بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 3: خبر مقبول

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 8: مُحکَم اور مُختَلِف حدیث

عمل کرنے یا نہ کرنے کے لحاظ سے خبر مقبول کی دو اقسام ہیں: ایک تو یہ کہ اس پر عمل کیا جائے اور دوسری وہ جس پر عمل نہ کیا جائے۔ اس سے علوم حدیث میں سے دو علوم نکلتے ہیں اور وہ یہ ہیں:

"محکم" کی تعریف

لغوی اعتبار سے یہ 'احکم" کا اسم مفعول ہے جس کا معنی ہے مضبوط بنائی گئی چیز۔ اصطلاحی مفہوم میں وہ احادیث جو اختلافات سے پاک ہیں اور قبول کی گئی ہیں، "محکم" کہلاتی ہیں۔ اکثر احادیث اسی قسم کی ہیں۔ جہاں تک اختلافی احادیث کا تعلق ہے، تو ان کی تعداد بہت کم ہے۔

"مختلِف" کی تعریف

لغوی اعتبار سے یہ 'اختلاف' کا اسم فاعل ہے جو کہ اتفاق کا متضاد ہے۔ یہ ایسی احادیث کو کہا جاتا ہے جن کا معنی بظاہر متضاد معلوم ہوتا ہو۔ اصطلاحی مفہوم میں 'مختلف' ایسی احادیث کو کہا جاتا ہے جو کہ دونوں قابل قبول ہو لیکنان کا مفہوم بظاہر ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔ اس تعارض کو دور کرنا بھی ممکن ہو۔

††††††††† دونوں 'مختلف' احادیث صحیح یا حسن کے درجے کی ہوتی ہیں اور ان میں بظاہر اختلاف پایا جاتا ہے۔ اہل علم و فہم کے لئے اس اختلاف کو دور کرنا ممکن ہوتا ہے۔

'مختلف' کی مثال

مسلم کی ایک حدیث میں آتا ہے، "ایک جانور سے دوسرے جانور کو بیماری لگنا کچھ نہیں ہے اور پرندوں سے شگون لینا بھی کچھ نہیں ہے۔" اس کے برعکس بخاری کی ایک حدیث میں ہے، "کوڑھ میں مبتلا کسی شخص سے اس طرح دور بھاگو جیسا کہ تم شیر سے دور بھاگتے ہو۔"

††††††††† یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں لیکن بظاہر ان میں اختلاف نظر آتا ہے۔ پہلی حدیث بیماری کے متعدی پن کی نفی کرتی نظر آتی ہے لیکن دوسری حدیث اس کے وجود کو تسلیم کرتی نظر آتی ہے۔ اہل علم نے متعدد انداز میں ان دونوں احادیث کے تعارض کو دور کیا ہے اور ان میں موافقت پیدا کی ہے۔ یہاں ہم اس بحث کا ذکر کریں گے جو حافظ ابن حجر نے کی ہے۔

تضاد کو دور کرنے کی مثال

ان دونوں احادیث کا تضاد اس طرح سے دور کیا جا سکتا ہے کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ جو فرمایا ہے کہ "کوئی کسی دوسرے سے مرض حاصل کر کے بیمار نہیں ہوتا" اور جب آپ سے یہ پوچھا گیا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ ایک خارش زدہ اونٹ دوسرے اونٹوں کو بھی یہ مرض لگا دیتا ہے تو آپ نے فرمایا، "پھر پہلے کو یہ مرض کس نے لگایا۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ مرض کی ابتدا اللہ تعالی کی طرف سے ہوتی ہے اور وہی پہلے کے بعد دوسرے کو بھی بیمار کرتا ہے۔

††††††††† جہاں تک کوڑھ کے مرض میں مبتلا شخص سے دور رہنے کا حکم دیا گیا تو وہ "سد ذرائع" (یعنی احتیاطی تدبیر) کے طور پر تھا۔ آپ اس بات سے اتفاق کر رہے تھے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق جذام لاحق ہو سکتا ہے جیسا کہ پہلے کو لاحق ہوا۔ شاید ایسا تھا کہ سوال پوچھنے والا شخص اللہ تعالی کی تقدیر کے مقابلے میں بیماری کے متعدی ہونے کا قائل تھا۔ چونکہ یہ نظریہ غلط تھا اور اسے ماننا ایک گناہ تھا، اس وجہ سے آپ نے اسے گناہ سے بچانے کے لئے حکم دیا کہ وہ کوڑھ کے مرض میں مبتلا شخص کے پاس نہ ٹھہرے۔

نوٹ: ان احادیث کی صحیح تطبیق یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ لوگ بیماری کے متعدی ہونے کے خیال سے اللہ تعالی کی تقدیر کو نظر انداز نہ کریں ورنہ آپ کے کوڑھی سے متعلق ارشاد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ بیماری کے متعدی ہونے کو درست سمجھتے تھے۔

مختلف احادیث کا حکم

مختلف احادیث کے ساتھ ان مراحل میں معاملہ کیا جائے گا:

                  اگر انہیں جمع کرنا ممکن ہو (یعنی ان کا تضاد ختم کیا جا سکتا ہو) تو اس تضاد کو ختم کر کے ان پر عمل کیا جائے گا۔

                  اگر مضبوط وجوہات کی بنیاد پر انہیں جمع کرنا ممکن نہ ہو تو پھر:

a  اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ ان میں سے ایک حدیث ناسخ (یعنی حکم کو منسوخ کرنے والی) ہے اور دوسری منسوخ۔ ناسخ حدیث پر عمل کیا جائے گا اور منسوخ حدیث کو ترک کر دیا جائے گا۔

a  اگر ناسخ و منسوخ کا علم نہ ہو سکے تو پھر ان میں سے کسی ایک حدیث کو ترجیح دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اس ترجیح کی بنیاد کچھ اصول ہیں جن کی تعداد پچاس تک پہنچتی ہے۔ قابل ترجیح حدیث پر عمل کیا جائے گا۔

a  اگر ایک حدیث کو دوسری پر ترجیح دینا بھی ممکن نہ ہو، اور ایسا بہت ہی کم ہو گا، تو پھر ہم اس وقت تک ان دونوں احادیث پر عمل نہ کریں گے جب تک ان میں سے ایک کو ترجیح نہ دی جا سکے۔

اختلاف حدیث کے فن کی اہمیت اور اس کی تکمیل کیسے کی گئی ہے؟

یہ فن علوم حدیث کا اہم ترین فن ہے۔ اہل علم کے لئے اسے حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اس میں وہ اہل علم ماہر ہوتے ہیں جو حدیث، فقہ اور اصول فقہ سب علوم پر عبور رکھتے ہوں۔ یہی اہل علم اس علم میں غوطہ زنی کر سکتے ہیں۔ ان کے لئے اس علم میں سوائے چند استثنائی معاملات کے اور کچھ مشکل نہیں ہے۔ اہل علم نے تعارض کو دور کرنے کے لئے جو کاوشیں کی ہیں اس سے ان کی دقت نظری، انتخاب کی خوبی اور ان کے مقام و مرتبے کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس سے ان دوسرے درجے کے لوگوں کی جرات کی حیثیت بھی معلوم ہو جاتی ہے جو انہی علماء کے خوشہ چیں ہیں لیکن ان پر اعتراض کرتے ہیں۔†††††††††

مختلف احادیث میں مشہور ترین تصانیف

       امام شافعی کی اختلاف الحدیث۔ یہ اس فن میں پہلی تصنیف ہے۔

       ابن قتیبہ یعنی عبداللہ بن مسلم کی تاویل مختلف الحدیث

       ابو جعفر احمد بن سلامہ الطحاوی کی مشکل الآثار

سوالات اور اسائنمنٹ

       دو احادیث میں موجود بظاہر تضاد کی وجہ کیا ہوا کرتی ہے؟

       بظاہر متضاد احادیث کو تطبیق دینے کا طریقہ بیان کیجیے۔

       اوپر بیان کردہ کتب کو انٹرنیٹ پر تلاش کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter