بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ اول: تعارف

یونٹ 1: علوم الحدیث کا تعارف

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 4: حدیث کی چھان بین اور تدوین پر جدید ذہن کے سوالات (2)

جرح و تعدیل کا فن بھی تو محض لوگوں کی آراء ہیں۔ اس پر انحصار کیسے؟

جرح و تعدیل کے ماہرین نے حدیث کے راویوں کو قابل اعتماد یا ناقابل اعتماد قرار دینے کا جو کام کیا ہے، وہ غیر معمولی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے محض اٹکل پچو سے کسی راوی کو ثقہ اور کسی کو غیر ثقہ قرار دے دیا ہو۔ اس کے لئے انہوں نے غیر معمولی محنت سے کام کیا ہے۔یہ ماہرین ان راویوں کے شہروں کا سفر کیا کرتے تھے اور وہاں کے لوگوں سے ان کے حالات اور عمومی شہرت کے بارے میں معلومات حاصل کیا کرتے تھے۔ انہوں نے ایسا اس وقت کیا جب نقل و حمل کے ذرائع بھیترقی یافتہ نہ تھے۔

جرح و تعدیل کے ماہرین کا خاص طریقہ یہ تھا کہ ہر ہر راوی کی عجیب و غریب باتوں کو نوٹ کیا کرتے تھے۔اسے ہم ایک مثال کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔فرض کیجیے کہ ایک صحابی سے بیس تابعین عموماً حدیث روایت کرتے ہیں۔ ان صحابی سے ایک حدیث روایت ہوئی ہے۔ جرح و تعدیل کا ماہر یہ دیکھے گا کہ اس حدیث کو ان بیس تابعین میں سے کس کس نے روایت کیا ہے اور ہر ایک کے الفاظ کیا ہیں۔ فرض کیجیے کہ اس حدیث کو بیس میں سے دس تابعین نے روایت کیا۔ان دس میں نو نے حدیث کو ایک جیسے الفاظ اور معانی کے ساتھ روایت کیا جبکہ ایک تابعی نے مختلف الفاظ سے روایت کیا۔ یہ الفاظ اتنے مختلف ہیں کہ اس سے حدیث کا مفہوم بدل جاتا ہے۔

انسانوں کے ہاں غلطی یا بھول چوک سے کبھی کبھار ایسا فرق واقع ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے مگر جرح و تعدیل کا ماہر اس راوی کے نام کے گرد ایک سرخ دائرہ لگا لے گا۔ اب وہ اس راوی کی روایت کردہ دیگر احادیث کا موازنہ اس کے ہم عصر دیگر تابعین کی روایات سے کرے گا۔ اگر اکثر حدیث میں ہی ایسا فرق پایا جاتا ہو تو پھر اس کا مطلب ہے کہ اس راوی کے ہاں کوئی گڑبڑ ہے۔ اس صورت میں اس راوی سے متعلق شک مزید پختہ ہو جائے گا۔اس کے بعد اس راوی کے حالات کی مزید تفتیش کی جائے گی۔

††††††††† فرض کیجیے کہ مزید تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ اس راوی کے پندرہ شاگرد ہیں۔ ان میں سے تیرہ تو اس راوی سے جو احادیث روایت کرتے ہیں، وہ دوسرے ثقہ راویوں کی بیان کردہ احادیث سے مطابقت رکھتی ہیں مگر دو شاگرد ایسے ہیں جن کی بیان کردہ احادیث میں گڑبڑ ہوتی ہے۔ اب تفتیش کے دائرے میں ان دو شاگردوں کو شامل کر لیا جائے گا۔ اس طرح سے یہ سلسلہ ان شاگردوں کے شاگردوں تک جا پہنچے گا اور یہ واضح ہوتا چلا جائے گا کہ غلطی یا فراڈ کا منبع کون ہے؟ اس تفتیش سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ کوئی راوی محض غلطیاں ہی کرتا ہے یا پھر وہ جان بوجھ کر احادیث میں ملاوٹ کرتا ہے؟

††††††††† جو حضرات اس موضوع میں دلچسپی رکھتے ہوں، وہ امام مسلم کی "کتاب التمییز" کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جرح و تعدیل کے ماہرین نے ایسے ہی راویوں کو ثقہ یا ضعیف قرار نہیں دیا بلکہ اس کے پیچھے ایک ٹھوس علمی اور عقلی کام موجود ہے۔

کہیں ہم صحیح احادیث کو رد تو نہیں کر رہے؟

ایک اور سوال یہ ہے کہ اتنے سخت معیار (Criteria) کے نتیجے میں جہاں ہم جعلی احادیث کو اصلی احادیث سے الگ کر رہے ہیں وہاں یہ بھی عین ممکن ہے کہ کچھ اصلی احادیث بھی ہمارے معیار کی سختی کی وجہ سے مسترد کر دی جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا بالکل ممکن ہے اور ایسی صورتحال سے کسی صورت میں بھی چھٹکارا ممکن نہیں ہے۔ بہت سی ایسی احادیث جنہیں ہمارے اہل علم کمزور اور ضعیف قرار دے چکے ہیں ، عین ممکن ہے کہ حقیقت میں بالکل اصلی اور صحیح احادیث ہوں۔ لیکن اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے غلط طور پر منسوب کرنے کا معاملہ اس سے سخت تر ہے کہ آپ کی کسی صحیح حدیث کو مسترد کر دیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی صورت میں اللہ تعالی کے سامنے ہمارے پاس کوئی عذر نہ ہو گا جبکہ دوسری صورت میں ہمارے پاس یہ عذر موجود ہو گا کہ حدیث ہم تک قابل اعتماد ذرائع سے نہیں پہنچی ہے۔

دین کو سمجھنے کے لئے حدیث کا کردار کیا ہے؟

             حدیث قرآن مجید کو سمجھنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ بہت سے لوگ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے قرآن کے بارے میں سوالات کیا کرتے تھے اور آپ ان کے جوابات ارشاد فرماتے تھے۔ ان میں سے آپ کے جتنے ارشادات ہمیں صحیح احادیث کی صورت میں میسر آ سکے ہیں، وہ ہمارے لئے غنیمت ہیں اور ہم ان سے قرآن اور سنت متواترہ کی تفصیلی جزئیات (Minute Details)†† کو سمجھنے میں مدد لے سکتے ہیں۔

             رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے بھی اسی دین پر عمل فرمایا جو ہمارے لئے نازل کیا گیا۔ آپ کا یہی عمل ہمارے لئے اسوہ حسنہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ احادیث کی مدد سے ہم آپ کے اسوہ حسنہ تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

             حدیث حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی سیرت طیبہ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا سب سے پاکیزہ اور مستند ذریعہ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک ضعیف حدیث بھی عام تاریخی روایت سے زیادہ مستند ہوتی ہے کیونکہ عام تاریخی روایات میں راویوں کے نام اور حالات محفوظ کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا جبکہ احادیث میں لازماً ایسا ہوتا ہے، اگرچہ مسلمانوں کے محتاط مورخین نے تاریخ میں بھی سند و روایت کا اہتمام کیا ہے۔

             بہت سی احادیث میں حضور اکرمصلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی ذاتی عادات و خصائل کا ذکر ہے۔ اگرچہ یہ دین کے احکام تو نہیں لیکن اہل محبت کے لئے اپنے پیارے رسول کی ہر ہر ادا سے واقفیت بہم پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

             بہت سی احادیث مختلف مواقع پر، دینی معاملات سے ہٹ کر ، حضورصلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے ارشادات و افعال کا تذکرہ ہے۔ ظاہر ہے حضورصلی اللہ علیہ و الہ و سلم ہمہ وقت دین ہی بیان نہ فرما رہے ہوتے تھے۔ ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ اپنے ازدواجی، معاشی اور معاشرتی معاملات بھی دیکھا کرتے تھے۔ کبھی کسی سے مزاح فرماتے، کہیں کسی سے اظہار تعزیت فرماتے، کبھی کوئی چیز خریدتے، کبھی قرض لیتے اور کبھی اسے ادا کرتے۔ ایسی احادیث میں ضروری نہیں کہ دین کا کوئی حکم ہی بیان ہوا ہو، لیکن دنیاوی معاملات میں آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا اسوہ حسنہ ضرور مل جاتا ہے۔ اہل محبت کے لئے یہ بھی ایک عظیم خزانہ ہے۔

             احادیث کا ایک بڑا حصہ حکمت و موعظت پر مبنی ارشادات، تزکیہ نفس ، عبادات کے فضائل، آخرت اور جنت و جہنم کی تفصیلات، مستقبل میں پیش آنے والے فتنوں اور اسی طرح کے معاملات سے متعلق ہے۔ یہ سب احادیث بھی ہمارے لئے حکمت و دانش اور معلومات کا قیمتی ذخیرہ ہیں۔ نصیحت حاصل کرنے اور برائیوں سے بچ کر اپنا تزکیہ نفس کرنے کے لئے یہ احادیث بہت مفید ہیں ۔

بعد کی صدیوں میں حدیث پر زیادہ کام کیوں نہیں کیا گیا؟

ایک سوال ہی بھی کیا جاتا ہے کہ بعد کی صدیوں میں حدیث پر زیادہ کام کیوں نہیں کیا جاسکا اور معاملہ صرف پڑھنے پڑھانے تک ہی محدود رہا۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ محدثین کی طرف سے ایک عظیم کام کی تکمیل کے بعد اس میں کسی اضافے کی ضرورت ہی نہ رہی تھی۔ فن رجال کے ائمہ نے، راویوں کے حالات بھی جہاں تک میسر آسکے ، تحریر کر دیے۔ محدثین کے گروہ نے مشہور کتب میں شامل احادیث کے بارے میں قبولیت اور عدم قبولیت کے فیصلے بھی کردیے۔

††††††††† اس کے بعد یہی کام باقی رہ جاتا تھا کہ ان احادیث کو دین کو سمجھنے میں استعمال کیا جائے اور اس کی بنیاد پر قانون سازی کی جائے۔ یہ کام بہت پہلے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دور ہی سے شروع ہوچکا تھا اگرچہ اس کا بڑا حصہ دوسری صدی کے وسط تک مکمل ہو گیا لیکن اس پر مزید کام ہوتا رہا اور یہ سلسلہ چوتھی صدی تک چلتا رہا۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ سلسلہ چلتا رہتا کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ پیش آنے والے نئے مسائل کے بارے میں اجتہاد کی ضرورت تو قیامت تک پیش آتی رہے گی۔

††††††††† بعض فتنوں کے باعث چوتھی صدی کے اہل علم نے یہ اعلان کیا کہ اسلاف علم و تحقیق کا جو کام کرگئے ، وہ کافی ہے اور اب کسی اور اجتہاد کی ضرورت نہیں۔ ان کے اس اعلان کو مستقل طور پر سمجھ لیا گیا اور امت بحیثیت مجموعی علمی جمود کا شکار ہوگئی۔ المیہ یہ ہوا کہ یہ علمی جمود صرف علوم دینیہ تک ہی محدود نہ رہا بلکہ مسلمانوں کی سائنس اور ٹیکنالوجی بھی اس کا شکار ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ایک ہزار سال تک امت مسلمہ میں ہر علم و فن میں ایسے بلند پایہ عالم بہت کم پیدا ہوئے جیسا کہ پہلی چار صدیوں میں ہوا کرتے تھے۔

††††††††† دوسری طرف اہل یورپ نے اجتہادی فکر کو بیدار کرکے سائنس و ٹیکنالوجی میں بے پناہ ترقی کی اور ہم پر چڑھ دوڑے۔ موجودہ دور میں اہل مغرب کے علمی و سیاسی چیلنج نے مسلم علماء کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ قرآن و سنت کی بنیاد پر از سر نو اپنے فقہی و قانونی ذخیرے کا جائزہ لیں اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق قانون سازی کریں۔ دینی و دنیاوی علوم میں تحقیق کا رجحان تقریباً پورے عالم اسلام میں جنم لے چکا ہے اور امت کا یہ علمی قافلہ آہستہ آہستہ علمی دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی طرف چل پڑا ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ انشاء اللہ پندرہویں صدی ہجری اور اکیسویں صدی عیسوی کے آخر تک امت مسلمہ علمی دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام بہت حد تک حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

سوالات

       مسلمانوں کی موجودہ علمی حالت پر تبصرہ کیجیے۔ ہمیں اپنے اندر علمی ذہن پیدا کرنے کے لئے کیا کرنا ضروری ہے۔

       حدیث کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟ کم از کم تین وجوہات بیان کیجیے۔

 

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter