بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 4: مسترد شدہ خبر

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 12: موضوع حدیث

موضوع حدیث کی تعریف

لغوی اعتبار سے "موضوع" وضع کرنے کا اسم مفعول ہے اور اس کا معنی ہے گھڑی ہوئی چیز۔ اصطلاحی مفہوم میں موضوع حدیث اس جھوٹی حدیث کو کہتے ہیں جسے گھڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کر دیا گیا ہو۔

موضوع حدیث کا درجہ

یہ ضعیف احادیث میں سے سب سے بدترین درجے کی حامل ہے۔ بعض اہل علم تو اسے ضعیف حدیث میں بھی شمار نہیں کرتے بلکہ ایک الگ درجے پر رکھتے ہیں۔ (اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی طرف سے گھڑ کر جھوٹی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ضعیف حدیث میں تو پھر بھی یہ شک ہوتا ہے کہ شاید یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمائی ہو گی جبکہ موضوع حدیث تو سراسر جھوٹ کا پلندہ ہوتی ہے۔)

موضوع حدیث کی روایت کرنے کا حکم

اہل علم کا اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ موضوع حدیث کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ یہ جعلی حدیث ہے، اسے روایت کرنا جائز نہیں ہے۔ ہاں اس بات کی اجازت ہے کہ اسے روایت کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بتا دیا جائے کہ یہ موضوع حدیث ہے۔ مسلم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جس نے جان بوجھ کر مجھ سے منسوب جھوٹی بات بیان کی تو وہ سب سے بڑا جھوٹا ہے۔" (مقدمة مسلم بشرح النووي جـ 1 ـ ص 62)

جعلی احادیث ایجاد کرنے کا طریقہ

جعلی احادیث ایجاد کرنے والا شخص بسا اوقات اپنی طرف سے کوئی بات گھڑتا ہے اور اس کے بعد اس کی اسناد اور روایت کو ایجاد کر لیتا ہے۔ بعض اوقات وہ کچھ دانشوروں وغیرہ کے اقوال حاصل کرتا ہے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کرنے کے لئے جھوٹی اسناد ایجاد کر لیتا ہے۔

موضوع حدیث کو کیسے پہچانا جائے؟

موضوع حدیث کو ان طریقوں سے پہچانا جا سکتا ہے:

       احادیث ایجاد کرنے والا خود اقرار کر لے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ابو عصمہ نوح بن ابی مریم نے اس بات کا خود اقرار کیا کہ اس نے قرآن مجید کی ہر سورت کے فضائل سے متعلق احادیث گھڑیں اور انہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب کر دیا۔

       احادیث ایجاد کرنے والا الٹی سیدھی بات کر کے اپنا درجہ خود کم کر لے۔ مثال کے طور پر ایک ایسا ہی شخص کسی شیخ سے حدیث روایت کر رہا تھا۔ جب اس شخص سے اس کی تاریخ پیدائش پوچھی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کے شیخ اس شخص کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے انتقال کر چکے تھے۔ اس شخص کی بیان کردہ حدیث کا علم سوائے اس کے کسی اور کو نہ تھا۔ (اس جھوٹ کی وجہ سے یہ معلوم ہو گیا کہ وہ شخص حدیث کو خود گھڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کر رہا ہے۔)

       احادیث وضع کرنے کے شواہد راوی کی ذات میں پائے جائیں۔ مثلاً راوی کسی خاص مسلک کے بارے میں شدت پسندانہ رویہ رکھتا ہو اور وہ اس مسلک کو ثابت کرنے کے لئے احادیث وضع کرنے لگے۔

       خود حدیث میں وضع کرنے کے شواہد پائے جائیں۔ مثلاً حدیث کے الفاظ گھٹیا درجے کے ہوں، یا حسی شواہد کے خلاف ہوں یا قرآن مجید کے صریح الفاظ کے خلاف ہوں۔ (تفصیل کے لئے دیکھیے آخری یونٹ، درایت کے اصول)

جعلی احادیث ایجاد کرنے کی وجوہات اور احادیث گھڑنے والوں کی خصوصیات

جعلی احادیث وضع کرنے کی کئی وجوہات ہیں:

قرب الہی کا حصول

بعض لوگوں نے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لئے احادیث وضع کیں۔ انہوں نے لوگوں کو نیکیوں کی طرف راغب کرنے اور گناہوں سے روکنے کے لئے حدیثیں گھڑیں۔ جعلی احادیث کے ان موجدوں نے اپنی طرف سے لوگوں کو زھد و تقوی کی طرف لانے کے لئے احادیث گھڑیں لیکن یہ بدترین لوگ تھے کیونکہ انہیں ثقہ سمجھتے ہوئے لوگوں نے ان کی احادیث پر یقین کر لیا۔

††††††††† ایسے لوگوں کی ایک مثال میسرہ بن عبد رب تھا۔ ابن حبان اپنی کتاب "الضعفاء" میں ابن مہدی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس شخص سے پوچھا، "تم یہ احادیث کہاں سے لائے ہو، تم نے کس شخص کو یہ احادیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔" وہ کہنے لگا، "میں نے ان احادیث کو خود ایجاد کیا ہے تا کہ لوگوں کو نیکیوں کی طرف راغب کر سکوں۔" (تدريب الراوي جـ1 ـ ص 283)

مسلک اور فرقے کی تائید

بعض لوگوں نے اپنے مسلک اور فرقے کی تائید میں احادیث ایجاد کیں۔ خلافت راشدہ کے دور میں جو سیاسی نوعیت کے فرقے پیدا ہوئے انہوں نے اپنے فرقے کی تائید میں احادیث وضع کرنے کا کام شروع کیا۔ اس کی مثال یہ حدیث ہے کہ، "علی سب سے بہترین انسان ہیں۔ جس نے اس کا انکار کیا، اس نے کفر کیا۔"

اسلام پر اعتراضات

بعض ایسے ملحد لوگ تھے جنہوں نے اسلام پر اعتراضات کرنے اور اس سے متعلق لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے یہ کام شروع کیا۔ وہ کھلم کھلا تو اسلام پر اعتراضات کر نہیں سکتے تھے چنانچہ انہوں نے اس طریقے سے اپنا مقصد حاصل کرنے کی مذموم کوشش کی۔ انہوں نے اسلام کی تعلیمات کا حلیہ بگاڑنے اور اس پر اعتراضات کرنے کے لئے احادیث وضع کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔ ان کی ایک مثال محمد بن سعید شامی تھا۔ اس نے حمید اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منسوب کی، "میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں سوائے اس کے کہ جسے اللہ چاہے۔" (تدريب الراوي جـ1 ـ ص 284)اللہ تعالی کا بڑا شکر ہے کہ اس نے حدیث کے ایسے ماہرین پیدا کیے جنہوں نے ایسی احادیث کو الگ کر دیا۔

حکمرانوں کا قرب

بعض حضرات نے محض حکمرانوں کی قربت حاصل کرنے (اور ان سے دنیاوی مفادات حاصل کرنے کے لئے) احادیث گھڑنے کا سلسلہ شروع کیا۔ وہ لوگ اس طریقے کے حکمرانوں کے ناجائز کاموں کو بھی جائز قرار دے دیا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر ایک مرتبہ غیاث بن ابراہیم النخعی الکوفی خلیفہ مہدی کے پاس آیا تو وہ کبوتر کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اس موقع پر اس نے فوراً ہی اپنی سند سے حدیث بیان کی، "تیر اندازی، گھڑ دوڑ، خچر کی دوڑ اور کبوتر بازی کے علاوہ کسی چیز میں مقابلہ نہیں کرنا چاہیے۔" اس شخص نے حدیث میں "کبوتر بازی" کا اپنی طرف سے اضافہ کر دیا۔ مہدی اس حدیث سے واقف تھا۔ اس نے فوراً ہی کبوتر کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور کہنے لگا، "میں اس بات سے واقف ہوں۔"

روزگار کا حصول

کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو لوگوں کو قصے کہانیاں سنا کر اپنے روزگار کا بندوبست کیا کرتے تھے۔ وہ لوگوں کو عجیب و غریب اور طلسماتی قصے سنا کر ان سے رقم وصول کرتے۔ ابو سعید المدائنی اسی قسم کا ایک قصہ گو ہے۔

نوٹ: عام لوگ قصے کہانیوں کو پسند کرتے ہیں۔ ناول، ڈرامہ، افسانہ وغیرہ کی اصناف سخن سب انسان کے اسی شوق کے باعث پیدا ہوئی ہیں۔ دنیا کے دوسرے معاشروں میں قدیم دور سے ہی کہانیوں اور ڈراموں کا رواج رہا ہے۔ مسلم معاشروں میں چونکہ ڈرامے کو اچھا نہیں سمجھا گیا اس وجہ سے اس کی جگہ قصہ خوانی نے لے لی۔ قرون وسطی میں قصہ گو بڑے بڑے میدانوں یا چوراہوں پر باقاعدہ قصہ گوئی کی محفلیں جماتے اور لوگوں سے رقم لے کر انہیں قصے سناتے۔ داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوشربا اسی قسم کی داستانیں تھیں۔ اس قسم کے بعض قصہ گو حضرات نے بعض قصوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کر دیا۔

شہرت کا حصول

ایسی عجیب و غریب احادیث کو، جو حدیث کے کسی ماہر کے پاس موجود نہیں تھیں، محض سستی شہرت کے حصول لئے ایجاد کیا گیا۔ ابن ابی دحیۃ اور حماد النصیبیجیسے لوگ احادیث کی سند کو عجیب و غریب بنانے کے لئے اس میں تبدیلیاں کر دیتے تاکہ لوگ انہیں سننے کے لئے ان کے پاس آئیں۔ (تدريب الراوي جـ1 ـ ص 284)

وضع حدیث کے بارے میں فرقہ کرامیہ کا نقطہ نظر

دور قدیم میں ایک بدعتی فرقہ کرامیہ پیدا ہوا۔ ان کے نزدیک ترغیب و ترہیب (یعنی لوگوں کو نیکیوں کی طرف رغبت دلانے اور برائیوں سے روکنے) کے لئے احادیث ایجاد کرنا جائز تھا۔ ان حضرات نے متواتر حدیث "جس نے مجھ سے جھوٹ منسوب کیا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔" کے بعض طرق میں موجود اس اضافے سے استدلال کیا کہ "جس نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے مجھ سے جھوٹ منسوب کیا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔" یہ اضافہ حدیث کے ماہرین اور حفاظ کے نزدیک ثابت شدہ نہیں ہے۔

††††††††† ان میں سے بعض افراد کا نقطہ نظر یہ تھا کہ، "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے جھوٹ منسوب نہیں کرتے بلکہ آپ (کے مقصد کے حصول) کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔" یہ ایک نہایت ہی احمقانہ استدلال تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اپنے دین کو پھیلانے کے لئے کسی جھوٹے پروپیگنڈا کے محتاج ہرگز نہ تھے۔

††††††††† فرقہ کرامیہ کا یہ نقطہ نظر مسلمانوں کے اجماع کے خلاف تھا۔ اس کے بعد شیخ ابو محمد الجوینی کا دور آیا۔ انہوں نے احادیث ایجاد کرنے والے فرد کی تکفیر کا فتوی جاری کیا۔

موضوع حدیث بیان کرنے کے بارے میں بعض مفسرین کی غلطی

قرآن مجید کے بعض مفسرین نے بھی اپنی تفسیروں میں موضوع احادیث کو بیان کرنے کی غلطی کی ہے۔ انہوں نے ان احادیث کا موضوع ہونا بیان نہیں کیا ہے۔ ان میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے منسوب وہ احادیث شامل ہیں جن میں قرآن مجید کی مختلف سورتوں کی تلاوت کے فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں ثعلبی، واحدی، زمخشری، بیضاوی اور شوکانی جیسے مفسرین شامل ہیں۔

موضوع حدیث کے بارے میں مشہور تصانیف

       ابن جوزی کی کتاب الموضوعات۔ یہ اس فن میں قدیم ترین تصنیف ہے۔ ابن جوزی حدیث کو موضوع قرار دینے میں نرمی سے کام لیتے تھے اس وجہ سے اہل علم نے ان پر تنقید کی ہے۔

       سیوطی کی اللائی المصنوعۃ فی الحادیث الموضوعۃ۔ یہ ابن جوزی کی کتاب کا خلاصہ ہے۔ اس میں ان پر تنقید بھی کی گئی ہے اور ایسی مزید موضوع احادیث بھی بیان کی گئی ہیں جن کا ابن جوزی نے ذکر نہیں کیا۔

       ابن عراق الکنانی کی تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاحادیث الشنیعۃ الموضوعۃ۔ یہ پہلی کتاب کی مزید تلخیص ہے اور اس کی ترتیب نہایت ہی مناسب ہے۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       حدیث وضع کرنے کے اسباب بیان کیجیے۔ لوگوں نے شدید ترین وعید کے باوجود احادیث وضع کرنے کا عمل کیوں شروع کیا؟

       نیک مقصد کے لئے جھوٹ گھڑ کر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کر دینے کے کیا نتائج اس دنیا اور اصل دنیا یعنی آخرت میں نکلیں گے؟

       اوپر بیان کردہ کتب کو انٹرنیٹ پر تلاش کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† فہرست††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter