بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 5: مقبول و مردود دونوں قسم کی احادیث پر مشتمل تقسیم

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 7: زیادات الثقات

زیادات الثقات کا معنی

لغوی اعتبار سے 'زیادات'، زیادہ کی جمع ہے اور 'ثقات'، ثقہ کی۔ ثقہ اس شخص کو کہتے ہیں جو اچھے کردار کا ہو اور حدیث کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ اگر کسی حدیث کو کچھ ثقہ راویوں نے ایک انداز میں روایت کیا ہو، اور دوسری طرف کچھ اور ثقہ راویوں نے اسی حدیث کو کچھ اضافی الفاظ کے ساتھ روایت کر دیا ہو تو یہ اضافی الفاظ 'زیادات الثقات' کہلاتے ہیں۔

زیادات الثقات کے ماہرین

بعض اہل علم نے زیادات الثقات کا علم حاصل کرنے اور انہیں جمع کرنے کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہے۔ ان میں سے یہ ائمہ زیادہ مشہور ہیں:

       ابوبکر عبداللہ بن محمد بن زیاد نیشاپوری

       ابو نعیم الجرجانی

       ابو الولید حسان بن محمد القرشی

زیادات الثقات کا مقام

زیادات الثقات متن اور سند دونوں میں پائی جا سکتی ہیں۔ متن میں یہ کسی جملے یا لفظ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف سند میں اضافی الفاظ کے نتیجے میں کوئی موقوف حدیث، مرفوع اور مرسل حدیث متصل ہو سکتی ہے۔

متن میں اضافےکا حکم

متن میں اضافے کے بارے میں اہل علم میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے:

       بعض اہل علم اسے مطلقاً قبول کر لیتے ہیں۔

       بعض اسے مطلقاً مسترد کر دیتے ہیں۔

       بعض اہل علم کسی حدیث کے ان اضافی الفاظ کو مسترد کر دیتے ہیں جو اسی راوی نے بیان کیے ہوں جس نے پہلے بغیر اضافے کے حدیث روایت کی تھی۔ یہ اہل علم ان اضافی الفاظ کو قبول کر لیتے ہیں جو کسی اور ثقہ راوی نے روایت کیے ہوں۔ (علوم الحديث ص 77 والكفاية ص 424)

ابن صلاح نے 'زیادہ الثقات' کو ان کے رد و قبول کے اعتبار سے تین اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ یہ سب سے اچھی تقسیم ہے اور امام نووی وغیرہ نے بھی اسی تقسیم کی موافقت کی ہے:

       اگر حدیث کے اضافی الفاظ، ثقہ راویوں کی کسی حدیث سے متضاد مفہوم نہ پیش کر رہے ہوں تو انہیں قبول کیا جائے گا۔ یہ اسی حدیث کی طرح ہیں جو کسی ایک شخص نے روایت کی ہو۔

       اگر اضافی الفاظ، ثقہ راویوں کی کسی حدیث سے متضاد ہوں تو انہیں رد کر دیا جائے گا۔ یہ شاذ حدیث کی طرح ہیں۔

       اگر اضافی الفاظ سے، ثقہ راویوں کی کوئی مطلق حکم مشروط ہو جائے یا عمومی حکم، کسی مخصوص صورت حال کے لئے ہو جائے تو اس قسم کے اضافی الفاظ کے بارے میں ابن صلاح نے کوئی بات نہیں کی۔ امام نووی کہتے ہیں، "صحیح نقطہ نظر یہ ہے کہ اس قسم کے الفاظ کو قبول کرنا چاہیے۔" (امام شافعی اور مالک ان الفاظ کو قبول کرنے کے قائل ہیں جبکہ احناف اس کی تردید کرتے ہیں۔) (انظر التقريب مع التدريب جـ1 ـ ص 247)

زیادات الثقات کی مثالیں

متضاد مفہوم کے بغیر اضافہ

متضاد مفہوم کے بغیر اضافے کی مثال مسلم کی یہ حدیث ہے:

اعمش نے ابو رزین اور ابو صالح سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جب کتا تم سے کسی کے برتن میں منہ ڈال جائے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھوؤ۔"

اعمش کے شاگردوں نے اس حدیث کو اسی طرح روایت کیا ہے۔ ان کے صرف ایک شاگرد علی بن مسہر نے اس حدیث کو روایت کرتے ہوئے ایک لفظ "فلیرقہ" یعنی "اسے چاہیے کہ وہ اس برتن کو اچھی طرح صاف کرے" کا اضافہ کیا ہے۔ چونکہ علی بن مسہر ایک ثقہ راوی ہیں، اس وجہ سے ان کے اس اضافے کو قبول کیا گیا ہے۔

متضاد مفہوم میں اضافہ

ترمذی اور ابو داؤد روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:

یوم نحر اور ایام تشریق (10-13 ذوالحجہ) ہم اہل اسلام کے لئے عید کے دن ہیں۔ یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔

اس حدیث کے تمام طرق (سلسلہ ہائے اسناد) میں یہی الفاظ آئے ہیں۔ صرف ایک سلسلہ سند "موسی بن علی بن رباحóان کے والدóسیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ" میں اس حدیث میں یوم عرفہ (9 ذوالحجۃ) کا اضافہ ہے۔ (اس اضافے کے باعث نو ذوالحجۃ بھی ان ایام میں شمار ہو جاتا ہے جن میں روزہ رکھنا منع ہے۔ دیگر صحیح احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نو ذوالحجۃ کا روزہ رکھنا ایک اچھا عمل ہے۔ چونکہ یہ اضافہ دیگر صحیح احادیث کے خلاف ہے، اس لئے اسے مسترد کر دیا گیا ہے۔)

کسی حد تک مفہوم میں تضاد

میرے لئے پوری زمین کو مسجد اور پاکیزہ بنا دیا گیا ہے۔

اس حدیث کو تمام راویوں نے انہی الفاظ میں روایت کیا ہے۔ امام مالک نے اپنی سند سے ابو مالک الاشجعی سے روایت کی ہے جنہوں نے اس میں چند الفاظ کا اضافہ کیا ہے اور حدیث کچھ اس طرح ہو گئی ہے، " میرے لئے پوری زمین کو مسجد اور اس کی مٹی کو پاکیزہ بنا دیا گیا ہے۔"

اسناد میں اضافے کا حکم

اسناد میں اضافے کے بارے میں ہم یہاں دو بڑے مسائل کا ذکر کریں گے: ایک تو یہ کہ اسناد میں اضافے کے نتیجے میں کوئی مرسل حدیث، متصل ہو جائے اور دوسرا یہ کہ کوئی موقوف حدیث مرفوع ہو جائے۔ اس کے علاوہ اسناد میں اضافے کی جو صورتیں ہیں ان سے محض کسی عام راوی کا اضافہ ہوتا ہے اور اس کی تفصیل ہم "المزید فی متصل الاسانید" کی بحث میں بیان کر چکے ہیں۔

اسناد میں اضافے کے رد و قبول سے متعلق اہل علم میں اختلاف رائے ہے۔ اس میں چار نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں:

       فقہ اور اصول فقہ کے ماہرین کے نقطہ نظر کے مطابق جو سلسلہ سند متصل یا مرفوع ہو، اسے قبول کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ماہرین سند میں اضافے کو قبول کرتے ہیں۔

       حدیث کے اکثر ماہرین کے نزدیک اس سلسلہ سند کو قبول کیا جائے گا جو مرسل یا موقوف ہو۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کے نزدیک اضافے والی سند کو مسترد کر دیا جائے گا۔

       حدیث کے بعض ماہرین کے نزدیک اس سلسلہ سند کو قبول کیا جائے گا جو راویوں کی اکثریت روایت کر رہی ہے۔

       حدیث کے بعض دیگر ماہرین کے نزدیک اس سلسلہ سند کو قبول کیا جائے گا جس میں حفاظ حدیث زیادہ تعداد میں موجود ہوں۔

اس کی مثال یہ ہے کہ حدیث، "خاتون کے سرپرست کے بغیر نکاح نہ کیا جائے۔" کو یونس بن ابی اسحاق السبیعی، اسرائیل بن یونس، قیس بن ربیع نے ابو اسحاق سے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ دوسری طرف اس حدیث کو سفیان ثوری، شعبہ بن الحجاج وغیرہ نے ابو اسحاق سے مرسل سند کے ساتھ روایت کیا ہے (یعنی اس سلسلہ سند میں صحابی کا نام موجود نہیں ہے۔) (انظر المثال واختلاف الرواة في إرساله ووصله في الكفاية ص 409 وما بعدها)

سوالات اور اسائنمنٹ

       زیادات الثقات سے کیا مراد ہے؟

       متن میں اضافے کو قبول کرنے کی شرائط بیان کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter