بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

حصہ سوم: جرح و تعدیل

یونٹ 6: راوی اور اسے قبول کرنے کی شرائط

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 2: راوی کے قابل اعتماد ہونے کی شرائط

فقہ اور حدیث کے ائمہ کی غالب اکثریت کے مطابق راوی کے قابل اعتماد ہونے کی بنیادی شرائط دو ہیں:

       عدالت: عدالت کا مطلب ہے عادل یعنی اچھے کردار کا مالک ہونا۔ کسی راوی کے عادل ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ مسلمان ہو، بالغ ہو، عاقل ہو، فسق و فجور سے دور رہنے والا ہو اور کسی قسم کی بدنامی سے پاک ہو۔

       ضبط: ضبط کا مطلب ہے کہ وہ راوی دیگر ثقہ راویوں کی بیان کردہ احادیث کے خلاف احادیث روایت نہ کرتا ہو، حافظے میں کمزور نہ ہو، بڑی بڑی غلطیاں بکثرت نہ کرتا ہو، لا پرواہ نہ ہو اور نہ ہی وہمی طبیعت کا مالک ہو۔

راوی کا عادل ہونا کیسے ثابت ہوتا ہے؟

راوی کی عدالت کا ثبوت ان دو میں سے کسی ایک طریقے سے ہوتا ہے:

       جرح و تعدیل کے ماہرین کسی راوی کے بارے میں اپنی تحقیق و تفتیش کے بعد یہ طے کر دیں کہ شخص عادل ہے۔

       اہل علم کے مابین اس شخص کی عمومی شہرت ایک اچھے انسان کی ہو۔ اگر اہل علم میں کسی شخص کی عمومی شہرت اچھی ہے تو اس شخص کے لئے کسی جرح و تعدیل کے ماہر کی تحقیق و تفتیش کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی مثال ائمہ اربعۃ یعنی مالک، ابوحنیفہ، شافعی، احمد بن حنبل اور سفیان ثوری، سفیان بن عینیہ، اوزاعی وغیرہ ہیں۔

عدالت کے ثبوت کے بارے میں ابن عبدالبر کا نقطہ نظر

ابن عبدالبر کا نقطہ نظر یہ ہے کہ احادیث کا علم رکھنے والا ہر محتاط شخص عادل ہے اگر اس پر کوئی جرح (الزام) موجود نہ ہو۔ اس شخص کی حدیث کو قبول کیا جائے گا۔ لکھتے ہیں:

"ہر وہ شخص جس کے پاس یہ (حدیث کا) علم ہو، عادل تصور کیا جائے گا۔ اس کے بارے میں شدت پسند لوگوں کی تحریف، جھوٹے مذاہب کی دعوت دینے والوں کا تعصب، اور جاہلوں کی توضیحات کی نفی کی جائے گی۔" (رواه ابن عدي في الكامل وغيره)

ان کی اس رائے سے اہل علم متفق نہیں ہیں۔ اگر کوئی حدیث صحیح نہیں ہو گی اور اسے صحیح تصور کر لیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ایک شخص درحقیقت عادل نہیں ہے اور اسے عادل سمجھ لیا گیا ہے۔

راوی کے ضبط کا علم کیسے ہوتا ہے؟

اگر کسی راوی کی روایات کی غالب اکثریت، اس سے زیادہ ثقہ راویوں کی روایات سے موافقت رکھتی ہو تو اسے ضابط (احادیث محفوظ رکھنے والا) قرار دیا جائے گا۔ کسی ایک آدھ روایت میں مخالفت سے فرق نہیں پڑتا لیکن اگر یہ مخالفت کثیر تعداد میں پائی جائے تو اس شخص کا ضبط مشکوک ہو جائے گا اور اس کی بیان کردہ روایات قابل اعتماد نہ رہیں گی۔

کیا جرح و تعدیل کو بغیر کسی وضاحت کے قبول کر لیا جائے گا؟

صحیح اور مشہور نقطہ نظر کے مطابق اگر کسی راوی کی بغیر وجہ بتائے تعدیل (عادل قرار دینا) کی گئی ہو تو اسے درست قرار دیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی شخص کے عادل ہونے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں اور ان تمام وجوہات کو بیان کرنا مشکل کام ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں تعدیل کرنے والے ماہر کو یہ بتانا پڑے گا کہ، "اس راوی نے ان ان برے کاموں کا ارتکاب نہیں کیا یا اس نے اس اس نیک کام کا ارتکاب کیا ہے۔"

††††††††† جہاں تک جرح کا تعلق ہے، تو اسے بغیر تفصیلات کے قبول نہ کیا جائے گا کیونکہ ان تفصیلات کا ذکر کرنا مشکل کام نہیں ہے۔ چونکہ لوگوں میں کسی شخص کی جرح سے متعلق اختلاف رائے پایا جاتا ہے اس وجہ کوئی شخص تو کسی راوی سے حدیث روایت کرے گا کیونکہ وہ اسے قابل اعتماد سمجھتا ہے اور کوئی نہیں۔ ابن صلاح لکھتے ہیں:

اس اصول پر فقہ اور اصول فقہ کے ماہرین کا اتفاق ہے۔ خطیب بغدادی کہتے ہیں کہ یہی نقطہ نظر حفاظ حدیث کے ائمہ جیسے بخاری و مسلم کا ہے۔ اسی وجہ سے امام بخاری بہت سے ایسے راویوں سے حدیث قبول کر لیتے ہیں جن پر جرح موجود نہیں ہے جیسے عکرمہ اور عمرو بن مرزوق۔ امام مسلم نے سوید بن سعید اور کچھ دیگر راویوں سے حدیث قبول کی ہے اگرچہ ان پر الزام موجود تھے (لیکن ان کی تفصیل موجود نہ تھی۔) اسی طرح امام ابو داؤد نے کیا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر جرح کی تفصیلات موجود نہ ہوں تو اس راوی کی حدیث کو قبول کیا جا سکتا ہے۔ (علوم الحديث ص 96 باختصار يسير)

نوٹ: ایک دوسرا نقطہ نظر یہ بھی موجود ہے کہ اگر کسی راوی پر الزامات موجود ہوں اور اس کی جرح کی تفصیل بیان نہ بھی کی گئی ہو، تب بھی اس راوی کی حدیث کو قبول کرنے میں احتیاط برتی جائے۔ ایسی صورت میں یہ لازماً دیکھ لیا جائے کہ وہ حدیث کسی اور سند سے مروی ہے یا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث کا ہے جس کو قبول کرنے میں احتیاط برتنے پر امت کے اہل علم کا اتفاق رائے ہے۔

کیا جرح یا تعدیل ایک ماہر کی رائے سے ثابت ہو جاتی ہے؟

صحیح نقطہ نظر یہ ہے کہ جرح یا تعدیل ایک ماہر کی رائے سے بھی ثابت ہو جاتی ہے اگرچہ ایک دوسرا نقطہ نظر یہ موجود ہے کہ جرح و تعدیل کے لئے کم از کم دو ماہرین کی رائے کا ہونا ضروری ہے۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       کسی راوی کو عادل قرار دینے سے مراد کیا ہے؟

       راوی کو عادل قرار دینے کا معیار کیا ہے؟

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter