بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

حصہ سوم: جرح و تعدیل

یونٹ 8: جرح و تعدیل کے درجات (Levels)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 3: جرح کے مراتب اور اس سے متعلق الفاظ

       جرح کا سب سے آسان (اور بہترین) درجہ یہ ہے کہ جو کسی راوی کے نرم رویے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کے لئے جو الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ان کی مثال یہ ہے، "فلان لیّن الحدیث" یعنی "فلاں حدیث کے معاملے میں نرم ہے" یا "فیہ مقال" یعنی "اس شخص کے بارے میں بحث موجود ہے۔"

       جرح کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ کسی شخص کے بارے میں واضح کر دیا جائے کہ اس کی احادیث کو شرعی احکام اخذ کرنے کے لئے استعمال نہ کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر "لا یحتج بہ" یعنی "اس کی احادیث سے استدلال نہ کیا جائے" یا "ضعیف" یعنی "یہ کمزور شخص ہے" یا "لہ مناکیر" یعنی "اس کی احادیث منکر ہیں۔"

       جرح کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ کسی شخص کے بارے میں واضح طور پر بتا دیا جائے کہ وہ احادیث لکھتا ہی نہ تھا وغیرہ وغیرہ (یعنی وہ بہت ضعیف راوی ہے۔) مثال کے طور پر "لا تحل الروایۃ عنہ" یعنی "اس سے روایت کرنا تو جائز ہی نہیں" یا "ضعیف جدا" یعنی "وہ بہت ہی کمزور راوی ہے" یا "واہ بمرۃ" یعنی "بہت ہی کمزور راوی ہے"۔

       اس کے بعد جرح کا وہ درجہ آتا ہے جس میں راوی پر جھوٹ بولنے یا اسی طرز کا کوئی (اخلاقی) الزام موجود ہوتا ہے۔ مثلاً "فلان متھم بالکذب" یعنی "فلاں پر جھوٹ بولنے کا الزام موجود ہے" یا "متھم بالوضع" یعنی "اس پر احادیث گھڑنے کا الزام موجود ہے" یا "یسرق الحدیث" یعنی "وہ احادیث چوری کرتا تھا (یعنی دوسروں کی بیان کردہ احادیث اپنے نام سے بیان کرتا تھا)" یا "ساقط" یعنی "چھوڑا ہوا ہے" یا "متروک" یعنی "اسے ترک کر دیا گیا ہے" یا "لیس بثقۃ" یعنی "وہ قابل اعتماد نہیں ہے"۔

       جرح کے پانچویں درجے کے راویوں سے متعلق جھوٹ بولنے یا اسی طرز کا کوئی کام کرنے کے بارے میں واضح طور پر بتایا گیا ہوتا ہے مثلاً "کذاب" یعنی "جھوٹا"، "دجال" یعنی "دھوکے باز"، "وضاع" یعنی "حدیثیں گھڑنے والا"، "یکذب" یعنی "وہ جھوٹ بولتا ہے"، "یضع" یعنی "وہ حدیث گھڑتا ہے۔"

       جرح کا آخری اور بدترین درجہ وہ ہے جس میں جھوٹ وغیرہ کے متعلق مبالغہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً "فلان اکذب الناس" یعنی "فلاں تو انسانوں میں سب سے بڑا جھوٹا ہے" یا "الیہ المنتھی فی الکذب" یعنی "جھوٹ تو اس پر ختم ہے" یا "ھو رکن الکذب" یعنی "وہ پکا جھوٹا ہے"۔

جرح کے مختلف مراتب کا حکم

مجروح راویوں میں سے پہلے دو درجات کے راویوں کے بارے میں بھی یہ واضح ہے کہ ان کی احادیث سے شرعی احکام تو اخذ نہیں کیے جائیں گے البتہ ان کی احادیث کو صحیح احادیث کو مضبوط کرنے کے لئے (بطور شاہد اور تابع) استعمال کر لیا جائے گا۔ اس میں دوسرے درجے کے راویوں کی نسبت پہلے درجے کے راویوں کی احادیث زیادہ مضبوط سمجھی جائیں گی۔

††††††††† جہاں تک تیسرے، چوتھے، پانچویں اور چھٹے درجے کے راویوں کا تعلق ہے تو ان کی احادیث سے نہ تو احکام اخذ کیے جائیں گے، نہ ہی انہیں (بغیر کمزوری واضح کئے) روایت کیا جائے گا اور نہ ہی ان کا اعتبار کیا جائے گا۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       جرح کے چھ درجات کو ان کے حکم کے ساتھ بیان کیجیے۔

       تہذیب الکمال سے ہر درجے کے مجروح راویوں کی تین تین مثالیں بیان کیجیے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter