بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 3: خبر مقبول

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 6: حسن لغیرہ

حسن لغیرہ کی تعریف

حسن لغیرہ ایسی حدیث ہے جس کی سند ضعیف ہو لیکن یہ متعدد طُرُق (اسناد) سے روایت کی گئی ہو۔ اس کے ضعیف ہونے کا سبب راوی کا فاسق یا جھوٹا ہونا نہ ہو۔ اس تعریف سے ہم یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ضعیف حدیث، حسن لغیرہ کے درجے تک دو امور کے باعث ترقی پا سکتی ہے:

       یہ کسی اور سند سے روایت کی گئی ہو اور دوسری سند، پہلی جیسی ہی یا اس سے زیادہ قوی ہو۔

       حدیث کے ضعیف ہونے کا سبب راوی کا کچا حافظہ، سند کا منقطع ہونا، اور راوی کا بے خبر ہونا ہو (یعنی راوی پر جھوٹا یا فاسق ہونے کا الزام نہ لگایا گیا ہو۔)

حسن لغیرہ کا درجہ

حسن لغیرہ، حسن لذاتہ کی نسبت کم درجے کی حدیث ہے۔ اسی پر بنیاد رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اگر حسن لغیرہ اور حسن لذاتہ میں کچھ تعارض (اختلاف) پایا جائے تو حسن لذاتہ کو ترجیح دی جائے گی۔

حسن لغیرہ کا حکم

نتائج اخذ کرنے کے لئے یہ قابل قبول کے درجے پر ہے۔

حسن لغیرہ کی مثالیں

امام ترمذی روایت کرتے ہیں: شعبہ، عاصم بن عبیداللہ سے، وہ عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے، وہ اپنے والد سے کہ بنو فزارہ کی ایک خاتون نے نکاح کیا اور حق مہر میں جوتوں کی ایک جوڑی قبول کر لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان سے پوچھا، "کیا تم اس حق مہر کے بدلے نکاح اپنی مرضی سے کر رہی ہو؟" انہوں نے عرض کیا، "جی ہاں۔" تو آپ نے اس نکاح کو درست قرار دیا۔ (ترمذی کتاب النکاح، رقم 1113)

††††††††† ترمذی نے اس حدیث کو دیگر سندوں کے ذریعے سیدنا عمر، ابوھریرہ، عائشہ اور ابو حدرد رضی اللہ عنہم سے بھی روایت کیا ہے۔ اگر عاصم بن عبیداللہ احادیث کو یاد رکھنے کے معاملے میں کمزور ہیں لیکن دوسری اسناد کے باعث ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       حسن لذاتہ اور حسن لغیرہ میں فرق بیان کیجیے۔

       ان دونوں کا حکم کیا ہے؟

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter