بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ اول: تعارف

یونٹ 1: علوم الحدیث کا تعارف

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 7: علم المصطلح کی بنیادی تعریفات(1)

اس سبق میں ہم "تیسیر مصطلح الحدیث" میں بیان کردہ بنیادی تعریفات کے علاوہ کچھ اضافی تعریفات بھی پیش کر رہے ہیں جو مصنف نے اصل کتاب میں درج نہیں کی ہیں۔

علم المصطلح

وہ علم جس کے اصولوں اور قواعد و ضوابط کی بنیاد پر کسی حدیث کو قبول یا مسترد کرنے کے لئے اس کی سند اور متن کو جانچا اور پرکھا جاتا ہے۔

علم المصطلح کا موضوع

اس کا موضوع (حدیث کی) سند اور متن کا تجزیہ کرنا ہے تاکہ حدیث کو قبول یا مسترد کیا جا سکے۔

علم المصطلح کا مقصد

علم المصطلح کا مقصد صحیح اور کمزور احادیث کی پہچان کرنا ہے۔

حدیث

حدیث کا لغوی مفہوم "نئی بات" ہے۔ اس کی جمع "احادیث" ہے۔ اصطلاحی مفہوم میں حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کسی قول، آپ کے کسی فعل، آپ کی عطا کردہ اجازت یا کسی کیفیت کو بیان کرنے کا نام حدیث ہے۔

روایت

حدیث کی روایت کا مطلب ہے کہ کوئی شخص، کسی اور سے حدیث سنے اور پھر اسے آگے دوسرے افراد کو منتقل کر دے۔ روایت زبانی بھی ہو سکتی ہے اور تحریری بھی۔

خبر

اس کا لغوی مفہوم تو کسی واقعے کو بیان کرنا ہے۔ اصطلاحی طور پر اس سے تین مفاہیم مراد لئے گئے ہیں۔

·       "خبر" اور "حدیث" ہم معنی لفظ ہیں۔

·       "حدیث" وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب ہو اور "خبر" وہ ہے جو کسی اور سے منسوب ہو۔

·       "خبر"، "حدیث" کی نسبت زیادہ عمومی نوعیت کی چیز ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے علاوہ دیگر لوگوں کی خبریں بھی شامل ہیں۔ (یعنی ہر حدیث خبر ہے لیکن ہر خبر حدیث نہیں ہے۔)

اثر

اس کا لغوی مفہوم تو باقی بچ جانے والی چیز ہے۔ اصطلاحی مفاہیم میں دو آراء پائی جاتی ہیں:

یہ حدیث کا مترادف ہے۔

وہ خبریں جو صحابہ و تابعین سے منسوب ہوں۔

اسناد

اس کے بھی دو معنی ہیں:

حدیث کی کڑیوں کو شمار کرنا

کسی حدیث کے متن کو آگے پہنچانے والے افراد کی زنجیر۔ یہ مفہوم "سند" کے مترادف ہے۔

سند

اس کا لغوی مفہوم ہے "قابل اعتماد ہونا"۔ سند کے ذریعے کسی حدیث کا مستند ہونا معلوم کیا جاتا ہے اور اس پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ اصطلاح میں یہ کسی حدیث کے متن کو آگے پہنچانے والے افراد کی زنجیر کا نام ہے۔

متن

اس کا لغوی معنی ہے "سخت اور زمین سے اٹھا ہوا" اور اصطلاحی مفہوم میں یہ حدیث کا وہ حصہ ہوتا ہے جس پر آ کر سند ختم ہو جاتی ہے۔ (یعنی اصل بات جو حدیث میں بیان کی گئی ہوتی ہے۔)

علم حدیث میں کسی بھی حدیث کے دو حصے مانے جاتے ہیں: ایک حصہ اس کی سند اور دوسرا متن۔ ’’سند‘‘سے مراد وہ حصہ ہوتا ہے جس میں حدیث کی کتاب کو ترتیب دینے والے امامِ حدیث  (Compiler)   سے لے کر حضور  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم تک کے تمام راویوں (حدیث بیان کرنے والے) کی مکمل یا نامکمل زنجیر (Chain of Narrators)   کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں۔ ’’متن‘‘ حدیث کا اصل حصہ ہوتا ہے جس میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا کوئی ارشاد، آپ کا کوئی عمل یا آپ سے متعلق کوئی حالات بیان کئے گئے ہوتے ہیں۔اس بات کو سمجھنے کے لئے ہم ایک مثال سے وضاحت کرتے ہیں:

          فرض کیجئے حدیث کی کسی کتاب میں ہمیں یہ حدیث لکھی ہوئی ملتی ہے: سفیان بن عینیہ، زید بن علاقہ کے ذریعے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا، "ہم نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اس بات پر بیعت کی کہ ہم ہر مسلمان کے خیر خواہ ہوں گے۔"

اس حدیث میں بولڈ اور سرخ حروف میں لکھا گیا حصہ " سفیان بن عینیہ، زید بن علاقہ کے ذریعے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے" حدیث کی سند کہلاتا ہے اور انڈر لائن حروف میں لکھا گیا حصہ "ہم نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اس بات پر بیعت کی کہ ہم ہر مسلمان کے خیر خواہ ہوں گے۔" حدیث کا متن کہلاتا ہے۔

          حدیث کی ایک سند، اس کا ایک "طریق" کہلاتی ہے۔ اس کی جمع "طُرُق" ہے۔ بہت سی احادیث ہمیں متعدد طرق سے حاصل ہوتی ہیں۔

مُسنَد (نون پر زبر کے ساتھ)

لغوی مفہوم میں اس چیز کو مسند کہتے ہیں جس کی طرف کوئی چیز یا بات منسوب کی گئی ہو۔ اس کے اصطلاحی مفاہیم تین ہیں۔

احادیث کی وہ کتاب جس میں احادیث کو روایت کرنے والے صحابہ کی ترتیب سے اکٹھا کیا گیا ہو۔

وہ حدیث جس کی سند ملی ہوئی ہو۔

یہ سند کا مترادف بھی ہے۔

مُسنِد (نون پر زیر کے ساتھ)

وہ شخص جو اپنی سند کے ساتھ حدیث روایت کرتا ہو، 'مُسنِد' کہلاتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسے خود اس حدیث کا علم ہے یا وہ کسی اور شخص سے روایت کر رہا ہے۔

مُحدِّث

وہ شخص جو علم حدیث کی روایت اور درایت کا ماہر ہو۔ وہ کثیر تعداد میں روایات اور ان کے بیان کرنے والے راویوں کے بارے میں علم رکھتا ہو۔

نوٹ: حدیث کو پرکھنے کے معیار دو طرح کے ہیں۔ پہلی قسم کا معیار "روایت" کہلاتا ہے جس میں حدیث کی سند میں موجود راویوں کے بارے میں تحقیق کی جاتی ہے کہ وہ قابل اعتماد ہیں یا نہیں۔ دوسری قسم کا معیار "درایت" کہلاتا ہے جس میں حدیث کے متن کا قرآن مجید اور دیگر احادیث کی روشنی میں تجزیہ کر کے دیکھا جاتا ہے کہ کیا یہ بات واقعتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمائی ہو گی؟ کیا یہ حدیث قرآن اور دیگر صحیح احادیث سے مطابقت رکھتی ہے؟

سوالات

·       "مسنَد" اور "مسنِد" میں کیا فرق ہے؟

·       سند اور متن میں فرق بیان کیجیے۔ ان میں سے ہر ایک کو پرکھنے کے طریقے کا نام کیا ہے؟

 

اگلا سبق                                             فہرست                                              پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

php hit counter