بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 4: مسترد شدہ خبر

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 5: مُرسَل حدیث

"مرسل حدیث" کی تعریف

لغوی اعتبار سے مرسل "ارسال" کا اسم مفعول ہے۔ اس کا مطلب ہے ڈھیلی ڈھالی چیز۔ مرسل وہ حدیث ہوتی ہے جس کی اسناد ڈھیلی ڈھالی ہوں یعنی اس میں جانے پہچانے راویوں ہی پر انحصار نہ کیا گیا ہو۔

††††††††† اصطلاحی مفہوم میں یہ اس حدیث کو کہتے ہیں جس میں تابعی کے بعد والے راوی (یعنی صحابی) کو حذف کر دیا گیا ہو۔

"مرسل حدیث" کی صورت

اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی تابعی خواہ اس کی صحابہ سے ملاقات بڑی عمر میں ہوئی ہو یا چھوٹی عمر میں وہ یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس طرح فرمایا، یا آپ نے ایسے کیا یا آپ کی موجودگی میں ایسا کیا گیا۔ محدثین کے نزدیک مرسل کی صورت اسی طرح کی ہوا کرتی ہے۔

"مرسل حدیث" کی مثال

امام مسلم اپنی "صحیح" میں کتاب البیوع میں حدیث نقل کرتے ہیں، "محمد بن رافع، حجین سے، وہ لیث سے، وہ عقیل سے، وہ ابن شہاب سے، وہ سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مزابنہ (یعنی تازہ کھجوروں کو چھوہاروں کے بدلے بیچنے) سے منع فرمایا۔"

††††††††† اس سند میں سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ بڑے تابعین میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے حدیث روایت کی ہے اور اپنے اور حضور کے درمیان واسطے کو حذف کر دیا ہے۔ اس حذف واسطے میں صرف ایک صحابی بھی ہو سکتے ہیں یا ایک صحابی کے ساتھ ساتھ کوئی اور تابعی بھی ہو سکتے ہیں (جن سے سعید بن مسیب نے یہ حدیث سنی ہو گی۔)

فقہ اور اصول فقہ کے ماہرین کے نزدیک "مرسل حدیث" کا معنی

ہم نے مرسل حدیث کی جن صورتوں کا ذکر کیا، یہ محدثین کی تعریف کے مطابق ہے۔ فقہ اور اصول فقہ کے ماہرین کے نزدیک مرسل حدیث کی تعریف میں کچھ فرق ہے۔ ان کے نزدیک مرسل کا معنی زیادہ وسیع ہے اور وہ ہر منقطع حدیث (یعنی جس میں کوئی ایک راوی بھی غائب ہو خواہ وہ صحابی ہو یا بعد کا کوئی راوی) کو مرسل ہی میں شمار کرتے ہیں خواہ اس انقطاع کا سبب کچھ بھی ہو۔ خطیب بغدادی کا نقطہ نظر بھی یہی ہے۔

"مرسل حدیث" کا حکم

مرسل حدیث بنیادی طور پر تو مسترد ہی کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں صحیح حدیث کی شرائط میں سے اتصال سند کی شرط موجود نہیں ہے۔ جو راوی حذف کیا گیا ہے، ہمیں اس کے حالات کا علم نہیں ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ صحابی نہ ہو اور ضعیف ہو۔

††††††††† حدیث کے ماہرین کا مرسل حدیث اور اس سے نتائج اخذ کرنے کے بارے میں اختلاف ہے۔ یہ وہ منقطع حدیث ہے جس کی سند کا صرف آخری حصہ حذف کیا گیا ہے۔ جس نام کو حذف کیا گیا ہے، غالب گمان یہ ہے کہ وہ صحابی ہو گا اور تمام صحابہ اعلی کردار کے مالک تھے۔ اگر ہمیں ان کے نام کا علم نہ بھی ہو، تب بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

††††††††† اجمالی طور پر اہل علم کے اس بارے میں تین نقطہ نظر مشہور ہیں:

       مرسل حدیث کو مسترد کیا جائے گا۔ محدثین، فقہاء اور اصول فقہ کے ماہرین کی اکثریت کا یہی نقطہ نظر ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ ہمیں حذف کردہ راوی کے نام کا علم نہیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ صحابی نہ ہو بلکہ کوئی تابعی ہو اور حدیث روایت کرنے میں ضعیف ہو۔

       مرسل حدیث صحیح ہے اور اس سے نتائج اخذ کیے جائیں گے۔ یہ تین بڑے ائمہ یعنی ابو حنیفہ، مالک اور احمد بن حنبل کا نقطہ نظر ہے۔ علماء کا یہ گروہ اس بنیاد پر اس قسم کی حدیث کو قبول کرتا ہے کہ مرسل حدیث صرف ثقہ راوی سے ہی روایت کی گئی ہو۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ ایک ثقہ تابعی صرف اسی صورت میں کسی بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کر سکتا ہے اگر اس نے اسے کسی قابل اعتماد شخص (یعنی صحابی) سے یہ بات سنی ہو۔

       مرسل حدیث کو کچھ شرائط کے ساتھ قبول کیا جائے گا۔

یہ امام شافعی اور بعض دیگر اہل علم کا نقطہ نظر ہے۔ انہوں نے مرسل حدیث کو قبول کرنے کے لئے چند شرائط بیان کی ہیں:

       مرسل حدیث بیان کرنے والا راوی بڑی عمر کے ان تابعین میں سے ہو جنہوں نے بڑی عمر میں صحابہ سے احادیث روایت کی ہیں۔ (اس کی وجہ یہ ہے کہ چھوٹی عمر والے تابعین براہ راست صحابہ سے روایت نہیں کرتے بلکہ کسی اور تابعی سے احادیث روایت کرتے ہیں۔)

       جب کبھی بھی وہ راوی اس شخص کا نام بیان کرے جس سے اس نے احادیث روایت کی ہیں تو وہ شخص ثقہ (یعنی قابل اعتماد) ہو۔

       حفاظ حدیث اس حدیث کے خلاف کوئی حدیث بیان نہ کریں۔

       حدیث کو کسی اور سند سے بھی روایت کیا گیا ہو۔ اگر دوسری سند بھی مرسل ہو تو اس صورت میں اسے بیان کرنے والا راوی پہلے راوی کے علاوہ کوئی اور شخص ہو۔

       مرسل حدیث کسی صحابی کے قول کے مطابق ہو۔

       اکثر اہل علم اس مرسل حدیث کے مطابق احکام اخذ کرتے ہوں۔ (کتاب الرسالۃ از شافعی)

ایسی مرسل حدیث، جو کئی طرق سے روایت کی گئی ہو، کی ان شرائط کی بنیاد پر تحقیق کر لینے کے بعد یہ واضح ہو جائے کہ یہ صحیح ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ کسی اور صحیح حدیث سے متضاد ہو اور اس تضاد کو دور کرنا ممکن نہ ہو، تو اس صورت میں ہم مرسل حدیث کو ترجیح دیں گے کیونکہ اس کی اسناد کے طرق زیادہ ہیں۔

نوٹ: تابعین کی بڑی یا چھوٹی عمر علوم حدیث میں ایک دلچسپ موضوع ہے۔ مثال کے طور پر ایک صاحب اس دور میں پیدا ہوئے جب صرف چند صحابہ کرام ہی زندہ تھے۔ انہوں نے بچپن یا لڑکپن میں ان صحابہ سے ملاقات کر لی اور تابعی کا درجہ حاصل کر لیا مگر ان کی عمر ایسی نہ تھی جس سے یہ ان صحابہ سے باقاعدہ کچھ سیکھ سکتے۔ جب یہ پختہ عمر کو پہنچے تو بڑی عمر کے تابعین سے انہوں نے تعلیم حاصل کی۔ ایسے تابعی کی مرسل حدیث کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے یہ براہ راست کسی صحابی سے حاصل کی ہوگی۔

صحابی کی "مرسل حدیث"

کسی صحابی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے قول و فعل سے متعلق بیان کردہ حدیث بھی مرسل ہو سکتی ہےکیونکہ ممکن ہے کہ اس صحابی نے اس بات کو خود سنا یا دیکھا نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ صحابی عہد رسالت میں کم عمر ہو، یا اس نے دیر سے اسلام قبول کیا ہو یا پھر اس موقع پر موجود نہ ہو۔ ایسے صحابہ جو عہد رسالت میں کم عمر تھے جیسے سیدنا ابن عباس یا ابن زبیر رضی اللہ عنہم کی روایات کثیر تعداد میں پائی جاتی ہیں۔

صحابی کی "مرسل حدیث" کا حکم

علماء کی اکثریت کے نقطہ نظر کے مطابق صحابی کی مرسل حدیث صحیح ہو گی اور اس سے نتائج اخذ کرنا درست ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا امکان بہت کم ہے کہ صحابی نے کسی تابعی سے حدیث روایت کی ہو۔ اگر انہوں نے ایسا کیا ہو تو وہ اسے بیان کر دیتے ہیں۔ جب صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے کوئی بات منسوب کریں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے دوسرے صحابی سے ہی اس بات کو سنا ہو گا۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ صحابی کو حذف کر دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا (کیونکہ تمام صحابہ قابل اعتماد ہیں۔)

††††††††† ایک رائے یہ بھی ہے کہ صحابی کی مرسل حدیث بھی دوسری مرسل احادیث کی طرح ہے۔ یہ رائے بہت ہی کمزور اور مسترد شدہ ہے۔

"مرسل حدیث" سے متعلق مشہور تصانیف

       ابو داؤد کی مراسیل

       ابن ابی حاتم کی مراسیل

       علائی کی جامع التحصیل لاحکام المراسیل

سوالات اور اسائنمنٹ

       مرسل حدیث کی تعریف کیجیے۔

       مرسل اور معلق حدیث کا فرق بیان کیجیے۔

       اوپر بیان کردہ کتب کو انٹرنیٹ پر تلاش کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter