بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 4: مسترد شدہ خبر

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 15: مُعَلَّل حدیث

معلل حدیث کی تعریف

لغوی اعتبار سے "معلل"، اعلّ کا اسم مفعول ہے۔ حدیث کے ماہرین کی نزدیک لفظ معلل کا استعمال غیر مشہور معنی میں ہے اور وہ ہے کمزور اور مسترد کیا ہوا۔ اصطلاحی مفہوم میں یہ اس حدیث کو کہتے ہیں جس میں کسی پوشیدہ خامی کی وجہ سے اس کا صحیح ہونا مشکوک ہو گیا ہو اگرچہ بظاہر وہ حدیث صحیح لگ رہی ہو۔ اگر کسی حدیث کے راوی پر "وہمی" ہونے کا الزام ہو تو اس کی حدیث معلل ہو جاتی ہے۔

"علّت" کی تعریف

علت کسی پوشیدہ خامی کو کہتے ہیں جس کے نتیجے میں حدیث کے صحیح ہونے پر اعتراض کیا جا سکے۔ حدیث کے ماہرین کے نزدیک "علت" کی دو لازمی خصوصیات ہیں: ایک تو اس کا پوشیدہ ہونا اور دوسرے اس کے نتیجے میں حدیث کی صحت کا مشکوک ہو جانا۔

††††††††† اگر ان دونوں میں سے ایک بھی شرط نہ پائی جائے تو حدیث کے ماہرین کی اصطلاح میں اسے علت نہ کہا جائے گا۔ مثلاً اگر حدیث میں کوئی خامی ہے لیکن وہ ظاہر ہے، پوشیدہ نہیں ہے یا خامی تو پوشیدہ ہے لیکن اس سے حدیث کی صحت مشکوک نہیں ہوتی تو اس صورت میں اس خامی کو علت نہیں کہا جائے گا۔

لفظ "علت" کا غیر اصطلاحی معنی میں استعمال

ہم نے اوپر علت کی جو تعریف بیان کی ہے، وہ محدثین کے نزدیک علت کی اصطلاحی تعریف ہے۔ غیر اصطلاحی مفہوم میں بھی لفظ "علت" کو حدیث سے متعلق کسی بھی قسم کے الزام کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔

       راوی کے جھوٹ بولنے، لا پرواہ ہونے، اس کے حافظے کے کمزور ہونے، وغیرہ کو بھی علت کہا جاتا ہے۔ امام ترمذی نے اسے اسی معنی میں استعمال کیا ہے۔

       ایسی خامی کو بھی علت کہا جاتا ہے جس سے حدیث کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا جیسا کہ کسی ثقہ راوی کا مرسل حدیث روایت کرنا۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث صحیح تو ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ معلل بھی ہے۔

"علل حدیث" کے فن کی اہمیت اور اس کے ماہرین

علل حدیث کو جاننے کا علم، علوم حدیث میں مشکل ترین ہے اور اس کا درجہ دیگر علوم سے بلند ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس علم کے ذریعے احادیث میں پوشیدہ خامیوں کو تلاش کیا جاتا ہے جو کہ سوائے علوم حدیث کے اسپیشلسٹ ماہرین کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔ اس علم کے ماہرین کے لئے اعلی درجے کا حافظہ، معلومات اور دقت نظر درکار ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس میدان میں سوائے چند قلیل ماہرین جیسے ابن مدینی، احمد، بخاری، ابو حاتم اور دارقطنی کے علاوہ کسی نے قدم نہیں رکھا۔

کس قسم کی اسناد میں علل تلاش کی جاتی ہیں؟

علت انہی اسناد میں تلاش کی جاتی ہیں جن میں بظاہر صحیح ہونے کی تمام شرائط پائی جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ضعیف حدیث میں تو علتیں تلاش کرنے کی ضرورت ہوتی ہی نہیں کیونکہ اس پر عمل کرنا ضروری نہیں ہوتا۔

علت کو معلوم کرنے کے لئے کس چیز سے مدد لی جاتی ہے؟

علت کو پہچاننے کے لئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی حدیث کو بیان کرنے میں راوی بالکل اکیلا ہی تو نہیں، اس کی روایت دیگر راویوں کی روایت سے مختلف تو نہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ دیگر شواہد بھی تلاش کیے جاتے ہیں۔

††††††††† اس فن کا ماہر تفصیلی چھان بین کے بعد اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ راوی کو اس حدیث کے بارے میں وہم لاحق ہوا تھا یا نہیں۔ اس نے کہیں ایک متصل سند والی حدیث کو مرسل (جس کی سند میں سے صحابی کا نام غائب ہو) تو نہیں بنا دیا؟ کہیں اس نے موقوف حدیث (صحابی تک پہنچنے والی حدیث) کو مرفوع (رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک پہنچنے والی) تو نہیں کر دیا؟ کہیں اس نے حدیث میں کوئی اور حدیث تو نہیں ملا دی یا اپنے وہمی پن کی وجہ سے کچھ اور تو اس حدیث میں داخل نہیں کر دیا؟ ان تمام تفصیلات کی بنیاد پر حدیث کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

معلل حدیث کو جاننے کا طریقکار کیا ہے؟

معلل حدیث کو جاننے کا طریق کار یہ ہے کہ کسی حدیث کے تمام طرق (اسناد) کو جمع کیا جائے۔ اس کی مختلف روایتوں اور راویوں کے باہمی اختلاف پر غور کیا جائے۔ مختلف راویوں کی مہارت اور احادیث کو محفوظ رکھنے (ضبط) کا موازنہ کیا جائے اور اس کے بعد حدیث کی علت سے متعلق حکم لگایا جائے۔

علت کہاں موجود ہوتی ہے؟

علت زیادہ تر حدیث کی اسناد میں ہوا کرتی ہے جیسا کہ حدیث کے مرسل یا موقوف ہونے کی علت۔ کبھی کبھار علت حدیث کے متن میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس کی مثال وہ حدیث ہے جس میں نماز میں بسم اللہ پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔

کیا سند کی علتوں سے متن بھی متاثر ہوتا ہے؟

بعض اوقات سند میں علت ہونے کی وجہ سے متن بھی متاثر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر حدیث مرسل ہو تو اس علت کے باعث متن بھی متاثر ہوتا ہے۔ بعض اوقات علت سے صرف سند ہی متاثر ہوتی ہے اور حدیث کا متن صحیح رہتا ہے۔ اس کی مثال یہ حدیث ہے۔

یعلی بن عبید ثوری سے، وہ عمرو بن دینار سے، اور وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوع روایت کرتے ہیں کہ "(جب تک خرید و فروخت کرنے والے اپنی جگہ سے الگ نہ ہوں تو انہیں) تجارت میں (سودا منسوخ کرنے کے) اختیار کی اجازت ہے۔"

اس حدیث میں متن درست ہے البتہ سند میں یہ غلطی موجود ہے کہ اس میں غلطی سے عمرو بن دینار کا ذکر کیا گیا ہے۔ اصل راوی عبداللہ بن دینار ہیں۔ چونکہ عمرو اور عبداللہ دونوں ہی ثقہ راوی ہیں اس وجہ سے راوی کا نام غلط بیان کر دینے سے حدیث کے متن میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

معلل حدیث سے متعلق مشہور تصانیف

       ابن المدینی کی کتاب العلل

       ابن ابی حاتم کی علل الحدیث

       احمد بن حنبل کی العلل و معرفۃ الرجال

       ترمذی کی العلل الصغیر اور العلل الکبیر

       دارقطنی کی العلل الواردۃ فی الاحادیث النبویۃ۔ یہ کتاب سب سے جامع ترین ہے۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       حدیث میں علت سے کیا مراد ہے؟

       معلل حدیث کی پہچان کا طریق کار کیا ہے؟

       اوپر بیان کردہ کتب کو انٹرنیٹ پر تلاش کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter