بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 7: دوسری خانہ جنگی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مکہ مکرمہ پر حملہ

مکہ مکرمہ پر حملہ کیسے ہوا؟

مکہ مکرمہ میں اس وقت حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما موجود تھے جنہوں نے یزید کی بیعت نہ کی تھی مگرا نہوں نے اپنی خلافت کا اعلان بھی نہ کیا تھا۔  مدینہ منورہ سے فارغ ہو کر مسلم بن عقبہ کا یہ لشکر مکہ مکرمہ کی طرف بڑھا۔  اس وقت تک 64/684 کا آغاز ہو چکا تھا۔ راستے میں مسلم کے مرنے کے بعد حصین بن نمیر اس لشکر کا سربراہ بنا۔ اس لشکر نے آ کر مکہ مکرمہ کا محاصرہ کر لیا جو کہ 40 یا بروایت دیگر 64 دن جاری رہا۔  فریقین کے درمیان کچھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اس زمانے میں خانہ کعبہ کا غلاف جل گیا۔  اس معاملے میں طبری نے دو متضاد روایتیں نقل کی ہیں:

·       ایک روایت کے مطابق سرکاری فوج نے منجنیق سے  خانہ کعبہ پر پتھر پھینکے جس سے اس کا غلاف جل گیا۔ یہ ہشام کلبی کی روایت ہے۔

·       دوسری روایت کے مطابق لوگ آگ رات کو آگ جلاتے  تھے۔ اس کی کچھ چنگاریاں ہوا سے اڑ کر خانہ کعبہ پر پڑیں جس سے اس کا غلاف جل گیا۔ یہ روایت  محمد بن عمر الواقدی نے بیان کی ہے۔

ان دونوں مورخین کے بارے میں  مشہور ہے کہ یہ دونوں جھوٹی روایتیں بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے کہ حقیقت کیا تھی؟

ربیع الاول 64/684 میں محاصرہ ابھی جاری تھا کہ یزید کے مرنے کی اطلاع  مکہ پہنچی۔  یہ سن کر جنگ بندی ہو گئی اور  سرکاری فوج کے کمانڈر حصین بن نمیر نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ملاقا ت کی۔ ہشام کلبی نے اس واقعے کو یوں بیان کیا ہے:

وأما عوانة بن الحكم فإنه قال - فيما ذكر هشام، عنه:  ابن نمیر نے  یہ سن کر ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو کہلا بھیجا کہ آج رات مجھ سے مقام ابطح میں ملیے۔ دونوں اکٹھے ہوئے تو حصین بن  نمیر نے کہا: "اگر یزید فوت ہو گیا ہے تو آپ سے زیادہ کوئی خلافت کا حق دار نہیں ہے۔ آئیے! ہم آپ کی بیعت کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ میرے ساتھ چلیے۔ یہ لشکر جو میرے ساتھ ہے، اس میں شام کے تمام رؤساء اور سردار شامل ہیں۔ واللہ! دو افراد بھی آپ کی بیعت سے انکار نہیں کریں گے۔ شرط یہ ہے کہ آپ سب کو امان دے کر مطمئن کر دیجیے۔ ہمارے اور آپ کے درمیان اور ہمارے اور اہل حرہ کے درمیان جو خونریزی ہوئی ہے، اس سے چشم پوشی کیجیے۔

ہشام کلبی کے بیان کے مطابق حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس آفر کو ٹھکرا دیا اور کہا: "اگر میں ایک ایک شخص کے بدلے دس دس آدمیوں کو قتل کروں ، تب بھی مجھے چین نہ آئے گا۔"[1] چونکہ ہشام کلبی صحابہ کرام بالخصوص حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی اولاد کے بارے میں  متعصب مورخ ہیں، اس وجہ سے  ان کی اس بات کو قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر کے بارے میں یہ جملہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ آپ ایک آدمی کے عوض دس افراد کے قتل کو جائز سمجھتے ہوں گے۔

 ہشام کلبی کے بیان کے مطابق حصین بن نمیر نے مکہ کا محاصرہ اٹھا دیا اور فوج شام کی طرف واپس چلی گئی۔ جب یہ مدینہ پہنچی تو اس کی ملاقات حضرت زین العابدین رحمہ اللہ سے ہوئی۔ ابن نمیر کے گھوڑے بھوکے تھے اور اس کے پاس چارہ ختم ہو گیا تھا۔ حضرت زین العابدین رحمہ اللہ نے اس کے گھوڑوں کو چارہ فراہم کیا۔ [2] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے جلیل القدر والد کی شہادت کا ذمہ دار حکومت اور بنو امیہ کو نہ سمجھتے تھے  بلکہ کربلا کو محض ایک سانحہ اور حادثہ سمجھتے تھے۔ اگر  آپ کی رائے مختلف ہوتی تو کم از کم آپ سرکاری افواج سے اتنا تعاون نہ کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور کے مسلمانوں میں جو بھی اختلافات تھے، وہ محض سیاسی تھے اور دینی اعتبار سے ان میں کوئی ایسا اختلاف نہ تھا ، جس کی بنیاد پر ایک فریق کو کافر قرار دیا جائے۔

یزید کے دور میں یہ تین سانحات کیونکر پیش آئے؟

یزید کے دور کے ان تینوں سانحات کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ اس کی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے پیش آئے۔ اسے چاہیے تھا کہ مذاکرات کے ذریعے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتا۔ اگر وہ حکومت سنبھالنے کے بعد  مدینہ اور مکہ کا سفر کرتا اور یہاں خود حضرت حسین، عبداللہ بن زبیر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے مل کر ان سے براہ راست معاملات طے کر لیتا تو شاید یہ تینوں سانحے وقوع پذیر نہ ہوتے۔  ان حضرات کے بارے میں یہ بدگمانی درست نہیں ہے کہ یہ حکومت کے طالب تھے اور اس کے لیے مسلمانوں میں افتراق  و انتشار کو جائز سمجھتے تھے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ تو براہ راست شام جا کر یزید سے بیعت کے لیے تیار تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بھی اس کی بات چیت ہو جاتی، یزید ان کے مطالبات مان لیتا اور جن امور کی وہ اصلاح چاہتے تھے، ان پر عمل کر لیتا تو معاملہ اتنا نہ بڑھتا۔ 

افسوس کہ یزید نے اپنے جلیل القدر والد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے حلم اور تدبر کا مظاہرہ نہ کیا اور ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کر دیا۔ پہلے ابن زیاد کی افواج نے طاقت کا بے جا استعمال کر کے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور یزید نے اس کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی۔ اس کے بعد مدینہ کے کچھ لوگوں کی بغاوت کو کچلنے کے لیے سرکاری فوج نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی اور پھر مکہ مکرمہ پر حملہ کر کے حکومت کی رہی سہی ساکھ بھی ختم کر دی۔  64/684یزید کے مرتے ہی خانہ جنگیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جو کہ اگلے  نو برس جاری رہا۔

یزید کے بارے میں کیا رائے رکھنی چاہیے؟

اس معاملے میں مسلمانوں کے ہاں تین نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں:

1۔ عام طور پر یزید کو سانحہ کربلا، سانحہ حرہ اور مکہ مکرمہ پر حملے کا مجرم قرار دے کر اس  پر لعن طعن کی جاتی ہے۔  بعض لوگ اسے اسلام دشمن ، کافر ، منافق، فاسق و فاجر کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔  ہمارے دور میں بہت سے لوگوں کا یہی موقف ہے۔  یہ حضرات بالعموم تمام تاریخی روایتوں کو من و عن قبول کر کے یزید پر لعنت کرتے ہیں۔  اس نقطہ نظر پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسا ہی تھا تو پھر یزید کے دور میں موجود جلیل القدر صحابہ خاص کر ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے  اس کے خلاف کوئی تحریک پیدا کیوں نہیں کی اور ان حضرات نے حضرات حسین اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟

2۔ ایک اقلیتی گروہ کا موقف یہ ہے کہ یزید ایک جلیل القدر تابعی تھا۔ وہ اس کے نام کے ساتھ "رحمۃ اللہ علیہ" بلکہ بعض اوقات "رضی اللہ عنہ" بھی لگا دیتے ہیں۔  یہ حضرات سانحہ کربلا، حرہ اور مکہ کی ایسی توجیہ کرتے ہیں جس سے قصور سراسر حضرت حسین اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کا نکلتا ہے۔  اگر اس نقطہ نظر کو درست مان لیا جائے تو پھر حضرت حسین اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر بزرگوں پر تہمت کا دروازہ کھلتا ہے۔

3۔ ایک تیسرا موقف یہ ہے کہ یزید کے بارے میں خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔ اس نقطہ نظر کے حاملین کا کہنا یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایسا پیمانہ موجود نہیں ہے جس سے اس بات کا ٹھیک ٹھیک تعین کیا جا سکے کہ ان تینوں سانحات میں یزید یا کسی اور شخص کا قصور کتنا تھا؟ تینوں سانحات سے متعلق جو تاریخی روایتیں ہمیں ملتی ہیں، وہ  ابو مخنف ، ہشام کلبی اور واقدی کی روایت کردہ ہیں۔ ابو مخنف اور کلبی کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ لوگ بنو امیہ کے دشمن تھے اور ان سے شدید تعصب رکھتے تھے۔ دوسری طرف واقدی پر بھی کذاب ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس وجہ سےہم قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ ان واقعات کی اصل شکل کیا تھی اور اس میں کس شخص کا قصور کتنا تھا؟ ہونا یہ چاہیے کہ  ہم اس معاملے میں خاموشی اختیار کریں اور اس معاملے کو اللہ تعالی پر چھوڑ دیں۔

اس تیسرے نقطہ نظر کی نمائندگی کرتے ہوئے امام غزالی (d. 505/1111) کہتے ہیں:

جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ یزید نے قتل حسین کا حکم دیا تھا یا اس پر رضا مندی کا اظہار کیا تھا، تو جاننا چاہیے کہ وہ شخص پرلے درجے کا احمق ہے۔ اکابر و وزراء اور سلاطین میں سے جو جو اپنے اپنے زمانہ میں قتل ہوئے، اگر کوئی شخص ان کی یہ حقیقت معلوم کرنا چاہے کہ قتل کا حکم کس نے دیا تھا، کون اس پر راضی تھا اور کس نے اسے ناپسند کیا، تو اس پر قادر نہ ہو گا کہ اس کی تہہ تک پہنچ سکے خواہ یہ قتل اس کے پڑوس میں اور اس کے زمانے اور موجودگی میں ہی کیوں نہ ہوا ہو۔ پھر تو اس واقعہ تک کیسے رسائی ہو سکتی ہے جو دور دراز شہروں اور قدیم زمانہ میں گزرا ہو۔ پس کیسے اس واقعے کی حقیقت کا پتہ چل سکتا ہے جس میں چار سو برس (اب ساڑھے تیرہ سو برس) کی طویل مدت حائل ہو اور مقام بھی بعید ہو۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس بارے میں شدید تعصب کی راہ اختیار کی گئی ہے، اسی وجہ سے اس واقعہ کے بارے میں مختلف گروہوں  کی طرف سے بکثرت روایتیں مروی ہیں۔ پس یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی حقیقت کا ہرگز پتہ نہیں چل سکتا اور جب حقیقت تعصب کے پردوں میں روپوش ہے تو پھر ہر مسلمان کے ساتھ حسن ظن رکھنا واجب ہے، جہاں حسن ظن کے قرائن ممکن ہوں۔[3]

امام غزالی کے یہ دلائل اس درجے  میں مضبوط ہیں کہ ہمیں ہر تاریخی شخصیت کے بارے میں یہی رویہ رکھنا چاہیے۔ تاریخ کی کتب میں جو کچھ لکھا ہو، وہ ہم پڑھیں اور بیان کریں تو ساتھ ہی یہ وضاحت بھی ضرور کر دیں کہ حقیقت کا علم اللہ تعالی ہی کو ہے اور ہم تمام سابقہ لوگوں کے بارے میں حسن ظن کا رویہ رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں بھی ہم نے یہی کوشش کی ہے۔ جن لوگوں کے نام قاتلین عثمان میں آتے ہیں یا قاتلین حسین، ان کا تذکرہ کرتے وقت ہم نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ یہ باتیں تاریخی روایات ہی سے ملتی ہیں جن کی صحت مشکوک ہے۔ ہاں نام لیے بغیر اجمالی طور پر قاتلین عثمان اور قاتلین حسین کی مذمت کی جا سکتی ہے۔ 

جب یکساں درجے کی منفی اور مثبت تاریخی روایات موجود ہوں تو پھر ایک مثبت ذہنیت کے حامل شخص سے یہی توقع ہونی چاہیے کہ وہ مثبت پہلوؤں ہی پر توجہ دے۔ منفی پہلوؤں پر سوچنے سے دنیا میں سوائے فرسٹریشن اور آخرت میں سوائے مواخذہ کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔اللہ تعالی ہم سے آخرت میں ہمارے ہی اعمال سے متعلق سوال کریں گے اور کسی بھی تاریخی شخصیت کے اعمال کا حساب ہم سے نہ لیا جائے گا۔ حسن ظن اور بدگمانی، مثبت ذہنیت  یا منفی رویہ ہمارا اپنا  عمل ہے، جس کے لیے ہم اللہ تعالی کے حضور جواب دہ ہوں گے۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  ایضاً ۔ 4/1-267

[2]  ایضاً ۔ 4/1-268

[3]  شمس الدین ابن طولون(880-953/1475-1546)۔ قید الشرید من اخبار الیزید۔  47۔ www.archive.org/details/qsmay (ac. 13 Aug 2012)۔ مزید دیکھیے: غزالی، احیاء العلوم الدین (اردو ترجمہ: ندیم الواجدی)۔ 3/199۔  کراچی: دار الاشاعت۔