بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 7: دوسری خانہ جنگی

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

 

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

حضرت عبداللہ بن زبیر کی خلافت

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت سے متعلق زیادہ سوالات نہیں ہیں۔ آپ ایک جلیل القدر صحابی ہیں، آپ کے والد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ،  کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے "حواری" اور والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما  کو "ذات النطاقین" کا خطاب دیا۔ انہی سیدہ اسماء نے ہجرت نبوی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کھانے کا انتظام کیا۔  ابن زبیر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نواسے تھے اور ان کے علاوہ اپنی خالہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے تربیت یافتہ تھے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو کچھ ماہ تک مسلمانوں کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔ اسلام دشمنوں نے یہ مشہور کر دیا کہ ہم نے مسلمانوں پر جادو کر دیا ہے اور ان کی تعداد میں اب اضافہ نہ ہو سکے گا۔ اس وقت حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما 1/622 میں پیدا ہوئے اور تمام صحابہ نے اس پر خوشی منائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گود میں لے کر کھجور چبا کر ان کے منہ میں ڈالی۔ خلفائے راشدین کے دور میں آپ نے ایک نوجوان کی حیثیت سے نمایاں علمی اور عسکری کارنامے  انجام دیے۔  عہد صدیقی میں جنگ یرموک میں اہم کارنامے انجام دیے۔ عہد عثمانی میں قرآن مجید کی کاپیاں بنانے کے کام میں شریک رہے اور افریقہ کی مہم میں شریک ہوئے۔ خلیفہ مظلوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  کی شہادت کے موقع پر ان کی حفاظت کی اور  جنگ جمل میں مالک الاشتر سے براہ راست مقابلہ کیا۔  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں آپ افریقہ اور قسطنطنیہ کی مہمات میں شریک تھے۔

اصاغر صحابہ میں چار افراد ایسے تھے جو عبادت، زہد و تقوی اور علم دین میں غیر معمولی مقام رکھتے تھے اور اتفاق سے ان چاروں کا نام عبداللہ تھا۔ اس وجہ سے یہ عباد لہ (عبداللہ کی جمع) کہلاتے تھے۔ یہ ابن عمر، ابن عباس، ابن عمرو بن عاص اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ابن زبیر اب ساٹھ سال کے ہو چکے تھے۔ انہوں نے یزید کی حکومت کو پسند نہیں کیا اور اس کی بیعت نہیں کی۔ آپ مکہ مکرمہ میں مقیم رہے تاہم آپ نے حکومت کے خلافت بغاوت بھی نہیں کی۔ جیسا کہ آپ اوپر پڑھ چکے ہیں کہ سرکاری افواج نے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کر لیا جو کہ کئی دن جاری رہا مگر ابن زبیر نے صرف اپنا دفاع ہی کیا۔ یزید کی وفات کے بعد ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی خلافت کا اعلان کیا اور سوائے شام کے، تقریباً سبھی علاقوں پر ان کی خلافت قائم ہو گئی جو کہ 73/693 تک قائم رہی۔  ان کے دور کے بارے میں بہت زیادہ سوالات نہیں ہیں، بس چند امور وضاحت طلب ہیں۔ 

ابن زبیر اور دیگر صحابہ کا موقف کیا تھا؟

ہماری رائے میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما پوری دیانتداری سے یہ سمجھتے تھے کہ بنو امیہ میں باپ کے بعد بیٹے کی ولی عہدی کا جو سلسلہ شروع ہو گیا ہے، وہ درست نہیں ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد یزید کو تو انہوں نے برداشت کر لیا اور اعلان خلافت نہ کیا لیکن پھر یزید کے بعد اس کے بیٹے معاویہ ثانی کو وہ برداشت نہ کر سکے۔ دوسری جانب اہل شام میں اختلافات پیدا ہو گئے اور شامی فوج کے کمانڈر حصین بن نمیر نے خود ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو خلافت قبول کرنے کی دعوت دی۔

اس کے برعکس دیگر اکابر صحابہ جیسے حضرت عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کا موقف یہ تھا کہ دو خلیفوں کے اعلان سے امت میں انتشار پیدا ہو گا اور خانہ جنگی ہو گی۔ اس وجہ سے حکومت کی اطاعت کی جائے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق جس رائے کو درست سمجھا، اس پر عمل کیا۔ یہ سب حضرات ہمارے لیے محترم ہیں۔ ہمیں ان سب کا احترام کرنا چاہیے۔ بعد کے حالات نے یہ ثابت کیا کہ ابن عمر اور ابن عباس کی رائے درست تھی۔

65/685 میں عالم اسلام کی صورتحال کیا تھی؟

یزید کے دور کے بارے میں ہم مطالعہ کر چکے ہیں کہ یہ سیاسی بے چینی کا دور تھا۔ ایک طرف اس میں سانحہ کربلا ہوا تو دوسری طرف اہل مدینہ کی بغاوت کو اس نے سختی سے کچل دیا۔ تاہم یزید کے  دور تک عالم اسلام متحد تھا اور 64/684 میں اس کے مرتے ہی مختلف  سیاسی تحریکوں نے سر اٹھا لیا۔ ان کی تفصیل یہ ہے:

1۔ پہلا گروہ بنو امیہ کا تھا جنہوں نے یزید کے بعد اس کے بیٹے معاویہ بن یزید کو خلیفہ بنا لیا تھا۔ یہ ایک نہایت ہی عابد و زاہد شخص تھے اور ان کی تعریف بعض شیعہ مورخین نے بھی کی ہے۔[1] یہ محض چالیس دن کے بعد وفات پا گئے۔ ان کے بعد بنو امیہ اور اہل شام میں اختلافات پیدا ہو گئے جس کی وجہ سے ایک خلیفہ کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا۔  بنو امیہ کا یہ اختلاف ایک سال تک جاری رہا جس کے اختتام پر  انہوں نے متفقہ طور پر مروان بن حکم کو اپنا خلیفہ منتخب کر لیا۔  مروان صرف ایک سال ہی زندہ رہے اور 65/686 ہی میں فوت ہوئے البتہ ان کے بعد بنو امیہ کے سبھی خلفاء ان کی اولاد سے ہوئے۔

2۔  دوسرا گروہ اہل حجاز کا تھا جنہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو خلیفہ منتخب کر لیا۔ تاہم اہل حجاز ہی میں سے بہت سے لوگ ایسے تھے جنہوں نے بعد کی جنگوں میں غیر جانبداری کا رویہ اختیار کیا۔

3۔ تیسرا گروہ عراق میں بنو امیہ کے وفاداروں کا تھا۔ اس کی سربراہی گورنر عراق ابن زیاد کر رہا تھا۔ انہوں نے بنو امیہ کے اختلاف کے سیٹل ہونے تک  ابن زیاد کی بیعت کر لی۔

4۔ چوتھا گروہ عراق کی باغی تحریک کا تھا۔ انہوں نے پہلے سلیمان بن صرد کی قیادت میں منظم ہو کر ابن زیاد کے خلاف بغاوت کی جس میں انہیں ناکامی ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے مختار ثقفی کی قیادت میں اکٹھے ہو کر ایک بار پھر بغاوت کی جو کہ کامیاب رہی۔ اس بغاوت میں انہوں نے عراق میں بنو امیہ کے حامیوں پر قابو پا لیا اور ابن زیاد اور دیگر لوگوں کا قتل عام کر دیا۔

5۔ پانچواں گروہ خوارج کا تھا۔ یہ وہی گروپ تھا جس نے حضرت علی کو شہید کیا تھا لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کی حکمت عملی کے سبب انہیں زیادہ سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکا تھا۔ اب یہ لوگ بھی کسی حد تک منظم ہو گئے تھے تاہم اب ان کے متعدد گروپ ہو چکے تھے ۔  اب یہ نہ صرف عام مسلمانوں کو، بلکہ ایک دوسرے کو بھی کافر قرار دے کر واجب القتل سمجھنے لگے تھے۔

6۔ چھٹا گروہ غیر جانبدار مسلمانوں کا تھا جو کہ اکثریت پر مشتمل تھا۔  یہ کوئی منظم سیاسی گروپ نہ تھا بلکہ عام مسلمانوں پر مشتمل تھا۔ ان میں حضرت عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم جیسے اکابر صحابہ تھے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہر حالت میں جماعت یعنی حکومت وقت  کے ساتھ رہنا چاہیے، پارٹی بازی میں نہیں پڑنا چاہیے اور جب ایک حکومت قائم ہو جائے تو اس کی اطاعت سے نہیں نکلنا چاہیے تاکہ ان کی توانائیاں باہمی جنگوں میں صرف نہ ہو سکیں۔

ان چھ گروہوں کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟

64-73/684-693 کے نو برس ان میں سے پہلے پانچ گروہوں  کی باہمی کشاکش میں گزرے۔  چھٹے گروپ نے سیاست سے لاتعلقی رکھی اور جس بھی گروہ کو اقتدار ملا، اس کی بیعت کر لی۔ ان حضرات نے اپنی پوری توجہ دین کی تعلیم اور تربیت کی طرف لگا دی اور اس  میدان میں غیر معمولی کارنامے انجام دیے۔  یہ حضرات دوسری خانہ جنگی کے زمانے میں بالعموم محفوظ رہے۔ جو بھی معاملات ہوئے، وہ پہلے پانچ گروہوں کے درمیان طے پائے۔ چونکہ یہ اتنے سارے گروپ ہیں، اس وجہ سے ان کے حالات بیان کرتے ہوئے مورخین نے واقعات کو اس طرح خلط ملط کر دیا  ہے کہ بات پوری طرح سمجھ میں نہیں آتی۔ اس صورتحال کا تجزیہ کرنے سے پہلے بہتر ہو گا کہ ہم اس دور کے واقعات کی ٹائم لائن پیش کر دیں۔

رجب 60/680

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات اور یزید کی حکومت کا آغاز

محرم 61/680

سانحہ کربلا

ذو الحجہ 63/683

سانحہ حرہ

محرم 64/683

مکہ کا محاصرہ

ربیع الاول 64/683

یزید کی موت اور شام میں معاویہ بن یزید کی بیعت

ربیع الاول 64/684

حجاز میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت

جمادی الاخری 64/684

معاویہ بن یزید کی وفات اور اہل مصر کی ابن زبیر سے بیعت

64/684

ابن زبیر کا عراق پر کنٹرول

ذو القعدہ 64/684

شام میں مروان بن حکم کی بیعت اور شام، فلسطین اور مصر پر بنو امیہ کی حکومت کا کنٹرول

جمادی الاولی 65/685

سلیمان بن صرد اور بنو امیہ کی جنگ جس میں بنو امیہ کو فتح حاصل ہوئی

جمادی الاخری 65/685

بصرہ میں خوارج کی ابن زبیر کے خلاف بغاوت جس میں خوارج کو فتح حاصل ہوئی

رمضان 65/685

مروان بن حکم کی وفات  اور عبد الملک بن مروان کی بیعت

ذو الحجہ 66/686

جنگ بابل: مختار ثقفی اور بنو امیہ کی جنگ جس میں مختار ثقفی کو فتح حاصل ہوئی

ذو الحجہ 66/686

جنگ موصل: مختار ثقفی  کے ساتھی ابراہیم بن اشتر اور بنو امیہ کی جنگ جس میں ابراہیم کو فتح حاصل ہوئی اور ابن زیاد اور حصین بن نمیر مارے گئے۔  شمالی عراق پر مختار کی حکومت قائم ہو گئی۔

66/686

یمامہ (موجودہ وسطی سعودی عرب) میں نجدہ بن عامر کی بغاوت اور یمامہ کی ابن زبیر  کی حکومت سے علیحدگی

رمضان 67/687

جنگ کوفہ: مصعب بن زبیر  اور مختار کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ابن زبیر کو فتح حاصل ہوئی اور مختار ثقفی مارا گیا۔

68/688

ایران میں خوارج کی بغاوت اور ابن زبیر کی فتح

69/689

نجدہ بن عامر کی شکست اور یمامہ پر ابن زبیر کا کنٹرول

69/689

عمرو بن سعید اموی کی عبدالملک بن مروان  کے خلاف بغاوت اور  عبدالملک کی فتح

71/691

عبدالملک بن مروان کا عراق پر حملہ اور مصعب بن زبیر سے جنگ۔ عبدالملک کو فتح نصیب ہوئی اور عراق بنو امیہ کے کنٹرول میں چلا گیا۔

رمضان 72/692

عبد الملک کی جانب سے حجاج بن یوسف کا مکہ کا محاصرہ  اور حجاز پر عبد الملک کا کنٹرول

جمادی الاخری 73/692

حجاج بن یوسف کی فتح اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت

73/692

عبد الملک بن مروان کے اقتدار کی تکمیل

76-77/696-697

خوارج کی بغاوت اور ان کا مکمل استیصال

86/705

عبد الملک بن مروان کی وفات

اس ٹائم لائن کو دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ اس زمانے کی بڑی سیاسی قوتیں دو تھیں: ایک حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور دوسرے بنو امیہ۔ عراق کی باغی تحریک اور خوارج چھوٹے گروپ تھے۔ اس پورے دور کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1۔ ابتدائی دور(64-67/684-687): یہ سیاسی بے چینی اور خانہ جنگی کا دور تھا۔ اس دور میں عراق میں خوارج اور عراق کی باغی تحریکیں پیدا ہوئیں تاہم ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان پر قابو پا لیا۔ مختار ثقفی کے بعد عراق کی باغی تحریک کی قوت کا  زور ٹوٹ گیا۔ اسی طرح خوارج بھی شکست کھا کر ایران کے علاقوں میں بکھر گئے اور خاموشی کی زندگی بسر کرنے لگے۔ اس دوران بنو امیہ اندرونی اختلافات کا شکار رہے تاہم انہوں نے جلد ہی کم بیک کیا اور ایک دو سال کے عرصے میں  شام اور مصر پر اپنا کنٹرول بحال کر لیا۔ 

2۔ متوسط دور (67-71/687-691): یہ نسبتاً استحکام اور سکون کا دور تھا۔ اس زمانے میں باہمی خانہ جنگیاں نہیں ہوئیں۔ صرف ایران میں خوارج اور یمامہ میں نجدہ بن عامر نے چھوٹی موٹی بغاوتیں کیں جنہیں ابن زبیر نے فرو کر دیا۔ اس زمانے میں عبد الملک نے بھی شام، فلسطین اور مصر میں اپنی حکومت کو مستحکم کیا۔

3۔  آخری دور (71-73/691-692): یہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی حکومت کے زوال اور بنو امیہ کی حکومت کے عروج کا دور ہے۔ اس میں پہلے عراق اور پھر حجاز ابن زبیر کے ہاتھوں سے نکلتے چلے گئے اور بالآخر ان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

4۔ عبد الملک بن مروان کا دور (73-86/692-705): یہ استحکام کا دور تھا اور اس میں سوائے چھوٹی موٹی بغاوتوں کے اور کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہ ہوا۔

5۔ اس کے بعد  بنو امیہ کے تقریباً پورے دور میں حکومت مستحکم رہی، مسلمانوں میں اتحاد برقرار رہا  اور سوائے چھوٹی موٹی بغاوتوں کے اور کوئی بڑا مسئلہ پید انہ ہوا۔ یہ صورتحال 130/747 تک برقرار رہی۔  اس کے بعد بنو عباس کی بنو امیہ کے خلاف تحریک  منظر عام پر آئی اور بالآخر بنو امیہ کا اقتدار ختم ہو گیا۔ تاہم امویوں نے اس کے بعد اسپین میں اپنا اقتدار قائم کر لیا جو کہ 422/1031تک جاری رہا۔

ابن زبیر اور بنو امیہ کے اختلاف کی حیثیت کیا تھی؟

بعض لوگ ابن زبیر رضی اللہ عنہما او ربنو امیہ کے اختلاف کو مذہبی رنگ دیتے ہیں۔ وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ بنو امیہ بڑے ظالم و جابر اور بدمعاش قسم کے لوگ تھے۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس وجہ سے ان کے مقابلے میں اپنی خلافت کا اعلان کیا تاہم اموی غالب آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ بنو امیہ کی خلافت کو بھی  اکابر صحابہ جیسے ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے قبول کیا۔ اگر یہ اختلاف مذہبی ہوتا تو یہ حضرات اسے قبول نہ کرتے۔  صحیح بخاری میں ہے:

عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا جب لوگ عبد الملک (کی حکومت) پر متفق ہوئے۔ اس وقت ابن عمر نے (عبد الملک کو) لکھا: " میں اپنی استطاعت کی حد تک اللہ کے بندے  عبد الملک امیر المومنین  کی سمع اور طاعت کا،  اللہ کی سنت اور اس کے رسول کی سنت کے دائرے میں اقرار کرتا ہوں۔ میری اولاد بھی اسی کی طرح اس بات کا اقرار کرتی ہے۔ [2]

ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملا تو کہنے لگے: "کیا آپ لوگوں نے نہیں دیکھا ہے کہ ابن زبیر خلافت کے لیے کھڑے ہوئے ہیں؟ میں نے دل میں  سوچا ہے کہ میں غور کروں گا کہ آیا وہ اس کے مستحق ہیں یا نہیں۔ میں نے ابوبکر و عمر کی خلافت کے معاملے میں کبھی غور نہیں کیا کیونکہ وہ ہر طرح سے اس کے لائق تھے۔ پھر میں نے دل میں سوچا کہ وہ (ابن زبیر) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کے بیٹے (پوتے) اور زبیر بن عوام کے صاحبزادے ہیں جو کہ عشرہ مبشرہ میں داخل ہیں۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار (ابوبکر) کے نواسے ہیں  اور سیدہ خدیجہ کے بھائی کے بیٹے ہیں اور سیدہ اسماء کے بیٹے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ خود کو مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں اور اس بات کی کوشش نہیں کرتے کہ میں ان کا مقرب بن جاؤں۔ میں اپنے دل میں ان سے نہ کھنچوں گا لیکن ابن زبیر میری طرف توجہ نہیں کرتے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اس میں کچھ بھلائی محسوس کرتے ہوں لیکن اب میں اپنے چچا کے بیٹے (عبد الملک) کی بیعت کر لوں گا کہ کیونکہ کسی غیر کے حاکم ہونے سے بہتر ہے کہ ہمارے عزیز حاکم ہوں۔ [3]

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اختلاف کی حیثیت مذہبی نہیں بلکہ سیاسی تھی۔  ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں کا  نقطہ نظر یہ تھا کہ بنو امیہ کے اندر باپ کے بعد بیٹے کی خلافت کا جو سلسلہ شروع ہو گیا ہے، وہ درست نہیں ہے۔  اس وجہ سے انہوں نے اسے ختم کرنے کے لیے کوشش کی۔  اس کے برعکس ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے یہ محسوس کیا کہ اگر اس سلسلے کو بزور ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو امت میں افتراق و انتشار پیدا ہو گا۔ امت کو افتراق و انتشار اور خانہ جنگیوں سے بچانا، اسے موروثی بادشاہت  سے بچانے کی نسبت زیادہ اہم ہے۔ان تمام بزرگوں کی اپنی اپنی اجتہادی رائے تھی اور ہر ایک نے اپنی رائے کے مطابق عمل کیا اور سبھی کو ان کی حسن نیت کا اجر ملے گا۔ ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے سیاسی میدان سے الگ ہو کر علم اور دعوت کے میدان میں جو غیر معمولی کارنامے انجام دیے، ان کا مطالعہ انشاء اللہ ہم مسلمانوں کی علمی و دعوتی تحریک میں کریں گے۔

چھٹے عشرے میں عالم اسلام کی سیاسی حالت تبدیل ہو چکی تھی۔ ایک طرف بنو امیہ اور ان کے حامی تھے اور دوسری جانب  ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے حامی۔ عبد الملک بن مروان بھی ایک بڑے عالم اور فقیہ تھے اور ان کا شمار متوسط تابعین کے فقہاء میں ہوتا ہے۔ حضرت ابن زبیر اور بنو امیہ میں رشتے داری تھی۔ ان کی بہن رملہ بنت زبیر کی شادی اموی سائنسدان خالد بن یزید بن معاویہ سے ہوئی تھی۔[4]  اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ حضرات بھی اسے محض ایک سیاسی اختلاف ہی سمجھتے تھے، مذہبی اختلاف نہیں سمجھتے تھے۔

دونوں گروہوں کو عالم اسلام کے ایک بڑے حصے کی حمایت حاصل تھی۔ اس کے بعد ان کے درمیان باہمی جنگوں کا افسوس ناک سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں عبد الملک کا اقتدار عالم اسلام پر قائم ہو گیا اور تمام مسلمانوں نے ان کی بیعت کر لی۔  کاش کہ یہ اختلاف مذاکرات کے ذریعے طے کر لیا جاتا اور "کچھ دو اور کچھ لو" کے اصول کے تحت ویسا ہی اتحاد وجود میں آتا جیسا کہ 33 برس پہلے حضرت حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی صلح کے نتیجے میں ہوا تھا۔ بہرحال یہ سب لوگ اب گزر چکے ہیں اور ان کے آپس کے اختلافات کا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہے۔ ہمیں اس معاملے میں کسی پر زبان طعن دراز نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ان واقعات کی تفصیلات ہمیں محض تاریخی روایتوں ہی سے ملتی ہیں۔ 

حجاج بن یوسف کے بارے میں کیا رائے رکھنی چاہیے؟

مشرقی ممالک میں انارکی کو ختم کرنے اور حکومت کو مستحکم کرنے میں حجاج بن یوسف نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔ اس شخص کے بارے میں تاریخی روایتوں  میں آتا ہے کہ اس نے عراق اور حجاز میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر دیا اور بے شمار لوگ قتل کروائے۔  اگر یہ مظالم فی الواقع ہوئے ہیں تو یقیناً حجاج اور عبدالملک بن مروان ان کے لیے اللہ تعالی کے حضور جواب دہ ہوں گے۔  دوسری طرف ہمیں یہ روایات بھی ملتی ہیں کہ مسلم خواتین کی پکار پر حجاج ہی نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو راجہ داہر سے جنگ کرنے بھیجا جنہوں نے موجودہ کراچی سے لے کر ملتان تک کا علاقہ فتح کر لیا۔

تاریخ طبری  میں ہے کہ حجاج بن یوسف نے بعض صحابہ جیسے حضرت جابر بن عبداللہ، انس بن مالک اور سہل بن سعد رضی اللہ عنہم پر بھی تشدد کیا اور ان کے داغ لگوائے۔  طبری میں یہ روایت 74/694 کے باب کے شروع میں بیان ہوئی ہے۔ انہوں نے اس روایت کی منقطع اسناد (Broken chain of narrators)یوں بیان کی ہے: عن ابن أبي ذئب عن إسحاق بن يزيد، اور حدثني شرحبيل بن أبي عون عن أبيه۔  طبری اور ان واقعات کے درمیان دو سو برس کا طویل زمانہ ہے  اور یہ ممکن نہیں ہے کہ محض دو واسطوں سے یہ روایت ان تک پہنچی ہو۔  یہ معلوم نہیں کہ یہ نامعلوم لوگ کس درجے میں قابل اعتماد تھے۔ درایت کے اعتبار سے بھی یہ روایت قرین قیاس نہیں ہے کیونکہ  جیسے جیسے اصحاب رسول  دنیا سے رخصت ہو رہے تھے، باقی ماندہ صحابہ  کی قدر و منزلت لوگوں کی نظر میں بہت زیادہ بڑھ رہی تھی۔ اس دور میں جب  قلیل تعداد میں ضعیف العمر صحابہ باقی رہ گئے تھے، ان کے ساتھ اتنی گستاخی کی جاتی تو لوگ کوئی احتجاج نہ کرتے۔ یہ کام  حجاج جیسے شخص کے لیے بھی ممکن نہ تھا۔  عین ممکن ہے کہ حجاج کے مظالم کی داستانیں اس پراپیگنڈا کا حصہ ہوں جو بنو عباس نے بنو امیہ کی حکومت گرانے کے لیے کیا۔

خلاصہ باب

·       حضرت حسین رضی اللہ عنہ اصلاح احوال اور انارکی کو ختم کرنے کے لیے کوفہ تشریف لے گئے تھے۔  جب آپ کو علم ہوا کہ عراق میں حکومت قائم ہو چکی ہے تو آپ نے اپنے موقف سے رجوع کر لیا۔ یہاں اہل کوفہ کی باغی تحریک کے افراد، جو کہ سرکاری افواج میں شامل تھے، نے آپ کو شہید کر دیا تھا۔

·       سانحہ کربلا کے نام پر باغی تحریک پھلی پھولی اور انہوں نے دو بڑی بغاوتیں  پیدا کیں جن میں سے ایک کا خاتمہ بنو امیہ اور دوسری کا حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما  کے ہاتھوں ہوا۔

·       سانحہ حرہ ایک حادثہ تھا جس میں اہل مدینہ کے بعض لوگوں نے حکومت کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور حکومتی کاروائی کے نتیجے میں یہ بغاوت ختم ہوئی۔

·       ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے چونکہ یزید کی بیعت نہیں کی تھی، اس وجہ سے سرکاری افواج نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا لیکن اس دوران یزید کی موت کی وجہ سے یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔

·       ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی خلافت کے دوران جو سب سے اہم کارنامہ انجام دیا، وہ عراق میں باغی تحریک  اور ایران میں خوارج کی بیخ کنی تھی۔

·       ابن زبیر اور بنو امیہ کا اختلاف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی تھا۔ اس کے نتیجے میں فریقین کے درمیان افسوس ناک جنگوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا، جو ابن زبیر کی شہادت پر ختم ہوا۔  اس کے بعد 50-55برس  کے لیے امن قائم ہو گیا۔

اسائن منٹس

۱۔ سانحہ کربلا کے اسباب کیا تھے؟  باغی تحریک کی پچیس سالہ تاریخ  کی روشنی میں جواب دیجیے۔

۲۔ تاریخی اسلامی میں بہت سے سانحات رونما ہوئے ہیں جن میں جنگ احد، حضرت عمر، عثمان، علی، طلحہ ، زبیر  رضی اللہ عنہم کی شہادت، سانحہ کربلا، شہادت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما وغیرہ شامل ہیں۔  ان تمام سانحات میں سے صرف سانحہ کربلا کو غیر معمولی اہمیت کیوں دی گئی ہے؟ اس کے سیاسی اور عمرانی اسباب پر ایک نوٹ لکھیے۔

۳۔ سانحہ کربلا کے بعد حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے خاندان کے مختلف افراد کے کردار پر ایک نوٹ لکھیے۔

۴۔ مختار ثقفی کون تھا؟ اس کے عزائم اور مقاصد کیا تھے؟ اسے کس طرح عروج حاصل ہوا اور کیا اسباب اس کے زوال کا سبب بنے؟

۵۔  عبد الملک بن مروان کے بعد 50-60 برس کے لیے امن قائم ہو گیا۔ اس کے اسباب کیا تھے؟ اس پورے عرصے میں چھوٹی موٹی بغاوتوں کے سوا کوئی اور بڑا فتنہ کیوں پیدا نہ ہوا؟

۶۔ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور عبد الملک بن مروان کی جنگوں میں دیگر صحابہ کا موقف کیا تھا؟

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1] Ameer Ali, Syed. Short History of the Saracens. P. 89. www.aboutquran.com (ac. 6 May 2008)

[2]  بخاری۔  کتاب الاحکام۔ حدیث 6777

[3]  ایضاً۔  کتاب التفسیر۔ حدیث 4389

[4]  بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 5/386۔ باب خالد بن یزید بن معاویہ۔