بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 4: مسترد شدہ خبر

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 21: مَقلُوب حدیث

مقلوب حدیث کی تعریف

لغوی اعتبار سے مقلوب، "قلب" کا اسم مفعول ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کا رخ تبدیل کرنا۔ (یعنی مقلوب اس چیز کو کہتے ہیں جس کا رخ تبدیل کیا گیا ہو۔) اصطلاحی مفہوم میں مقلوب ایسی حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند یا متن میں سے ایک لفظ کو دوسرے لفظ سے تبدیل کر دیا گیا ہو۔ دو الفاظ کو آگے پیچھے کر کے یا ایک کی جگہ دوسرا لفظ استعمال کر کے ایسا کیا جا سکتا ہے۔

مقلوب حدیث کی اقسام

مقلوب حدیث کی دو بڑی اقسام ہیں: مقلوب السند اور مقلوب المتن۔

       مقلوب السند اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند میں تبدیلی کر دی گئی ہو۔ اس کی دو صورتیں ہیں:

       کسی راوی اور اس کے باپ کے نام کو الٹ دیا جائے جیسے کہ "کعب بن مرۃ" سے مروی کسی حدیث بیان کرتے ہوئے ان کے نام کو "مرۃ بن کعب" کر دیا جائے۔

       کسی راوی کے نام کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرے راوی کا نام بیان کر دیا جائے۔ ایسا جان بوجھ کر حدیث بیان کرنے میں منفرد بننے کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ "سالم" کی کسی مشہور حدیث میں سے ان کا نام ہٹا کر اس کی جگہ "نافع" کا نام بیان کر دیا جائے۔

مقلوب حدیث روایت کرنے والوں میں"حماد بن عمرو النصیبی" ایسا شخص تھا جو اس قسم کی تبدیلیاں کیا کرتا تھا۔ وہ روایت کرتا ہے:

حماد النصیبی نے الاعمش سے، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "جب تم راستے میں ان مشرکین سے ملو تو انہیں سلام میں پہل نہ کرو۔"

نوٹ: محدثین کو مسلم معاشرے میں بہت بلند اسٹیٹس حاصل تھا۔ حماد جیسے بعض لوگوں نے اپنی انفرادیت قائم کرنے اور اپنا سکہ جمانے کے لئے دوسروں کی بیان کردہ احادیث کو سند میں تبدیلیاں کر کے اپنے نام سے منسوب کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ان کی طرف مائل ہوں اور انہیں بھی محدثین جیسا اسٹیٹس حاصل ہو سکے۔ علمی دنیا میں یہ کام چوری ہی کہلاتا ہے۔

یہ حدیث مقلوب ہے کیونکہ اس میں حماد نے "الاعمش" کا نام داخل کر دیا ہے۔ یہ بات مشہور ہے کہ اس حدیث کے روایت کرنے والے "سہیل بن ابی صالح" ہیں جو اسے اپنے والد سے اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ امام مسلم نے اس حدیث کی سند اسی طرح بیان کی ہے۔ یہ "قلب حدیث" کی ایسی قسم ہے جس کے راوی پر حدیث چوری کرنے کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔

مقلوب المتن اس حدیث کو کہتے ہیں جس کے متن میں کوئی تبدیلی کی گئی ہو۔ اس کی بھی دو صورتیں ہیں:

       راوی حدیث کے متن میں بعض الفاظ آگے پیچھے کر دے۔ اس کی مثال صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو ان سات قسم کے افراد کے بارے میں ہے جنہیں روز قیامت اللہ تعالی کی رحمت کا خصوصی سایہ نصیب ہو گا۔ ان میں ایک شخص وہ ہے "جو اس طرح چھپا کر صدقہ کرتا ہے کہ اس کے دائیں ہاتھ کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ بائیں ہاتھ سے اس نے کیا خرچ کیا ہے۔" بعض راویوں نے اس حدیث کے الفاظ میں کچھ اس تبدیلی کر دی ہے کہ "اس کے بائیں ہاتھ کو یہ علم نہیں ہوتا کہ اس نے دائیں ہاتھ سے کیا خرچ کیا ہے۔" (البخاري في الجماعة ، ومسلم في الزكاة)

       راوی ایک حدیث کے متن کو دوسری حدیث کے سند سے ملا دے اور دوسری کے متن کو پہلی کی سند سے۔ یہ عام طور پر امتحان کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس کی مثال وہ مشہور واقعہ ہے جو اہل بغداد اور امام بخاری کے ساتھ پیش آیا۔ بغداد کے اہل علم نے سو حدیثوں کی سندوں اور متنوں کو خلط ملط کر دیا تاکہ وہ امام بخاری کی یادداشت کا امتحان لے سکیں۔ امام بخاری نے ان تمام احادیث کی سندوں اور متنوں کو صحیح صحیح طریقے سے جوڑ دیا اور اس میں کوئی غلطی نہ کی۔ (تاريخ بغداد جـ2 ـ ص 20)

قلب کی وجوہات

مختلف راویوں کے احادیث میں قلب (یعنی تبدیلی) کرنے کی مختلف وجوہات ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں:

       اپنی انفرادیت کا سکہ جمانا تاکہ لوگ اس شخص کی طرف راغب ہوں اور اس سے احادیث روایت کرنا شروع کریں۔

       محدث کے حافظے اور حدیث کی حفاظت کے معیار کا امتحان لینا۔

       بلا ارادہ غلطی سے حدیث کے الفاظ کا آگے پیچھے ہو جانا۔

قلب کا حکم

اگر اپنی انفرادیت کا سکہ جمانے کے لئے حدیث میں جان بوجھ کر تبدیلی کی جائے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک ناجائز کام ہے۔ یہ حدیث میں تبدیلی ہے جو کہ سوائے حدیثیں گھڑنے والوں کے اور کوئی نہیں کرتا۔

††††††††† اگر ایسا کسی محدث کے حفظ اور اہلیت کے امتحان کی غرض سے کیا جائے تو یہ جائز ہے بشرطیکہ وہ محفل ختم ہونے سے پہلے صحیح بات بیان کر دی جائے۔

††††††††† جہاں تک غلطی یا بھول چوک کا تعلق ہے تو اس معاملے میں غلطی کرنے والا معذور ہے۔ لیکن اگر وہ یہ غلطیاں کثرت سے کرتا ہو تو حدیث کو محفوظ کرنے کے بارے میں اس کی اہلیت مشکوک ہو جاتی ہے اور اس راوی کو ضعیف قرار دے دیا جاتا ہے۔

††††††††† مقلوب حدیث، مردود احادیث ہی کی ایک قسم ہے۔

مقلوب حدیث سے متعلق مشہور تصانیف

خطیب بغدادی کی کتاب "رفع الارتیاب فی المقلوب من الاسماء و الالقاب"، جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ مقلوب حدیث کی ایک خاص قسم سے متعلق ہے جس میں حدیث کی سند میں تبدیلی کی گئی ہو۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       مقلوب حدیث کی تعریف اور اس کی مختلف اقسام بیان کیجیے۔

       حدیث کی سند اور متن میں تبدیلی کی وجوہات کیا ہوتی ہیں؟

       اوپر بیان کردہ کتب کو انٹرنیٹ پر تلاش کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter