بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 4: مسترد شدہ خبر

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 16: نامعلوم راوی کی بیان کردہ حدیث

تعریف

لغوی اعتبار سے "جہالت"، علم کا متضاد ہے اور اس کا معنی ہے کسی چیز کا نامعلوم ہونا۔ اصطلاحی مفہوم میں "الجھالۃ الراوی" کا مطلب ہے کہ ہمیں کسی حدیث کے راوی کی شخصیت یا اس کے حالات کا تفصیلی علم نہ ہو۔

عدم واقفیت کے اسباب

راوی سے عدم واقفیت کی تین بڑی وجوہات ہیں:

       راوی کے کثیر نام: بعض اوقات کوئی راوی اپنے نام یا کنیت یا لقب یا صفت یا پیشے یا نسب میں سے کسی ایک سے مشہور ہوتا ہے۔ بعض اوقات کسی وجہ سے اس کا مشہور نام لینے کی بجائے دوسرا نام لے دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ دو اشخاص ہیں۔ اس طرح سے غیر مشہور نام کے بارے میں ہمیں علم نہیں ہوتا ہے کہ یہ کون شخص ہے۔

       قلت روایت: کسی شخص نے کثیر تعداد میں لوگ حدیث روایت نہیں کرتے۔ صرف ایک آدھ ہی ایسا شخص ہوتا ہے جو اس سے حدیث کو روایت کر رہا ہو۔

       واضح طور پر نام کی نشاندہی نہ ہونا: بعض اوقات اختصار یا کسی اور وجہ سے ایک راوی کا نام نہیں لیا جاتا۔ ایسی احادیث کو "مبہم" کہا جاتا ہے۔

مثالیں

       کثیر ناموں کی مثال: اس کی مثال محمد بن سائب بن بشر الکلبی ہیں۔ بعض لوگ انہیں دادا سے نسبت دیتے ہوئے محمد بن بشر کہتے ہیں، بعض لوگ انہیں حماد بن سائب کے نام سے جانتے ہیں، بعض انہیں ان کی کنیت "ابو نضر" سے، بعض "ابو سعید" سے، بعض "ابو ہشام" سے جانتے ہیں۔ یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ سب بہت سے لوگ ہیں حالانکہ یہ ایک ہی شخص ہیں۔

       قلت روایت کی مثال: ابو العشرا الدارمی ایک تابعی ہیں۔ ان سے سوائے حماد بن سلمۃ کے کسی اور نے حدیث روایت نہیں کی۔

       نام کی نشاندہی نہ کرنے کی مثال: جیسے راوی کہے، یہ حدیث مجھ سے 'فلاں' نے بیان کی، یا 'ایک شخص' نے بیان کی، یا 'شیخ' نے بیان کی وغیرہ وغیرہ۔

مجہول کی تعریف

مجہول اس شخص کو کہتے ہیں جس کی شخصیت یا صفات مشہور نہ ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسا راوی ہو جس کی شخصیت یا صفات جانی پہچانی نہ ہوں۔ یا اس کا نام تو لوگوں کو معلوم ہو لیکن اس کی صفات جیسے کردار یا حدیث کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت کا لوگوں کو علم نہ ہو۔

مجہول کی اقسام

مجہول افراد کی تین اقسام ہیں:

       مجہول العین: یہ وہ شخص ہے جس کا نام تو بیان کر دیا گیا ہو لیکن اس سے سوائے ایک راوی کے اور کوئی حدیث روایت نہ کرتا ہو۔ اس شخص کی بیان کردہ حدیث کو قبول نہ کیا جائے گا، ہاں اگر اس شخص (کے حالات کی چھان بین کے بعد اس) کو ثقہ قرار دے دیا جائے تب اس حدیث کو قبول کر لیا جائے گا۔ اس شخص کو ثقہ قرار دینے کے دو طریقے ہیں۔ یا تو اس مجہول شخص سے روایت کرنے والے راوی کے علاوہ کوئی اور راوی بھی اس مجہول شخص کو ثقہ قرار دے یا پھر اس مجہول شخص کو "جرح و تعدیل" کے فن کا کوئی ماہر ثقہ قرار دے۔ مجہول العین شخص کی بیان کردہ حدیث کا الگ سے کوئی نام نہیں رکھا گیا۔ اس کی بیان کردہ حدیث "ضعیف" ہی میں شمار ہوتی ہے۔

       مجہول الحال: یہ وہ شخص ہے جس سے دو یا دو سے زائد افراد نے حدیث روایت کی ہو لیکن انہوں نے اس کے ثقہ ہونے کو واضح طور پر بیان نہ کیا ہو۔ اہل علم کی اکثریت کے نقطہ نظر کے مطابق ایسے شخص کی حدیث کو بھی مسترد کر دیا جائے گا۔ ایسی حدیث کا بھی کوئی خاص نام نہیں ہے۔ اسے بھی "ضعیف" حدیث ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔

       مبہم: یہ وہ شخص ہے جس کا نام سند میں نہ لیا گیا ہو (بلکہ 'ایک شخص' یا 'شیخ' کہہ دیا گیا ہو۔) ایسے شخص کی روایت کو بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ ہاں اگر کسی دوسری سند میں اس کا نام واضح طور پر بیان کیا گیا ہو تب اس روایت کو قبول کیا جا سکتا ہے۔ ایسے شخص کی روایت کو مسترد کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ مبہم شخص اچھے کردار کا ہے یا نہیں؟ اگر یہ کہہ کر روایت کی گئی ہو کہ "مجھ سے ایک ثقہ شخص نے حدیث بیان کی" تب بھی اس روایت کو قبول نہ کیا جائے گا کیونکہ ایک شخص، ایک ماہر کے نزدیک ثقہ ہو سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ دوسرے کے نزدیک وہ ثقہ نہ ہو۔ ایسی حدیث کا ایک الگ نام "مبہم" رکھا گیا ہے لیکن ہم نے اسے مجہول کے تحت ہی بیان کر دیا ہے۔ بیقونی اپنی نظم میں کہتے ہیں، "مبہم وہ حدیث ہے جس کی سند میں ایسا راوی ہو جس کا نام بیان نہ کیا گیا ہو۔"

عدم واقفیت کے اسباب سے متعلق مشہور تصانیف

       خطیب بغدادی کی کتاب "موضع اوھام الجمع و التفریق" ایک ہی راوی کے کثیر ناموں سے متعلق ہے۔

       قلیل روایت والے راویوں سے متعلق لکھی گئی کتب کو "کتب الوحدان" کا نام دیا گیا ہے۔ یہ وہ کتب ہیں جن میں ان راویوں کے حالات مذکور ہیں جن سے صرف کوئی ایک شخص ہی حدیث روایت کرتا ہے۔ اس میں امام مسلم کی "الوحدان" شامل ہے۔

       مبہم راویوں سے متعلق کتب کو "المبہمات" کہا جاتا ہے۔ اس کی مثال خطیب بغدادی کی کتاب "الاسماء المبہمۃ فی الانباء المحکمۃ" اور ولی الدین العراقی کی کتاب "المستفاد من مبہمات المتن والاسناد" ہے۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       نامعلوم راوی کی حدیث کو مسترد کیوں کیا جاتا ہے؟

       مجہول العین، مجہول الحال اور مبہم راویوں کا فرق بیان کیجیے۔

       اوپر بیان کردہ کتب کو انٹرنیٹ پر تلاش کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter