بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ چہارم: روایت، اس کے آداب اور اس کے ضبط کا طریق کار------ یونٹ 9: ضبط روایت

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 3: کتابت حدیث اور حدیث سے متعلق تصانیف کا طریق کار

حدیث کو تحریر کرنے کا حکم

صحابہ و تابعین میں حدیث کو تحریر کرنے کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض صحابہ جیسے سیدنا ابن عمر، ابن مسعود اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اس کام کو پسند نہیں کرتے تھے۔ بعض دیگر صحابہ و تابعین جیسے سیدنا عبداللہ بن عمرو، انس اور عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہم کے نزدیک ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

††††††††† بعد کے ادوار میں یہ اختلاف رائے ختم ہو گیا اور مسلمانوں کے تمام اہل علم نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ احادیث کو لکھ لینا چاہیے تاکہ ان کا یہ ذخیرہ ضائع نہ ہو جائے۔

احادیث لکھنے کے بارے میں اختلاف رائے کی وجوہات

صحابہ کے مابین اس اختلاف کی وجہ اس بارے میں مختلف احادیث تھیں۔ مثال کے طور پر:

مسلم روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "مجھ سے سن کر قرآن کے سوا کوئی اور بات نہ لکھا کرو۔ جس نے قرآن کے علاوہ اب تک کچھ اور لکھا ہے، وہ اسے مٹا دے۔"

بخاری و مسلم روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "ابو شاہ کو یہ باتیں لکھ کر دے دو۔"

اس کے علاوہ کچھ اور احادیث بھی موجود ہیں جن میں آپ نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو احادیث لکھنے کی اجازت دے دی۔

احادیث لکھنے سے منع کرنے اور اجازت دینے کی تطبیق

اہل علم نے دونوں قسم کی احادیث، جن میں حدیث لکھنے سے منع کیا گیا ہے یا حدیث لکھنے کی اجازت دی گئی ہے، کو اکٹھا کر کے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ لکھنے کی اجازت اس شخص کے لئے تھی جسے احادیث کے بھول جانے کا خدشہ تھا۔ جو شخص اچھی یادداشت کا مالک تھا، اسے لکھنے سے منع کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ تحریر پر ہی تکیہ نہ کرنے لگ جائے۔

††††††††† دیگر اہل علم کا یہ خیال ہے کہ شروع میں حدیث لکھنے سے اس وجہ سے منع فرمایا گیا کہ اس وقت قرآن کی تحریر کا کام جاری تھا اور یہ خدشہ تھا کہ قرآن اور حدیث خلط ملط نہ ہو جائیں۔ جب یہ خدشہ نہ رہا تو اس کے بعد حدیث لکھنے کی اجازت بھی دے دی گئی۔ اس وجہ سے حدیث لکھنے کی ممانعت منسوخ ہو چکی ہے۔

نوٹ: یہ دوسرا نقطہ نظر ہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاشرے میں اہم باتوں کو لکھ لینے کا زیادہ رواج موجود نہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے قرآن مجید کی تدوین کا جو کام شروع کر رکھا تھا، وہ عربوں کے لئے ایک نئی چیز تھی۔ چونکہ یہ لوگ تحریر کرنے، کاغذات اور دیگر مواد کو الگ الگ کرنے اور اسے محفوظ کرنے کے بہت زیادہ عادی نہ تھے، اس وجہ سے یہ خطرہ تھا کہ اگر قرآن کے علاوہ کچھ اور بھی لکھا جائے گا تو یہ کہیں قرآن میں شامل نہ ہو جائے۔

جب قرآن مجید کی تدوین کا کام بڑی حد تک مکمل ہو گیا اور اس کی ایک باقاعدہ جلد تیار کر لی گئی تو یہ خطرہ نہ رہا کہ قرآن و حدیث خلط ملط ہو جائیں گے۔ اس وجہ سے اب حدیث رسول کو لکھنے کی اجازت دے دی گئی۔

حدیث کو تحریر کرنے والے کو کیا احتیاطی تدابیر کرنی چاہییں؟

حدیث کو تحریر کرنے والے کاتب کو ان امور کا خیال رکھنا چاہیے:

       وہ فن تحریر کا ماہر ہو یعنی حروف کی شکلوں اور نقاط کو اچھی طرح پہچانتا ہو تاکہ حدیث کو پڑھنے اور لکھنے میں غلطی نہ کر بیٹھے۔

       اسے عبارت لکھنے کے رموز اور علامات (جیسے کامہ، فل اسٹاپ) سے اچھی طرح واقف ہونا چاہیے تاکہ وہ یہ جان سکے کہ ایک علامت سے پہلے اور بعد میں کیا لکھا ہوا ہے۔

       وہ تحریر کے مشہور اور رائج قواعد کے مطابق تحریر لکھے کیونکہ اگر وہ اپنے ہی قواعد ایجاد کر لے گا تو دوسرے لوگ اسے سمجھ نہ سکیں گے۔

       جہاں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ذکر مبارک آئے، وہ وہاں آپ پر درود و سلام بھی لکھے اور اس کی تکرار سے اکتائے نہیں۔

       اسی طرح جہاں اللہ تعالی کا ذکر آئے وہاں وہ اس کی حمد و ثنا بیان کرے جیسے "عزوجل"۔

       اسی طرح صحابہ اور علماء کا ذکر کرتے ہوئے 'رضی اللہ عنہ' اور 'رحمۃ اللہ علیہ' لکھنا نہ بھولے۔

       بعض لوگ ان سب کو اختصار سے لکھتے ہیں جیسے 'صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم' کی جگہ صرف 'ص' یا 'صلعم' لکھ دیتے ہیں۔ یہ ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔

احادیث کا اصل ماخذ سے موازنہ

حدیث کو لکھ لینے کے بعد کاتب کو چاہیے کہ وہ اس حدیث کا اپنے شیخ کی اصل کتاب سے موازنہ بھی کر لے اگرچہ اسے شیخ سے حدیث روایت کرنے کے لئے اجازت بھی مل چکی ہو۔ یہ تقابل اس طریقے سے ہونا چاہیے کہ لکھنے والا شخص اپنی اور شیخ کی تحریر کو آمنے سامنے رکھ کر موازنہ کرے۔ وہ اپنی تحریر پڑھ کر سنائے اور دوسرا ثقہ شخص شیخ کی کتاب کا اس سے موازنہ کرتا چلا جائے۔

نوٹ: ان تمام احتیاطی تدابیر کا تعلق اس بات سے ہے کہ حدیث کو روایت کرنے میں کوئی غلطی نہ ہو جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے کوئی غلط بات منسوب نہ ہو جائے کیونکہ یہ معاملہ بہت ہی نازک ہے۔ اگرچہ یہ تمام احتیاطی تدابیر اس وقت ایجاد کی گئیں جب احادیث کی تدوین کا عمل جاری تھا۔ لیکن موجودہ دور میں بھی حدیث کی کسی کتاب سے حدیث نقل کرتے ہوئے یہی احتیاط ملحوظ خاطر رکھنی چاہیے تاکہ غلطیوں کو کم سے کم کیا جا سکے۔

موجودہ دور میں ہم کمپیوٹر کی سہولت سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اب قرآن و حدیث کی سافٹ کاپیاں (Softcopies) الیکٹرانک فارمیٹ میں دستیاب ہو چکی ہیں۔ اگر ان کو اچھی طرح چیک کرنے کے بعد ان پر اعتماد کر لیا جائے تو پھر محض کاپی پیسٹ کر کے آیات و احادیث کو غلطی کے بغیر نقل کیا جا سکتا ہے۔

کتب حدیث میں استعمال ہونے والی بعض اصطلاحات

حدیث کو منتقل کرنے کے طریقے کو بیان کرنے کے لئے حدیث کی اکثر کتابوں میں اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ اس کی بعض صورتیں یہ ہیں:

       'حدثنا' کو 'ثنا' یا صرف 'نا' لکھا جاتا ہے۔

       'أخبرنا' کو 'أنا' یا 'أرنا' لکھا جاتا ہے۔

       ایک سند کے بعد دوسری سند شروع کرتے ہوئے 'ح' لکھا جاتا ہے۔

       بعض اوقات محض اختصار کے لئے لفظ 'قال' کو حذف کر دیا جاتا ہے اگرچہ یہ غلط ہے۔ مثال کے طور پر یوں لکھا جاتا ہے، "حدثنا عبداللہ بن یوسف اخبرنا مالک" یعنی "عبداللہ بن یوسف نے ہم سے یہ حدیث بیان کی، مالک نے ہمیں خبر دی"۔ اس کو اس طرح سے پڑھنا چاہیے "حدثنا عبداللہ بن یوسف قال اخبرنا مالک" یعنی "عبداللہ بن یوسف نے ہم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ مالک نے انہیں خبر دی۔"

       اسی طرح بعض مواقع پر اختصار کے لئے لفظ "انہ" کو حذف کر دیا جاتا ہے۔

طلب علم کے لئے سفر

ہمارے اسلاف نے حدیث کو حاصل کرنے کے لئے جو محنت کی، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔ انہوں نے حدیث کو جمع کر کے اسے محفوظ کرنے کے لئے جس قدر کاوشیں کی اور اپنا قیمتی وقت صرف کیا، اس کو بیان کرتے ہوئے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایک شخص اپنے شہر کے اہل علم سے احادیث جمع کرنے کے بعد قریب اور دور کے شہروں کا سفر کرتا تاکہ وہ ان شہروں کے اساتذہ سے احادیث حاصل کر سکے۔ اس کام کے لئے وہ لوگ سفر کی مشقتیں برداشت کرتے اور اپنی زندگی کا عیش و آرام چھوڑ دیتے۔

††††††††† خطیب بغدادی نے اس ضمن میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے "الرحلۃ فی طلب الحدیث"۔ اس میں انہوں نے صحابہ، تابعین اور بعد کے ادوار کے اہل علم کے سفروں کی تفصیلات لکھی ہیں جو انہوں نے حدیث جمع کرنے کے لئے کئے۔ انہیں پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ جو شخص عزیمت کی ان داستانوں کو پڑھنا چاہے، وہ اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرے کیونکہ یہ کتاب طالبین علم کے عزائم کو تقویت دے گی، ان کی ہمت بڑھائے گی اور ان کی پریشانیوں کو دور کرے گی۔

نوٹ: ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کے اس دور میں اس دور کے سفر کی مشقتوں کا اندازہ لگانا مشکل ہے جب لوگ ہزاروں کلومیٹر کا سفر گھوڑوں اور اونٹوں پر کیا کرتے تھے جن پر ایک دن میں بمشکل تیس چالیس کلومیٹر کا فاصلہ طے ہوتا۔ راتوں کو جنگلوں اور صحراؤں میں پڑاؤ کرنا پڑتا۔ دوسرے شہر پہنچنے پر ایسے لگژری ہوٹل بھی دستیاب نہ ہوا کرتے تھے جہاں انسان آرام سے رہ سکے۔ تمدن کی یہ ترقیاں بہت بعد کے دور میں وقوع پذیر ہوئیں۔

موجودہ دور میں جب سفر بہت آسان ہے، علم کے طالبین کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ موجودہ دور میں حدیث کے حصول کے لئے بلکہ دین کو سمجھنے کے لئے سفر کر کے اہل علم کے پاس جانا چاہیے۔

حدیث کی تصانیف کی اقسام

جو شخص خود کو اس قابل پائے کہ وہ حدیث کی خدمت کر سکے تو اس پر لازم ہے کہ وہ حدیث سے متعلق تصانیف لکھے۔ ان تصانیف کا مقصد متفرق احادیث کو اکٹھا کرنا، احادیث کے مشکل پہلوؤں کی وضاحت کرنا، غیر مرتب احادیث کو ترتیب دینا، حدیث کے طالب علموں کے استفادے کے لئے فہرستیں اور انڈیکس تیار کرنا (یا سافٹ وئیر بنانا) ہو سکتا ہے۔ تصنیف کرنے کے بعد کتاب کو شائع کرنے سے پہلے اس کی غلطیوں کی اصلاح ضروری ہے تاکہ تصنیف دوسروں کے لئے فائدہ مند ہو جائے۔

††††††††† اہل علم نے احادیث سے متعلق بہت سی اقسام کی کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سے مشہور اقسام یہ ہیں:

       الجوامع: یہ 'جامع' کی جمع ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں عقائد، عبادات، معاملات، سوانح حیات، مناقب، رقت قلب، فتنے، قیامت کی علامات وغیرہ وغیرہ ہر قسم کے موضوع پر احادیث اکٹھی کی گئی ہوں۔ اس کی مثال امام بخاری کی "الجامع الصحیح" ہے۔

       المسانید: یہ 'مُسند' کی جمع ہے۔اس قسم کی کتاب میں موضوع کی بجائے احادیث کو ان کے راوی صحابی کے نام سے ترتیب دیا جاتا ہے (یعنی ایک صحابی کی تمام روایات ایک جگہ اکٹھی کر دی جاتی ہیں۔) اس کی مثال امام احمد بن حنبل کی "مسند" ہے۔

       السنن: اس قسم کی کتابیں فقہ کے موضوعات کے مطابق لکھی جاتی ہیں تاکہ ہر موضوع سے متعلق احادیث ایک جگہ آ جائیں جن سے فقہاء استنباط کر سکیں۔ سنن اور جامع میں فرق یہ ہے کہ سنن میں عقائد، سوانح حیات اور مناقب سے متعلق احادیث درج نہیں کی جاتیں بلکہ صرف احکام سے متعلق احادیث ہوتی ہیں۔ اس کی مثال امام ابوداؤد کی "سنن" ہے۔

       المعاجم: یہ 'معجم' کی جمع ہے۔ اس قسم کی کتابوں میں مصنف احادیث کو اپنے اساتذہ کی ترتیب سے اکٹھا کرتا ہے۔ ان اساتذہ کے ناموں کو عموماً حروف تہجی سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ اس کی مثال امام طبرانی کی تین کتابیں "المعجم الکبیر، المعجم الاوسط اور المعجم الصغیر" ہیں۔

       العلل: اس قسم کی کتابیں ان احادیث پر مشتمل ہوتی ہیں جن میں کوئی علت (خامی) پائی جاتی ہو۔ احادیث کے ساتھ ساتھ ان کی (سند یا متن کی) خامیوں کو بھی بیان کیا جاتا ہے۔ اس کی مثال امام ابن ابی حاتم کی "العلل" یا امام دارقطنی کی "العلل" ہے۔

       الاجزاء: یہ 'جز' کی جمع ہے۔ یہ احادیث کی مختصر کتابیں ہوتی ہیں جن میں کسی ایک راوی یا کسی ایک موضوع سے متعلق احادیث اکٹھی کی جاتی ہیں۔ اس کی مثال امام بخاری کی "جزء رفع الیدین فی الصلاۃ" ہے۔

       الاطراف: اس قسم کی کتابوں میں کسی ایک حدیث کو بنیاد بناتے ہوئے اس سے متعلق دیگر احادیث کو درج کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد تمام احادیث کی اسناد اور متون کو بیان کیا جاتا ہے۔ اس کی مثال امام مِزِّی کی "تحفۃ الاشراف بمعرفۃ الاطراف" ہے۔

       المستدرک: مستدرک اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں دوسری کتاب کے مصنف کی شرائط پر پوری اترنے والی وہ احادیث بیان کی جاتی ہیں جو دوسری کتاب میں بیان نہیں کی گئیں۔ اس کی مثال ابو عبداللہ الحاکم کی "المستدرک علی الصحیحین" ہے۔ (اس کتاب میں حاکم نے وہ احادیث بیان کی ہیں جو ان کی تحقیق کے مطابق بخاری اور مسلم کی شرائط پر پورا اترتی ہیں لیکن انہوں نے ان احادیث کو اپنی کتابوں میں درج نہیں کیا۔ مستدرک کا مقصد نامکمل کتاب کو مکمل کرنا ہوتا ہے۔)

       المستخرج: مستخرج اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں کسی دوسری کتاب میں بیان کردہ احادیث کی مزید اسناد بیان کی جاتی ہیں۔ یہ مزید اسناد اصل کتاب کے مصنف نے بیان نہیں کی ہوتیں۔ دیگر اسناد کے یہ سلسلے اصل کتاب کے مولف کے استاذ یا ان کے کسی استاذ سے جا کر مل جاتے ہیں۔ اس کی مثال ابو نعیم الاصبہانی کی "المستخرج علی الصحیحین" ہے۔ (ابو نعیم نے اس کتاب میں بخاری و مسلم میں بیان کردہ احادیث کی مزید اسناد بیان کی ہیں تاکہ ان کی احادیث میں مزید قوت پیدا ہو جائے۔)

سوالات اور اسائنمنٹ

       کتب حدیث کی متعدد اقسام کی مثالیں بیان کیجیے۔

       موجودہ دور میں حدیث کے لئے سفر کیوں کیا جاتا ہے؟

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter