بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 3: خبر مقبول

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 5: صحیح لغیرہ

صحیح لغیرہ کی تعریف

یہ ایسی حسن لذاتہ حدیث ہے جو کسی اور سند سے روایت بھی کی گئی ہو۔ وہ سند پہلی سند جیسی یا اس سے زیادہ مضبوط سند ہو۔ اس کو صحیح لغیرہ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس کا صحیح ہونا اپنی وجہ سے نہیں بلکہ دوسری سند کے اس میں انضمام کی وجہ سے ہوتا ہے۔

صحیح لغیرہ کا درجہ

اس کا درجہ حسن لذاتہ سے بلند اور صحیح لذاتہ سے کم ہوتا ہے (یعنی یہ ان دونوں کے درمیان درجہ رکھتی ہے۔)

صحیح لغیرہ کی مثالیں

یہ حدیث کہ: محمد بن عمرو (بن علقمہ)، ابو سلمۃ سے اور وہ ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "اگر مجھے اپنی امت کی تنگی کا خیال نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔" (اس حدیث کو ترمذی نے کتاب الطہارت میں روایت کیا ہے۔ اس کے علاوہ شیخین نے اسے ابو الزناد--الاعرج--ابوہریرہ کے طریقے سے بھی روایت کیا ہے۔)

††††††††† ابن صلاح (اس حدیث کا تجزیہ کرتے ہوئے) کہتے ہیں، (اس حدیث کے ایک راوی) محمد بن عمرو بن علقمہ اپنی سچائی اور (حدیث کی) خدمت کے لئے مشہور ہیں لیکن وہ حدیث کی حفاظت میں زیادہ ماہر نہ تھے بلکہ کچھ کمزور تھے۔ ان کی سچائی اور علمی شان کی لوگوں نے تعریف کی ہے۔ اس وجہ سے ان کی یہ حدیث حسن کے درجے کی ہے۔ جب اس حدیث کی کوئی اور سند مل جائے گی تو اس کے نتیجے میں اس حدیث کی سند میں جو کمزوری واقع ہوئی ہے وہ دور ہو جائے گی۔ یہ کمی پوری ہونے کے نتیجے میں یہ حدیث ترقی پا کر "صحیح (لغیرہ)" کے درجے میں چلی جائے گی۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       صحیح لذاتہ اور صحیح لغیرہ میں فرق بیان کیجیے۔

       ان دونوں کا حکم کیا ہے؟

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter