بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 4: مسترد شدہ خبر

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 10: مُعََنعَن اور مُؤَنَن احادیث

تمہید

خبر مردود کی وہ چھ اقسام ہم بیان کر چکے ہیں جو کہ سند کے منقطع ہونے کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔ معنعن اور مؤنن احادیث کا معاملہ ان سے کچھ مختلف ہے۔ ان کا شمار منقطع احادیث میں کیا جائے یا متصل احادیث میں؟ اسناد میں سقوط کے باعث ہم ان کی بحث کو یہاں درج کر رہے ہیں۔

معنعن کی تعریف

لغوی مفہوم میں "عنعن" کا اسم مفعول ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ "عن، عن" کہہ کر بتائی جانے والی بات۔ اصطلاحی مفہوم میں یہ اس حدیث کو کہتے ہیں جو "عن، عن" کہہ کر روایت کی گئی ہوتی ہے جیسے "فلاں عن فلاں"۔

نوٹ: حدیث کی روایت مختلف الفاظ میں کی جاتی ہے۔ مثلاً حدثنا یعنی فلاں شخص نے ہم سے حدیث بیان کی، سمعتُ یعنی میں نے اس حدیث کو فلاں شخص سے سنا ہے، اخبرنا یعنی فلاں شخص نے ہمیں یہ خبر سنائی ہے۔

روایت کا ایک طریقہ "عن، عن" بھی ہے جس کا مطلب ہے کہ "فلاں نے فلاں سے روایت کی۔" چونکہ اس لفظ کے ذریعے واضح طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ فلاں نے فلاں سے یہ حدیث خود سنی ہے یا نہیں، اس وجہ سے معنعن حدیث کی سند میں کچھ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، جس کی بحث یہاں درج کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے محدثین حدیث کو قبول کرنے میں کتنی احتیاط برتتے تھے۔

معنعن کی مثال

ابن ماجہ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

حدثنا عثمان بن ابی شیبہ ثنا معاویہ بن ہشام ثنا سفیان عن اسامہ بن زید عن عثمان بن عروۃ عن عروۃ عن عائشہ۔ قالت، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم: ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی میامن الصفوف۔ (ابن ماجه ـ كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها جـ1 ـ ص 321 رقم الحديث / 1005 /)

عثمان بن ابی شیبہ ہم سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں، ان سے معاویہ بن ہشام نے حدیث بیان کی، ان سے سفیان نے حدیث بیان کی، سفیان نے اسامہ بن زید سے روایت کی، انہوں نے عثمان بن عروہ سے روایت کی، انہوں نے عروہ سے روایت کی اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "بے شک اللہ اور اس کے فرشتے صف کے دائیں جانب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والوں کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔"

معنعن متصل ہے یا منقطع؟

اس معاملے میں اہل علم کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ معنعن کو منقطع حدیث قرار (دے کر ضعیف قرار) دیا جائے گا جب تک کہ اس کی سند کا اتصال ثابت نہ ہو جائے۔ دوسرا نقطہ نظر، جو کہ حدیث، فقہ اور اصول فقہ کے ماہرین کی اکثریت کا نقطہ نظر ہے، یہ ہے کہ اسے چند شرائط کے ساتھ متصل حدیث مان لیا جائے گا۔ ان میں سے دو شرائط پر سب اہل علم کا اتفاق رائے ہے۔ امام مسلم نے بھی انہی دو شرائط کو کافی سمجھا ہے، وہ یہ ہیں:

       معنعن حدیث کی سند میں کوئی راوی تدلیس کرنے والا نہ ہو۔ (کیونکہ تدلیس کرنے والے واضح الفاظ کی بجائے ذو معنی الفاظ بول کر تدلیس کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔)

       معنعن حدیث کے دو مسلسل راویوں کی ملاقات ہونا ممکن ہو۔ (یعنی دونوں ایک ہی زمانے کے ہوں اور ایک نے دوسرے کے شہر میں کچھ وقت گزارا ہو۔)

ان دو شرائط پر اہل علم کے دوسرے گروہ نے کچھ اضافہ کیا ہے جس کی تفصیل یہ ہے:

       معنعن حدیث کے دو مسلسل راویوں کی ملاقات ایک ثابت شدہ امر ہو۔ یہ امام بخاری، ابن المدینی اور دیگر محققین کا نقطہ نظر ہے۔

       معنعن حدیث کے دو مسلسل راویوں میں طویل عرصے کی رفاقت پائی جاتی ہو۔ یہ ابن المظفر السمعانی کا نقطہ نظر ہے۔

       یہ بات معلوم و متعین ہو کہ معنعن حدیث کے دو مسلسل راویوں میں سے ایک دوسرے سے حدیث کو براہ راست روایت کرتا ہے۔ یہ ابو عمرو الدانی کا نقطہ نظر ہے۔

مؤنن حدیث کی تعریف

لغوی اعتبار سے مؤنن اسم مفعول ہے اور اس کا مطلب ہے "اَنّ، اَنّ" کہنا۔ اصطلاحی مفہوم میں یہ اس حدیث کو کہتے ہیں جسے اس طرح روایت کیا گیا ہو کہ "حدثنا فلاں انّ فلاں انّ فلاں۔۔۔۔" یعنی "ہم نے فلاں نے حدیث بیان کی، پھر فلاں سے، پھر فلاں سے۔۔۔۔"

مؤنن حدیث کا حکم

امام احمد اور ایک گروہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مؤنن حدیث کو منقطع قرار (دے کر اسے ضعیف قرار) دیا جائے گا۔ اہل علم کی اکثریت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ لفظ "اَنَّ" بالکل "عن" کی طرح ہے اور مؤنن حدیث کو معنعن حدیث سے متعلق شرائط کی موجودگی میں قبول کر لیا جائے گا۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       معنعن حدیث کی تعریف کیجیے۔

       معنعن اور مونن حدیث کا فرق بیان کیجیے۔

       معنعن حدیث کو قبول کرنے میں محدثین کے تردد کی وجہ بیان کیجیے۔

       معنعن حدیث کو قبول کرنے کے ضمن میں امام بخاری اور مسلم کے طریق کار کا فرق بیان کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter