بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ پنجم: اسناد اور اس سے متعلقہ علوم

یونٹ 11: اسناد سے متعلق اہم مباحث

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 1: عالی اور نازل اسناد

نوٹ: یہاں سے سند حدیث سے متعلق کچھ اہم مباحث شروع ہو رہے ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے محدثین نے حدیث کی سند سے متعلق کس قدر گہرائی میں جا کر تحقیق کی ہے۔

تمہید

اسناد کا علم اس امت کی خصوصیات میں سے ہے۔ پچھلی امتوں کے ہاں یہ علم نہیں پایا جاتا۔ یہ طریقہ ایسا ہے جس کے لئے بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ حدیث اور اخبار نقل کرتے ہوئے اس طریقے کی پیروی کرے۔ ابن مبارک کہتے ہیں، "اسناد دین میں سے ہیں۔ اگر اسناد نہ ہوتیں تو (دین سے متعلق) جس شخص کا جو جی چاہتا، وہ کہہ دیتا۔" ثوری کہتے ہیں، "اسناد مومن کا ہتھیار ہے۔"

نوٹ: فرض کیجیے کہ ایک شخص A نے اپنے استاذ B کو ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا۔ استاذ نے اس حدیث کی سند میں اپنے استاذ C کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس حدیث کو میں نے C سے سنا تھا۔ استاذ کا استاذ C ابھی زندہ ہیں۔ اسناد کو مختصر کرنے کے لئے A ، C کے پاس پہنچتا ہے تاکہ وہ اس سے حدیث کو براہ راست سن سکے۔ یہ عمل "علو اسناد" کہلاتا ہے۔ اس طریقے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سند کی زنجیر کی کڑیوں کے کم ہونے سے سند مختصر ہو جاتی ہے اور حدیث پر اعتماد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

علو اسناد امت کے اہل علم کا طریقہ رہا ہے۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں، "اسناد کو بلند کرنے کی کوشش اسلاف کا طریقہ رہا ہے۔"

(سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد (ان سے حضرت عمر کی بیان کی ہوئی حدیث سننے کے بعد) کوفہ سے مدینہ کا سفر کیا کرتے تھے تاکہ وہ اس حدیث کو براہ راست سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حاصل کر سکیں۔ حدیث کے حصول کے لئے سفر کرنا ایک نہایت ہی اچھا کام ہے۔ علو اسناد کے لئے صحابہ میں سے ایک سے زائد افراد نے سفر کیا۔ ان میں سیدنا جابر بن عبداللہ اور ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہما شامل ہیں۔

تعریف

لغوی اعتبار سے "عالی"، علو کا اسم فاعل ہے اور "نازل" نزول کا۔ یہ ایک دوسرے کے متضاد ہیں اور ان کا مطلب ہے بلند اور پست یا اعلی اور ادنیٰ۔

اصطلاحی مفہوم میں "عالی اسناد" اس سند کو کہا جاتا ہے جس میں راویوں کی تعداد دوسری سند کی نسبت کم ہو اور "نازل اسناد" اس سند کو کہتے ہیں جس میں راویوں کی تعداد زیادہ ہو۔

نوٹ: مثال کے طور پر ایک سند ہے ABCD اور دوسری سند ہے ABD۔ ان میں سے پہلی سند "نازل" اور دوسری سند "عالی" کہلائے گی۔

عُلُوّ کی اقسام

سند کے علو (یعنی عالی ہونے) کی پانچ اقسام ہیں۔ ان میں سے ایک علو مطلق (Absolute Height) ہے اور باقی علو نسبی (Relative Height) ہیں۔

                  صحیح اور پاکیزہ اسناد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے قربت: یہی مطلق علو ہے اور یہ علو کی تمام اقسام میں سب سے اعلی ہے۔ (یہی وجہ ہے کہ مالکنافعابن عمر کی سند کو سب سے عالی مانا جاتا ہے۔)

                  حدیث کے کسی ماہر امام سے قربت: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک راویوں کی تعداد زیادہ ہو تو پھر حدیث کے کسی امام جیسے اعمش، ابن جریج، مالک، وغیرہ سے صحیح سند کے ساتھ قریب ہونا اہمیت کا حامل ہے۔

                  راوی کی وفات کی وجہ سے علو: اس کی مثال وہ ہے جو امام نووی نے بیان کی ہے کہ "ابوبکر بن خلفحاکم" کی نسبت "بیہقیحاکم" کی سند زیادہ عالی ہے کیونکہ بیہقی کی وفات (458ھ)، ابن خلف کی وفات (487ھ) سے پہلے ہوئی تھی۔ (یعنی بیہقی کا زمانہ ابن خلف کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے زیادہ قریب ہے۔) (التقريب بشرح التدريب جـ2 ـ ص 168)

                   حدیث سننے میں اولیت کی وجہ سے علو: جس شخص نے اپنے استاذ سے حدیث کو پہلے سنا ہے، اس کی سند بعد میں سننے والے کی نسبت عالی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ دو افراد نے ایک ہی استاذ سے حدیث سنی۔ پہلے کی عمر اس وقت ساٹھ سال تھی اور دوسرے کی چالیس سال۔ ان دونوں حضرات تک پہنچنے والی سندیں برابر راویوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں سے پہلے شخص کی سند زیادہ عالی سمجھی جائے گی کیونکہ اس کی عمر زیادہ ہے۔

                  حدیث کی معتمد کتابوں سے قربت کی وجہ سے علو: متاخرین نے اس کی یہ صورتیں بیان کی ہیں:

a        موافقت: صحاح ستہ کے مصنفین کے اساتذہ میں سے کسی تک کم واسطوں سے سند کے پہنچنے کو موافقت کہتے ہیں۔ اس کی مثال ابن حجر نے اس طرح بیان کی ہے، "امام بخاری نے اپنی سند سے قتیبہ سے اور انہوں نے امام مالک سے ایک حدیث روایت کی ہے۔ فرض کیجیے بخاری اور قتیبہ کے درمیان آٹھ راوی ہیں۔ ہم اس حدیث کو کسی اور صحیح سند مثلاً ابو العباس السراج (امام بخاری کے استاذ) سے روایت کرتے ہیں اور ہمارے اور قتیبہ کے درمیان سات راوی ہیں تو ہماری سند میں اور امام بخاری کی سند میں موافقت پائی جائے گی اور ہماری سند زیادہ عالی ہو گی۔" (شرح النخبة ص 61)

a          بدل: صحاح ستہ کے مصنفین کے اساتذہ میں سے کسی ایک کے ہم سبق تک کم واسطوں سے پہنچنے کو بدل کہا جاتا ہے۔ اس کی مثال ابن حجر یوں بیان کرتے ہیں، "اوپر دی گئی مثال میں ہم امام بخاری کی سند کے مقابلے پر ایک اور سند سے اسی حدیث کو روایت کرتے ہیں لیکن وہ سند قتیبہ کی بجائے قعنبی (امام بخاری کے شیخ الشیخ) تک کم واسطوں سے پہنچ جاتی ہے۔ ہماری سند میں قعنبی، قتیبہ کا بدل ہوں گے۔"

a        مساوات: صحاح ستہ کے مصنفین کی بیان کردہ سند اور ہماری بیان کردہ سند کے راوی اگر برابر ہوں تو یہ مساوات کہلائے گی۔ ابن حجر کی مثال کے مطابق، "امام نسائی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں اور ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے مابین راویوں کی تعداد گیارہ ہے۔ اگر ہماری سند میں بھی یہ تعداد گیارہ ہے تو یہ مساوات کہلائے گی۔"

a        مصافحت: اگر ہماری اور صحاح ستہ کے مصنفین کے شاگردوں کی اسناد میں راویوں کی تعداد برابر ہو تو اسے مصافحت کہا جاتا ہے۔

نزول کی اقسام

سند کے نزول (یعنی سند کے طویل ہونے) کی بھی پانچ اقسام ہیں اور یہ علو کی پانچ اقسام کے عین متضاد ہیں۔

علو بہتر ہے یا نزول

اہل علم کی اکثریت کے نزدیک علو، نزول سے بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ راویوں کی طویل تعداد ہونے کی صورت میں حدیث میں کوئی خلل پیدا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ ابن مدینی کہتے ہیں، "نزول بدقسمتی ہے۔" یہ اسی صورت میں ہے جب دونوں اسناد صحیح ہونے میں ایک دوسرے کے برابر ہوں۔

نزول اس صورت میں بہتر ہے اس کی اسناد میں زیادہ ثقہ راوی پائے جاتے ہوں۔

مشہور تصانیف

اسناد عالی اور نازل کے بارے میں الگ سے کوئی تصنیف نہیں ہے لیکن اہل علم نے الگ سے مختصر کتابیں لکھی ہیں جن کا عنوان ہے "ثلاثیات"۔ ان میں وہ احادیث شامل ہیں جن کے مصنف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے درمیان صرف تین افراد موجود ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ علماء عالی اسناد کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ اس کی مثال ابن حجر کی ثلاثیات بخاری اور سفارینی کی ثلاثیات احمد بن حنبل ہیں۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       عالی اور نازل اسناد سے کیا مراد ہے؟ سند میں علو کی اہمیت بیان کیجیے۔

       علو کی اقسام کو اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔

 

اگلا سبق فہرست پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام / سفرنامہ ترکی / مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی / اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ / تعمیر شخصیت پروگرام / قرآن اور بائبل کے دیس میں / علوم الحدیث: ایک تعارف / کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص / اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ / الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات / اسلام اور نسلی و قومی امتیاز / اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟ / مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟ / دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار / اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت / Quranic Concept of Human Life Cycle / Empirical Evidence of Gods Accountability

 

php hit counter