بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ چہارم: روایت، اس کے آداب اور اس کے ضبط کا طریق کار------ یونٹ 9: ضبط روایت

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 4: روایت حدیث کا طریق کار

روایت حدیث کے طریق کار کی وضاحت

اس عنوان کا معنی یہ ہے کہ حدیث کو روایت کرنے کی کیفیت، آداب اور طریق کار کو بیان کیا جائے جس پر عمل کرنا ایک حدیث روایت کرنے والے کے لئے ضروری ہے۔ اس ضمن میں ضروری بحث گزر چکی ہے۔ مزید تفصیلات یہ ہیں۔

نوٹ: یہاں جو مسائل بیان کیے گئے ہیں، ان کا تعلق اس دور سے ہے جب حدیث کی کتابیں مدون نہ ہوئی تھیں۔ انہیں بیان کرنے کے دو مقاصد ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس دور میں حدیث کی روایت میں کی گئی احتیاط کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اور دوسرے یہ کہ کتب حدیث میں موجود احادیث کو پرکھتے وقت یہ دیکھا جا سکے کہ کوئی حدیث ان شرائط پر پورا اترتی ہے یا نہیں؟

اگر راوی نے حدیث کو حفظ نہ کیا ہو تو کیا محض کتاب سے پڑھ کر اسے روایت کرنا درست ہے؟

اس بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض اہل علم نے اس معاملے میں بہت سخت رویہ اختیار کیا ہے اور بعض نے بہت نرم۔ اس کے علاوہ اس میں معتدل نقطہ نظر بھی پایا جاتا ہے۔

       بعض اہل علم جیسے امام ابوحنیفہ، مالک اور ابوبکر الصیدلانی الشافعی نے اس ضمن میں سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ ان کے نزدیک صرف اسی راوی سے حدیث روایت کرنا درست ہے جس نے حدیث کو زبانی یاد کر رکھا ہو۔

       بعض اہل علم جیسے ابن لہیعۃ نے نرم رویہ اختیار کیا ہے۔ ان کے نزدیک کسی نسخے سے بغیر اصل سے موازنہ کیے روایت کرنا درست ہے۔

       اہل علم کی اکثریت نے اس معاملے میں اعتدال کا رویہ اختیار کیا ہے۔ ان کے نقطہ نظر کے مطابق اگر کسی شخص نے کتاب میں دیکھ کر روایت کرنے کی شرائط کو پورا کر رکھا ہو اور اس کی کتاب بعد میں گم ہو جائے اور اس شخص کا حافظہ اتنا مضبوط ہو کہ غالب گمان کے مطابق اس نے حدیث کو بغیر تغیر و تبدل کے محفوظ کر رکھا ہو (تو اس کی روایت کو درست سمجھا جائے گا۔)

نابینا شخص کی روایت حدیث کا حکم

اگر کوئی نابینا شخص جو حدیث کو محض سن کر حفظ نہیں کر سکتا، اگر حدیث کو لکھنے میں کسی ایسے شخص کی مدد لیتا ہے جو ثقہ ہو، سن کر ٹھیک ٹھیک حدیث کو لکھ کر محفوظ کر سکے اور اس کے بعد نابینا شخص کو صحیح صحیح حدیث پڑھ کر بھی سنا سکے تو اہل علم کی اکثریت کے نزدیک اس کی روایت قابل قبول ہے۔ یہی معاملہ اس آنکھوں والے شخص کا ہے جو پڑھنے لکھنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔

حدیث کی روایت بالمعنی اور اس کی شرائط

قدیم اہل علم میں حدیث کو بالمعنی روایت کرنے کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ فقہ، اصول فقہ اور حدیث کے بعض ماہرین جیسے ابوبکر رازی اور ابن سیرین نے اس طریقے سے منع کیا ہے لیکن انہی فقہ، اصول فقہ اور حدیث کے قدیم و جدید ماہرین کی اکثریت نے حدیث کے مفہوم کو روایت کرنے کو درست قرار دیا ہے۔ یہی نقطہ نظر ائمہ اربعہ یعنی ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور احمد بن حنبل علیہم الرحمۃ کا ہے۔ ان کی شرط یہ ہے کہ روایت بالمعنی اسی صورت میں جائز ہے اگر روایت کرنے والا حدیث کو اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

††††††††† بعض دیگر اہل علم کا یہ نقطہ نظر ہے کہ روایت بالمعنی اسی صورت میں جائز ہے جب راوی حدیث کے الفاظ اور ان کے معانی سے اچھی طرح واقف ہو اور اس کے ساتھ ساتھ لفظ میں معمولی تبدیلیوں سے معانی کے تبدیل ہو جانے کو اچھی طرح جانتا ہو۔

††††††††† یہ تمام بحث ان احادیث کے بارے میں ہے جنہیں کسی کتاب میں تصنیف نہ کیا گیا ہو۔ جو احادیث کتب حدیث میں درج ہو چکی ہیں انہیں معنوی انداز میں روایت کرنا اب درست نہیں ہے۔ ان احادیث کے الفاظ کو بھی ہم معنی الفاظ سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ روایت بالمعنی کا جواز اسی وجہ سے ہے کہ ایک راوی کے لئے یہ مشکل ہے کہ وہ لفظ بلفظ کسی حدیث کو یاد رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ مفہوم کو یاد رکھ کر اسے روایت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اگر حدیث لکھی جا چکی ہو تو پھر یہ مسئلہ باقی نہیں رہتا اس وجہ سے لکھی ہوئی حدیث کو بالمعنی روایت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

††††††††† جو شخص حدیث کو بالمعنی روایت کر رہا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ حدیث مکمل کرنے کے بعد یہ الفاظ کہے، "یا کہ جیسا حضور نے فرمایا" یا "آپ نے اس سے ملتی جلتی بات ارشاد فرمائی"۔

نوٹ: روایت بالمعنی کا اصول درست ہے کیونکہ عملاً یہ بہت ہی مشکل کام ہے کہ کسی بات کو جن الفاظ میں سنا جائے، اسے انہی الفاظ میں کسی اور کے سامنے بیان کیا جائے۔ بات کے مفہوم کو اگر سننے والا اچھی طرح سمجھ لے تو اسے اپنے الفاظ میں آگے بیان کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لفظ بلفظ روایت کی جانے والی احادیث کی تعداد بہت کم ہے۔

روایت بالمعنی میں بعض اوقات کسی راوی کی غلط فہمی کے باعث بات تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے روایت کے ساتھ ساتھ درایت کے اصول بھی ایجاد کیے ہیں تاکہ راویوں کی غلط فہمی سے پیدا ہونے والے مسائل کا جائزہ لیا جا سکے۔

حدیث میں لحن اور اس کے اسباب

حدیث میں لحن، کا معنی ہے حدیث کو پڑھنے میں غلطی کرنا۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں:

       عربی زبان اور اس کی گرامر سے عدم واقفیت: حدیث کے طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ عربی زبان اور اس کی گرامر کو اتنا سیکھ لے جس سے وہ حدیث کو پڑھنے میں غلطی سے محفوظ رہ سکے۔ خطیب بغدادی، حماد بن سلمۃ کا قول نقل کرتے ہیں کہ "جو شخص حدیث کا علم حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ عربی زبان سے واقف نہیں ہے تو وہ اس گدھے کی طرح ہے جس نے جو کی خالی بوری اٹھا رکھی ہے۔" (تدريب الراوي جـ 2 ـ ص 106)

       کسی استاذ کے بغیر حدیث کی کتاب سے حدیث حاصل کرنے کی کوشش

جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ حدیث کو استاذ سے حاصل کرنے کے کئی طریقے ہیں اور ان میں بعض طریقے، دیگر کی نسبت زیادہ بہتر ہیں۔ ان میں سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ حدیث کو استاذ کے الفاظ میں سنا جائے۔ حدیث کے طالب علم کے لئے لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث کو اہل علم اور محققین کی زبان سے سنے تاکہ وہ پڑھنے کی غلطیوں سے محفوظ رہ سکے۔ ایک طالب حدیث کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ محض کتابوں اور صحیفوں پر اعتماد کرتے ہوئے احادیث روایت کرنے لگ جائے کیونکہ لکھنے میں بھی غلطیاں موجود ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم اہل علم کہا کرتے تھے، "میری ذاتی ڈائری سے قرآن یا حدیث کو نقل نہ کیا کرو۔"

نوٹ: یہ معاملہ دور قدیم میں تھا جب کتابوں کی حیثیت ذاتی ڈائری کی تھی اور قرآن و حدیث کو اعراب کے بغیر لکھا جاتا تھا۔ موجودہ دور میں قرآن مجید اور حدیث کی کتابیں اعراب کے ساتھ شائع ہو چکی ہیں۔ ان کتابوں کے اعراب کو بہت سے اہل علم نے چیک بھی کر لیا ہے۔ اس وجہ سے اب کتاب سے حدیث کو پڑھنے میں غلطی کا امکان بہت کم باقی رہ جاتا ہے۔ حدیث کے معانی اور مشکل مقامات کو سمجھنے کے لئے بہرحال اساتذہ کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       روایت بالمعنی کن شرائط کے ساتھ درست سمجھی گئی ہے؟

       حدیث میں لحن سے کیا مراد ہے اور اس کے اسباب کیا ہیں؟

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter