بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 5: مقبول و مردود دونوں قسم کی احادیث پر مشتمل تقسیم

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 8: اعتبار، متابع، شاھد

تعریف

لغوی اعتبار سے 'اعتبار'، اعتبر کا مصدر ہے۔ اس کا معنی ہے امور میں غور و فکر کرنا تاکہ ایک چیز کو دوسری سے الگ کیا جا سکے۔ اصطلاحی مفہوم میں اگر ایک حدیث کو صرف ایک راوی نے روایت کیا ہو تو اس حدیث کی دیگر اسناد کی تلاش کرنے کو 'اعتبار' کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس حدیث کو روایت کرنے میں کیا کوئی شخص بھی اس راوی کے ساتھ شریک ہے۔

††††††††† لغوی اعتبار سے 'متابع'، تابع کا اسم فاعل ہے جس کا معنی ہے موافقت کرنے والا۔ اصطلاحی مفہوم میں اگر ایک حدیث کو ایک شخص روایت کر رہا ہو اور تلاش کرنے کے بعد کوئی اور راوی بھی مل جائے جو اسی حدیث کو روایت کر رہا ہو تو اس دوسرے راوی کی حدیث کو 'متابع' کہا جاتا ہے۔ اس میں شرط یہ ہے کہ حدیث کو روایت کرنے والے "صحابی" کے نام پر ان دونوں راویوں کی بیان کردہ حدیث کے سلسلہ سند میں اتفاق پایا جاتا ہو۔

††††††††† لغوی اعتبار سے 'شاہد'، شہادت کا اسم فاعل ہے جس کا معنی ہے گواہ۔ اصطلاحی مفہوم میں اگر کوئی ایک راوی کسی صحابی سے کوئی حدیث روایت کر رہا ہو اور دوسرا راوی انہی الفاظ یا مفہوم میں وہی حدیث کسی اور صحابی سے روایت کر رہا ہو تو اس دوسری حدیث کو شاہد کہا جاتا ہے۔ اس میں شرط یہ ہے کہ دونوں سلسلہ ہائے سند کے صحابی مختلف ہونے چاہییں۔ اس حدیث کو شاہد کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے دوسری حدیث بالکل اسی طرح مضبوط ہو جاتی ہے جیسے گواہ کے گواہی دینے کے نتیجے میں مدعی کا دعوی مضبوط ہو جایا کرتا ہے۔

کیا شاہد و تابع، اعتبار کی اقسام ہیں؟

کسی شخص کو یہ گمان ہو سکتا ہے کہ شاہد و تابع، اعتبار کی اقسام ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ اعتبار ریسرچ اور تفتیش کے اس طریقے کا نام ہے جس کے ذریعے تابع اور شاہد احادیث تک پہنچا جا سکتا ہے۔

تابع و شاہد کا دوسرا مفہوم

ہم نے تابع اور شاہد احادیث کی جو تعریف بیان کی ہے یہ اہل علم کی اکثریت نے بیان کی ہے اور یہی مشہور ہے۔ ان کی دوسری تعریف بھی ہے اور وہ یہ ہے:

††††††††† تابع اس حدیث کو کہا جاتا ہے جس میں کسی ایک شخص کی بیان کردہ حدیث کو لفظ بلفظ دوسرا شخص بھی روایت کر رہا ہو۔ دونوں احادیث کا صحابی خواہ ایک ہی ہو یا مختلف ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

††††††††† شاہد اس حدیث کو کہا جاتا ہے جس میں کسی ایک شخص کی بیان کردہ حدیث کے مفہوم کو دوسرا شخص بھی روایت کر رہا ہو۔ دونوں احادیث کا صحابی خواہ ایک ہی ہو یا مختلف ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

††††††††† شاہد اور تابع کو ایک ہی معنی میں استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ شاہد کو تابع اور تابع کو شاہد بھی کہا جاتا ہے۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ شاہد اور تابع دونوں قسم کی احادیث کا مقصد ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک حدیث کے ذریعے دوسری حدیث کو تقویت دی جائے۔ (شرح النخبة ص 38)

متابعت

لغوی اعتبار سے متابعت، تابع کا مصدر ہے اور اس کا معنی ہے موافق ہونا۔ اصطلاحی مفہوم میں اگر کسی حدیث کی روایت میں ایک کے علاوہ دوسرا راوی بھی شریک ہو تو اسے متابعت کہا جاتا ہے۔

††††††††† متابعت دو قسم کی ہے: متابعت تامہ اور متابعت قاصرہ۔ اگر شریک ہونے والا راوی اسناد کے شروع میں ہو تو اسے متابعت تامہ کہا جاتا ہے جبکہ اگر وہ اسناد میں کہیں اور ہو تو اسے متابعت قاصرہ کہا جاتا ہے۔

نوٹ: تابع اور شاہد احادیث کی تلاش کا مقصد صرف اور صرف یہ ہوتا ہے کہ اصل حدیث کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ اگر کسی حدیث کی تابع اور شاہد احادیث نہ بھی مل سکیں لیکن اصل حدیث، صحیح ہونے کی شرائط پر پورا اترتی ہو تو اس پر اعتماد کیا جائے گا۔

مثالیں

یہاں پر ہم ایک ہی مثال کا ذکر کریں گے جو حافظ ابن حجر نے متابعت تامہ اور متابعت قاصرہ کے بارے میں بیان کی ہیں۔ امام شافعی کتاب الام میں روایت کرتے ہیں۔

مالک، عبداللہ بن دینار سے، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے۔ جب تک تم (رمضان کا) چاند نہ دیکھ لو، روزہ رکھنا شروع نہ کرو اور جب تک (شوال کا) چاند نہ دیکھ لو، روزے رکھنا ختم نہ کرو۔ اگر بادل موجود ہوں (اور ان کی وجہ سے چاند نظر نہ آ سکے) تو تیس دن کی مدت پوری کر لو۔"

اس حدیث کے بارے میں کچھ لوگوں کو یہ خیال ہوا ہے کہ اس حدیث کو امام مالک سے روایت کرنے میں امام شافعی اکیلے ہیں۔ انہوں نے اس کا شمار ان کی غریب احادیث میں کر دیا ہے۔ امام مالک کے شاگردوں نے اس حدیث کو امام مالک سے دیگر الفاظ میں روایت کیا ہے کہ، "اگر بادل ہوں تو اندازہ کر لو۔"

††††††††† جب اس حدیث کے بارے میں اعتبار (یعنی تحقیق و تفتیش) کیا گیا تو اس حدیث کی متابعت تامہ، متابعت قاصرہ اور شاہد احادیث معلوم ہو گئیں۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:

       متابعت تامہ: امام بخاری نے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی سے اور انہوں نے امام مالک سے ان کی سند سے روایت کیا ہے جس میں یہ جملہ ہے، "اگر تمہارے سامنے بادل ہوں تو پھر تیس کا عدد پورا کر لو۔"

       متابعت قاصرہ: ابن خزیمہ نے عاصم بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد محمد بن زید سے، انہوں نے ان کے دادا سے اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ، "تیس پورے کر لو۔"

       شاھد: امام نسائی اپنی سند سے محمد بن حنین سے اور وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "اگر تمہارے سامنے بادل ہوں تو پھر تیس کا عدد پورا کر لو۔"

سوالات اور اسائنمنٹ

       تابع اور شاہد میں کیا فرق ہے؟

       تابع اور شاہد احادیث تلاش کرنے کا مقصد بیان کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter