت عثمان کے زمانے میں موجودہ ترکی کا تیس فیصد حصہ فتح کر لیا اور   ماضی کی عظیم ایسٹرن رومن ایمپائر جو کئی صدیوں سے ایشیا اور افریقہ پر اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے تھی، کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کے پے در پے حملوں کے نتیجے میں قیصر روم، جو کبھی تین براعظموں پر حکومت کرتا تھا، اب محض موجودہ ترکی کے تھوڑے سے حصے تک محدود ہو کر رہ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مشہور مغربی مصنف مائیکل ہارٹ نے جب تاریخ انسانی کی  موثر ترین شخصیات کی فہرست تیار کی، تو مسلمانوں میں سے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر کے بعد تیسرے نمبر پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کو رکھا۔ [3]

حضرت معاویہ نے تاریخ اسلامی  کی پہلی بحری فوج تیار کی جس نے  بحیرہ روم پر قیصر کے قبضے کو ختم کر دیا۔  آپ نے بحیرہ روم کے ساحلوں پر جہاز سازی کی عظیم صنعت قائم کی جس نے ابتدائی سالوں ہی میں عالم اسلام کو 1700 جنگی جہازوں سے مسلح کر دیا۔ اس سے دنیا کے اہم ترین سمندروں پر مسلمانوں کے غلبے کا جو آغاز ہوا، وہ گیارہ سو برس تک قائم رہا۔ آپ نے جزیرہ قبرص  (Cyprus)، روڈس  (Rhodes) بعد میں سسلی کو بھی فتح کر لیا جو موجودہ اٹلی کا اہم ترین حصہ ہے۔   اس طرح یورپ میں مسلمانوں کے قدم پہلی مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کے ذریعے پہنچے۔ ان تمام علاقوں کا حسن انتظام ایسا تھا کہ جس کی مثال عالم اسلام کے دیگر مفتوحہ علاقوں میں نہیں ملتی ہے۔ آپ کے علاقوں میں بغاوتیں نہ ہونے کے برابر رہی ہیں جبکہ اس کے برعکس عراق، ایران، خراسان، مصر وغیرہ میں آئے دن بغاوتیں ہوتی رہی ہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ وہ خوبیاں ہیں، جن کا اعتراف مخالف و موافق سبھی کرتے ہیں۔

جیسا کہ ہم پچھلے ابواب میں بیان کر چکے ہیں کہ حضرت علی کے زمانے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما ایک خود مختار حکمران کے طور پر رہے لیکن  آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضل اور کمالات کے معترف تھے۔ آپ کا اختلاف صرف یہ تھا کہ باغی تحریک کو قرار واقعی سزا دی جائےیا پھر حضرت علی ، ان کے خلاف کاروائی میں حضرت معاویہ کے راستے میں حائل نہ ہوں۔ یہ سب تفصیلات آپ متعلقہ باب میں دیکھ سکتے ہیں۔  یہ حضرت علی کے بیٹے حسن رضی اللہ عنہما ہی تھے جنہوں نے حضرت معاویہ کی بیعت کر کے امت مسلمہ کو متحد کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وصیت کے سلسلے میں ہم وہ روایات بیان کر آئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اس کی تلقین خود حضرت علی نے کی تھی۔

جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے رومن ایمپائر سے جہاد  کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ اس وقت صورتحال یہ تھی کہ قیصر روم اپنی ترکی کی چھوٹی سی حکومت پر قانع نہ تھا اور ایشیا اور افریقہ میں اپنا اقتدار دوبارہ قائم کرنا چاہتا تھا۔  وہ کئی مرتبہ شام پر لشکر کشی کر چکا تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے رومیوں کے مقابلے کے لیے دو افواج تیار کیں جو سردی اور گرمی کی افواج کہلائیں۔ اگر آپ تاریخ طبری میں حضرت معاویہ کے دور کا مطالعہ کریں تو ہر سال کے آغاز میں طبری لکھتے ہیں کہ اس سال فلاں نے سردیوں کا جہاد کیا اور فلاں نے گرمیوں کا۔  حضرت معاویہ کی یلغاریں نہ صرف مغرب بلکہ مشرق میں بھی جاری رہیں۔ یہاں ہم ٹائم لائن کی صورت میں آپ کی جنگی مہمات کو بیان کر رہے ہیں:

27-28/648-649

فتح قبرص (Cyprus)

32/653

قسطنطنیہ (استنبول)

33/653

افطرنطیہ،ملطیہ اور روم کے بعض علاقوں کی فتح

35/655

ذی خشب کی مہم

42/662

سجستان (موجودہ افغانستان اور پاکستان میں مشترک علاقہ) کی مہم

43/663

فتح سوڈان

44/664

فتح کابل

45/665

لیبیا اور الجزائر کے بعض علاقوں کی فتح

46/666

صقلیہ یا سسلی پر پہلا حملہ

50-51/670-671

قسطنطنیہ کی پہلی مہم

54/674

فتح بخارا

54/674

قسطنطنیہ کی دوسری مہم

56/676

فتح سمر قند

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  صرف جنگی پلاننگ اور کاروائیوں ہی میں ماہر نہ تھے بلکہ آپ انتظامی اور علمی امور میں ایک غیر معمولی دماغ رکھتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو ڈاک کا نظام قائم کیا تھا، اسے غیر معمولی ترقی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حاصل ہوئی۔  یوں سمجھ لیجیے کہ یہ اس دور کا ایک مواصلاتی انقلاب (Communication Revolution)تھا ۔ اس نظام کی تفصیل یہ ہے کہ  مختلف شہروں کے مابین ڈاک کی چوکیوں کا نیٹ ورک بنا دیا گیا۔ ایک پوسٹ مین تیز رفتار گھوڑے  پر ڈاک لے کر دوڑتا۔ گھوڑے پر ایک گھنٹی لگی ہوتی تھی جو اس کے دوڑنے سے بجتی تھی۔ اس کی آواز سن کر لوگ گھوڑے کو راستہ دے دیتے اور اسی آواز کو سن کر اگلی چوکی کا پوسٹ مین تیار رہتا۔ جیسے ہی پہلا پوسٹ مین وہاں پہنچتا،  تو اگلا پوسٹ مین اس سے ڈاک لے کر گھوڑے کو دوڑا دیتا۔ یہی سلسلہ تیسری، چوتھی اور اگلی چوکیوں پر جاری رہتا۔ اس طرح بہت کم وقت میں ایک شہر سے ڈاک دوسرے شہر پہنچ جاتی۔  ڈاک ہی سے متعلق ایک اور محکمہ کی ایجاد حضرت معاویہ کا کارنامہ ہے اور وہ تھا خطوط کے لیے مہریں تیار کرنے اور ان پر لگانے کا محکمہ۔ آج کے دور میں یہ بڑا غیر اہم لگتا ہے لیکن اسی کی بدولت  نہایت اہم سرکاری خطوط اور دستاویزات میں جعل سازی کا خاتمہ ہوا۔  [4] اس سے یقینی طور پر باغی تحریک کو بڑا نقصان ہوا ہو گا کیونکہ  وہ جعل سازی کے فن میں ید طولی رکھتے تھے۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی سلطنت کے استحکام میں اس کمیونی کیشن کے نظام سے غیر معمولی کردار ادا کیا۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ گورنر زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے انٹیلی جنس نظام کا یہ عالم تھا کہ افغانستان میں کسی کی رسی بھی چوری ہوتی تو انہیں بصرہ میں اس کا علم ہو جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان پورے بیس برس میں باغی تحریک کو سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکا اور جب انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد کچھ سر اٹھایا تو اسے بڑی آسانی سے کچل دیا گیا۔  اس کسمپرسی کے سبب باغیوں میں جو فرسٹریشن پیدا ہوئی، اسے انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف پراپیگنڈا کی شکل دے دی۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نہ صرف سیاسی بلکہ علمی میدان میں  بھی غیر معمولی پراجیکٹ شروع کیے۔ آپ کو سائنس سے خاص دلچسپی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اہل یونان کی سائنس کی کتب کا خاص  طور پر ترجمہ کروایا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کے اپنے خاندان میں ایک اتنا بڑا سائنسدان پیدا ہوا جس کی صلاحیت کا لوہا اہل مغرب نے بھی مانا۔ آپ  کے پوتے خالد بن یزید بن معاویہ کو کیمسٹری اور میڈیسن (گویا بائیو کیمسٹری) سے غیر معمولی شغف حاصل تھا اور انہیں مسلم دنیا کا پہلا کیمیائی سائنسدان قرار دیا گیا ہے۔  ان کے متعلق چند اہل علم کی آراء ہم یہاں درج کر رہے ہیں۔ ابن خلکان لکھتے ہیں:

ابو ہاشم خالد بن یزید بن معاویہ بن ابی سفیان اموی۔  قریش میں فنی علوم میں سب سے مشہور تھے اور کیمسٹری اور طب کی صنعتوں میں ان کا  کلام موجود ہے۔ وہ ان علوم میں بہت بڑے ماہر تھے اور ان کے علم اور ذہانت کا ثبوت ان کے رسائل ہیں۔ انہوں نے یہ علوم ایک راہب، مریانس راہب رومی سے حاصل کیے۔ ان کے تین رسائل ہیں جن میں سے ایک میں مریانس راہب کے ساتھ ان کا معاملہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے اس سے یہ علوم کیسے سیکھے ۔ [5]

خالد کا یہ علمی پراجیکٹ محض ان کا ذاتی رجحان ہی نہ تھا بلکہ یہ اجتماعی نوعیت کی کاوش تھی۔ مشہور برطانوی ماہر طب  ایڈورڈ براؤن لکھتے ہیں:

دمشق کا جان (John of Damascus)، جن کا لقب کرسوروس اور عربی نام منصور ہے،  پر پہلے اموی خلیفہ معاویہ  نے بہت سے احسانات کیے۔ عربوں  میں یونانی دانش کے علم کی خواہش سب سے پہلے اموی شہزادے، خالد بن یزید بن معاویہ کے ہاں پیدا ہوئی جنہیں کیمسٹری (Alchemy) کا جنون تھا۔  فہرست (ابن الندیم کی مشہور کتاب جس میں اس دور تک کی ہزاروں کتب کا تعارف موجود ہے) کے مطابق، جو اس بارے میں ہماری معلومات کا سب سے قدیم اور سب سے بہتر ذریعہ ہم تک پہنچا ہے، خالد نے یونانی فلسفیوں کو ملک مصر میں اکٹھا کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس مضمون کی یونانی اور مصری تصانیف کو عربی زبان میں ترجمہ کریں۔  فہرست کے مصنف  کا کہنا ہے کہ اسلامی (تاریخ) میں یہ وہ پہلی  کتابیں تھیں جو  ایک زبان سے دوسری میں ترجمہ ہو کر آئیں۔  اسی شہزادے کے ساتھ مشہور کیمیا دان جابر بن حیان بھی کام کرتے تھے  جو کہ قرون وسطی کے یورپ میں Geber کے نام سے مشہور ہیں۔[6]

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مفتوحہ اقوام کے علوم کو سیکھنے کی تحریک نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تیزی اختیار کی ۔ پھر انہی علوم کی بدولت اس دور کے مسلمانوں نے وہ بنیاد رکھی، جس پر بنو امیہ، بنو عباس اور پھر سلطنت عثمانیہ کی عالیشان عمارت  1200 سال تک کھڑی رہی۔

حضرت معاویہ کی رسول اللہ سے محبت کا کیا عالم تھا؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو جو محبت تھی، اس کا اندازہ اس بات سےکیا جا سکتا ہے کہ حضرت ابو دردا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "میں نے نماز پڑھنے کے انداز میں کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا مشابہ نہیں دیکھا، جتنا کہ معاویہ تھے۔"[7]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ ایک قمیص پہننے کے لیے دی تھی۔ یہ قمیص آپ کے پاس محفوظ تھی۔ ایک مرتبہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تراشے ہوئے ناخن ایک شیشی میں محفوظ کر لیے تھے۔ جب حضرت معاویہ کی جب وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت کی کہ اسی قمیص میں مجھے کفن دیا جائے اور مبارک ناخنوں کو رگڑکر میری آنکھوں اور منہ پر چھڑک دیا جائے۔  اپنے ذاتی مال کے بارے میں انہوں نے وصیت کی کہ اس کا آدھا حصہ بیت المال میں جمع کروا دیا جائے۔ [8]

حضرت معاویہ کے بارے میں ان کے ہم عصروں کی رائے کیا تھی؟

یہاں ہم وہ چند آراء درج کرر ہے ہیں جن کا اظہار حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے معاصرین یا ان کے قریبی لوگوں نے ان کے بارے میں کیا ہے:

1۔ ایک بار حضرت عمر کے سامنے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کی برائی  کی گئی تو آ پ نے فرمایا: "قریش کے اس جوان کی برائی مت کیا کریں جس کے سامنے غصہ کیا جائے تو وہ ہنس پڑتا ہے (یعنی انتہا درجے کا حلیم اور بردبار ہے۔) جو کچھ اس کے پاس ہے ، وہ اس سے اس کی مرضی کے بغیر حاصل  نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر اس کے سر کی چیز حاصل کرنا ہو تو اس سے  اس کے قدموں  کے نیچے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

2۔  حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی نے فرمایا: "آپ لوگ قیصر و کسری اور ان کی سیاست اور حسن انتظام کی تعریف کرتے ہیں حالانکہ خود آپ میں معاویہ موجود ہیں۔"[9]

3۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’لوگو! معاویہ کی گورنری کو ناپسند مت کرو۔ اگر تم نے انہیں کھو دیا تو تم دیکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے جیسے حنظل کا پھل اپنے درخت سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتا ہے۔‘‘[10]

4۔  ایک فقہی مسئلے میں حضرت معاویہ کا عمل ابن عباس رضی اللہ عنہم کے سامنے بیان ہوا تو آپ نے فرمایا: "بیٹے! جو کچھ معاویہ نے کیا، صحیح کیا کیونکہ ہم میں معاویہ سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں۔"[11]

5۔  ابن عباس ہی کا قول ہے: "میں نے معاویہ سے بڑھ کر حکومت کا لائق کسی کو نہ پایا۔"[12]

6۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: " میں نے معاویہ سے بڑھ کر کسی شخص کو متحمل مزاج نہیں پایا۔[13]

7۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "میں نے عثمان کے بعد کسی کو معاویہ سے بڑھ کر حق کا فیصلہ کرنے والا نہیں پایا۔"[14]

8۔  حضرت قبیصہ بن جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "میں کوئی آدمی ایسا نہیں دیکھا جو معاویہ سے بڑھ کر حلیم، ان سے بڑھ کر سیادت کا لائق ، ان سے زیادہ باوقار، ان سے زیادہ نرم دل اور نیکی کے معاملے میں ان سے  زیادہ کشادہ دل ہو۔"[15]

حلم و بردباری (سیلف کنٹرول) میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  کی ذات ضرب المثل بن گئی ہے۔ آپ خود اپنا اصول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "جہاں میرا کوڑا کام دیتا ہے، وہاں میں تلوار کو کام میں نہیں لاتا۔ جہاں زبان کام دیتی ہے، وہاں کوڑا کام میں نہیں لاتا۔ اگر میرے اور لوگوں کے درمیان کچے دھاگے جیسا تعلق بھی ہو، تو اسے ٹوٹنے نہیں دیتا۔ جب لوگ کھینچتے ہیں تو میں ڈھیل دیتا ہوں اور جب وہ ڈھیل دیتے ہیں تو میں کھینچ لیتا ہوں۔[16]

خلاصہ باب

·       حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور خلافت راشدہ ہی کا تسلسل تھا جس میں آپ نے بہت سے عظیم کارنامے سر انجام دیتے ہوئے عالم اسلام کو متحد رکھا۔

·       باغیوں نے حضرت معاویہ پر جو الزامات عائد کیے، ان کی کوئی حقیقت نہیں تھی اور آپ ان تمام تہمتوں سے بری تھے۔

·       حضرت معاویہ نے باغی تحریک کو دبائے رکھا اور آپ کے دور میں کوئی بڑا فتنہ و فساد پیدا نہ ہو سکا۔

·       حضرت معاویہ نے لائق ترین لوگوں کو سرکاری عہدے دیے جنہوں نے افغانستان سے لے کر لیبیا تک کے علاقوں پر امن قائم رکھا۔ آپ نے رومن ایمپائر کو دوبارہ اٹھنے نہ دیا اور اس کے زوال میں اہم ترین کردار ادا کیا۔

·       حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہم عصر صحابہ کی رائے ان کے بارے میں نہایت ہی مثبت تھی۔

اسائن منٹس

۱۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے مختصر دور خلافت میں کیا اہم ترین کارنامہ انجام دیا؟ کیا مسلمانوں کی پوری تاریخ میں ایسی کوئی اور مثال بھی ملتی ہے؟

۲۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں کیا اہم ترین کارنامے انجام دیے؟

۳۔ حضرت معاویہ کے زمانے میں باغی تحریک کے مختلف گروپوں کی سرگرمیوں اور ان کے مقابلے میں حکومت کے اقدامات پر ایک نوٹ لکھیے۔

۴۔ حضرت حسن، معاویہ، زیاد بن ابی سفیان اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم  کی کردار کشی کے اسباب کیا تھے؟

۵۔ تاریخی تنقید کے جو اصول آپ نے پہلے دو ابواب میں پڑھے ہیں،ان کے تحت حضرت معاویہ پر لگائے گئے الزامات کا تجزیہ کیجیے۔

۶۔ حضرت معاویہ کی ذات میں ایسی کیا خصوصیات تھیں، جن کی بدولت آپ ایک کامیاب حکمران بنے؟

۷۔ مائیکل ہارٹ نے تاریخی انسانی کی 200 موثر ترین شخصیات (Most Effective Personalities) میں مسلم تاریخ کی صرف تین شخصیات کا ذکر کیا ہے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت عمر  اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما شامل ہیں۔ اس کتاب کو انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اس کا جائزہ لے کر بتائیے کہ حضرت معاویہ کو اس فہرست میں شامل کرنے کے اسباب کیا تھے؟

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  ابن عساکر۔، 59/105

[2]  ترمذی ، کتاب المناقب، حدیث 3842۔ ابن عساکر۔، 59/106

[3] Hart, Micheal H. The 100. A Ranking of the Most Influential Persons in History. P. 510. New York: Carol Publishing Group Edition (1993).

[4] طبری۔ 4/1-133

[5]  ابن خلکان (608-681/1212-1282)۔ وفیات الاعیان۔ شخصیت نمبر 212۔   2/224۔ بیروت: دار الصادر۔ http://majles.alukah.net (ac. 22 Aug 2012)

[6] Browne, Edward G. MB, FRCP. Arabian Medicine. P. 15. London: Cambride University Press (1921) http://archive.org/details/arabianmedicineb00browiala (ac. 12 Aug 2012)

[7]  ہیثمی۔ مجمع الزوائد ۔ کتاب المناقب، ما جاء فی معاویہ بن ابی سفیان۔ حدیث 19520

[8] طبری۔ 4/1-131

[9]  ایضاً ۔ 4/1-133

[10]  ابن ابی شیبہ۔ المصنف۔ 14/38850۔ ابن ابی الحدید۔ شرح نہج البلاغۃ۔ 12/40

[11] ابن عساکر 59/161

[12] ایضاً۔  59/165

[13] ایضاً۔59/177

[14] ایضاً۔59/161۔ ابن کثیر۔ 11/435

[15] ابن عساکر ۔ 59/178, 191

[16]  ایضاً۔59/173