بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ اول: تعارف

یونٹ 1: علوم الحدیث کا تعارف

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 8: علم المصطلح کی بنیادی تعریفات(2)

حافظ

اکثر محدثین کے نزدیک "حافظ" اور "محدث" ہم معنی الفاظ ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ "حافظ" کا درجہ "محدث" سے بلند ہے کیونکہ اس کا علم اپنے طبقے کے دیگر افراد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔

حاکم

بعض اہل علم کی رائے کے مطابق حاکم ایسا محدث ہوتا ہے جو تمام احادیث کا علم حاصل کر لے سوائے اس کے کہ کوئی چھوٹی موٹی بات رہ جائے۔

راوی

راوی اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی سے سن کر حدیث کو آگے بیان کرتا ہے۔

شیخ

کوئی راوی جس استاذ سے حدیث کو حاصل کرتا ہے، اس استاذ کو شیخ کہا جاتا ہے۔ استاذ کے استاذ کو شیخ الشیخ کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بخاری کی یہ حدیث دیکھیے:

حدثنا قبيصة بن عقبة قال: حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر۔ تابعه شعبة عن الأعمش۔ (بخاری، حدیث 34)

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص میں یہ چار خصوصیات ہوں، وہ خالص منافق ہے اور جس میں کوئی ایک خصلت ہو، تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک کہ یہ اس میں موجود رہے: جب اس کے سپرد کوئی امانت کی جائے تو وہ خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اسے توڑ دے اور جب لڑائی جھگڑا کرے تو اس میں گالی گلوچ پر اتر آئے۔

اس حدیث کو امام بخاری نے اپنی مشہور زمانہ کتاب "الجامع الصحیح" میں نقل کیا ہے۔ امام بخاری کے شیخ قبیصہ بن عقبہ ہیں، قبیصہ کے شیخ سفیان ہیں، سفیان کے شیخ اعمش ہیں، اعمش کے شیخ عبداللہ بن مرۃ ہیں جن کے شیخ مشہور تابعی مسروق ہیں۔ مسروق اس حدیث کو صحابی رسول سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سن کر آگے بیان کر رہے ہیں۔

صحت و ضعف

قابل اعتماد حدیث کو صحیح کہا جاتا ہے جبکہ ناقابل اعتماد حدیث کو ضعیف کہا جاتا ہے۔ ان دونوں کی مزید اصطلاحی بحث آگے کتاب کے متن میں آ رہی ہے۔ حدیث کے صحیح ہونے کو اس کی "صحت" اور ضعیف ہونے کو اس کا "ضعف" کہا جاتا ہے۔ یہاں صحت سے مراد جسمانی صحت نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ہے صحیح ہونا۔

موضوع

اپنی طرف سے حدیث ایجاد کر کے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کرنے کو "وضع حدیث" کہا جاتا ہے۔ ایسی گھڑی ہوئی حدیث "موضوع حدیث" کہلاتی ہے۔ یہاں موضوع سے مراد 'ٹاپک' نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ہے وضع کی گئی حدیث۔

متصل اور منقطع روایت

متصل روایت اس روایت کو کہا جاتا ہے جس کا سلسلہ سند شروع سے لے کر آخر تک ملا ہوا ہو اور اس میں کوئی سند کی کوئی کڑی بھی غائب نہ ہو۔ منقطع ایسی روایت کو کہتے ہیں جس کی سند ایک یا ایک سے زائد مقام سے ٹوٹی ہوئی ہو یعنی سند کی کوئی کڑی غائب ہو۔

ضبط

ضبط کا معنی ہے حدیث کو محفوظ رکھنا۔ حدیث کو یادداشت کے سہارے محفوظ بھی رکھا جا سکتا ہے اور لکھ کر بھی۔ قدیم عرب غیر معمولی حافظے کے مالک ہو کرتے تھے۔ یہ لوگ سینکڑوں اشعار پر مشتمل قصیدوں کو ایک بار سن کر ہی ترتیب سے یاد کر لیا کرتے تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی یہ صلاحیت قرآن اور حدیث کو محفوظ رکھنے کے لئے استعمال ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سے افراد نے ذاتی ڈائریوں کی صورت میں بھی حدیث کو محفوظ کر رکھا تھا۔

تابعین اور تبع تابعین

تابعین، صحابہ کرام سے اگلی نسل کا نام ہے۔ یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے صحابہ کرام سے دین کی تربیت حاصل کی۔ تابعین کا دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی وفات (11ھ) کے بعد سے لے کر 150-160ھ کے لگ بھگ تک چلا ہے۔ تابعین کے بعد اگلی نسل کو تبع تابعین کا کہا جاتا ہے۔ ان کا دور آخری صحابی کی وفات (100ھ) کے بعد سے لے کر کم و بیش 250ھ تک چلا ہے۔

شرح

حدیث کی تشریح پر مبنی کتاب کو "شرح" کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ حدیث کے علاوہ دیگر علوم جیسے فقہ وغیرہ کی کسی کتاب کی تشریح پر مبنی کتاب کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی تشریح پر مبنی کتاب کے لئے ایک مخصوص نام "تفسیر" مقرر کیا گیا ہے۔

عربوں کے نام

قدیم عربوں کے ہاں طویل ناموں کا رواج رہا ہے۔ ان کے نام کے مختلف حصے ہوتے ہیں جن میں کنیت، اصل نام، والد کا نام، دادا کا نام، لقب، نسبت سب کچھ شامل ہے۔ مثال کے طور پر " ابوبکر احمد بن علی بن ثابت الخطیب البغدادی" کے نام میں 'ابوبکر' کنیت ہے، 'احمد' ان کا اپنا نام ہے، 'علی' ان کے والد کا نام ہے، 'ثابت' ان کے دادا کا نام ہے، 'خطیب' ان کا لقب ہے اور 'بغدادی' شہر بغداد کی طرف ان کی نسبت ہے۔ نسبت شہر کے علاوہ قبیلے، پیشے یا کسی اور چیز سے بھی ہو سکتی ہے۔

††††††††† طویل ناموں کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ مختلف افراد میں فرق کیا جا سکتا ہے۔ ایک ہی نام کے بہت سے افراد ہو سکتے ہیں لیکن اتنے طویل نام کا ایک ہی شخص ہونا تقریباً ناممکن ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ابن حجر نام کے دو علماء مشہور ہیں لیکن ان کی نسبت سے ان میں فرق کیا جا سکتا ہے، ایک ابن حجر عسقلانی اور دوسرے ابن حجر مکی۔

††††††††† طویل نام کو مختصر کر کے بولا جاتا ہے۔ ایک شخص اپنے نام کے کسی ایک حصے سے مشہور ہو جاتا ہے اور پھر اس کا تذکرہ نام کے اسی حصے سے کیا جانے لگتا ہے۔ مثلاً خطیب بغدادی اپنے لقب اور نسبت سے زیادہ مشہور ہیں۔

سن وفات

حدیث کی کتب میں اکثر اوقات مصنفین اور راویوں کا سن وفات بھی درج کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کتاب کی تصنیف کے وقت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ قدیم دور میں عام طور پر کتاب پر تاریخ تصنیف درج کرنے کا رواج نہ تھا۔ راویوں کا سن وفات بہت اہم ہے کیونکہ اسی سے ان کی روایت کے درست اور متصل ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

حدیث کے کتاب کے مصنف کی شرائط (Criteria)

احادیث کی کتب کے مصنفین اکثر کچھ شرائط متعین کر کے اپنی کتاب میں احادیث درج کیا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر امام بخاری علیہ الرحمۃ نے یہ شرط مقرر کی کہ میں اپنی کتاب میں صرف اور صرف صحیح احادیث اکٹھی کروں گا۔ اسی طرح امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ نے یہ شرط مقرر نہیں کی کہ ان کی کتاب میں صرف صحیح احادیث ہی اکٹھی کی جائیں گی لیکن ان کی شرط یہ تھی کہ وہ کسی بھی صحابی سے منقول ہر طرح کی روایت کو اکٹھا کر دیں گے۔ کسی بھی مصنف کی کتاب پر علمی تنقید کرنے کے لئے ان کی شرائط کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

تخریج

علوم حدیث کی اصطلاح کے مطابق حدیث کے ذخیرے میں سے کسی مخصوص حدیث کو تلاش کر کےاسے کتاب میں درج کرنے کے عمل کو تخریج کہا جاتا ہے۔ اس کے لئے عام طور پر یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے، "اخرجہ بخاری" یعنی "امام بخاری نے اس حدیث کی تخریج کرنے کے بعد اسے اپنی کتاب میں درج کیا۔"

شیخین اور صحیحین

علوم حدیث میں شیخین سے مراد امام بخاری اور امام مسلم ہوا کرتے ہیں۔ ان دونوں کی تصنیف کردہ کتابوں کو کتب حدیث میں اہم ترین مقام حاصل ہے۔ چونکہ ان دونوں کتابوں کے نام میں لفظ "الصحیح" ہے اس وجہ سے انہیں صحیحین کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہا جاتا ہے، "اس حدیث کو شیخین نے صحیحین میں درج کیا۔"

سوالات

       تخریج کی تعریف بیان کیجیے۔

       مصنف کے نام اور سن وفات کی اہمیت بیان کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter