بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 2: خبر کی اقسام

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 6: خبر غریب (اکیلے شخص کی خبر)

خبر غریب کی تعریف

لغوی اعتبار سے یہ صفت مشبہ ہے اور اس کا معنی ہے ایسا منفرد شخص جو اپنے اقربا سے بھی دور ہو۔ اصطلاحی مفہوم میں اس کا مطلب ہے ایسی روایت جو کسی ایک شخص کی ہو اور وہ اپنی روایت میں منفرد ہو۔ [عربی میں "غربت" کا معنی ہوتا ہے تنہائی۔ یہ اردو کے لفظ غربت سے مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔]

تعریف کی وضاحت

ایسی حدیث کو "غریب" کہا جاتا ہے جس کی روایت ہر دور میں ایک ہی شخص کر رہا ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چند ادوار یا صرف ایک ہی دور میں اس کی روایت ایک ہی شخص کر رہا ہو۔ اگر کسی دور میں ایک سے زائد افراد بھی اس کی روایت کر رہے ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ اس دور کا اعتبار کیا جائے گا جس میں اس کی روایت صرف ایک ہی شخص نے کی ہے۔

خبر غریب کا دوسرا نام

بہت سے اہل علم "خبر غریب" کا دوسرا نام "خبر الفرد" بھی بیان کرتے ہیں کیونکہ یہ دونوں مترادف الفاظ ہیں۔ بعض علماء ان دونوں کے درمیان فرق کرتے ہیں اور ان دونوں کو الگ الگ اقسام شمار کرتے ہیں لیکن حافظ ابن حجر عسقلانی (وفات 852ھ) انہیں لغوی اور اصطلاحی معنی میں ایک ہی مترادف قرار دیتے ہیں۔ ہاں وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ، "اہل اصطلاح نے کثرت استعمال اور قلت استعمال کی بنیاد پر ان دونوں قسم کی احادیث میں فرق کیا ہے، وہ لوگ "فرد"، "فرد مطلق" کو قرار دیتے ہیں جبکہ غریب سے اکثر اہل علم "فرد النسبی" مراد لیتے ہیں۔ (نزہت النظر ص 28)

خبر غریب کی اقسام

خبر غریب کی انفرادیت کی بنیاد پر دو اقسام ہیں: غریب مطلق اور غریب نسبی:

       "غریب مطلق" یا "فرد مطلق" ایسی حدیث کو کہا جاتا ہے جس کی سند کی ابتدا (یعنی صحابی) ہی میں انفرادیت پائی جاتی ہو (یعنی اسے ایک صحابی روایت کر رہا ہو۔) اس کی مثال یہ حدیث ہے "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔" یہ حدیث صرف سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ یہ انفرادیت سند کے آخر تک برقرار رہتی ہے کہ ہر دور میں اس حدیث کو روایت کرنے والا ایک شخص ہی ہوتا ہے۔ (بخاری ، مسلم)

       "غریب نسبی" یا "فرد نسبی" ایسی حدیث کو کہا جاتا ہے جس کو اصل میں زیادہ صحابہ نے روایت کیا ہو لیکن بعد میں اس کو روایت کرنے والا اکیلا رہ گیا ہو۔ اس کی مثال یہ حدیث ہے کہ "مالک، زہری سے اور وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر مبارک پر خود (Helmet) تھا۔" اس حدیث کی روایت میں امام مالک، زہری سے روایت کرنے میں اکیلے ہیں۔ اس قسم کی حدیث کو "غریب نسبی" اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس میں اکیلا پن کسی متعین شخص کی نسبت سے پیدا ہوتا ہے۔ (بخاری ، مسلم)

غریب نسبی کی ذیلی اقسام

غریب نسبی میں اکیلے پن کے اعتبار سے متعدد اقسام پائی جاتی ہیں۔ اس قسم کی حدیث میں اکیلا پن مطلق (یعنی صحابی کی وجہ سے نہیں ہے) بلکہ اس میں اکیلا پن بعد میں کسی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس کی اقسام یہ ہیں:

       ثقہ (قابل اعتماد) شخص کے اکیلا ہونے کے باعث حدیث کی انفرادیت: جیسے کہا جائے کہ "اس حدیث کو سوائے فلاں کے کسی اور ثقہ شخص نے روایت نہیں کیا۔"

       کسی متعین راوی کے دوسرے متعین راوی سے اکیلے روایت کرنے کے باعث حدیث کی انفرادیت: جیسا کہ کہا جائے "اس حدیث کو صرف فلاں ہی نے فلاں سے روایت کیا۔"

       کسی شہر یا ملک کی وجہ سے حدیث کی انفرادیت: جیسا کہ کہا جائے "اس حدیث کو صرف اہل مکہ نے یا صرف اہل شام ہی نے روایت کیا۔"

       کسی شہر یا ملک کے راویوں کے کسی دوسرے شہر یا ملک کے راویوں سے روایت کرنے کی وجہ سے حدیث کی انفرادیت: جیسا کہ کہا جائے کہ "اس حدیث کو صرف اہل بصرہ ہی اہل مدینہ سے روایت کرتے ہیں یا پھر صرف اہل شام ہی اہل حجاز سے روایت کرتے ہیں۔"

غریب احادیث کی دوسری تقسیم

حدیث کے سند یا متن کے اکیلے پن کے اعتبار سے غریب حدیث کی دو اقسام ہیں:

       متن اور سند دونوں کے اعتبار سے غریب حدیث: یہ وہ حدیث ہے جس کے متن کی روایت کرنے والا فرد صرف ایک ہے۔

       صرف سند کے اعتبار سے غریب حدیث: یہ وہ حدیث ہے جس کا متن تو کثیر صحابہ نے روایت کیا ہو البتہ اس کی سند ہر صحابی سے اکیلے اکیلے روایت کی گئی ہو۔ اسی کے بارے میں امام ترمذی کہتے ہیں کہ "یہ اس (یعنی سند کے) پہلو سے غریب حدیث ہے۔"

غریب احادیث کہاں پائی جاتی ہیں؟

ان کتب میں غریب احادیث کثرت سے پائی جاتی ہیں:

       مسند بزاز

       طبرانی کی معجم الاوسط

غریب احادیث سے متعلق مشہور تصانیف

غریب حدیث کے موضوع پر یہ کتابیں لکھی گئی ہیں:

       غرائب مالک از دارقطنی

       الأفراد از دارقطنی

       السنن التي تفرد بكل سنة منها أهل بلدة از ابو داؤد السجستانی

سوالات اور اسائنمنٹ

       عربی میں غریب کا معنی کیا ہے؟

       خبر غریب اور عزیز میں فرق بیان کیجیے۔

اوپر بیان کردہ کتب حدیث کو انٹرنیٹ پر تلاش کر کے اپنی الیکٹرانک لائبریری میں شامل کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter