بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 4: مسترد شدہ خبر

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 9: مُرسَل خفی

مرسل خفی کی تعریف

مرسل، لفظ ارسال کا اسم مفعول ہے جس کا معنی ہے ڈھیلی ڈھالی چیز۔ خفی، ظاہر کا متضاد ہے۔ اس کا مطلب ہے چھپی ہوئی چیز جسے تفصیلی تحقیق کے بغیر معلوم نہ کیا جا سکے۔

          اصطلاحی مفہوم میں مرسل خفی ایسی حدیث ہوتی ہے جس کا راوی اسے کسی ایسے شیخ سے روایت کرتا ہے جس سے اس راوی کی ملاقات ہوئی ہوتی ہے یا کم از کم جو اس کے زمانے میں موجود ہوتا ہے لیکن اس راوی نے شیخ سے کوئی بھی حدیث سنی نہیں ہوتی۔ وہ راوی حدیث کو ذو معنی الفاظ میں روایت کرتا ہے جیسے ("میں نے اس شخص سے یہ حدیث سنی" کی بجائے یہ کہنا کہ) "اس نے کہا"۔

مرسل خفی کی مثال

ابن ماجہ روایت کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے عقبۃ بن عامر سے مرفوع روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "اللہ تعالی پہرہ دینے والے پر رحمت فرمائے۔" (ابن ماجه – كتاب الجهاد – جـ 2 ص 925 رقم الحديث / 2769)  امام مِّزِی اپنی کتاب اطراف میں لکھتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز کی ملاقات کبھی عقبہ بن عامر سے نہیں ہوئی۔

نوٹ: سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ جلیل القدر عالم اور خلیفہ تھے۔ انہوں نے راوی کو چھپانے کی کوشش نہیں کی ہو گی۔ ایسا بعد کے کسی راوی نے کیا ہو گا۔

کسی کو مدلس قرار دینے سے پہلے اس کا عمومی کردار دیکھا جانا ضروری ہے۔ ایسا شخص جس کی بہت سی احادیث میں تدلیس یا ارسال خفی پایا جائے، اسے تو مشکوک قرار دیا جا سکتا ہے مگر جس شخص کی کسی ایک آدھ حدیث میں تدلیس یا ارسال خفی پایا جائے تو اس کے بارے میں حسن ظن سے ہی کام لینا ضروری ہے کہ بھول چوک سب سے ہی ہو سکتی ہے۔

مرسل خفی کیسے پہچانی جاتی ہے؟

مرسل خفی کی پہچان تین ذرائع سے ہوتی ہے:

·       (فن رجال کے) بعض ماہرین واضح طور پر بیان کر دیتے ہیں کہ وہ راوی جس شیخ سے حدیث بیان کر رہا ہے، اس کی کبھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی یا اس نے کبھی ان سے حدیث نہیں سنی۔

·       وہ راوی خود کسی موقع پر بیان کر دے کہ اس کی شیخ سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی یا اس نے کبھی ان سے حدیث نہیں سنی۔

·       حدیث کسی اور مقام پر بھی موجود ہو جس میں اس راوی اور شیخ کے درمیان کچھ افراد کا اضافہ پایا جاتا ہو۔

اس تیسرے امر کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے کیونکہ ایک متصل سند مل جانے کے بعد یہ حدیث مرسل نہیں رہے گی بلکہ متصل ہو جائے گی۔

مرسل خفی کا حکم

یہ ضعیف حدیث ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ منقطع ہے۔ جب اس کا منقطع ہونا ظاہر ہو جائے گا تو اس پر وہی حکم لگے گا جو منقطع حدیث کا حکم ہے۔

مرسل خفی سے متعلق مشہور تصانیف

خطیب بغدادی کی کتاب التفصیل لمبہم المراسیل

سوالات اور اسائنمنٹ

·       مرسل خفی کی تعریف کیجیے۔

·       مرسل اور مرسل خفی کا فرق بیان کیجیے۔

·       اوپر بیان کردہ کتاب کو انٹرنیٹ پر تلاش کیجیے۔

 

اگلا سبق                                               فہرست                                                پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability

 

php hit counter