بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 8: عہد صحابہ و تابعین سے متعلق عمومی سوالات

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

عہد صحابہ میں اتنی جنگیں کیوں ہوئیں؟

عہد صحابہ میں اتنی جنگیں نہیں تھیں جتنا کہ تاریخ کو پڑھنے سے تاثر ملتا ہے۔  اصل میں صحافی اور مورخین حضرات کا یہ مزاج ہوتا ہے کہ وہ چن چن کر منفی واقعات کو رپورٹ کرتے ہیں اور مثبت واقعات ان کے نزدیک اتنے اہم نہیں ہوتے کہ ان کا اندراج تاریخ کی کتب میں کیا جائے۔ مثل مشہور ہے کہ کتا انسان کو کاٹ لے تو خبر نہیں بنتی بلکہ اس وقت بنتی ہے جب انسان کتے کو کاٹ لے۔ صحافت کی ایک اصطلاح ہے جسے "نیوز ویلیو" کہا جاتا ہے۔ جرنلزم کے ماہرین کے نزدیک نیوز ویلیو کا انحصار متعدد عوامل پر ہوتا ہے:

1۔ منفی پن: منفی خبروں کو مثبت خبروں کی نسبت زیادہ کوریج ملتی ہے۔ ہمارے ملک میں روزانہ کروڑوں لوگ اللہ تعالی کے  حضور حاضر ہوتے ہیں،  لاکھوں لوگ غرباء اور مساکین کی مدد کرتے ہیں، کروڑوں لوگ ایک دوسرے سے محبت سے  ملتے ہیں لیکن ان سب کی کوئی نیوز ویلیو نہیں ہوتی ہے۔ اس کے برعکس کروڑوں میں سے چند لوگ اگر قتل، بدکاری، ریپ، لڑائی جھگڑا  یا اسی  نوعیت کا کوئی کام کر بیٹھیں تو تمام اخبارات اسے رپورٹ کرتے ہیں۔ ہزاروں جہاز، ٹرینیں، بسیں اور کاریں صحیح و سلامت اپنی منزل مقصود پر پہنچتی ہیں  لیکن اخبار میں اس کی خبر نہیں آتی اور نہ ہی کوئی نیوز چینل اسے رپورٹ کرتا ہے لیکن اگر ایک آدھ جہاز، ٹرین، بس یا کار کو حادثہ پیش آ جائے تو یہ خبر بن جاتی ہے۔

2۔ تصادم: تصادم اور لڑائی جھگڑے پر مبنی خبروں کو زیادہ کوریج دی جاتی ہے۔

3۔ نمایاں شخصیات سے تعلق: نمایاں شخصیات جیسے حکمران طبقے سے متعلق خبریں زیادہ نشر کی جاتی ہیں جبکہ عام آدمی  سے متعلق خبریں کم۔

4۔ توقع: ایسی خبریں جن کی لوگوں کو توقع نہ ہو، کو زیادہ کوریج ملتی ہے کیونکہ اس سے لوگوں کو چونکایا جا سکتا ہے اور سنسنی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یہاں کتے اور انسان والی مثال فٹ بیٹھتی ہے۔

5۔ تحقیقات: اگر کسی خبر کے لیے بہت زیادہ تحقیق کی ضرورت ہو تو اس کی نسبت اس خبر کو زیادہ کوریج دی جاتی ہے جس کے لیے تحقیق کی ضرورت نہ ہو اور وہ آسانی سے دستیاب ہو سکے۔[1]

ان کے علاوہ دیگر عوامل جیسے خبر کی دستیابی، میڈیا میں پیش کیے جانے والے دیگر واقعات، میڈیا کا اپنا شیڈول وغیرہ بھی خبر کی کوریج کا تعین کرتے ہیں۔ چونکہ مورخین کے کام کا انحصار صحافیوں کے کام پر ہوتا ہے، اس وجہ سے یہی عوامل وہاں بھی اپنا اثر دکھا دیتے ہیں۔  صحافی، اخباری اور مورخ انہی باتوں کو اپنی کتب میں درج کرتے ہیں جن کی ان کے نزدیک کچھ نیوز ویلیو ہو تاکہ ان کا اخبار یا کتاب بک سکے۔ جو چیزیں نارمل اور روٹین ہوتی ہیں، انہیں وہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان دنوں میں مسلمانوں کی مذہبی، علمی، فکری، تہذیبی اور دعوتی تاریخ پر کام کر رہا ہوں لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تاریخ کے بارے میں کتب تاریخ میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے مجھےکتب تاریخ سے ہٹ کر دیگر وسائل پر انحصار زیادہ کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ مورخین اور اخباریوں کے نزدیک علمی، فکری اور دعوتی تاریخ کی اتنی نیوز ویلیو نہیں تھی کہ وہ اس سے متعلق زیادہ تفصیلات اپنی کتب میں درج کرتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پورے سیاسی دور کا جائزہ لیا جائے تو اس میں امن کے وقفے ، جنگ کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔ اس کے لیے آپ اس ٹائم  لائن کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس ٹائم لائن میں چھوٹے موٹے اور مقامی نوعیت کے واقعات کو ہم نے نظر انداز کر دیا ہے کیونکہ ان کا عام زندگی پر کوئی  اثر نہیں پڑتا ہے۔

1-2/622-623

امن کا دور۔۔۔ تقریباً ایک سال

2/624

غزوہ بدر ۔۔۔ ایک دن کی جنگ اور کاروائی میں چند دن لگے۔

2-3/624-625

امن کا وقفہ۔۔۔ تقریباً ایک سال

3/625

غزوہ احد ۔۔۔ ایک دن کی جنگ اور کاروائی میں چند دن لگے۔

3-5/625-627

امن کا وقفہ ۔۔۔ تقریباً دو سال

5/627

غزوہ خندق ۔۔۔ چند دن کا محاصرہ اور مکمل کاروائی میں بیس پچیس دن لگے۔

5-7/627-629

امن کا وقفہ ۔۔۔ دو سال

7/629

غزوہ خیبر ۔۔۔ چند دن کی جنگ اور مکمل کاروائی میں بیس پچیس دن لگے۔

جنگ موتہ ۔۔۔ چند دن کی جنگ اور مکمل کاروائی میں بیس پچیس دن لگے۔

7-8/629-630

امن کا وقفہ ۔۔۔ ایک سال

8/630

فتح مکہ، غزوہ حنین، غزوہ ہوازن اور چند چھوٹے موٹے غزوات۔  سب کو ملا کر چند ماہ کا وقت لگا۔

8-11/630-632

امن کا وقفہ ۔۔۔ تین سال۔ اس میں صرف ایک تبوک کی مہم ہے جس میں جنگ نہیں ہوئی۔

11/632

بعض عرب قبائل کا ارتداد اور ان سے جنگیں

12-35/632-655

مسلم دنیا میں امن کا وقفہ ۔۔۔ 23 برس۔ سرحدوں پر روم اور ایران سے جنگیں چلتی رہیں۔

35-40/655-660

شہادت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کا دور۔۔۔ اس میں بھی محض تین جنگیں ہوئیں اور ان کے درمیان امن رہا۔

41-60/660-680

مسلم دنیا میں امن کا وقفہ ۔۔۔  20 برس۔ سرحدوں پر اہل روم اور خراسان سے جنگ چلتی رہی۔

61-64/680-684

سیاسی بے چینی کا دور ۔۔۔ تین سال۔ اس میں بھی سوائے تین سانحوں کے بالعموم امن قائم رہا۔

64-67/684-687

خانہ جنگی کا دور

67-70/687-690

چھوٹی موٹی بغاوتوں  کے علاوہ عمومی امن کا وقفہ ۔۔۔ چار سال

71-73/690-692

خانہ جنگی کا دور ۔۔۔ دو سال

73-132/692-750

چھوٹی موٹی بغاوتوں کے علاوہ بحیثیت مجموعی امن کا دور ۔۔۔ 58 سال

ان تمام ادوار کو دیکھا جائے تو مسلم دنیا کی حد تک سوائےدس بارہ سالوں کے تقریباً سو برس کی بقیہ پوری تاریخ امن کے ادوار پر مشتمل ہے۔ صحیح معنوں میں سن61-67اور 71-73کو خانہ جنگی کا دور کہا جا سکتا ہے۔  حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ تمام ہی قبائل نے بغاو ت کر دی ہو۔ پورے عرب کے صرف چند قبائل نے بغاوت کی جسے متحد مسلمانوں نے چند ہی ماہ میں ختم کر دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور کو خانہ جنگی کا دور اس وجہ سے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک باغی تحریک موجود تھی اور جو بھی جنگیں ہوئیں، ان میں یہی باغی تحریک شامل تھی۔  اس  طرح سے اندرونی انتشار کا دور صرف آٹھ دس سالوں پر محیط ہے۔ 

امن کا زمانہ تقریباً سو برس  پر محیط ہے جس میں ہر قسم کی معاشی، معاشرتی، دعوتی، تعلیمی، اخلاقی  اور ثقافتی ترقی ہمیں نظر آتی ہے۔  جنگ کا تناسب محض 25% جبکہ امن کا تناسب 75% ہے۔  یہ 25% بھی محض سالوں کا تناسب ہے۔ ان سالوں کے اندر بھی یہ کیفیت نہیں رہی ہو گی کہ ہر مہینے اور ہر دن جنگ ہو رہی ہو گی بلکہ محض چند ماہ ایسے ہوں گے جن میں جنگ ہوئی ہو گی۔ اخباری اور مورخین کے نزدیک چونکہ امن کے ان طویل وقفوں کی کوئی نیوز ویلیو نہیں ہوتی ہے، اس وجہ سے وہ انہیں ایسے نظر انداز کرتے ہیں جیسے ان میں کچھ ہوا ہی نہیں۔ اس کے برعکس وہ جنگ کی استثنائی صورت پر بہت زیادہ فوکس کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا اس دور میں جنگ ایک نارمل کیفیت تھی اور امن کے وقفے محض استثنائی تھے۔

جہاں تک بیرونی خطرات کا تعلق ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کفار مکہ اور یہود سے جو جنگیں ہوئیں، ان کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے اسلام کی دعوت کو مٹانے کے لیے اس پر حملوں کا آغاز کیا۔ اس کے بعد روم اور ایران کی سپر پاورز سے جنگوں کا آغاز بھی اسی وجہ سے ہوا کہ یہ قوتیں اپنے قریب ایک تیسری سیاسی طاقت کو برداشت نہ کر رہی تھیں۔  اس دور میں ابھی اقوام متحدہ وجود میں نہ آئی تھی اور ہر ریاست خود کو دوسری کے ساتھ جنگ پر مجبور پاتی تھی۔ اگر ایک ریاست دوسری پر حملہ نہ کرتی تو دوسری پہلی پر حملہ کر دیتی۔ یہ کیفیت 1945 تک رہی ہے جب اقوام عالم نے دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک معاہدہ کیا کہ کوئی ریاست دوسری پر حملہ نہ کرے گی اور جارحیت کی صورت میں مسئلے کا حل اقوام متحدہ کے ادارے کے ذریعے تلاش کیا جائے گا۔ اس معاہدے کے باوجود بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ جنگیں اب بھی چلتی  رہتی ہیں۔

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1] http://en.wikipedia.org/wiki/News_values (ac. 4 May 2012)