بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ پنجم: اسناد اور اس سے متعلقہ علوم

یونٹ 12: اسماء الرجال (راویوں کا علم)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 3: راویوں میں رشتہ

اہمیت

یہ علوم حدیث کا وہ فن ہے جس میں حدیث کے ماہرین نے خصوصی تصانیف لکھی ہیں۔ اس علم میں ہر طبقے کے راویوں میں سے بہن بھائیوں کا پتہ چلایا جاتا ہے۔ اس فن کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے ماہرین حدیث کے راویوں سے متعلق معلومات جمع کرنے کے اہتمام کا علم ہوتا ہے۔ اس سے ہر راوی کے شجرہ نسب اور اس کے بھائیوں کا علم ہوتا ہے۔

فوائد

اگر دو راویوں کے باپ کا نام ایک ہی ہو تو اس سے یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں بھائی ہیں جبکہ درحقیقت ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ اس علم کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں راوی بھائی نہیں بلکہ ان کے باپوں کے نام اتفاقاً ملتے جلتے ہیں۔ مثال کے طور پر عبداللہ بن دینار اور عمرو بن دینار کے بارے میں یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ یہ بھائی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ان دونوں کے باپ کا نام دینار تھا۔

مثالیں

       دو بھائیوں کی مثال: صحابہ میں خطاب کے بیٹے زید اور عمر رضی اللہ عنہما۔

       تین بھائیوں کی مثال: صحابہ ہی میں ابو طالب کے بیٹے عقیل، جعفر اور علی رضی اللہ عنہم۔

       چار بھائیوں کی مثال: تبع تابعین میں ابو صالح کے بیٹے سھیل، عبداللہ، صالح اور محمد علیہم الرحمۃ۔

       پانچ بھائیوں کی مثال: تبع تابعین ہی میں عینیہ کے بیٹے سفیان، آدم، محمد، ابراہیم اور عمران علیہم الرحمۃ۔

       چھ بھائیوں کی مثال: تابعین میں سیرین کے بیٹے اور بیٹیاں محمد، انس، یحیی، معبد، حفصۃ اور کریمۃ علیہم الرحمۃ۔

       سات بھائیوں کی مثال: صحابہ میں مقرن کی اولاد نعمان، معقل، عقیل، سوید، سنان، عبدالرحمٰن اور عبداللہ رضی اللہ عنہم۔ ان ساتوں کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہ سب کے سب مکی دور میں ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی۔ اس فضیلت میں کوئی اور بہن بھائی ان کے ساتھ شریک نہیں ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سب کے سب غزوہ خندق میں اکٹھے تھے۔

مشہور تصانیف

       ابو المطرف بن فطیس الاندلسی کی "کتاب الاخوۃ"۔

       ابو العباس السراج کی کتاب "الاخوۃ"۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter