بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 3: خبر مقبول

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 3: صحیح حدیث (2)

جو صحیح احادیث بخاری و مسلم میں درج ہونے سے رہ گئی ہیں، وہ کہاں پائی جاتی ہیں؟

ہم انہیں حدیث کی مشہور اور قابل اعتماد کتب میں دیکھ سکتے ہیں جیسا کہ صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم، سنن کی چار کتابیں (ابو داؤد، ابن ماجہ، نسائی اور ترمذی)، سنن دارقطنی اور بیہقی وغیرہ۔

          ان کتب میں حدیث کا محض پایا جانا اسے صحیح قرار دینے کے لئے کافی نہیں ہے۔ ان احادیث کے صحیح ہونے کی تحقیق کرنا ضروری ہو گا سوائے اس کے کہ کسی کتاب میں یہ شرط لگائی گئی ہو کہ اس کتاب میں صرف صحیح احادیث ہی درج کی جائیں گی جیسے صحیح ابن خزیمہ۔

مستدرک حاکم، صحیح ابن حبان اور صحیح ابن خزیمۃ

مستدرک حاکم، احادیث کی ضخیم ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس میں مولف نے ان احادیث کا ذکر کیا ہے جو کہ شیخین (بخاری و مسلم) دونوں یا کسی ایک کی شرائط کے مطابق ہوں لیکن انہوں نے اسے اپنی کتاب میں درج نہ کیا ہو۔ اس کے علاوہ انہوں نے ان احادیث کا ذکر بھی کیا ہے جو ان کے نزدیک صحیح ہیں کیونکہ ان کی سند صحیح ہے، اگرچہ وہ بخاری و مسلم میں سے کسی کی شرائط پر پوری نہ اترتی ہوں۔ انہوں نے بعض ایسی احادیث کا ذکر بھی کیا ہے جو صحیح نہیں ہیں لیکن انہوں نے اس کے متعلق بتا دیا ہے۔

          حاکم کسی حدیث کو صحیح قرار دینے میں بسا اوقات نرمی سے کام لیتے ہیں (یعنی غیر صحیح حدیث کو صحیح قرار دے بیٹھتے ہیں) اس وجہ سے یہ لازم ہے کہ ان کی بیان کردہ احادیث کا دوبارہ جائزہ لے کر ان پر حکم لگایا جائے۔ امام ذہبی نے ان کی بیان کردہ احادیث کا دوبارہ تجزیہ کر کے ان کا حکم بیان کیا ہے۔ ان کی کتاب کو اس مقصد کے لئے دیکھنا اشد ضروری ہے۔

          صحیح ابن حبان کو مصنف نے اپنی ایجاد کردہ ترتیب کے مطابق لکھا ہے۔ یہ کتاب موضوعات یا صحابہ کرام کے ناموں کے لحاظ سے مرتب نہیں کی گئی۔ اس وجہ سے اس کتاب میں سے احادیث کو اخذ کرنا ایک بہت مشکل کام ہے۔ ابو الحسن علی بن بلبان (م 739ھ) نے اسے موضوعات کی بنیاد پر ترتیب دیا ہے۔ ابن حبان کسی حدیث کو صحیح قرار دینے میں نرمی سے کام لیتے ہیں لیکن وہ حاکم کی نسبت کم نرم واقع ہوئے ہیں۔

          صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں ترتیب دی گئی ہے۔ اس کتاب میں صحیح قرار دی گئی احادیث کی اسناد پر چھوٹے موٹے اعتراضات کیے گئے ہیں۔ (تدریب الراوی ج 1 ص 109)

صحیح بخاری اور صحیح مسلم پر مستخرجات

مستخرج کا موضوع

مستخرج ایسی کتاب کو کہتے ہیں جس میں مصنف، حدیث کی کسی کتاب میں موجود احادیث کی مزید سندیں اپنے علم سے بیان کرتا ہے۔ یہ وہ سندیں ہوتی ہیں جو اصل کتاب میں بیان نہیں کی گئی ہوتیں۔ مستخرج کا مصنف ان سندوں کو اصل کتاب کے مصنف کے شیخ یا اس سے اوپر کے کسی راوی سے روایت کر رہا ہوتا ہے۔

صحیحین (بخاری و مسلم) پر کی گئی مستخرجات

·       ابو بکر اسماعیلی کی مستخرج علی البخاری

·       ابو عوانہ الاسفراینی کی مستخرج علی مسلم

·       ابو نعیم الاصبہانی کی بخاری و مسلم دونوں پر مستخرج

کیا مستخرجات کے مصنفین نے حدیث کے الفاظ میں صحیحین کی پیروی کا اہتمام کیا ہے؟

مستخرجات کے مصنفین نے الفاظ میں صحیحین کی مکمل پیروی کا اہتمام نہیں کیا ہے۔ انہوں نے وہ الفاظ بیان کیے ہیں جو ان کی شیوخ کے ذریعے ان تک پہنچے ہیں۔ اس وجہ سے بعض الفاظ میں تھوڑا بہت فرق پایا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح قدیم مصنفین جیسے بیہقی، بغوی وغیرہ نے اپنی مکمل تصانیف میں ایک حدیث بیان کرنے کے بعد یہ لکھا ہے، "اسے بخاری نے روایت کیا" یا "اسے مسلم نے روایت کیا"۔ ان کی روایت میں بخاری و مسلم سے الفاظ و معنی میں تھوڑا بہت فرق بھی واقع ہو جاتا ہے لیکن یہ جملہ لکھنے سے ان کی مراد ہوتی ہے کہ بخاری و مسلم کی روایت اصل ہے (اور یہ لوگ اس کی اضافی اسناد بیان کر رہے ہیں تاکہ حدیث کی مضبوطی میں اضافہ ہو سکے۔]

کیا یہ درست ہے کہ ہم مستخرج سے حدیث نقل کریں اور اس کی بنیاد پر اصل کتاب کی حدیث کو تقویت دینے کی کوشش کریں؟

جو کچھ اوپر بیان ہو چکا ہے اس کی روشنی میں کسی شخص کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ وہ مستخرجات سے کوئی حدیث نقل کرے اور یہ کہے کہ "اسے بخاری یا مسلم نے روایت کیا۔" اگر وہ ایسا کر رہا ہے تو پھر اسے ان دو میں سے ایک شرط کا پورا کرنا ضروری ہے:

·       وہ مستخرج کی حدیث کا بخاری و مسلم سے تقابل (Comparison) کرے۔

·       وہ یہ کہے کہ صاحب مستخرج نے اسے اپنے الفاظ میں روایت کیا۔

مستخرجات کا کیا فائدہ ہے؟

مستخرجات کے دس کے قریب فوائد ہیں۔ امام سیوطی نے انہیں اپنی کتاب "تدریب" میں بیان کیا ہے۔ ان میں سے اہم ترین یہ ہیں:

·       سند میں واسطوں کی کمی: مثال کے طور پر مستخرج کے مصنف نے امام بخاری کی سند کے مطابق روایت کی لیکن انہوں نے سند میں ایک درجہ بلند کرتے ہوئے کسی راوی کی بجائے اس (سے ایک درجہ بلند اس) کے شیخ سے روایت کر دی۔ (اس طرح سے سند میں واسطے کم کرتے ہوئے سند کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

·       حدیث کی قدر و قیمت میں اضافہ: مستخرج میں بعض اوقات حدیث کے اضافی الفاظ بیان ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بعض نامکمل احادیث مکمل ہو جاتی ہیں۔

·       کثیر سندوں کے باعث حدیث کی قوت میں اضافہ: اگر وہ حدیث، دوسری حدیث سے متضاد مفہوم رکھتی ہے تو کثرت سند کے باعث اسے ترجیح دی جا سکتی ہے۔

بخاری و مسلم کی کون سی روایات صحیح ہیں؟

یہ بات گزر چکی ہے کہ امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی کتب میں سوائے صحیح احادیث کے اور کچھ درج نہیں کیا۔ امت نے ان کی کتابوں کو قبول کیا ہے۔ بخاری و مسلم میں بھی وہ کون سی احادیث ہیں جن پر صحیح ہونے کا حکم لگایا گیا ہے اور امت نے انہیں قبول کیا ہے؟

          اس کا جواب یہ ہے کہ بخاری و مسلم میں جو روایات میں متصل سند کے ساتھ بیان کی گئی ہیں وہ سب کی سب صحیح ہیں۔ جن روایات میں اسناد یا ان کے راویوں کو حذف کر دیا گیا ہے، انہیں "معلقات" کا نام دیا گیا ہے۔ بخاری میں ایسی روایات کثیر تعداد میں موجود ہیں لیکن وہ یا تو ابواب کے عنوانات میں ہیں یا پھر ان کے مقدموں میں ہیں۔ ابواب میں بیان کردہ احادیث میں ایسی کوئی حدیث بہرحال موجود نہیں ہے۔ مسلم میں تیمم کے باب میں البتہ ایسی صرف ایک ہی حدیث ہے جو آخر تک متصل نہیں ہے۔

          اس قسم کی احادیث کا حکم یہ ہے کہ اگر انہیں معروف صیغے (Active Voice) میں بیان کیا گیا ہو جیسے آپ نے فرمایا، حکم دیا، تذکرہ کیا تو یہ حدیثیں صحیح ہوتی ہیں۔ اگر انہیں مجہول صیغے (Passive Voice) میں بیان کیا گیا ہو جیسے روایت کیا گیا، تذکرہ کیا گیا، حکایت کی گئی وغیرہ تو ان حدیثوں کو صحیح قرار نہیں دیا جاتا۔ کوئی کمزور حدیث محض اس بنیاد پر صحیح قرار نہیں دی جا سکتی کہ وہ "صحیح" نام کی کسی کتاب میں داخل ہے۔

صحیح حدیث کے مراتب و درجات

جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ بعض اہل علم ان سندوں کو بیان کرتے ہیں جو ان کے نزدیک صحیح ترین ہوتی ہیں۔ اس پر بنیاد رکھتے ہوئے اور حدیث کے صحیح ہونے کی باقی شرائط کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صحیح حدیث کے بھی مختلف درجات ہوتے ہیں:

·       سب سے اعلی مرتبے کی حدیث وہ ہوتی ہے جو صحیح ترین سند سے روایت کی گئی ہو۔ مثلاً مالک—نافع—ابن عمر۔

·       اس کے بعد اس حدیث کا درجہ ہوتا ہے جس کے راوی پہلے درجے کی حدیث کے راویوں کی نسبت کم درجے کے ہوں جیسے حماد—سلمہ—ثابت—انس۔

·       اس کے بعد اس حدیث کا درجہ ہوتا ہے جس کے راویوں میں ثقہ ہونے کی کم از کم خصوصیات موجود ہوں جیسے سہیل بن ابی صالح—ان کے والد—ابوہریرہ

نوٹ: یہاں راویوں کے درجے سے مراد علم حدیث میں ان کا درجہ ہے۔ جو راوی دوسرے کی نسبت بہتر شہرت کا مالک ہو اور حدیث کو محفوظ رکھنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہو، اس کا درجہ بلند سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہم انسانوں کے لحاظ سے ہے۔ یہاں اللہ تعالی کے حضور ان کا درجہ مراد نہیں ہے۔

ایک اور انداز میں صحیح احادیث کو سات درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

1.  جس حدیث پر بخاری و مسلم متفق ہو جائیں۔ (یہ سب سے اعلی درجہ ہے۔)

2.  جو حدیث صرف بخاری روایت کریں۔

3.  جو حدیث صرف مسلم روایت کریں۔

4.  جو حدیث بخاری اور مسلم دونوں کی شرائط کے مطابق صحیح ہو لیکن انہوں نے اسے اپنی کتاب میں درج نہ کیا ہو۔

5.  جو حدیث صرف بخاری کی شرائط کے مطابق صحیح ہو لیکن انہوں نے اسے اپنی کتاب میں درج نہ کیا ہو۔

6.  جو حدیث صرف مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہو لیکن انہوں نے اسے اپنی کتاب میں درج نہ کیا ہو۔

7.  جو حدیث بخاری و مسلم کے علاوہ دیگر ائمہ حدیث کے نزدیک صحیح ہو جیسا کہ ابن خزیمہ اور ابن حبان کی صحیح احادیث اگرچہ وہ بخاری و مسلم کی شرائط پر پورا نہیں اترتیں۔

شیخین (امام بخاری و امام مسلم) کی شرائط

شیخین نے صحیح احادیث سے متعلق اپنی شرائط کو متعین طور پر بیان تو نہیں کیا لیکن محقق اہل علم نے ان کے طریق کار کا مطالعہ کرتے ہوئے ان دونوں یا کسی ایک کی شرائط کو متعین کیا ہے۔ اس ضمن میں سب سے اچھی بات یہ کہی گئی ہے کہ شیخین یا ان میں سے کسی ایک کی شرائط سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک کتاب کے راویوں سے حدیث روایت کی گئی ہو اور اس میں اس طریق کار کا خیال رکھا گیا ہو جس کے مطابق شیخین روایات کو درج کرتے ہیں۔

"متفق علیہ" کا مطلب

جب علمائے حدیث "متفق علیہ" یعنی "اس پر اتفاق ہے" کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ امام بخاری و مسلم نے اس حدیث پر اتفاق کر لیا ہے نہ کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پوری امت نے اتفاق کر لیا ہے۔ ابن الصلاح نے ایک مختلف بات کہی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب بخاری و مسلم کسی حدیث پر اتفاق کر لیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس حدیث کو قبول کرنے پر پوری امت کا اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ (علوم الحدیث ص 24)

کیا صحیح حدیث کا عزیز ہونا ضروری ہے؟

صحیح حدیث کا عزیز ہونا ضروری نہیں ہے یعنی اس کی ایک سے زائد سند کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ صحیحین اور دیگر کتب میں کچھ ایسی احادیث بھی پائی جاتی ہیں جو صحیح ہونے کے ساتھ ساتھ غریب بھی ہیں (یعنی ان کی صرف ایک ہی سند موجود ہے۔) یہ بعض اہل علم جیسے ابو علی الجبائی معتزلی اور حاکم کا نقطہ نظر ہے (کہ صحیح حدیث کا عزیز ہونا ضروری ہے)۔ ان کا یہ نقطہ نظر امت کے اتفاق رائے کے خلاف ہے۔

سوالات اور اسائنمنٹ

·       مستدرک اور مستخرج میں فرق بیان کیجیے۔

·       بخاری و مسلم کی معلقات کیا ہیں؟ کیا یہ سب کی سب بھی صحیح احادیث ہیں؟

 

اگلا سبق                                               فہرست                                                پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

php hit counter