بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 7: دوسری خانہ جنگی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

 

 

اس باب کا مقصد یہ ہے کہ ہم سن ساٹھ کے عشرے کے بارے میں یہ جان سکیں کہ :

·       سانحہ کربلا کیونکر پیش آیا؟ اس کے کیا نتائج تھے؟

·       سانحہ کربلا کے بعد باغی تحریک پر کیا گزری؟

·       سانحہ حرہ کے اسباب اور نتائج کیا تھے؟

·       حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے اہم واقعات کیا تھے؟

اس باب کے اختتام پر ہم اس قابل ہوں گے کہ دوسری خانہ جنگی سے متعلق اہم تاریخی سوالات کے جواب دے سکیں۔

 


حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  کی وفات کے بعد ایک بار پھر باغی تحریک نے سر اٹھایا۔ جب تک آپ برسر اقتدار رہے، قاتلین عثمان کی باغی تحریک کو سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکا۔ جو لوگ خاص کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل تھے، ان سب کو تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیفر کردار تک پہنچا دیا تھا۔ لیکن ان کے بقیہ ساتھی ابھی زندہ تھے اور  اندر ہی اندر اب باغی تحریک کی اگلی نسل تیار ہو چکی تھی۔ ہم جانتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت 35/655 میں ہوئی تھی اور حضرت معاویہ کی وفات 60/680 میں۔ اب  پچیس برس گزر چکے تھے اور پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ جو لوگ شہاد ت عثمانی کے  وقت بوڑھے تھے، وہ اب دنیا سے گزر چکے تھے، اس وقت کے جوان اب بوڑھے ہو چکے تھے اور جو لوگ اس وقت بچے تھے، اب وہ جوان ہو چکے تھے۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  کے زمانے میں باغی تحریک کھل کر سامنے نہ آسکی تھی اور ان کی سرگرمیاں انڈر گراؤنڈ تھیں۔ انہوں نے اس زمانے میں اپنی خفیہ سرگرمیوں کے نتیجے میں بعض ساتھی اکٹھے کر لیے تھے۔ جیسا کہ پچھلے باب میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ 51/671 میں حجر بن عدی اور ان کے بعض ساتھیوں کے جوش نے باغی تحریک کو سخت نقصان پہنچایا اور ان کی لیڈر شپ کا صفایا ہو گیا تاہم قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی صف دوم کی قیادت محفوظ رہی اور ان لوگوں نے اندر ہی اندر اپنی تحریک کو دوبارہ کھڑا کر لیا۔  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے فوراً بعد  یہ باغی تحریک  یک دم  ایکٹو ہو گئی اور اس نے اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد ان کا بیٹا یزید حکمران بنا اور اس کے چار سالہ دور (61-64/681-684) میں تین بڑے سانحے پیش آئے: شہادت حسین رضی اللہ عنہ ، واقعہ حرہ اور مکہ مکرمہ پر فوج کشی۔  ان تینوں واقعات کی وجہ سے یزید کو اس درجے میں بدنام کر دیا گیا کہ کم از کم ایران اور جنوبی ایشیا میں تو اس کا نام ہی گالی بن گیا۔ اس باب میں ہم افراط اور تفریط سے بچ کر یہ جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ  ان واقعات و حواد ث کی اصل صورت کیا تھی؟

یزید کے بعد دوافراد نے خلافت کا دعوی کیا۔ ان میں ایک حواری رسول حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ تھے اور دوسرے  مروان بن حکم۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی حکومت حجاز پر قائم ہوئی اور انہوں نے بالآخر عراق او رایران کو بھی اپنی حکومت کا حصہ بنا لیا۔ مروان کی حکومت شام اور مصر پر قائم ہوئی۔ مروان کے بعد ان کے بیٹے عبدالملک کے دور میں بنو مروان کی حکومت پھیلتی گئی اور ابن زبیر کی حکومت سکڑتی چلی گئی۔ بالآخر 73/693 میں وہ سانحہ ہوا جس کے نتیجے میں ابن زبیر شہید ہوئے اور ایک بار پھر عالم اسلام عبدالملک بن مروان کی قیادت میں متحد ہو گیا۔

اس باب میں ان شاء اللہ ہم ان بارہ سالوں کا مطالعہ کریں گے جو کہ 61-73/681-693 پر محیط ہیں۔  چونکہ اس کے بعد عہد صحابہ کی سیاسی تاریخ  کا تذکرہ  مکمل ہو جائے گا، اس وجہ سے یہ باب، عہد صحابہ کی سیاسی تاریخ کا آخری باب ہو گا۔ اس کے بعد آخری باب میں ہم عہد  صحابہ کی سیاسی تاریخ سے متعلق عمومی نوعیت کے سوالات کا جائزہ لیں گے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter