بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 3: خبر مقبول

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 7: خبر واحد جسے شواہد و قرائن کی بنیاد پر قبول کیا جائے

وضاحت

مقبول احادیث کی بحث کے آخر میں ہم اس خبر واحد کا ذکر کریں گے جسے شواہد و قرائن کی بنیاد پر قبول کر لیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس خبر کے ساتھ کچھ ایسے اضافی شواہد و قرائن بھی موجود ہوں جن کی وجہ سے خبر کو قبول کرنے کی شرائط پوری ہو جاتی ہوں۔ ان اضافی شواہد کی بنیاد پر وہ حدیث، دوسری احادیث سے ممتاز ہو جائے گی اور اسے دیگر احادیث پر ترجیح دی جائے گی۔

اقسام

ایسی خبر جس کے ساتھ شواہد و قرائن موجود ہوں کی متعدد اقسام ہیں۔ ان میں مشہور ترین یہ ہیں:

                  شیخین اس حدیث کو اپنی کتابوں میں درج کریں اگرچہ وہ تواتر کی حد تک نہ پہنچی ہو۔ اس میں یہ قرائن موجود ہوں گے کہ:

a        بخاری و مسلم کی شان دیگر اہل علم سے بلند ہے۔

a        صحیح حدیث کی پہچان میں بخاری و مسلم دوسرے اہل علم پر فوقیت رکھتے ہیں۔

a        اہل علم ان دونوں کی کتابوں کو قبول کرتے ہیں۔ یہ قبول عام، تواتر کے بغیر محض اسناد کی کثرت سے زیادہ مضبوط ہے۔

                  حدیث مشہور ہو اور ایسی متعدد اسناد سے روایت کی گئی ہو جو ایک دوسرے سے بالکل ہی مختلف ہوں۔ ان اسناد کے راوی ضعیف نہ ہوں اور یہ اسناد خامیوں سے پاک ہوں۔

                  حدیث کو حفاظ حدیث ائمہ نے مسلسل روایت کیا ہو اور یہ ایک غریب روایت نہ ہو۔ مثال کے طور پر ایسی حدیث جو امام احمد نے امام شافعی سے، انہوں نے امام مالک سے روایت کی ہو۔ اسی طرح وہ احادیث جو امام احمد اور امام شافعی دونوں نے دیگر علماء سے روایت کی ہوں، یا امام شافعی اور امام مالک دونوں نے دیگر اہل علم سے روایت کی ہوں۔

حکم

ایسی خبر واحد جو شواہد و قرائن کی وجہ سے ممتاز ہو، دوسری قسم کی مقبول اخبار احاد سے زیادہ قابل ترجیح ہو گی۔ اگر دو احادیث میں تعارض (اختلاف) پایا جائے تو اس حدیث کو ترجیح دی جائے گی جس کے ساتھ شواہد موجود ہوں۔

سوالات اور اسائنمنٹ

خبر واحد کو کس قسم کے شواہد اور قرائن سے تقویت ملتی ہے۔ ان کی فہرست تیار کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter