بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 4: مسترد شدہ خبر

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 11: راوی پر الزام کے باعث مردود حدیث

راوی پر الزام کا مطلب

راوی پر الزام کر معنی ہے کہ اس پر کھلے الفاظ میں الزام لگایا گیا ہو۔ اس کے کردار اور دین کے بارے میں اعتراضات کیے گئے ہوں۔ حدیث کے بارے میں اس کے رویے پر گفتگو کی گئی ہو یعنی وہ حدیث کو کس طرح محفوظ رکھتا تھا؟ انہیں کس حد تک یاد رکھتا تھا؟ اس معاملے میں وہ کس حد تک محتاط تھا؟ وغیرہ وغیرہ

نوٹ: اس موقع پر ایک دلچسپ سوال پیدا ہو گیا ہے۔ قرآن مجید میں کسی شخص کی عیب جوئی اور کردار کشی سے منع کیا گیا ہے۔ کیا یہ حکم حدیث بیان کرنے والے راویوں کے بارے میں بھی ہے؟ حدیث، فقہ اور اصول فقہ کے ماہرین کا اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ جس عیب جوئی اور کردار کشی سے قرآن مجید میں منع کیا گیا ہے، اس کا تعلق کسی شریف انسان کے ذاتی معاملات سے ہے۔

اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر کسی سے لین دین یا رشتے داری کرنا مقصود ہو تو اس شخص کے کردار کی چھان بین ضروری ہے۔ اگر کوئی دھوکے باز شخص ہے اور وہ دوسرے کو نقصان پہنچا سکتا ہے تو اس کے کردار سے دوسروں کو آگاہ کرنا تاکہ وہ اس کے دھوکے سے محفوظ رہیں بالکل درست ہے۔

عام زندگی میں شریف لوگ کسی کی کردار کشی نہیں کرتے لیکن جب کسی کے ساتھ رشتے ناتے قائم کرنے یا اس سے لین دین کا معاملہ پیش آتا ہے تو کردار کی چھان بین سے اخلاقیات منع نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ عام لوگوں کے بارے میں تو عیب جوئی نہیں کی جاتی لیکن حکومت کے لیڈروں کے بارے میں ہر شخص چھان بین کا حق رکھتا ہے۔

جب کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کسی بات کو بیان کرتا ہے تو بالکل اسی اصول پر وہ خود کو لوگوں کے سامنے پیش کر دیتا ہے کہ وہ اس کے کردار کی چھان بین کر سکیں۔ اگر کوئی شخص ایسا نہیں چاہتا تو اسے چاہیے کہ وہ احادیث بیان کرنے کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہے۔

راوی پر الزام کے اسباب

راوی پر الزام کے بنیادی طور پر دس اسباب ہیں۔ ان میں سے پانچ تو اس کے کردار سے متعلق ہیں اور پانچ کا تعلق حدیث کی حفاظت کے امور سے ہے۔ کردار سے متعلق الزامات ان بنیادوں پر لگائے جاتے ہیں:

       جھوٹ۔ (حدیث بیان کرنے والا شخص کہیں جھوٹ بولنے کا عادی تو نہیں؟ جھوٹے شخص کی حدیث قبول نہیں کی جاتی۔)

       جھوٹ بولنے کا الزام۔ (یہ الزام اگرچہ غلط بھی ہو لیکن احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اس شخص کی حدیث کو قبول نہ کیا جائے۔)

       فسق و فجور۔ (وہ شخص اعلانیہ طور پر گناہوں کا ارتکاب تو نہیں کرتا۔ چھپے ہوئے گناہوں کو تو سوائے اللہ تعالی اور اس شخص کے اور کوئی نہیں جانتا۔)

       بدعت۔ (وہ شخص کہیں کسی نئے مذہب، مسلک، فرقے، رسم کا حامی تو نہیں؟ اگر ایسا ہے تو وہ اپنے مذہب کے حق میں تعصب کا شکار ہو گا اور اس کی بیان کردہ احادیث اس کے تعصب سے متاثر ہوں گی۔)

       جہالت۔ (اگر وہ شخص دین کو نہیں جانتا تو بات کچھ کی کچھ ہو سکتی ہے۔)

       حدیث کی حفاظت سے متعلق راوی کی شخصیت کے ان پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

       بہت زیادہ غلطیاں کرنا۔ (تھوڑی بہت غلطی تو سبھی سے ہو سکتی ہے لیکن بہت زیادہ غلطیاں کرنے والے شخص کے رویے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غیر محتاط طبیعت کا مالک تھا۔)

       حافظے کی کمزوری۔ (کمزور حافظے والا شخص کے لئے حدیث کو یاد رکھنے میں غلطیوں کا امکان زیادہ ہے۔)

       غفلت و لاپرواہی۔ (ایک لاپرواہ شخص سے غلطی صادر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔)

       بہت زیادہ وہمی ہونا۔ (وہمی شخص بھی بات کو آگے منتقل کرنے میں غلطیاں کر سکتا ہے۔ وہ بعض باتوں پر زیادہ زور دے گا اور بعض کو نظر انداز کر دے گا۔)

       ثقہ راویوں کی احادیث کے خلاف احادیث روایت کرنا۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ارشادات میں تضاد نہیں ہو سکتا۔ آپ کی محکم احادیث کے خلاف کثرت سے روایت کرنے والا یا تو بات سمجھنے میں غلطی کر رہا ہو گا اور یا پھر جان بوجھ کر کوئی غلط بات پھیلانے کی کوشش کر رہا ہو گا۔)

اب ہم مسترد شدہ احادیث کی ان اقسام کا جائزہ لیں گے جو کہ راوی پر الزام کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔ ہم سخت ترین اقسام سے آغاز کریں گے۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       راویوں پر کس بنیاد پر تنقید کی جاتی ہے۔ ان کی وہ کون سی خامیاں ہیں جس کے باعث ان کی بیان کردہ احادیث کو ضعیف قرار دیا جاتا ہے؟

       کیا راوی کے شخصی عیوب کی تحقیق شرعی نقطہ نظر سے جائز ہے؟ اگر ہے تو کن دلائل کی بنیاد پر؟

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter