بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ چہارم: روایت، اس کے آداب اور اس کے ضبط کا طریق کار------ یونٹ 10: آداب روایت

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 2: حدیث کے طالب علم کے لئے مقرر آداب

تمہید

حدیث کے طالب علم کو بعض آداب عالیہ اور اخلاق کریمہ کی پیروی کرنا ضروری ہے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث کے اس عظیم علم کے لئے ضروری ہے۔ ان میں سے بعض آداب وہی ہیں جو محدث کے لئے بیان کیے گئے ہیں اور بعض طالب علموں کے ساتھ خاص ہیں۔

محدث اور طالب علم دونوں سے متعلق آداب

       طلب علم میں خلوص نیت

       علم کو دنیاوی اغراض و مقاصد کے لئے حاصل کرنے سے اجتناب

ابو داؤد اور ابن ماجہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جس نے علم کو اللہ تعالی کی رضا کے علاوہ کسی دنیاوی مقصد کے لئے حاصل کیا، وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو کو نہ پا سکے گا۔

       سنی ہوئی احادیث پر عمل کرنا

صرف طالب علم سے متعلق آداب

       طالب علم حدیث کو حاصل کرنے اور اسے سمجھنے کے لئے اللہ تعالی سے مدد، توفیق اور آسانی کی دعا کرے۔

       وہ کلی طور پر طلب حدیث میں مشغول ہو جائے اور اس کے حصول کے لئے ہر ممکن کوشش کرے۔

       اس کے شہر کے جو اساتذہ علمی، دینی اور اعلی سند کے اعتبار سے بلند مرتبے پر فائق ہوں، ان سے حدیث کی تحصیل شروع کرے۔

       طالب علم اپنے استاذ کی تعظیم و توقیر کرے۔ یہ علم حاصل کرنے اور استاذ کے علم سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے۔ استاذ اگر کبھی کوئی چھوٹی موٹی زیادتی بھی کر جائے تو طالب علم اسے برداشت کرے۔

       طالب علم اپنے ساتھی شاگردوں کی مدد کرے اور ان سے اپنا علم نہ چھپائے۔ علم کو چھپانا ایک گھٹیا درجے کی حرکت ہے جس سے کمزور طالب علم ناواقف رہ سکتے ہیں۔ علم حاصل کرنے کا مقصد تو اسے پھیلانا ہی ہے۔

       اگر استاذ عمر یا مرتبے میں شاگرد سے کم بھی ہو، پھر بھی اس سے علم کے حصول میں طالب علم جھجک یا تکبر کا شکار نہ ہو۔

       طالب علم خود کو محض حدیث کو سن کر لکھنے تک ہی محدود نہ رکھے بلکہ اسے سمجھنے کی کوشش بھی کرے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ بڑی کامیابی سے محروم رہ سکتا ہے۔

       احادیث کے علم کا آغاز صحیح بخاری و مسلم سے کیا جائے۔ اس کے بعد سنن نسائی، ترمذی اور ابوداؤد کا مطالعہ کیا جائے۔ اس کے بعد بیہقی کی سنن کبری اور پھر اگر ضرورت ہو تو مسانید جیسے مسند احمد اور موطاء امام مالک کا مطالعہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ دارقطنی کی "العلل"، بخاری کی تاریخ الکبیر، ابن ابی حاتم کی الجرح و التعدیل، ناموں سے متعلق ابن ماکولا کی کتاب، اور غریب الحدیث سے متعلق ابن الاثیر کی نھایۃ کا مطالعہ کیا جائے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter