بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 4: مسترد شدہ خبر

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 20: مُدرَج حدیث

مدرج حدیث کی تعریف

لغوی اعتبار سے "مدرج"، ادراج کا اسم مفعول ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی چیز میں کچھ داخل کر دینا یا اس میں کوئی اور چیز ملا دینا۔ اصطلاحی مفہوم میں "مدرج" اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند میں تبدیلی کر دی گئی ہو یا متن میں کوئی بات اس طریقے سے داخل کر دی گئی ہو کہ اسے علیحدہ شناخت نہ کیا جا سکے۔

مدرج حدیث کی اقسام

مدرج حدیث کی دو اقسام ہیں: مدرج الاسناد اور مدرج المتن۔

††††††††† مدرج الاسناد اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند میں تغیر و تبدل کیا گیا ہو۔ اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایک راوی حدیث کی سند بیان کر رہا تھا۔ سند بیان کرتے ہی اس نے (حدیث کی بجائے) اپنی طرف سے کوئی بات کر دی اور سننے والے نے یہ سمجھا کہ ان اسناد کا متن یہ بات ہے جو ان صاحب نے کر دی ہے۔

††††††††† اس کی مثال ثابت بن موسی کا قصہ ہے جو کہ ایک عابد و زاہد شخص تھے۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ "جس شخص نے رات کی نماز کثرت سے ادا کی، دن میں اس کا چہرہ خوب صورت ہو جائے گا۔" (ابن ماجة ـ باب قيام الليل ـ جـ1 ص 422 رقم الحديث / 1333)

اصل قصہ یہ ہے کہ ثابت بن موسی، شریک بن عبداللہ القاضی کی محفل میں آئے۔ اس وقت شریک اپنے شاگردوں کو کچھ اس طرح حدیث لکھوا رہے تھے۔ "اعمش نے ابو سفیان سے اور انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔" یہ کہہ کر وہ خاموش ہوئے تاکہ دور کے شاگردوں کو آواز پہنچانے والا شخص اتنا حصہ لکھوا دے۔ اسی دوران ان کی نظر ثابت بن موسی پر پڑی جو کہ اچانک وہاں آ گئے تھے اور ان کے منہ سے نکلا، "جس شخص نے رات کی نماز کثرت سے ادا کی، دن میں اس کا چہرہ خوب صورت ہو جائے گا۔" اس بات سے ان کا مقصد ثابت کی عبادت اور پرھیز گاری کی تعریف کرنا تھا۔ ثابت غلطی سے یہ سمجھ بیٹھے کہ ان کی یہ بات، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث ہے اور انہوں نے اسے روایت کر دیا۔

††††††††† مدرج المتن اس حدیث کو کہتے ہیں جس کے متن میں کوئی بات اس طرح داخل کر دی گئی ہو کہ اسے علیحدہ شناخت کرنا مشکل ہو جائے۔ اس کی تین صورتیں ممکن ہیں:

       حدیث کے شروع میں کوئی بات داخل کر دی جائے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے تاہم حدیث کے درمیان کی نسبت اس کے واقعات زیادہ ہیں۔

       حدیث کے درمیان میں کوئی بات داخل کر دی جائے۔ ایسا ہونے کا امکان سب سے کم ہے۔

       حدیث کے آخر میں کوئی بات داخل کر دی جائے۔ اکثر اوقات ایسا ہی ہوتا ہے۔

مدرج حدیث کی مثال

حدیث کے شروع میں ادراج:

حدیث کے شروع میں کوئی بات اس وجہ سے داخل کی جا سکتی ہے کہ راوی حدیث سے اخذ شدہ نتیجہ پہلے بیان کرے اور اس کے ساتھ ہی حدیث بیان کر دے۔ سننے والا یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ پوری بات حدیث ہی ہے۔ اس کی مثال خطیب بغدادی نے بیان کی ہے:

ابی قطن اور شبابہ شعبہ سے ، محمد بن زیاد سے اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "وضو اچھی طرح کیا کرو۔ ان دھلی ایڑیوں کو آگ کی سزا دی جائے گی۔"

اس حدیث میں "وضو اچھی طرح کیا کرو" سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بات ہے جسے حدیث کا حصہ سمجھ لیا گیا ہے۔ اس کی وضاحت بخاری کی اس روایت سے ہوتی ہے۔

آدم شعبہ سے، وہ محمد بن زیاد سے، اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: "وضو اچھی طرح کیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ان دھلی ایڑیوں کو آگ کی سزا دی جائے گی۔"

خطیب یہ مثال بیان کر کہتے ہیں کہ ابو قطن اور شبابہ دونوں حضرات نے شعبہ سے اس حدیث کو روایت کرتے ہوئے اس جملے کو حدیث کا حصہ سمجھ لیا جبکہ کثیر تعداد میں راویوں نے اس حدیث کو بالکل اسی طرح سے روایت کیا جیسا کہ آدم نے شعبہ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (تدريب الراوي جـ 1 ـ ص 270)

حدیث کے درمیان میں ادراج

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا وحی کے آغاز سے متعلق بیان کرتی ہیں: "نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم غار حراء میں جا کر "تحنث" کیا کرتے تھے۔ یہ عبادت کو کہتے ہیں۔ آپ متعدد راتیں وہیں گزارا کرتے تھے۔" (البخاري ـ باب بدء الوحي)

اس حدیث میں "یہ عبادت کو کہتے ہیں" ابن شہاب الزہری کی بات ہے جو کہ اس حدیث میں داخل ہو گئی ہے (کیونکہ زہری حدیث بیان کرنے کے درمیان ہی میں "تحنث" کی وضاحت کرنے لگے تھے۔)

نوٹ: کچھ وقت کے لئے دنیا سے لا تعلق ہو کر کسی الگ تھلگ مقام پر عبادت کرنے کو تحنث کہا جاتا ہے۔ دور قدیم ہی سے عبادت کا یہ انداز دین دار افراد میں عام تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم بھی اعلان نبوت سے پہلے غار حرا میں تحنث کیا کرتے تھے۔ دین اسلام میں تحنث کو "اعتکاف" کی شکل دے کر جاری کر دیا گیا ہے۔ ابن شہاب زہری پر بعض محدثین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ وہ اکثر اوقات بات کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے الفاظ کو حدیث میں داخل کر دیا کرتے تھے۔

حدیث کے آخر میں ادراج

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "غلام کے لئے دوہرا اجر ہے۔ اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، حج کرنا اور والدہ کی خدمت کا معاملہ نہ ہوتا تو میں غلامی کی حالت میں موت کو پسند کرتا۔" (البخاري في العتق)

اس حدیث میں "اس اللہ کی قسم۔۔۔۔" سے آخر تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بات حدیث کا حصہ بن گئی ہے۔ اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زبان سے ادا ہونا ناممکن ہے کیونکہ آپ غلامی کی خواہش نہ کر سکتے تھے اور نہ ہی آپ کی والدہ موجود تھیں جن کی آپ خدمت کر سکتے۔

نوٹ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دور سے پہلے ہی غلامی دنیا میں موجود تھی۔ اس دور کا پورا معاشی نظام بالکل اسی طرح غلامی کی بنیاد پر چل رہا تھا جیسا کہ آج کل کا معاشی نظام ملازمت کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ حضور نے غلامی کے خاتمے کے لئے تدریجی طریقہ اختیار کیا۔ اس ضمن میں ایک اہم کام "غلامی" سے متعلق نفسیات کو درست کرنا تھا کیونکہ اس دور میں غلام کو نہایت ہی حقیر مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ آپ نے یہ فرما کر کہ "غلام کے لئے دوہرا اجر ہے"، غلاموں کی عزت و توقیر میں اضافہ فرمایا۔ غلامی سے متعلق اسلام نے جو اصلاحات کیں، ان کی تفصیل کے لئے میری کتاب "اسلام میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کے انسداد کی تاریخ" کا مطالعہ کیجیے۔

غلام کے لئے دوہرا اجر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے دنیاوی مالک کی پابندیوں میں رہ کر اس کا کام کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی عبادت بھی کرتا ہے۔ اس کی محنت ایک آزاد شخص کی نسبت زیادہ ہے جس کے باعث اسے دوہرا اجر ملے گا۔

ادراج کرنے کی وجوہات

ادراج کرنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے مشہور ترین یہ ہیں:

       کسی شرعی حکم کا بیان

       حدیث کے مکمل ہونے سے پہلے ہی اس میں سے کسی شرعی حکم کا استنباط

       حدیث میں بیان کردہ کسی نئے لفظ کی وضاحت

ادراج کا علم کیسے ہوتا ہے؟

ادراج کا علم کئی ذرائع سے ہو سکتا ہے جن میں سے بعض یہ ہیں:

       کسی دوسری روایت میں یہ حدیث موجود ہو اور اس میں داخل شدہ متن الگ سے بیان کر دیا گیا ہو۔

       اس فن کے اسپیشلسٹ اہل علم تحقیق کر کے واضح کر دیں کہ اس مقام پر الگ سے متن داخل کیا گیا ہے۔

       راوی خود اقرار کر لے کہ یہ اس کی اپنی بات ہے جو حدیث میں داخل ہو گئی ہے۔

       رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زبان مبارک سے اس بات کا صادر ہونا ناممکن ہو۔

ادراج کا حکم

تمام محدثین اور فقہاء کے نزدیک ادراج کرنا حرام ہے۔ اس سے مستثنی صرف کسی نئے لفظ کی وضاحت ہے کہ وہ ممنوع نہیں ہے۔ اسی وجہ سے زہری اور دیگر ائمہ حدیث نے ایسا کیا ہے۔

نوٹ: ادراج میں چونکہ ایک شخص اپنی بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی طرف منسوب کر دیتا ہے جس پر جہنم کی وعید ہے، اس وجہ سے ادراج کو ہر صورت میں ممنوع ہونا چاہیے۔ اگر کسی نئے لفظ کی وضاحت بھی درکار ہو تو اسے الگ سے بیان کرنا چاہیے تاکہ کوئی شخص اس وضاحت کو حضور کا ارشاد نہ سمجھ بیٹھے۔

مدرج حدیث کے بارے میں مشہور تصانیف

       خطیب بغدادی کی الفصل للوصل المدرج

       ابن حجر کی تقریب المنھج بترتیب المدرج، یہ خطیب کی کتاب کی تلخیص اور اس میں کچھ اضافہ جات پر مبنی ہے۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       ادراج کی تعریف اور اس کی مختلف اقسام بیان کیجیے۔

       ادراج کی وجوہات کیا ہوتی ہیں؟ اسے کس طرح سے پہچانا جا سکتا ہے؟

       اوپر بیان کردہ کتب کو انٹرنیٹ پر تلاش کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter