بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 8: عہد صحابہ و تابعین سے متعلق عمومی سوالات

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

خلافت ملوکیت میں کیسے تبدیل ہوئی؟

یہ حقیقت ہے کہ عبد الملک بن مروان سے صحیح معنوں میں بادشاہت کا آغاز ہوا۔ عبدالملک کے بعد ان کے چار بیٹے ولید، سلیمان، یزید اور ہشام خلیفہ یکے بعد دیگرے بنے۔  صرف درمیان میں دو سال کے لیے ان کے بھتیجے عمر بن عبدالعزیز بن مروان رحمہ اللہ کو خلافت ملی اور انہوں نے خلافت راشدہ کی یاد تازہ کر دی۔ بنو امیہ کے بعد یہ بادشاہت بنو عباس اور پھر عثمانی ترکوں کے ہاتھ میں رہی اور یہ ملوکیت ہی تھی۔ یہاں پر تاریخ کے ایک طالب علم کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سن 1/622 میں قائم ہونے والی وہ حکومت الہیہ،  جس کے بانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، کیا یہ حکومت الہیہ اتنی کمزور تھی کہ محض 73 برس میں اس کا خاتمہ ہو گیا اور یہ ملوکیت میں تبدیل ہو گئی؟  پھر ان 73 برس میں بھی کم از کم یزید کا چار سالہ دور سانحات سے پر ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اسلام، کم از کم سیاسی میدان میں بالکل ہی ناکام رہا۔

یہ سوال اصل میں اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں لوگ اس ملوکیت کو آج کل کے زمانے کی فوجی آمریتوں پر قیاس کر لیتے ہیں جو عالم اسلام میں جا بجا مسلط ہیں۔ اس وجہ سے لازم ہے کہ قدیم دو رکی ملوکیت  کا موازنہ ہم اپنے دور کی آمریتوں سے کر لیں تاکہ دونوں کا فرق واضح ہو سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملوکیت کی تیرہ سو سالہ تاریخ میں اچھے اور برے ہر طرح کے بادشاہ گزرے ہیں تاہم مجموعی غلبہ خیر ہی کا رہا ہے۔

خصوصیت

خلافت راشدہ

اموی، عباسی اور عثمانی سلاطین

جدید آمریتیں

1۔ مملکت کا قانون

قرآن و سنت

قرآن و سنت

حکمران طبقے کی منشا

2۔  حکمران کا انتخاب

مسلمانوں کا باہمی مشورہ

موروثی اقتدار یا فوجی طاقت

موروثی اقتدار یا فوجی طاقت

3۔ علماء و صلحاء کا حکومت میں کردار

حکومت میں شریک تھے

کافی حد تک شریک حکومت تھے اور اصلاح کرتے رہے

حکومت میں کم ہی شریک ہوئے

4۔ بیت المال پر حکمران کا ذاتی کنٹرول

کوئی کنٹرول نہیں بلکہ خلیفہ سے مکمل حساب لیا جاتا تھا

ایک حد تک کنٹرول مگر زیادہ فنڈ عوام کی فلاح پر خرچ ہوتے تھے

مکمل کنٹرول

5۔ حکمرانوں کی اخلاقی حالت

آئیڈیل

زیادہ تر اچھے اور کبھی برے حکمران

زیادہ تر برے حکمران

6۔ حکمرانوں کا ظلم و ستم

بالکل نہیں

زیادہ تر صرف اپنے سیاسی مخالفین کے لیے

زیادہ تر صرف اپنے سیاسی مخالفین کے لیے

7۔ قانون سازی کی ذمہ داری

قرآن و سنت کی بنیاد پر اہل شوری کا اجتماعی اجتہاد

قرآن و سنت کی بنیاد پر اہل علم کا اجتماعی اجتہاد

حکمران کی ذات یا اس کی ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ

8۔ عوام کی فلاح و بہبود

تمام تر فنڈز عوام کی فلاح اور قومی ضروریات پر خرچ ہوتا تھا

فنڈز کا اکثر حصہ عوام کی فلاح اور قومی ضروریات پر خرچ ہوتا تھا جبکہ کچھ حصہ حکمران طبقہ استعمال کرتا تھا

فنڈز کا اکثر حصہ حکمران طبقے کی ذات پر خرچ ہوتا ہے جبکہ کچھ حصہ قومی ضروریات کے لیے باقی بچتا ہے

اس جدول کو دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملوکیت کے اس دور میں ایسا نہیں تھا کہ آوے کا آوا ہی بگڑ گیا ہو اور پوری کی پوری امت مسلمہ گمراہی کا شکار ہو گئی ہو۔ اس کے برعکس ہمیں نظر آتا ہے کہ حکمران طبقے میں کچھ خرابیاں تو پیدا ہوئیں مگر بڑی حد تک یہ امت صراط مستقیم پر قائم رہی۔ یہ درست ہے کہ مسلمانوں میں موروثی بادشاہت قائم ہو گئی جس کے نتیجے میں آپس میں خانہ جنگیاں اور اقتدار کی کشمکش ہوتی رہی تاہم مملکت کا قانون قرآن و سنت ہی رہا۔ مسلمانوں کی ان تمام مملکتوں میں عوام کی فلاح و بہبود کو بنیادی حیثیت حاصل رہی اور برے حکمرانوں کے دور میں بھی عام آدمی کو اس کا حق ملتا رہا۔اس کے برعکس غیر مسلم دنیا میں بالعموم یہ کیفیت نہ تھی اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے غیر مسلم اپنے اپنے ملکوں کو چھوڑ کر مسلم علاقوں میں آ کر آباد ہوتے تھے اور یہاں کے فوائد سے اسی طرح انجوائے  کرتے تھے جیسے اب مسلمان مغربی دنیا میں جا کر  کرتے ہیں۔  اگر پوری مسلم تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں تین طرح کے حکمران نظر آتے ہیں:

·       نہایت ہی اعلی کردار کے حکمران۔ ان میں مثلاً عمر بن عبد العزیز، متوکل علی اللہ عباسی اور  صلاح الدین ایوبی  رحمہم اللہ نمایاں ہیں۔  ان کی تعداد نسبتاً کم ہے۔

·       نہایت ہی برے کردار  کے حکمران۔ ان کی تعداد بھی بہت کم ہے۔

·       درمیانی قسم کے حکمران جن میں اچھائیاں اور برائیاں پائی جاتی تھیں۔ زیادہ تر سلاطین اسی نوعیت کے ہیں۔

دنیا کی دیگر اقوام کی تاریخ سے اگر ہم اپنی تاریخ کا موازنہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلم تاریخ میں اگرچہ برائیاں موجود رہی ہیں تاہم خیر کا عنصر زیادہ غالب ہے۔ اس وجہ سے اس تاریخ پر ہمیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter