بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 2: خبر کی اقسام

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 2: خبر متواتِر

متواتر کی تعریف

لغوی اعتبار سے "متواتر"، "تواتر" سے نکلا ہے اور اس کا اسم فاعل ہے۔ تواتر کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کا مسلسل اور لگاتار ہونا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے "متواتر بارش ہوتی رہی" یعنی کہ بارش مسلسل اور لگاتار ہو رہی ہے۔

††††††††† اصطلاحی مفہوم میں متواتر وہ حدیث ہو گی جس کے بیان کرنے والے اتنی کثیر تعداد میں ہیں کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا ناممکن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متواتر وہ حدیث ہوگی جس کی روایت ہر طبقہ کے افراد اتنی کثیر تعداد میں کر رہے ہوں کہ یہ بات عقلاً ناممکن ہو کہ انہوں نے کسی غلط یا جھوٹی بات پر اتفاق رائے کر لیا ہوگا۔ (طبقہ سے مراد ایک دور اور ایک نسل کے لوگ ہیں۔ ایک استاذ کے تمام شاگردوں کو ایک طبقہ کہا جاتا ہے۔)

متواتر کی شرائط

اس تعریف سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ کوئی خبر اس وقت تک متواتر نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس میں یہ چار شرائط نہ پائی جاتی ہوں۔

       اسے روایت کرنے والے کثیر تعداد میں ہوں۔ اس بات میں اختلاف رائے ہے کہ کم از کم کتنے افراد کو کثیر تعداد کہا جائے گا؟ اہل علم نے کم از کم "دس" افراد ہونے کو ترجیح دی ہے۔ (تدریب الراوی، ج 2، ص 177)

         (اب سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک) ہر نسل، طبقے اور ہر زمانے میں راویوں کی تعداد کثیر ہو۔

       ان افراد کا جھوٹی بات پر اکٹھا ہو جانا عقلاً ناممکن ہو۔ (یہ اس وقت ہی ہوگا جب یہ راوی مختلف شہر، جنس، مذہب وغیرہ سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس کے بغیر ہو سکتا ہے کہ راوی کثیر ہوں لیکن خبر متواتر نہ ہو یا پھر راوی کم ہوں لیکن خبر متواتر ہو جائے۔)

       اس خبر کو وہ ایک حسی مشاہدے کے طور پر بیان کریں یعنی یہ کہیں کہ "ہم نے یہ دیکھا ہے۔۔۔۔"، "ہم نے یہ سنا ہے ۔۔۔۔"، "ہم نے اسے چھوا ہے ۔۔۔۔"۔ اگر وہ محض اپنی عقل سے قیاس آرائی کر رہے ہوں گے جیسا کہ لوگوں نے دنیا کے آغاز (یا مختلف جانوروں کے ارتقاء) سے متعلق کی ہیں تو یہ خبر متواتر نہ ہو گی۔

نوٹ: ان شرائط کی وجہ یہ ہے کہ ایک نقطہ نظر کے ماننے والے باقاعدہ پلاننگ کر کے کسی بات کا پروپیگنڈہ کر سکتے ہیں لیکن اگر مختلف نقطہ ہائے نظر کے حاملین ایک ہی بات کر رہے ہوں تو پھر یہ امر محال ہو جائے گا۔

متواتر کا حکم

خبر متواتر سے قطعی اور یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔ یہ اتنا یقینی علم ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے انسان مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ اس خبر کی اسی طرح تصدیق کرے جیسا کہ وہ بذات خود اس کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اسے اس خبر کی تصدیق میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے۔ خبر متواتر ایسی ہی ہوتی ہے اور ہر خبر متواتر کو لازماً قبول کیا جاتا ہے۔ اس کے راویوں کی چھان بین کی ضرورت بھی نہیں ہوتی (کیونکہ وہ اتنے زیادہ اور متنوع اور مختلف (Diversified) ہیں کہ ان کا جھوٹ پر اکٹھے ہونا ناممکن ہے۔)

متواتر کی اقسام

خبر متواتر کی دو اقسام ہیں، لفظی اور معنوی۔

       متواتر لفظی وہ خبر ہوتی ہے جس کے الفاظ اور معانی دونوں ہی تواتر سے منتقل کئے گئے ہوں۔ اس کی مثال یہ حدیث ہے، "جس نے جان بوجھ کر مجھ (یعنی رسول اللہ) سے جھوٹی بات منسوب کی، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔" اسے ستر سے زائد صحابہ نے روایت کیا ہے۔

       متواتر معنوی وہ خبر ہوتی ہے جس کے الفاظ تواتر سے نہ منتقل نہ کئے گئے ہوں لیکن معنی تواتر سے منتقل کیا گیا ہو۔ اس کی مثال دعا میں ہاتھ اٹھانا ہے۔ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے سو سے زائد احادیث روایت کی گئی ہیں اور ان سب میں یہ ہے کہ آپ نے دعا کے وقت ہاتھ اٹھائے لیکن یہ بات مختلف الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔ کسی ایک جملے کو لفظاً تواتر حاصل نہیں ہے لیکن مختلف طرق (سند کے سلسلوں) کو اکٹھا کرنے سے معنوی تواتر حاصل ہو جاتا ہے۔ (تدریب الراوی، ج 2، ص 180)

متواتر کا وجود

اس میں کوئی شک نہیں کہ متواتر احادیث پائی جاتی ہیں جیسا کہ حوض، موزوں پر مسح کرنے، نماز میں ہاتھ اٹھانے، حدیث کو آگے پہنچانے، والی احادیث اور ان کے علاوہ دیگر۔ لیکن اگر ہم اخبار آحاد کی تعداد کو دیکھیں تو اس کے مقابلے میں متواتر احادیث کی تعداد بہرحال بہت کم ہے۔

متواتر سے متعلق مشہور تصانیف

اہل علم نے متواتر احادیث کو جمع کرنے کی کوششیں کی ہیں اور اس ضمن میں مستقل تصانیف کی ہیں تاکہ ایک طالب علم کے لئے ان کی طرف رجوع کرنا آسان ہو۔ ان میں یہ تصانیف شامل ہیں:

       الازھار المتناثرہ فی الاخبار المتواترہ: یہ جلال الدین سیوطی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب ابواب میں تقسیم شدہ ہے۔

       قطف الازھار: یہ بھی سیوطی کی کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے پہلی کتاب کی تلخیص کی ہے۔

       نظم المتناثر من الحدیث المتواتر: اس کے مصنف محمد بن جعفر الکتانی ہیں۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       متواتر لفظی اور معنوی میں فرق بیان کیجیے۔

       اوپر بیان کردہ کتب حدیث کو انٹرنیٹ پر تلاش کر کے اپنی الیکٹرانک لائبریری میں شامل کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

Description: php hit counter