بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 4: مسترد شدہ خبر

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 17: بدعتی راوی کی بیان کردہ حدیث

تعریف

لغوی اعتبار سے بدعت کا معنی ہے نئی چیز۔ اصطلاحی مفہوم میں نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ذریعے دین کے مکمل ہو جانے کے بعد اس میں نئے عقائد و اعمال کے اضافے کو بدعت کہا جاتا ہے۔

بدعت کی اقسام

بدعت کی دو اقسام ہیں:

       کفر تک پہنچانے والی بدعت: ایسی بدعت جس کے باعث اس کو اختیار کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے۔ جو شخص دین کے متواتر اور معلوم احکام کا انکار کرے یا دین کے بنیادی عقائد سے مختلف عقیدہ رکھے، اس کی بیان کردہ حدیث کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ (مثلاً کوئی خدا کے وجود، آخرت، نماز، زکوۃ وغیرہ کا منکر ہو۔) (النخبة وشرحها ص 52)

       فسق و فجور کی حد تک پہنچانے والی بدعت: اس بدعت کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج تو نہیں ہوتا البتہ گناہگار ضرور ہوتا ہے۔ (مثلاً کوئی شخص دین میں نت نئی عبادات یا وظائف ایجاد کر لے۔)

بدعتی کی بیان کردہ حدیث کا حکم

اگر بدعتی کی بدعت حد کفر تک پہنچتی ہو تو اس کی روایت کو رد کر دیا جائے گا۔ اگر اس کی بدعت حد کفر تک نہ پہنچتی ہو بلکہ ایسا بدعتی فسق و فجور کی حد تک ہی محدود ہو تو اکثر اہل علم کے نزدیک اس کی روایت کو دو شرائط کی بنیاد پر قبول کیا جائے گا:

       وہ شخص اپنی بدعت کی طرف دعوت دینے والا نہ ہو۔

       وہ ایسی حدیث روایت نہ کرے جو اس کی بدعت کو فروغ دینے والی ہو۔

بدعتی کی حدیث کا کیا کوئی خاص نام ہے؟

بدعتی کی بیان کردہ حدیث کا کوئی خاص نام نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ مردود احادیث کی ایک قسم ہے۔ ایسی حدیث کو سوائے اوپر بیان کردہ شرائط کے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

نوٹ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جو دین دیا، وہ کامل ہے۔ جو شخص اس دین سے ہٹ کر کوئی نیا عقیدہ، نئی عبادت یا نیا حکم ایجاد کرتا ہے، وہ شاید یہ سمجھتا ہے کہ آپ کا دین کامل نہیں اس لئے اس میں اضافہ ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایسا جرم ہے جس کے بعد ایسے شخص کی بیان کردہ حدیث کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔

مسلمانوں کی تاریخ میں ایک المیہ یہ رہا ہے کہ عہد رسالت کے بعد پیدا ہو جانے والے نئے نئے فرقوں نے اپنے نظریات کو پھیلانے کے لئے احادیث گھڑ کر پھیلانا شروع کیں۔ بعض فرقے تو اس ضمن میں خاصے بدنام ہیں کہ انہوں نے اپنے نظریات کو پھیلانے کے لئے جعلی احادیث کا ہی سہارا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے ایسے افراد کی احادیث کو قبول نہیں کیا۔ ہاں اگر کوئی شخص اپنی بدعت کے بارے میں متعصب نہ ہو اور اس کی دعوت پھیلانے کے لئے ایسا نہ کرے تب اس کی حدیث قبول کی جا سکتی ہے۔

اس سے محدثین کی وسعت نظری اور ان کے غیر متعصب ہونے کا علم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخالف فرقے سے تعلق رکھنے والے شخص کی بیان کردہ حدیث کو بھی کچھ ضروری شرائط کے ساتھ قبول کر لیا کرتے تھے۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       کسی بدعت سے وابستہ راوی کی بیان کردہ حدیث کو قبول کرنے میں تردد کی وجہ بیان کیجیے۔

       بدعت میں مبتلا شخص کی حدیث کو کن شرائط کی بنیاد پر قبول کیا گیا ہے؟

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter