بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 7: دوسری خانہ جنگی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باغی تحریک ۔۔۔ سانحہ کربلا کے بعد

سانحہ کربلا کے بعد باغی تحریک نے کیا حکمت عملی اختیار کی؟

سانحہ کربلا کے بعد باغی تحریک بالکل دب کر رہ گئی تاہم انہوں نے اندر ہی اندر اپنے پراپیگنڈے کا جال پھیلا دیا۔ انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام کو خوب کیش کروایا لیکن یزید کے بقیہ دور میں کوئی بغاوت برپا نہ کی۔ یہ سلسلہ تین برس تک جاری رہا۔ طبری ، ہشام کلبی اور ابو مخنف کے حوالے سے بیان کرتے ہیں:

قال أبو مخنف لوط بن يحيى، عن الحارث بن حصيرة، عن عبد الله بن سعد بن نفيل، قال: حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ہی 61ھ میں ان لوگوں (باغی تحریک) نے اپنا کام شروع کر دیا تھا۔ آلات حرب و سامان جنگ کے جمع کرنے میں یہ لوگ مشغول تھے اور پوشیدہ طور پر شیعہ اور غیر شیعہ کو انتقام لینے پر آمادہ کرتے رہتے تھے۔ لوگ ان سے ملتے جاتے تھے۔ ایک گروپ کے بعد دوسرا گروپ ان کے ساتھ شریک ہو جاتا تھا۔ یہ لوگ اسی کام میں منہمک تھے کہ یزید 14ربیع الاول 64ھ کو فوت ہو گیا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اور یزید کے فوت ہونے میں تین سال، دو ماہ اور چار دن کا فرق تھا۔ اس وقت ابن زیاد عراق کا گورنر تھا جو کہ بصرہ میں تھا۔ کوفہ میں اس کی طرف سے عمرو بن حریث مخزومی تھا۔

سلیمان بن صرد (باغی تحریک کے اس وقت کے لیڈر) کے پاس شیعوں نے آ کر کہا: "وہ فرعون تو مر گیا ہے اور اس وقت حکومت کمزور ہو رہی ہے۔ آپ کی رائے ہو تو ابن حریث پر حملہ کر کے گورنریٹ سے ہم لوگ اسے نکال دیں۔ اس کے بعد خون حسین کو بدلہ لینا شروع کر دیں اور ان کے قاتلوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالیں۔ لوگوں کو اہل بیت کی طرف آنے کی دعوت دیں جو کہ مظلوم اور اپنے حق سے محروم ہیں۔" اس سلسلے میں لوگوں نے بہت اصرار کیا۔ [1]

سلیمان بن صرد نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ خفیہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور تیاری کرتے رہیں۔  ان سلیمان بن صرد کے بارے میں تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ یہ صحابی ہیں حالانکہ ان کے صحابی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ عہد رسالت کی کسی جنگ یا اہم واقعے میں ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا ہے۔ ابن عبد البر (368-463/979-1071)نے الاستیعاب میں انہیں ایک جگہ صحابی اور ایک جگہ تابعی قرار دیا ہے اور ان کی یہ کتاب قابل اعتماد نہیں ہے کیونکہ وہ سند درج نہیں کرتے ہیں۔ مشہور محدث اور مورخ ابن حجر عسقلانی (773-852/1371-1448)نے الاصابہ میں انہیں صحابی قرار دینے کو غلط کہا ہے۔ [2] ویسے بھی  ہم کسی صحابی کے بارے میں یہ بدگمانی نہیں کر سکتے کہ وہ باغی تحریک کا حصہ رہے ہوں گے۔

کچھ عرصے بعد ان لوگوں نے کوفہ کے گورنر عمرو بن حریث کو مار کر نکال دیا ۔ اس وقت حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنی خلافت کا اعلان کر چکے تھے اور انہوں نے عبداللہ بن یزید الانصاری کو گورنر بنا کر کوفہ میں بھیج دیا۔  اسی زمانے میں مختار ثقفی کوفہ میں وارد ہوا۔

مختار کے بارے میں ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت یہ نوجوان تھا اور اس کے چچا مدائن کے گورنر تھے۔ اس وقت اس نے اپنے چچا کو مشورہ دیا تھا کہ ہم حضرت حسن کو گرفتار کر کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے سامنے پیش کر دیتے ہیں تو چچا نے اسے جھڑک دیا تھا۔ اسی نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ پر برچھی سے وار کیا تھا۔  اسے سانحہ کربلا کے بعد یزید نے گرفتار کر لیا تھا لیکن پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی سفارش سے اس کی جان بخشی کر دی تھی کیونکہ یہ ان کا برادر نسبتی تھا۔  یزید کے مرنے کے بعد یہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس چلا گیا۔ انہوں نے اسے کوئی عہدہ نہ دیا۔ اس نے ان کے ساتھ اپنی من مانی کرنا چاہی تو انہوں نے اسے بھگا دیا۔[3] اب یہی مختار ثقفی اہل بیت کا ہمدرد بن کر کوفہ میں آیا۔ اس نے جو سرگرمیاں شروع کیں، انہیں طبری نے ابو مخنف کے حوالے سے کچھ یوں بیان کیا ہے:

قال هشام: قال أبو مخنف: وحدثنا الحصين بن يزيد، عن رجل من مزينة قال: عبداللہ بن یزید سے آٹھ دن پہلے مختار کوفہ میں آ گیا تھا مگر تمام رؤسائے شیعہ سلیمان بن صرد کے پاس جمع تھے۔ کوئی مختار کو ان کے برابر نہ سمجھتا تھا۔ مختار شیعوں کو دعوت دیتا تھا کہ میرے پاس خون حسین کا انتقام لینے کے لیے آؤ۔ وہ جواب دیتے تھے کہ شیخ الشیعہ تو سلیمان بن صرد ہیں۔ سب نے انہی کی اطاعت کر لی ہے اور انہی کے پاس اکٹھے ہیں۔ اس کے جواب میں وہ کہتا تھا: "میں مہدی وقت محمد بن علی (حضرت حسین کے بھائی) کے پاس سے آیا ہوں۔ انہوں نے مجھے اپنا وزیر، امین اور  قابل  اعتماد ساتھی بنا کر بھیجا ہے۔ " شیعوں سے اسی طرح کی باتیں کرتے ہوئے آخر اس نے کچھ لوگوں سلیمان بن صرد کے گروپ سے علیحدہ کر لیا۔ اب یہ لوگ اس کی تعظیم  کرنے لگے، اس کی بات سننے لگے اور اس کے حکم کے منتظر رہنے لگے۔ مگر اب بھی شیعوں کی بڑی جماعت ابن صرد کے ساتھ تھی۔ اس وجہ سے مختار اپنے کام میں ابن صرد کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا تھا اور اپنے ساتھیوں سے کہتا تھا: "تمہیں معلوم بھی ہے کہ ان صاحب یعنی سلیمان بن صرد کا کیا ارادہ ہے؟  ان کا ارادہ یہ ہے کہ لڑنے کو نکلیں، اپنے آپ کو بھی قتل کروائیں اور ساتھ تمہیں بھی۔ نہ انہیں جنگ کا تجربہ ہے اور نہ اس فن کا علم ہے۔  [4]

ابو مخنف کے بیان کے مطابق اب کوفہ کی باغی تحریک دو حصوں میں تقسیم ہوگئی: ایک سلیمان گروپ اور دوسرا مختار گروپ۔ چونکہ ابو مخنف خود اس تحریک کا حصہ رہے ہیں، اس وجہ سے  اس تحریک کے اندرونی اختلافات کے بارے میں ان کا بیان زیادہ معتبر ہے۔  سلیمان بن صرد نے 65/685 میں اعلان بغاوت کیا اور یہ لوگ "توابین" کہلائے۔  اس کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ انہوں نے اس بات پر توبہ کا اعلان کیا کہ انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان کا ساتھ نہ دیا تھا۔ ان کی پارٹی کے 16000 لوگوں نے ان کی بیعت کر رکھی تھی لیکن بغاوت کے وقت صرف 4000 افراد اکٹھے ہوئے۔ مدائن اور بصرہ کی باغی تحریک کے لوگ بھی شریک نہ ہوئے۔  یہ لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبر پر اکٹھے ہوئے اور وہاں گریہ و زاری کی۔  ابن زیاد نے ان کے مقابلے پر 12000 کا لشکر بھیجا۔ شدید جنگ ہوئی جس میں توابین کو شکست ہوئی اور ان کی پارٹی کا بڑا حصہ اس جنگ میں کام آیا۔ [5]

مختار ثقفی کی تحریک کی نوعیت کیا تھی؟

مختار گروپ نسبتاً زیادہ کامیاب رہا۔ شروع میں ابن زبیر کے گورنر کوفہ، عبداللہ بن یزید انصاری نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ سلیمان گروپ کی شکست کے بعد ان  کے  باقی ماندہ لوگ مختار گروپ میں شامل ہو گئے۔  مختار چونکہ یہ دعوی کرتا تھا کہ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بھائی محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ  کا نائب ہے، اس وجہ سے جو لوگ اس کے دعوے پر یقین کرتے تھے، وہ اس سے آن ملتے تھے۔باغی پارٹی کے بعض لوگوں نے ایک وفد محمد بن حنفیہ کے پاس بھیجا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں مختار کو اپنا نمائندہ نہ کہا البتہ یہ فرمایا: "میں چاہتا ہوں کہ اللہ اپنی مخلوق میں سے جس سے بھی چاہے، ہمارے دشمنوں سے بدلہ لے لے۔ اس کے بعد میں اپنے اور آپ کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہوں۔" اس وفد کا سن کر مختار بہت پریشان ہوا تاہم جب یہ وفد واپس آیا تو اس کی حمایت میں بہت اضافہ ہو گیا۔  اب مختار نے حضرت محمد بن حنفیہ کی جانب سے متعدد جعلی خطوط لکھ کر لوگوں کو اپنی جانب مائل کیا جن میں مالک الاشتر کے بیٹے ابراہیم بن اشتر بھی شامل تھے۔  [6]

مختار نے مقبولیت حاصل کرنے کے لیے ایک دلچسپ طریقہ یہ نکالا کہ اس نے ایک کرسی کو  حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کرسی قرار دے کر اسے مقدس حیثیت دے دی۔  اس کے بعد اس نے اس کرسی پر ریشم و دیباج لپیٹ کر اس کا جلوس نکالا۔ یہ واقعہ کیسے ہوا،  اس کی تفصیل ہم یہاں اس لیے بیان کر رہے ہیں کہ موجودہ دور میں بھی بعض حضرات اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر کے لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ اسے طبری نے کچھ یوں نقل کیا ہے:

حدثني به عبد الله بن أحمد بن شبويه، قال:حدثني أبي، قال: حدثني سليمان، قال: حدثني عبد الله ابن المبارك، عن إسحاق بن طلحة، قال: حدثني معبد بن خالد، قال: حدثني طفيل بن جعدة بن هبيرة، قال: طفیل بن جعدہ بن ہبیرہ (حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھانجے کے بیٹے) کا کہنا ہے کہ میں ایک مرتبہ بالکل ہی غریب ہو گیا تھا اور بہت تنگ دست تھا کہ ایک دن میں نے تیل کا کاروبار کرنے والے اپنے ایک پڑوسی کے پاس ایک کرسی دیکھی جس پر اتنا تیل جما ہوا تھا کہ لکڑی نظر نہ آتی تھی۔  میں نے دل میں سوچا کہ چلو اس کے متعلق چل کر مختار سے بات کروں۔ میں وہ کرسی تیلی کے گھر سے  اپنے یہاں منگوائی اور مختار سے آ کر کہا: "میں ایک بات آپ سے کہنا تو نہیں چاہتا تھا مگر پھر مناسب سمجھا کہ کہوں۔" مختار نے پوچھا: "کیا بات ہے؟" میں نے کہا: "جس کرسی پر (میرے والد) جعدہ بن ہبیرہ بیٹھتے تھے، وہ موجود ہے۔ اس کے متعلق خیال ہے کہ اس میں ایک خاص اثر ہے۔" مختار نے کہا: "سبحان اللہ! تم نے آج تک یہ بات کیوں نہیں بتائی۔ اسے ابھی یہاں منگواؤ۔ اسے جب دھویا گیا تو بہت عمدہ لکڑی نمایاں ہوئی اور چونکہ اس نے خوب زیتون کا تیل پیا تھا ، اس لیے وہ چمک رہی تھی۔ یہ کپڑے سے ڈھانپ کر مختار کے پاس لائی گئی۔ مختار نے مجھے 12000 درہم دلائے اور پھر سب لوگوں سے کہا کہ نماز میں شرکت کریں۔

معبد بن خالد  کا بیان ہے مختار میرے، اسماعیل بن طلحہ اور شبث بن ربعی کے ساتھ مسجد آیا۔ تمام لوگ جوق در جوق مسجد میں جمع ہو رہے تھے۔ مختار نے تقریر کی اور کہا: "سابقہ اقوام میں کوئی بات ایسی نہیں ہوئی تھی جو ہمارے ہاں موجود نہ ہو۔ بنی اسرائیل کے پاس ایک تابوت تھا، جس میں آل موسی اور آل ہارون علیہما الصلوۃ والسلام کے تبرکات موجود تھے۔ اسی طرح ہمارے پاس بھی ایک چیز موجود ہے۔ مختار نے کرسی برداروں کو حکم دیا کہ اسے کھولا جائے۔ کپڑے کا غلاف ہٹایا گیا تو اس پر سبائیہ فرقے کے لوگ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے ہاتھ اٹھا کر تین تکبیریں کہیں۔ شبث بن ربعی نے کھڑے ہو کر کہا: "اے قبیلہ مضر کے لوگو! کافر نہ ہو جاؤ۔" لوگوں نے اسے دھکے دے دے کر مسجد سے نکال دیا۔ ۔۔ اس کے کچھ زمانہ بعد یہ خبر مشہور ہوئی کہ عبیداللہ بن زیاد شامیوں کے ساتھ باجمیرہ کے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ 

شیعوں نے ایک خچر پر اسی کرسی کا جلوس نکالا اور اس پر غلاف پڑا ہوا تھا۔ سات آدمی دائیں طرف اور سات بائیں طرف اس کی حفاظت کر رہے تھے۔ چونکہ اس جنگ میں اہل شام اس بری طرح قتل کیے گئے تھے کہ اس سے پہلے انہیں کبھی ایسا دن دیکھنا نصیب نہیں ہوا تھا۔ اس وجہ سے اس کرسی پر ان (مختار کے ساتھیوں) کا اعتقاد اور بھی جم گیا تھا اور اس میں ان کی انتہا پسندی کفر صریح تک پہنچ گئی تھی۔ (طفیل کہتے ہیں کہ) میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوا کہ میں نے یہ کیا فتنہ پیدا کر دیا۔ اس کے متعلق لوگوں میں طرح طرح کی باتیں شروع ہو گئیں جس کی وجہ سے کرسی کو کہیں چھپا دیا گیا اور اس کے بعد میں نے اسے نہیں دیکھا۔

ہشام کلبی کا بیان یہ ہے:

عن هشام بن محمد. عنه، قال: حدثنا هشام بن عبد الرحمن وابنه الحكم بن هشام:مختار نے جعدہ بن ہبیرہ،  جن کی والدہ ام ہانی بنت ابی طالب ، حضرت علی رضی اللہ عنہما کی حقیقی بہن تھیں،  کی اولاد سے  کہا: "مجھے علی بن ابی طالب کی کرسی لا دو۔" انہوں نے کہا: "نہ وہ ہمارے پاس ہے اور نہ ہم جانتے ہیں کہ کہاں سے لائیں۔" مختار نے کہا: "احمق نہ بنو اور مجھے لا کر دو۔" اس جواب سے انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ لوگ جو کرسی بھی لا دیں گے، مختار اسے قبول کر لے گا۔ چنانچہ یہ لوگ ایک کرسی مختار کے پاس لے آئے اور کہا کہ یہ حضرت علی کی کرسی ہے۔ مختار نے اسے قبول کر لیا۔ اس کے بعد بنی شبام، بنی شاکر اور مختار کے اور سرداروں اس کرسی پر ریشم اور دیباج کا کپڑا لپیٹ کر  اس کا جلوس نکالا۔  [7]

اس کے بعد انہوں نے بغاوت کر دی جو کہ کامیاب رہی۔  ایک شدید جنگ میں اس نے ابن زیاد کی فوج کو شکست دی اور اس کے بعد ابن زیاد، شمر، خولی بن یزید اور ان تمام لوگوں کو قتل کر دیا گیا جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت میں شریک تھے یا ان پر شہادت حسین میں شریک ہونے کا الزام موجود تھا۔  اس نے عمر بن سعد سے البتہ امان دینے کا معاہد ہ کر لیا تاہم کچھ عرصے بعد اس معاہدے کو توڑ کر انہیں ان کے بیٹوں سمیت قتل کروا دیا۔[8]  اس نے ایک پارٹی کو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتل کے لیے مکہ بھیجا اور دوسری طرف انہیں ایک خط بھی لکھا جس میں خود کو ان کا فرمانبردار ظاہر کیا۔ [9]

مختار ثقفی کی تحریک کو کافی کامیابی ملی۔ اس نے ابن زیاد اور قاتلین حسین کو قتل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تو اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو گیا اور عراق کے کچھ حصے پر اس کا اقتدار قائم ہو گیا۔ اب مختار نے اپنی تحریک کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا اور طرح طرح کی پیش گوئیاں کرنا شروع کر دیں۔ اس کے معتقدین نے اسے غیب دان ماننا شروع کر دیا۔ طبری نے اس سلسلے میں ابو مخنف کی ایک روایت نقل کی ہے۔

قال هشام: قال أبو مخنف: حدثني فضيل بن خديج، قال: قتل شرحبيل بن ذي الكلاع، فادعى قتله ثلاثة: سفيان بن يزيد بن قال أبو مخنف: حدثني المشرقي، عن الشعبي: ۔۔۔۔ شعبی کہتے ہیں  کہ (جب مختار کوفہ سے نکلا تو) میں اور میرے والد بھی اس کے ساتھ تھے۔ اس نے کہا: "آج یا کل ہمیں ابراہیم (بن اشتر) کی جانب سے فتح کی خوشخبری ملنے والی ہے۔ اس کی فوج  نے ابن زیاد کی فوج کو شکست فاش دے دی ہے۔"  مختار سائب بن مالک  الاشعری کو کوفہ پر اپنا جانشین مقرر کر کے خود اپنے ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہوا اور ساباط میں قیام کیا۔ ۔۔۔ جب ہم لوگ مدائن پہنچے تو لوگ مختار کے گرد جمع ہو گئے۔ مختار اب منبر پر خطبہ پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا اور ہمیں سوچ سمجھ کر کام کرنے، جدوجہد کرنے ، اطاعت امیر میں ثابت قدم رہنے اور اہل بیت رسول کے خون کا بدلہ لینے کے لیے کہہ رہا تھا۔ اتنے میں متواتر کئی قاصد ابن زیاد کے قتل، اس کی فوج کے شکست کھانے، گرفتار کیے جانے اور اہل شام کے بڑے سرداروں کے قتل کی خوشخبری لائے۔ اس پر مختار نے کہا: "اے اللہ کے گروہ! کیا میں نے اس واقعے سے پہلے اس فتح کی تمہیں خوش خبری نہ دی تھی؟" سب نے کہا: "بے شک آپ نے یہی کہا تھا۔"

شعبی کا بیان ہے کہ اس وقت ان کے ایک پڑوسی، جس کا تعلق ہمدان سے تھا، نے ان سے کہا: "شعبی! کیا اب تم ایمان لے آؤ گے؟" میں کہا: "کس چیز پر ایمان لاؤں؟ کیا اس بات پر ایمان لاؤں کہ مختار کو غیب کا علم ہے؟ اس پر تو میں ہرگز ایمان نہ لاؤں گا۔ " اس پر اس نے کہا: "کیا مختار نے ہم سے یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ ہمارے دشمنوں کو شکست فاش ہوئی؟" میں نے جواب دیا: "اس نے یہ کہا تھا کہ مقام نصیبین پر  انہیں شکست ہوئی حالانکہ یہ واقعہ تو موصل کے علاقے خاذر میں پیش آیا ہے۔ " اس نے کہا: "شعبی! واللہ! جب تک تم درد ناک عذاب نہ دیکھو گے تو ایمان نہ لاؤ گے۔" [10]

اس وقت حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی حکومت حجاز اور عراق پر قائم ہو چکی تھی۔ انہیں یہ خطرہ تھا کہ کہیں مختار پورے عراق پر قبضہ نہ کر لے۔ انہوں نے اپنے بھائی مصعب بن زبیر، جو کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے داماد تھے، کو بصرہ کا گورنر بنا کر بھیجا۔  انہوں نے مختار سے شدید جنگ کر کے رمضان 67/687 میں اس کا خاتمہ کر دیا۔  مختار نہایت بہادری سے لڑتا ہوا مارا گیا اور اس کے ساتھ ہی اس کی دو سالہ حکومت اور غیب دانی کا خاتمہ بھی ہو گیا۔

توابین اور مختار کی بغاوتوں کے بعد اہل کوفہ کی باغی تحریک بالکل کمزور پڑ گئی  اور اس کے بعد 55 برس تک سر نہ اٹھا سکی۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  طبری۔ 4/1-309

[2]  ابن حجر۔ الاصابہ 5/42۔ شخصیت نمبر 3812

[3]  طبری۔ 4/1-323

[4]  ایضاً ۔ 4/1-311

[5]  ایضاً ۔ 4/1-311 to 344

[6]  ایضاً ۔ 4/1-367 to 370

[7]  ایضاً ۔ 4/1-423 to 424

[8]  ایضاً۔ 4/1-408

[9]  ایضاً ۔ 4/1-413

[10]  ایضاً ۔ 4/1-457