بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 3: خبر مقبول

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 4: حسن حدیث

حسن حدیث کی تعریف

حَسَن، حُسن سے صفت مشبہ ہے۔ اس کا لغوی مطلب ہے خوبصورتی۔ اہل علم کے ہاں حسن کی تعریف میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ صحیح اور ضعیف کی درمیانی قسم ہے۔ بعض نے اسے صحیح اور بعض نے ضعیف میں شمار کیا ہے۔ ہم اب کچھ تعریفات کا ذکر کریں گے اور اس میں سے جو سب سے بہتر ہو گی اسے بیان کریں گے:

·       خطابی کے نزدیک حسن وہ حدیث ہو گی جس کا منبع و مصدر جانا پہچانا ہو، جس کے راوی مشہور ہوں، جس پر اکثر احادیث کا مدار ہو، جو اکثر علماء کے نزدیک قابل قبول ہو اور جس سے عام فقہاء (مسائل اخذ کرنے کے لئے) استعمال کرتے ہوں۔ (معالم السنن ج 1 ص 11)

·       ترمذی کے نزدیک ہر وہ حدیث حسن کہلاتی ہے جس کے راویوں میں سے کسی پر جھوٹ بولنے کا الزام موجود نہ ہو، جو شاذ نہ ہو، اور اسے اسی طرح سے روایت کیا گیا ہو۔ (جامع ترمذی مع شرحہ تحفۃ الاحوذی، کتاب العلل ج 10 ص 519)

·       ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ جب خبر واحد اچھے کردار کے (عادل) راویوں نے روایت کی ہو، اسے محفوظ رکھنے کا اچھی طرح اہتمام کیا ہو، اس میں کوئی پوشیدہ خامی (علت) نہ ہو، اس میں صحیح احادیث کے خلاف کوئی بات (شذوذ) نہ پائی جاتی ہو تو یہ صحیح لذاتہ کہلاتی ہے اور اگر محفوظ رکھنے میں کچھ کمی ہو تو حسن لذاتہ کہلاتی ہے۔

ابن حجر کے نزدیک حسن وہ صحیح حدیث ہے جس کے محفوظ رکھنے میں کچھ کمی واقع ہو جائے۔ ہمارے نزدیک یہ تعریف سب سے بہتر ہے۔ خطابی کی تعریف پر متعدد اعتراضات کیے گئے ہیں جبکہ ترمذی نے حسن کی صرف ایک قسم "حسن لغیرہ" کی تعریف کی ہے جبکہ حسن کی اصلی تعریف "حسن لذاتہ" کی تعریف ہونی چاہیے۔ حسن لغیرہ تو ضعیف حدیث کی ایک قسم ہے جو متعدد اسناد کے باعث ترقی پا کر حسن میں شمار ہو جاتی ہے۔ ابن حجر کی تعریف کی بنیاد پر ہم حسن حدیث کی تعریف اس طرح سے کر سکتے ہیں کہ:

حسن وہ حدیث ہے

·       جس کی سند میں اتصال پایا جائے۔

·       جس کے راوی عادل یعنی اچھے کردار کے ہوں۔

·       حدیث کے راویوں میں اس کی حفاظت سے متعلق کچھ کمی پائی جائے۔

·       حدیث شاذ نہ ہو۔

·       حدیث میں کوئی پوشیدہ خامی (علت) نہ پائی جائے۔

حسن حدیث کا حکم

استدلال (مسائل اخذ کرنے) کے معاملے میں یہ صحیح حدیث کی طرح ہی ہے اگرچہ قوت میں یہ صحیح حدیث کی طرح نہیں ہے۔ فقہاء کی اکثریت نے اس سے مسائل اخذ کیے ہیں اور اس پر عمل کیا ہے۔ قلیل تعداد میں موجود بعض شدت پسندوں کے علاوہ محدثین اور اصول کے ماہرین کی اکثریت نے بھی اس سے مسائل اخذ کیے ہیں۔ بعض نرمی برتتنے والے علماء جیسے حاکم، ابن حبان اور ابن خزیمہ نے اس کا شمار صحیح میں کیا ہے۔ ان کی رائے میں صحیح کے علاوہ یہ سب سے زیادہ واضح احکام ہیں۔ (دیکھیے تدریب الراوی ج  1ص 160)

حسن حدیث کی مثالیں

جیسا کہ ترمذی نے روایت کی ہے: قتیبہ نے جعفر بن سلیمان الضبعی سے، انہوں نے ابن عمران الجونی سے، انہوں نے ابوبکر بن ابو موسی اشعری سے روایت کی ان کے والد رضی اللہ عنہ نے دشمن سے مقابلے کے وقت بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "جنت کے دروازے تلواروں کی چھاؤں میں ہیں۔" اس کے بارے میں ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی، ابواب فضائل جہاد)

          یہ حدیث اس وجہ سے حسن ہے کہ اس کے راویوں میں سے چار تو ثقہ ہیں اور ایک جعفر بن سلیمان حدیث کے معاملے میں حسن ہیں۔ اس وجہ سے یہ حدیث صحیح کے درجے سے کم ہو کر حسن کے درجے میں آ جاتی ہے۔ (حافظ ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں ابو احمد کے حوالے سے نقل کیا۔ 2/96)

حسن حدیث کے درجات

جس طرح صحیح حدیث کے مختلف درجات ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر بعض صحیح احادیث دوسرے صحیح احادیث سے اعلی درجے کی ہوتی ہیں، اسی طرح حسن کے بھی درجات ہوتے ہیں۔ امام ذہبی نے یہ درجات مقرر کیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

·       اعلی مرتبے کی حسن حدیثیں جیسا کہ بہز بن حکیم—ان کے والد—ان کے دادا، عمرو بن شعیب—ان کے والد—ان کے دادا، ابن اسحق—التیمی۔ اس طرح کی مثالوں کو صحیح حدیث کے ادنی ترین درجے میں بھی شمار کیا گیا ہے۔

·       وہ حسن احادیث جن کے حسن یا ضعیف ہونے میں اختلاف ہے۔ جیسا کہ حارث بن عبداللہ، عاصم بن ضمرہ، حجاج بن ارطاۃ وغیرہ کی احادیث۔

"صحیح الاسناد" اور "حسن الاسناد" حدیث کا معنی

بعض اوقات محدثین یہ کہنے کی بجائے کہ "یہ حدیث صحیح ہے"، یہ کہہ دیتے ہیں کہ "یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔" اسی طرح بسا اوقات وہ یہ کہنے کی بجائے کہ "یہ حدیث حسن ہے"، یہ کہہ دیتے ہیں کہ "یہ حدیث حسن الاسناد ہے۔" اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح یا حسن ہیں اور متن کی علت و شذوذ سے متعلق کوئی بات نہیں کہی گئی۔

          جب وہ یہ کہیں کہ "یہ حدیث صحیح ہے" تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس میں حدیث کے صحیح ہونے کی پانچوں شرائط پائی جاتی ہیں۔ اور جب یہ کہا جائے کہ "یہ حدیث صحیح الاسناد ہے" تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حدیث کے صحیح ہونے کی تین شرائط پوری ہیں یعنی اتصال سند، ضبط رواۃ اور عدالت رواۃ جبکہ دو شرائط نفی شذوذ اور نفی علت کا پورا ہونا ثابت نہیں ہے۔

امام ترمذی وغیرہ کے قول "یہ حدیث حسن صحیح ہے" کا معنی

امام ترمذی کی یہ عبارت بظاہر مشکل ہے کیونکہ حسن کا درجہ صحیح سے کم ہوتا ہے۔ درجے کے اس فرق کے باوجود ایک حدیث کے بارے میں یہ کہنا کہ حسن بھی ہے اور صحیح بھی، کیسے درست ہو سکتا ہے۔ اہل علم نے اس سوال کے متعدد جواب دیے ہیں جن میں سب سے بہترین ابن حجر کا ہے اور سیوطی نے بھی اسے ہی پسند کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے۔

·       جب حدیث کی ایک سے زائد اسناد مروی ہوں تو پھر اس بات کا اکثر اوقات معنی یہ ہوتا ہے کہ "ایک سند کے اعتبار سے یہ حدیث حسن ہے اور دوسری کے اعتبار سے صحیح۔"

·       اگر اس حدیث کی صرف ایک ہی سند ہو تو پھر اس کا مطلب ہوتا ہے کہ "ایک گروہ کے نزدیک یہ حدیث حسن ہے اور دوسرے کے نزدیک صحیح۔

امام ترمذی ایسے موقع پر حدیث کے بارے میں اختلاف رائے کا ذکر تو کر دیتے ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک کے حکم کو ترجیح نہیں دیتے۔

امام بغوی کی کتاب "مصابیح السنۃ" میں احادیث کی تقسیم

امام بغوی نے اپنی کتاب "مصابیح السنۃ" میں ایسی اصطلاحات استعمال کی ہیں جو صرف انہی کے ساتھ خاص ہیں۔ جب وہ صحیح بخاری و مسلم دونوں یا ان میں سے کسی ایک کتاب کی حدیث بیان کرتے ہیں تو اس کے لئے "صحیح" کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور جب وہ کوئی ایسی حدیث بیان کرتے ہیں جو سنن اربعہ (یعنی ترمذی، نسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ) میں پائی جاتی ہو تو اس کے لئے "حسن" کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

          یہ اصطلاحات محدثین کی عام اصطلاحات کے مطابق نہیں ہیں کیونکہ سنن اربعہ میں تو صحیح، حسن، ضعیف، منکر ہر طرح کی روایات پائی جاتی ہیں۔ ابن صلاح اور نووی نے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جب مصابیح کا مطالعہ کیا جائے تو امام بغوی کی خاص اصطلاحات "صحیح" اور "حسن" کو انہی کے نقطہ نظر کے تناظر میں دیکھا جائے۔

حسن حدیث کہاں پائی جاتی ہے؟

اہل علم نے صرف اور صرف حسن حدیث پر مشتمل کوئی خاص کتاب نہیں لکھی ہے۔ دوسری طرف ایسی کتب موجود ہیں جو صرف صحیح احادیث پر مشتمل ہیں۔ ایسی کتابیں کثیر تعداد میں موجود ہیں جن میں حسن احادیث بکثرت پائی جاتی ہیں۔ ان میں مشہور ترین یہ ہیں:

·       جامع ترمذی: یہ "سنن ترمذی" کے نام سے بھی مشہور ہے اور حسن احادیث کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ امام ترمذی اسی کتاب کے باعث مشہور ہوئے۔ اس کتاب کا کثرت سے ہر جگہ ذکر ہوتا ہے۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ ترمذی کے مختلف نسخوں میں کسی حدیث کو "حسن صحیح" قرار دیے جانے کے بارے میں کچھ فرق پایا جاتا ہے۔ حدیث کے طالب علم کو نسخے کا انتخاب کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے اور ہمیشہ قابل اعتماد اصولوں کے تحت تحقیق شدہ نسخے پر اعتماد کرنا چاہیے۔

·       سنن ابو داؤد: مصنف نے اس کتاب کا اہل مکہ کی طرف اپنے خط میں ذکر کیا ہے۔ اس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ اس کتاب میں صحیح اور اس کے قریب ترین احادیث شامل ہیں۔ لیکن اس کتاب میں کمزور ترین احادیث بھی پائی جاتی ہیں۔ جس حدیث کے بارے میں مصنف کے کچھ ذکر نہیں کیا، وہ صحیح ہوتی ہے۔ اسی پر بنیاد رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سنن ابو داؤد کی جس حدیث کا ضعیف ہونا واضح نہیں ہے اور نہ ہی اہل علم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، وہ حسن ہے۔

·       سنن دار قطنی: دار قطنی نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ ان کی کتاب میں کثیر تعداد میں حسن احادیث موجود ہیں۔

سوالات اور اسائنمنٹ

·       صحیح اور حسن حدیث کی شرائط میں فرق بیان کیجیے۔

·       اگر آپ عربی زبان سے واقف ہوں تو علامہ ناصر الدین البانی کا سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اسے استعمال کرنا سیکھیے۔

 

اگلا سبق                                               فہرست                                                پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

php hit counter