بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ اول: تعارف

یونٹ 1: علوم الحدیث کا تعارف

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 3: حدیث کی چھان بین اور تدوین پر جدید ذہن کے سوالات(1)

حدیث کو پرکھنے کے اس طویل طریق کار پر کچھ سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

حدیث کی چھان بین کی ضرورت کیا ہے؟

ان میں سے پہلا سوال یہ ہے کہ اتنی چھان بین اور تفصیلی تحقیق کی ضرورت کیا ہے؟ ہمارے اہل علم اس معاملے میں اتنے زیادہ کنزرویٹو کیوں ہیں؟اس کا جواب یہ ہے کہ اس دنیا کی چیزوں کے بارے میں ہمارا عام رویہ کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ اگر ہم نے محض دو چار روپے کی کوئی چیز لینا ہوتی ہے تو ہم اس کے بارے میں زیادہ احتیاط نہیں کرتے۔ لیکن اگر ہمیں چند ہزار روپے کی چیز درکار ہو تو ہم خاصی احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہیں ، دکاندار کی حیثیت کو اچھی طرح دیکھتے ہیں، کئی دکانداروں سے قیمت معلوم کرتے ہیں ، چیز کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں اور پھر اس پر بھی گارنٹی وغیرہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر اس چیز کی قیمت کروڑوں روپے میں ہو تو پھر تو آخری درجے کی احتیاط سے کام لیا جاتا ہے ،ملکی و بین الاقوامی قوانین کے تحت باقاعدہ قانونی معاہدے بھی کئے جاتے ہیں جس میں ہر پہلو کو تفصیل سے دیکھا جاتا ہے۔

††††††††† رسول اللہصلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے کسی بات کو منسوب کرنا ان سب چیزوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کسی حدیث کو آپ سے غلط طور پر منسوب کرنے کے سنگین نتائج دنیا و آخرت میں نکل سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے دین کے نام پر بہت سی گمراہیاں پھیلائی گئی ہیں۔ بہت سے ایسے گمراہ کن فرقے پیدا ہوئے ہیں جوقرآن اور سنت متواترہ کے قلعے میں تو کوئی نقب نہیں لگا سکے لیکن جعلی احادیث کے ذریعے انہوں نے بڑے اطمینان سے اپنے عقائد و نظریات کو زبردستی دین میں داخل کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے جلیل القدر اہل علم نے اس سلسلے میں انتہا درجے کی احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے۔

حدیث کی چھان بین کا طریقہ مشکل اور طویل کیوں ہے؟

دوسرا سوال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ اتنا طویل اور مشکل پروسس ہر شخص تو نہیں اپنا سکتا۔ ایک عام آدمی اس سلسلے میں کیا کرے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ امت کے جلیل القدر اہل علم احادیث کی چھان پھٹک (Evaluation) کا یہ کام پہلے ہی کر چکے ہیں۔ یہ اتنا فنی کام ہے کہ اسے اس کے ماہرین ہی سرانجام دے سکتے ہیں۔ جس طرح کسی بھی عام انسان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ میڈیکل سائنس کے ماہرین سے صرف نظر کرکے وہ خود ہی دوسروں کا علاج کرنا شروع کردے اسی طرح اس فن کے بارے میں بھی یہی اصول ہے کہ اس کے سلسلے میں ماہرین ہی پر اعتماد کیا جائے۔ کسی حدیث کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ان کے درمیان اختلاف کی صورت میں اسے قبول نہ کرنا احتیاط کے زیادہ قریب ہے۔

فن حدیث پیچیدہ کیوں ہے؟

ایک سوال یہ بھی پیدا ہوسکتا ہے کہ فن حدیث کو اتنا زیادہ پیچیدہ کیوں بنا دیا گیا ہے۔ کسی بھی فن سے ناواقف شخص کو اس کی اصطلاحات مشکل معلوم ہوتی ہیں۔ فزکس سے ناواقف شخص کے لئے ویو لینتھ اور فریکوئنسی نئی اصطلاحات ہوں گی، اسی طرح اکاؤنٹنگ سے نابلد شخص کے لئے ڈیبٹ اور کریڈٹ کا مفہوم ہی کچھ اور ہو گا۔ اس کتاب کا نام ہی "تیسیر مصطلح الحدیث" ہے جس کا معنی ہے مصطلح الحدیث کے علم کو آسان کرنا۔

††††††††† میں نے اس کتاب کے ترجمے میں بھی یہ کوشش کی ہے کہ قارئین تک فن حدیث کی اصطلاحات کو آسان اور جدید دور کی زبان میں پہنچا دیا جائے۔ امید ہے کہ اس کتاب کے مطالعے سے قارئین کے لئے یہ فن آسان ہو سکے گا۔

احادیث کو دیر سے کیوں مدون کیا گیا؟

حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے ہی سے لکھے جانے کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ چونکہ اس دور میں نہ تو پرنٹنگ پریس ایجاد ہو سکا تھا اور نہ ہی کاغذ اتنا عام نہ تھا اس وجہ سے کتابیں عام طور پر ذاتی ڈائری کی حیثیت سے لکھی جاتی تھیں۔ بعد کے دور میں احادیث کو باقاعدہ تحریری صورت میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا۔

††††††††† ہمارے پاس حدیث کی جو مستند کتابیں موجود ہیں ، انہیں حضورصلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی وفات کے تقریباً ڈیڑھ سو سے تین سو سال بعد کے عرصے میں لکھی گئیں۔ ان میں سب سے زیادہ قدیم موطا امام مالک ہے جو 120-179 ہجری کے درمیانی عرصے میں لکھی گئی ہے۔ اس سے پہلے بھی چند کتب کا تذکرہ ملتا ہے لیکن وہ موجودہ دور میں ناپید ہیں۔ حال ہی میں متعدد کتب کا سراغ مل گیا ہے اور کئی ایک شائع بھی ہو چکی ہیں جیسا کہ دور جدید کے جلیل القدر عالم ڈاکٹر حمید اللہ صاحب (م 2002ء) نے ہمام ابن منبہ رحمۃ اللہ علیہ، جو کہ ایک تابعی بزرگ تھے کے صحیفے کو شائع کیا ہے۔ اس صحیفے کی احادیث مسند احمد بن حنبل میں پہلے سے ہی موجود تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اصل صحیفے اور مسند احمد کی احادیث کا تقابلی جائزہ لیا گیا تو ان میں کوئی فرق نہیں پایا گیا۔

††††††††† تاریخ اور قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کتب کی احادیث بہرحال حدیث کی موجودہ کتب میں شامل ہوچکی ہیں۔ ہر علم و فن اپنے ارتقاء کے مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اپنے عروج کو پہنچتا ہے۔ اس کے ایجاد ہوتے ہی وہ فورا ہی مرتب و مدون نہیں ہو جاتا۔

††††††††† اس کام میں اتنی تاخیر کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پہلی صدی ہجری میں مسلمانوں کی زیادہ تر توجہ بیرونی فتوحات اور اندرونی بغاوتوں سے نمٹنے میں رہی۔ فتوحات کے نتیجے میں مسلمانوں کی حکومت اس وقت کی دنیا کے متمدن حصے کے تقریباً ستر فیصد علاقے پر قائم ہوگئی۔ اتنی بڑی سلطنت کا انتظام سنبھالنا اور مسائل کو حل کرنا ایک بہت مشکل کام تھا۔

††††††††† عرب چونکہ کسی سیاسی نظام کے عادی نہ تھے، اس لئے ان کے ہاں تفصیلی قانون سازی بھی نہ ہوسکی تھی۔ اس وقت یہ خطرہ لاحق ہو چکا تھا کہ اگر قرآن و سنت کی بنیاد پر ملک کے لئے کوئی قانون نہ بنایا گیا تو مجبوراً سلطنت روما کے قانون ہی کو اپنانا پڑ جائے گا۔ یہ بالکل ویسی ہی صورتحال تھی کہ آزادی ہند کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے پاس کوئی آئین موجود نہ تھا جس کی وجہ سے ان دونوں ممالک کو انگریزوں کا آئین 1935ء نافذ کرنا پڑ گیا تھا۔

††††††††† ان حالات میں امت کے ذہین ترین طبقے کے سامنے سب سے بڑ اچیلنج یہ تھا کہ مملکت اسلامیہ کے لئے قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کی جائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی پوری توجہ قانون اور فقہ کی تدوین پر مرکوز ہوگئی۔

††††††††† دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اس دور میں حدیث، فقہ اور دیگر فنون الگ بھی نہ ہوئے تھے چنانچہ اس دور کی کتب میں احادیث، اقوال صحابہ و تابعین، تفسیر، عدالتی فیصلے، ایمانیات و عقائد، زھد و تقویٰ، سیرت و تاریخ غرض ہر قسم کی روایات اور اقوال اکٹھے تھے۔

††††††††† دوسری اور تیسری صدی ہجری میں ان علوم و فنون کو الگ الگ کیا گیا جیسے حدیث و فقہ میں امام مالک کی موطا، سیرت میں ابن اسحاق کی کتاب، تفسیر میں سفیان ثوری کا مجموعہ، تاریخ میں ابن سعد اور ابن ابی خثیمہ کی کتب، فقہی مسائل میں امام محمد بن حسن، محمد بن ادریس شافعی اور اوزاعی کی کتب، ٹیکس کے نظام پر امام ابویوسف کی کتاب الخراج وغیرہ۔ اگر دقت نظر سے دیکھا جائے تو حدیث کی تدوین بھی ان علوم کے مقابلے میں زیادہ دیر سے وقوع پذیر نہ ہوئی تھی۔

††††††††† کسی بھی علم و فن کا ارتقاء اس کی ضرورت کی شدت سے پیدا ہوتا ہے۔ پہلی صدی کے اہل علم کے سامنے احادیث میں ملاوٹ کا کوئی بڑا چیلنج نہ تھا کیونکہ احادیث میں رسول اللہصلی اللہ علیہ و الہ و سلم تک دو یا تین راوی ہوا کرتے تھے جو بالعموم اتنے مشہور ہوتے تھے کہ ان کے بارے میں کسی تحقیق و تفتیش کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اگر اس دور میں احادیث کی تدوین کا کام بھی کر لیا جاتا تو یہ علم بہت حد تک سادہ رہتا اور تمام احادیث کو احسن انداز میں مدون کر لیا جاتا۔ احادیث گھڑنے کے فتنے کو زیادہ تر دوسری صدی میں عروج حاصل ہوا۔ چنانچہ دوسری صدی کے نصف آخر میں امت کے ذہین ترین افراد نے احادیث کی تدوین کی طرف توجہ دی اور ان کی تحقیق و تفتیش کرنے کو ہی اپنا بنیادی کام بنایا۔ تیسری صدی کے تقریباً نصف تک یہ کام بھی پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔

تہذیب و تمدن کے اعتبار سے ہر دور مختلف ہوتا ہے۔ اس کی کچھ مخصوص خصوصیات ہوا کرتی ہیں۔جیسے اس وقت ہم انفارمیشن ایج میں جی رہے ہیں۔ کتابوں کو بڑے پیمانے پر الیکٹرانک فارم میں لایا جا رہا ہے۔ 1990 سے پہلے کتابیں صرف کاغذی شکل ہی میں دستیاب ہوا کرتی تھیں۔ اس زمانے میں الیکٹرانک کتابوں کے نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کتابوں اور علم کا سرے سے وجود ہی نہ تھا۔بالکل یہی معاملہ پہلی اور دوسری صدی ہجری میں ہوا۔

††††††††† عرب میں کاغذ نایاب تھا۔ عربوں کو کسی بات کو لکھ کر رکھنے کی بجائے ذہن میں محفوظ رکھنے کی عادت تھی۔ بلکہ بعض لوگ تو لکھنے کو عیب سمجھتے تھے اور ایسے شخص پر ترس کھایا جاتا تھا کہ "بے چارے کی یادداشت اچھی نہیں ہے ، اس لئے اسے لکھنا پڑتا ہے۔"

††††††††† احادیث کی ریکارڈنگ کا کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور ہی میں ہو چکا تھا۔ بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم جو واقعات دیکھتے، اسے اپنے ذہنوں میں ریکارڈ کر لیا کرتے تھے۔ بعض صحابہ انہیں لکھ بھی لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد تابعین کا دور آیاتو انہوں نے صحابہ سے یہ احادیث سن کر حاصل کر لیں۔ بعض تابعین کو صحابہ سے تحریری صورت میں بھی احادیث ملیں۔ ذہنوں میں احادیث کے ریکارڈ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کام میں کوئی احتیاط نہ برتی گئی ہو گی۔ اگر احادیث کا بغور مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ضمن میں حتی الوسع پوری احتیاط سے کام لیا گیا۔ نہ صرف حدیث کا متن بلکہ اس کی پوری سند کو بھی ریکارڈ کر لیا جاتا۔ صحابہ و تابعین کے دور میں اکثر بڑے علماء عرب ہی تھے۔

††††††††† دوسری صدی ہجری میں ٹیکنالوجیکل اعتبار سے ایک بڑی تبدیلی آئی۔ مسلم دنیا میں کاغذ بنانے کے کارخانے لگے اور دوسرے ممالک سے بھی کاغذ امپورٹ کیا جانے لگا۔ دوسری طرف اہل عجم میں بڑے بڑے عالم پیدا ہونے لگے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس دور میں انہوں نے نہ صرف حدیث بلکہ تمام علومجیسے فقہ، تاریخ، تفسیر وغیرہ کو ذہنوں سے کاغذ پر منتقل کی طرف توجہ کی۔ اس زمانے میں حدیث کی اسناد بھی طویل ہوتی جا رہی تھیں، انہیں یاد رکھنا ایک مشکل کام تھا۔ اس سے بھی احادیث کو ریکارڈ کرنے کا داعیہ پیدا ہوا۔

††††††††† دلچسپ امر یہ ہے کہ اس زمانے سے پہلے تمام علوم میں اسناد کو ریکارڈ کیا جاتا تھا۔ تاریخ طبری، سیرت ابن ہشام، موطاء امام مالک، معانی الآثار وغیرہ سب میں ہمیں مکمل یا نامکمل اسناد کے ساتھہر بات ملتی ہے۔ اسماء الرجال کی کتابوں میںمختلف افراد کے حالات زندگی سے متعلق باتیں بھی سند کے ساتھ درج ہیں۔ نہ صرف دینی علوم بلکہ موسیقی جیسے فن کی کتاب "الاغانی" میں بھی سند کے ساتھہی واقعات درج ملتے ہیں۔

††††††††† اس تفصیل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ احادیث کی تدوین عہد رسالت سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ دوسری صدی ہجری میں بڑے پیمانے پر انہیں تحریر میں لانا محض ایک ٹیکنالوجیکل تبدیلی تھی نہ کہ احادیث کی حقیقی تدوین۔

بہت سی احادیث جعلی ہیں، تو پھر ذخیرہ حدیث کا کیا اعتبار؟

یہ بات درست ہے کہلوگوں نے مختلف مقاصد کے لئے احادیث وضع کیں۔جعلی احادیث کے وضع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام کی تمام احادیث ہی جعلی ہیں۔ محدثین نے روایت و درایت کے جو قوانین مرتب کیے ہیں، ان سے اصلی و جعلی احادیث میں امتیاز کیا جا سکتا ہے۔ اس کی پوری تفصیل اسی کتاب میں موجود ہے۔ اسے پڑھ لیجیے اور پھر فیصلہ کیجیے کہ محدثین نے اصلی و جعلی احادیث میں فرق کرنے کے لئے کس درجے میں محنت اور کاوش کی ہے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ احادیث کو قبول کرنے میں احتیاط کرتے تھے، اب یہ بے احتیاطی کیوں؟

بعض روایات میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے واقعات ملتے ہیں کہ ان کے سامنے جب کوئی حدیث پیش کی جاتی تو وہ اس پر گواہی طلب کرتے تھے۔ یہ ان کی غیر معمولی احتیاط تھی ۔جب انہیں یقین ہو جاتا تو پھر وہ حدیث پر ہی عمل کیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب باتوں کو قبول کرنے میں احتیاط ہی کرنی چاہیے۔ جب اس چھان بین کے نتیجے میں یہ معلوم ہو جائے کہ وہ بات واقعتاً نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی ہے تو پھر اسے مان لینا چاہیے اور اس پر اپنے عمل کی بنیاد رکھنی چاہیے۔

سوالات

                   کسی قوم کے علوم کے ارتقاء کے عمل کو مختصر طور پر بیان کیجیے۔

                   علوم حدیث کے تاریخی ارتقاء کے جو مراحل اوپر بیان ہوئے ہیں، انہیں نمبر وار نکات کی صورت میں بیان کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter