بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

حصہ سوم: جرح و تعدیل

یونٹ 7: جرح و تعدیل سے متعلق تصانیف

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 1: جرح و تعدیل سے متعلق تصانیف

چونکہ کسی حدیث کے صحیح یا ضعیف ہونے کا فیصلہ کرنا راویوں کے اچھے کردار اور حدیث کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت یا ان کے کردار اور حفاظت سے متعلق الزامات پر مبنی ہے، اس وجہ سے اہل علم نے اس سے متعلق کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان میں سے جو کتب تعدیل کے ماہرین کی آراء پر مشتمل ہیں، ان میں بہت سے راویوں کے کردار اور حدیث کے محفوظ رکھنے کی صلاحیت کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کام کو "تعدیل" کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر متعصب اہل علم نے ایسی کتب لکھی ہیں جن میں مختلف راویوں کے کردار اور حدیث کی حفاظت کی صلاحیت پر اعتراضات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کام "جرح" کہلاتا ہے۔ اس مناسبت سے ان کتابوں کو "کتب الجرح و التعدیل" کہا جاتا ہے۔

††††††††† یہ کتب کثیر تعداد میں موجود ہیں اور ان میں بڑی ورائٹی پائی جاتی ہے۔ ان میں سے کچھ کتب ایسی ہیں جن میں صرف ثقہ راویوں کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔ کچھ کتب میں صرف ضعیف اور الزام یافتہ راویوں کے حالات ہیں۔ کچھ ایسی کتابیں بھی ہیں جن میں ثقہ اور ضعیف دونوں قسم کے راویوں کے حالات موجود ہیں۔ بعض ایسی کتب موجود ہیں جن میں حدیث کی کسی خاص کتاب (جیسے ترمذی) کے راویوں (رجال) ہی کا تذکرہ ہے اور بعض ایسی کتب بھی ہیں جن میں کسی مخصوص کتاب کی بجائے ہر طرح کے راویوں کا ذکر موجود ہے۔

نوٹ: یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ محدثین کا احادیث کے حصول کا طریق کار کیا تھا۔ جو شخص بھی حدیث کا علم حاصل کرنا چاہتا، وہ سب سے پہلے اپنے شہر کے ماہرین حدیث کے پاس جاتا اور ان کی سماع حدیث کی محفلوں میں شریک ہو کر ان سے جتنی احادیث بھی میسر آتیں حاصل کر لیتا۔ اس شخص کی آمدورفت کا ریکارڈ یہ محدثین اور ان کے شاگرد نوٹ کر لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ شخص دوسرے شہروں کا سفر کرتا اور ہر قابل ذکر محدث کے پاس جا کر اس سے احادیث اخذ کرتا۔ ہر شہر کا محدث اور اس کے شاگرد، اس شخص کے سفر اور محدثین سے اس کی ملاقات کا ریکارڈ تیار کرتے رہتے۔

احادیث کے حصول میں اتنی محنت کرنے میں بالعموم اس شخص کی عمر کا بڑا حصہ صرف ہو جایا کرتا تھا لیکن جو شخص اس کٹھن منزل کو طے کر لیتا اس کے بعد اس کی شہرت ہر طرف پھیل جاتی۔ حدیث کے دیگر طالب علم اس شخص سے حدیث حاصل کرنے کے لئے دور دراز سے آتے اور وہ شخص عالمی سطح پر شہرت یافتہ (Celebrity) ہو جاتا۔

جس طرح موجودہ دور میں بھی کسی بھی مشہور شخصیت کے حالات معلوم کرنا کچھ مشکل کام نہیں ہے بالکل اسی طرح اسی طرح دور قدیم میں بھی حدیث کے ہر راوی کے حالات کو اسی طرح قلم بند کیا گیا ہے۔ بعض افراد نے جرح و تعدیل کے میدان میں اسپیشلسٹ بننے کا فیصلہ کیا اور انہوں نے راویوں سے متعلق معلومات کو اکٹھا کرنے کے لئے بالکل ویسی ہی محنت کی جیسی وہ راوی احادیث کو اکٹھا کرنے کے لئے کر چکے تھے۔ اس عمل کے نتیجے میں جرح و تعدیل کی کتب کا عظیم ذخیرہ معرض وجود میں آیا۔

††††††††† ائمہ جرح و تعدیل کے اس کام کی عظمت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے حدیث روایت کرنے والے (سوائے چند ایک کے) تمام افراد کے تراجم (یعنی حالات زندگی) بیان کیے ہیں اور ان کی جرح یا تعدیل کا فیصلہ کیا ہے۔ کسی راوی نے کس کس محدث سے احادیث کا علم حاصل کیا اور پھر اس راوی سے کس کس راوی نے احادیث کا علم حاصل کیا؟ کسی راوی نے کس کس شہر کا سفر کیا؟ کس راوی کی کس راوی سے کب اور کہاں ملاقات ہوئی؟ وغیرہ وغیرہ۔

††††††††† ان حضرات نے اپنے زمانے میں ایسا کارنامہ کر دکھایا جو اس سے پہلے کوئی بھی نہ کر سکا تھا بلکہ موجودہ دور میں بھی (پرنٹنگ اور کمپیوٹر کے وسائلکے باوجود) کوئی بھی قوم ایسا کارنامہ سرانجام نہ دے سکی ہے جو محدثین کے اس کام کے پاسنگ بھی ہو۔ انہوں نے حدیث کی روایت کرنے والے افراد کے ضخیم انسائیکلوپیڈیا تیار کر کے یہ کارنامہ انجام ہے۔ وہ اس عظیم کارنامے پر ستائش کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالی انہیں اس کام کا اجر عطا کرے۔ جرح و تعدیل کی بعض کتب کے نام یہ ہیں:

       امام بخاری کی 'التاریخ الکبیر'۔ یہ ثقہ اور ضعیف دونوں قسم کے راویوں کے حالات پر مشتمل ہے۔

       ابن ابی حاتم کی 'الجرح و التعدیل'۔ یہ بھی التاریخ الکبیر کی طرح ثقہ اور ضعیف ہر قسم کے راویوں کے حالات پر مبنی ہے۔

       ابن الحبان کی 'ثقات'۔ یہ خاص طور پر ثقہ راویوں کے حالات پر مشتمل ہے۔

       ابن عدی کی 'الکامل فی الضعفاء'۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب خاص طور پر ضعیف راویوں کے تراجم (Biographies) پر مشتمل ہے۔

       عبدالغنی المقدسی کی 'الکامل فی اسماء الرجال'۔ یہ کتاب خصوصی طور پر حدیث کی چھ کتب (بخاری، مسلم، ترمذی، ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ) کے راویوں کے حالات پر مشتمل ہے۔

       ذہبی کی 'میزان الاعتدال'۔ یہ کتاب ضعیف اور متروک راویوں کے حالات پر مشتمل ہے۔ متروک ایسے راویوں کو کہا جاتا ہے جن پر جرح کی گئی ہو لیکن اس جرح کو قبول نہ کیا گیا ہو۔

       ابن حجر کی 'تہذیب التہذیب'۔ (یہ اسماء الرجال کے فن میں عظیم ترین کتاب ہے۔) اس کتاب کا خلاصہ 'الکمال فی اسماء الرجال' کے نام سے (مزّی نے) کیا ہے۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       اوپر بیان کردہ کتابوں کو انٹرنیٹ پر تلاش کیجیے۔

       جرح و تعدیل سے متعلق کتابوں کو لکھنے کے لئے ائمہ جرح و تعدیل نے کیا کوششیں کی ہیں؟

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter