بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

باب 8: عہد صحابہ و تابعین سے متعلق عمومی سوالات

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 7MB)

اس کتاب  میں ’’اصول تاریخ (Historical Criticism)‘‘ کے اصولوں کے تحت عہد صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ بقیہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے پہلے باب 1 اور باب 2 کا مطالعہ ضرور ضرور کر لیجیے۔ 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

بنو امیہ کا بقیہ دور کیسا تھا؟

بنو امیہ کا بقیہ دور ملا جلا ہے۔ اس میں اچھے اور برے دونوں طرح کے حکمران گزرے ہیں۔ زیادہ تر حکمران وہ ہیں جو حکومت کی اہلیت رکھتے تھے تاہم ان میں کچھ خرابیاں بھی موجود تھیں۔ ولید بن عبدالملک بن مروان کا زمانہ فتوحات کا زمانہ ہے۔ اس میں سندھ، اسپین اور وسطی ایشیا کے علاقے فتح ہوئے۔ سلیمان بن عبد الملک کے زمانے میں کچھ کمزوریاں موجود ہیں۔ اس کے بعد حضرت عمر بن عبد العزیز بن مروان رحمہ اللہ کا مختصر دور ہے  جس میں انہوں نے خلافت راشدہ کی یاد تازہ کر دی۔ ان کے بعد یزید اور ہشام بن عبد الملک کے ادوار ہیں جن میں اچھی بری دونوں خصوصیات پائی جاتی ہیں۔  ان کے ادوار میں حکومتی سطح پر کچھ خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں  تاہم ایسا نہیں تھا کہ آوے کا آوا ہی بگڑ گیا ہو۔ ہشام کے بعد بنو عباس کی تحریک اٹھی جس نے بنو امیہ کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ عباسی خلفاء بھی امویوں کی طرح ہی تھے۔ ان میں بھی اچھے برے ہر طرح کے ادوار گزرے ہیں۔ ایک طرف ہمیں ہادی، ہارون الرشید اور متوکل جیسے دیندار خلفاء نظر آتے ہیں اور دوسری طرف برے حکمران بھی انہی کا حصہ  ہیں۔

بعد میں باغی تحریک پر کیا گزری؟

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جو باغی تحریک اٹھی تھی اور زیر زمین موجود رہی تھی، اس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ اس کے دو حصے ہو گئے تھے: ایک حصہ خوارج تھے اور دوسرے عراق کے باغی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس تحریک کی ان دونوں شاخوں کو اچھی طرح کچل دیا تھا۔ اس کے بعد عبدالملک بن مروان کے زمانے میں خوارج نے پھر سر اٹھایا لیکن اموی گورنر مہلب بن ابی صفرہ نے ان کی قوت کو ایک بار پھر توڑ کر رکھ  دیا۔ اس کے بعد بھی انہوں نے  پھر  کئی مرتبہ سر اٹھانے کی کوشش کی لیکن مسلسل بغاوتوں کے نتیجے میں یہ کمزور ہو کر ختم ہو گئے۔ 

ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں خوارج مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے جن میں ازارقہ، صفاریہ اور اباضیہ کو شہرت ملی۔ ان کے یہ نام اپنے اپنے لیڈروں کے ناموں پر تھے۔ ان میں سے اباضیہ نسبتاً اعتدال پسند تھے۔ یہ  عام مسلمانوں کو کافر قرار نہیں دیتے تھے  اور نہ ہی بغاوت کو فرض سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس خوارج کی دیگر پارٹیوں کا موقف یہ  تھا کہ ان کے علاوہ تمام مسلمان کافر ہیں اور ظالم حکمران کے خلاف بغاوت فرض ہے۔ یہ تمام گروہ پہلی اور دوسری صدی ہجری میں بار بار ’’خود کش بغاوتیں‘‘ کرتے رہے اور اس کے نتیجے میں مکمل طور پر ختم ہو گئے۔ اباضیہ اپنے اعتدال پسند موقف کے باعث باقی رہے اور اب تک موجود ہیں۔  دوسری صدی کے نصف آخر میں انہیں شمالی افریقہ میں اقتدار بھی مل گیا جو کہ آل رستم (160-296/776-909) کی حکومت کہلاتی ہے۔ اس کے بعد اگرچہ انہیں زوال آیا لیکن اب بھی یہ لیبیا اور الجیریا میں اقلیت اور عمان میں اکثریت میں موجود ہیں۔

باغی پارٹی کے کوفی گروپ کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اس کی بھی دو شاخیں ہو گئی تھیں۔ سلیمان بن صرد کی قیادت میں ایک شاخ نے "توابین" کے نام سے بغاوت کی جس میں ان کے اکثر لوگ مارے گئے۔ اس کے بعد یہ مختار ثقفی کی قیادت میں اکٹھے ہو گئے اور پھر ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی افواج نے ان کا قلع قمع کر دیا۔ اس کے بعد یہ نہایت سکون سے رہے تاہم انہوں نے اپنی کاوشوں کا رخ پراپیگنڈا کی طرف موڑ دیا۔ انہوں نے جنگ صفین ، سانحہ کربلا اور دیگر واقعات سے متعلق تاریخی روایات وضع کر کے مسلمانوں میں پھیلانا  شروع کر دیں تاکہ عام مسلمانوں کو باغی تحریک کا حصہ بنایا جا سکے۔ انہیں بہت زیادہ کامیابی حاصل نہ ہوئی اور مین اسٹریم مسلمان حکومت وقت کے ساتھ وابستہ رہے۔  چونکہ یہ لوگ حضرت علی اور حسین رضی اللہ عنہما کا نام استعمال کرتے تھے، اس وجہ سے بعض لوگ ان سے متاثر ہو جاتے تھے۔ تاہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاندان کی قیادت اب حضرت زین العابدین رحمہ اللہ کے پاس تھی جنہوں نے پانچ یا چھ خلفاء کا زمانہ پایا مگر کبھی علم بغاوت بلند نہ کیا بلکہ 95/714 میں اپنی وفات تک امت کی تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔

دوسری صدی ہجری کے دوسرے عشرے میں باغی تحریک کچھ تقویت اس وقت ملی جب حضرت زین العابدین کے بیٹے زید رحمہما  اللہ کو انہوں نے بغاوت پر آمادہ کر لیا لیکن عین موقع پر انہیں دھوکہ دے کر ان سے الگ ہو گئے۔ یہ بالکل وہی معاملہ تھا جو اس سے پہلے وہ حضرت زید کے پڑدادا، حضرت علی اور دادا حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ کر چکے تھے۔ طبری نے 122/740 کے باب ہشام کلبی اور ابو مخنف کے حوالے سے اس واقعے کو کچھ یوں بیان کیا ہے:

ذكر هشام عن أبي مخنف: جب زید کے ان طرف داروں کو، جنہوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، معلوم ہوا کہ زید کے ارادہ کا علم یوسف بن عمر (اس زمانے کے گورنر عراق) کو ہو گیا ہے اور اس نے زید کے پاس اپنے جاسوس لگا دیے ہیں اور وہ ان کے حال کی تفتیش کررہا ہے تو ان کے لیڈروں کی ایک جماعت زید کے پاس آئی اور ان سے پوچھا: "ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟"

زید نے جواب دیا: "اللہ ان پر اپنا رحم کرے اور ان کی مغفرت فرمائے۔ میں نے اپنے کسی خاندان والے  ان سے برأت کا اعلان کرتے نہیں سنا ہے اور نہ ہی کوئی شخص ان کے متعلق کبھی برے الفاظ استعمال کرتا ہے۔"

ان لوگوں نے کہا: "آپ اہل بیت کے خون کا بدلہ لینے کے لیے اسی لیے اٹھے ہیں کہ یہ دونوں (ابوبکر و عمر) آپ کی حکومت کے درمیان میں  حائل ہو گئے تھے اور اسے آپ لوگوں (اہل بیت) کے ہاتھوں سے نکال دیا۔"

زید نے کہا: "اس معاملے میں سخت سے سخت بات جو میں کہہ سکتا ہوں، وہ صرف یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کے زیادہ مستحق  ہم تھے مگر قوم (مسلمانوں) نے دوسروں کو ہم پر ترجیح دی اور ہمیں اس سے ہٹا دیا۔ مگر اس بنیاد پر وہ ہمارے نزدیک کفر کے درجہ تک نہیں پہنچے۔ یہ دونوں حضرات امیر المومنین ہوئے تو انہوں نے لوگوں میں انصاف کیا ، کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر عمل پیرا رہے۔"

ان لوگوں نے کہا: "جب ان دونوں حضرات نے آپ کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا تو پھر ان لوگوں (بنو امیہ) نے بھی نہیں کیا۔ پھر آپ ہمیں کیوں ان لوگوں سے لڑنے کا کہہ رہے ہیں جنہوں نے آپ پر ظلم نہیں کیا۔"

زید نے کہا: "یہ بات نہیں ہے۔ یہ لوگ ان جیسے نہیں ہیں ۔ یہ نہ صرف مجھ پر بلکہ آپ لوگوں بلکہ خود اپنے آپ پر بھی ظلم کرتے ہیں۔ میں آپ کو کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف بلاتا ہوں تاکہ احیاء سنت ہو اور بدعات مٹائی جائیں۔ اگر آپ لوگ میری دعوت کو قبول کر لیں تو خود آپ کو اس کا فائدہ پہنچے گا اور اگر انکار کر دیں تو میں آپ پر حکمران تو ہوں نہیں کہ آپ میری بات لازم طور پر مان لیں۔"

یہ سن کر یہ لوگ انہیں چھوڑ کر چلے آئے اور اپنی بیعت توڑ دی۔ کہنے لگے: "یہ امام سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں۔" یہ لوگ اس بات کے مدعی تھے کہ زید کے بھائی محمد بن علی (الباقر) اصل میں امام تھے۔ ان کے بیٹے جعفر بن محمد (الصادق) ابھی زندہ تھے۔ ان لوگوں نے کہا: "جعفر اپنے والد کے بعد ہمارے امام ہیں اور وہی امامت کے مستحق ہیں۔ ہم زید بن علی کا ساتھ نہیں دیتے ہیں کیونکہ وہ امام نہیں ہیں۔" اس بنا  پر زید نے ان کا نام رافضہ (انکار کرنے والے) رکھا مگر اب (طبری کے زمانے میں) یہ لوگ مدعی ہیں کہ جب ہم نے مغیرہ کا ساتھ چھوڑا تو انہوں نے ہمارا یہ نام رکھا۔[1]

اس کے بعد زید بن علی رحمہما اللہ نے بغاوت کر دی۔ ان کے ہاتھ پر ہزاروں لوگوں نے بیعت کی تھی لیکن محض 218 آدمی اکٹھے ہوئے اور اس جھڑپ میں زید شہید ہو گئے۔اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات حضرت زین العابدین رحمہ اللہ کی اولاد کے بزرگوں کو امام قرار دے کر ان کے نام سے اپنی تحریک چلا رہے تھے۔

اس کے بعد  حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اولاد کے کچھ لوگوں نے بنو امیہ کے خلاف تحریک اٹھائی۔ اس تحریک میں اس باغی  تحریک نے بنو عباس کا ساتھ دیا اور یہ کامیاب رہی۔ بنو امیہ کا تختہ الٹ کر بنو عباس کی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے اس باغی تحریک کے لیڈروں کو حکومت میں شریک نہ کیا۔ اس پر یہ بہت تلملائے اور انہوں نے تاریخی روایتوں میں بنو عباس کے خلاف بھی جی کھول کر پراپیگنڈا کیا۔ یہ مشہور کر دیا کہ بنو عباس اتنے سفاک تھے  کہ انہوں نے بنو امیہ کے باقی ماندہ لوگوں کو کھانے کے لیے بلایا اور پھر انہیں قتل کروا کر ان کی تڑپتی ہوئی لاشوں پر دستر خوان بچھا کر اس پر کھانا تناول کیا۔  یہ روایت نہ تو طبری میں موجو دہے اور نہ کسی اور معتبر کتاب میں۔ اگر اس روایت میں ذرا سی بھی حقیقت ہوتی تو بنو امیہ کے زمانے میں اسپین میں لکھی جانے والی کتابوں میں اس واقعے کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ بنو امیہ نے تو خود پر ہونے والے اس ظلم کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ بہرحال باغی تحریک کو بنو عباس کے دور عروج میں بھی کوئی کامیابی نصیب نہ ہوئی اور جس اقتدار کے لیے وہ کھڑے ہوئے تھے، وہ انہیں کم از کم تین سو برس تک نصیب نہ ہوا۔

ناصبی کن لوگوں کو کہا جاتا ہے؟

یہ کہا جاتا ہے کہ پہلی صدی میں ایک اور فرقہ بھی پیدا ہوا جنہیں ’’نواصب‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ خود کو ’’شیعان عثمان‘‘ یا ’’العثمانیون‘‘ کہا کرتے تھے اور بنو امیہ کے شدید حمایتی تھے۔  مشہور ادیب جاحظ (150-255/767-869)نے ان پر ایک کتاب’’العثمانیہ‘‘ کے نام سے لکھی ہے۔ ابن عساکر اور ابن کثیر نے بھی ان کا ذکر کیا ہے۔  اپنی ابتدا میں ان کا موقف صرف یہ تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا قصاص لیا جائے اور باغی تحریک کے سرغنوں کو کڑی سزا دی جائے۔ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا احترام کرتے تھے۔ ابن عساکر لکھتے ہیں:

یزید بن ہارون سے کہا گیا: ’’آپ حضرت عثمان کے فضائل تو بیان کرتے ہیں لیکن حضرت علی کے فضائل کیوں بیان نہیں کرتے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’حضرت عثمان کے ساتھی تو حضرت علی کے بارے میں کوئی منفی بات نہیں کرتے لیکن جو لوگ خود کو اصحاب علی کہتے ہیں، وہ حضرت عثمان کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں۔ [2]

بعد کے دورمیں ایسا لگتا ہے کہ یہ گروہ حضرت علی ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کے خلاف زبان درازی کرنے لگا۔  بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مروان بن حکم کی اولاد میں سے جو لوگ خلفاء ہوئے، انہوں نے جمعہ کے خطبوں میں حضرت علی کے خلاف سب و شتم کا آغاز کیا اور اس رسم بد کو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ختم کیا۔ لیکن ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ ایسا کرنا، خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا تھا۔ حضرت زین العابدین رحمہ اللہ کے سبھی خلفاء کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات رہے کیونکہ انہوں نے واقعہ حرہ کے موقع پر مروان کے پورے خاندان کو بچایا تھا۔ کیا اس بات کا تصور کیا جا سکتا ہے کہ آپ اپنے والد اور دادا کو گالیاں دینے والوں  کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں گے؟ یہ بات البتہ ممکن ہے کہ بنو امیہ کے بعض حاشیہ برداروں ، خوشامد پسندوں اور شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفاداروں نے ایسی حرکت کی ہو۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ ناصبی فرقہ کی تاریخ سے متعلق کچھ تفصیلات مل جائیں لیکن یہ نہیں مل سکی ہیں۔  شہرستانی  (d. 578/1182)، جنہوں نے اپنے زمانے کے فرقوں کے تعارف اور تاریخ پر ایک عظیم کتاب ’’الملل والنهل‘‘ لکھی تھی، نے بھی اس کتاب میں ناصبیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ناصبی کوئی منظم فرقہ نہیں رہا بلکہ یہ محض ایک رجحان تھا  جو بعض لوگوں میں جاری رہا۔ جب بنو عباس نے بنو امیہ کے اقتدار کا خاتمہ کیا تو ان کے  حامیوں کو بھی قتل کیا۔ اس میں ناصبی فرقہ بھی مٹ کر رہ گیا۔  بعد کی صدیوں میں ان میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے تاہم یہ منظم نہیں ہو سکے۔ ابن کثیر نے اپنے زمانے (آٹھویں صدی ہجری) کے بعض لوگوں کا ذکر کیا  ہے جو سانحہ کربلا کی یاد میں دس محرم کو جشن منایا کرتے تھے۔ بہرحال امت میں ان لوگوں کو کبھی قبول عام حاصل نہیں ہوا اور انہیں نفرت کی نگاہ ہی سے دیکھا گیا ہے۔ اس وجہ سے یہ گروہ  کبھی کھل کر سامنے نہیں آ سکا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بعض لوگوں کا انفرادی رجحان ہے۔ موجودہ دور میں بھی بعض ایسے لوگ پائے جاتے ہیں مگر ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

اہل تشیع کے نزدیک ’’ناصبیت‘‘ کی تعریف کچھ مختلف ہے۔ اگر مثلاً انٹرنیٹ پر ناصبی، نواصب، ناصبیت  قسم کے الفاظ عربی اور اردو میں سرچ کیے جائیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک تمام اہل سنت ناصبی ہیں۔  ہر وہ شخص جو حضرت عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہما سے عقیدت رکھتا ہو، ان کے نزدیک ناصبی میں شمار ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ اہل تشیع کے معتدل لوگوں کا موقف اس سلسلے میں مختلف ہو تاہم ان کے متشدد لوگوں کا موقف یہی معلوم ہوتا ہے۔

خلاصہ باب

·       امت مسلمہ کی پہلی صدی کا زیادہ حصہ جنگوں میں نہیں، بلکہ حالت امن میں گزرا ہے۔یہ محض اخباریوں کا رجحان ہے کہ وہ جنگ کی خبروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

·       خلافت اگرچہ ملوکیت میں تبدیل ہو گئی تاہم یہ ملوکیت، مطلق آمریت (Absolute Dictatorship) نہیں تھی۔ بنو امیہ، بنو عباس اور بنو عثمان کے اکثر حکمرانوں نے اپنے اپنے زمانوں میں بڑی حد تک خلافت راشدہ  کے کردار کو زندہ رکھا۔

·       باغی تحریک کا خارجی گروپ جلد ہی ختم ہو گیا تاہم دوسرا گروپ باقی رہا اور بغاوتیں برپا کرتا رہا۔  اس مقصد کے لیے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاندان کے نام کو دل کھول کر استعمال کیا۔

·       ناصبی فرقہ، ایک رجحان کا نام ہے جو بعض لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بغض میں اختیار کر لیا تھا۔

اسائن منٹس

۱۔ ناصبی کن لوگوں کو کہا جاتا ہے؟ کیا یہ کوئی منظم فرقہ تھا اور ہے؟ اگر ہاں تو یہ کہاں پایا جاتا ہے؟

۲۔ بنو امیہ اور بنو عباس کے خلفاء کے کردار اور موجودہ دور کے آمروں کے کردار میں کیا فرق پائے جاتے ہیں؟

۳۔ اخباری اور صحافی، منفی خبروں کو زیادہ کوریج کیوں دیتے ہیں؟  علم صحافت (Journalism)کی روشنی میں جواب دیجیے۔

۴۔ مختار ثقفی کے بعد باغی تحریک کی دونوں شاخیں بے شمار چھوٹے چھوٹے گروپس میں تقسیم ہو گئیں۔ اس کے اسباب تلاش کیجیے۔

۵۔ اس کتاب  کے مطالعے سے ہم کیا نتائج اخذ کر سکتے ہیں؟

 

اگلا صفحہ                                    فہرست                                     پچھلا صفحہ

علوم اسلامیہ پروگرام کے کورسز

قرآنی عربی   /  مطالعہ قرآن  /  مطالعہ حدیث /  مطالعہ تاریخ  /  تعمیر شخصیت   /  تقابلی مطالعہ   /  دعوۃ اسٹڈیز

مصنف کی دیگر تحریریں

سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

hit counter



[1]  طبری۔ 5/231

[2]  ابن عساکر۔ 39/503