بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ پنجم: اسناد اور اس سے متعلقہ علوم

یونٹ 12: اسماء الرجال (راویوں کا علم)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 13: القاب

تعریف

القاب، لقب کی جمع ہے۔ کسی شخص کا لقب اس کی کسی اچھی یا بری خصوصیت یا صفت کی وجہ سے مشہور ہو جاتا ہے۔ لقب کسی شخص کی تعریف پر مبنی بھی ہو سکتا ہے اور مذمت پر بھی۔

القاب کی بحث

القاب کی بحث کا تعلق محدثین اور راویوں کے القاب سے ہے تاکہ ان راویوں کی پہچان کی جا سکے۔

فوائد

اس علم کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ اگر کسی شخص کا کہیں پر ذکر نام سے اور کہیں پر لقب سے کیا گیا ہو تو اس علم کی بدولت یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ دو افراد نہیں بلکہ ایک ہی ہیں۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس تحقیق و تفتیش کے نتیجے میں یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ اس شخص کو یہ لقب کیوں دیا گیا؟ (یعنی اس سے اس شخص کی خوبی یا خامی واضح ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں اس کا ثقہ یا ضعیف ہونا معلوم ہو جاتا ہے۔)

اقسام

لقب کی دو اقسام ہیں۔ ایک تو وہ جو صاحب لقب کو پسند ہو اور دوسرا وہ جو اسے ناپسند ہو۔ کسی بھی شخص کو پہلی قسم کے لقب سے پکارنا درست ہے اور دوسری قسم کے لقب سے پکارنا جائز نہیں ہے۔

مثالیں

       ضال (یعنی راہ سے بھٹکنے والا): یہ معاویہ بن عبدالکریم الضال کا لقب تھا۔ انہیں یہ لقب اس لئے دیا گیا کہ وہ مکہ کے راستے سے بھٹک گئے تھے۔

       ضعیف (یعنی کمزور): یہ عبداللہ بن محمد الضعیف کا لقب ہے۔ انہیں یہ لقب اس لئے دیا گیا کہ وہ جسمانی طور پر کمزور تھے جبکہ وہ حدیث کے بارے میں ضعیف نہ تھے۔ عبدالغنی بن سعید کہتے ہیں: "دو جلیل القدر افراد کو برے القاب ضال اور ضعیف سے نوازا گیا ہے۔"

       غُندر (یعنی شور مچانے والا): یہ شعبۃ الایمان کے مصنف محمد بن جعفر البصری کا لقب ہے۔ اس لقب کی وجہ یہ ہے کہ (مشہور محدث) ابن جریج جب بصرہ پہنچے تو انہوں نے حسن بصری علیہ الرحمۃ سے روایت کردہ ایک حدیث بیان کی۔ محمد بن جعفر نے اس بات پر شدید احتجاج کیا (کہ یہ حدیث درست نہیں۔) اس پر ابن جریج نے انہیں کہا، "اے غندر! خاموش ہو جاؤ۔"

       غُنجار (یعنی سرخ): یہ عیسی بن موسی التمیمی کا لقب ہے۔ انہیں یہ لقب اس لئے دیا گیا کیونکہ ان کے گال سرخ رنگ کے تھے۔

       صاعقۃ (یعنی بجلی): یہ امام بخاری کے استاذ حافظ محمد بن ابراہیم کا لقب ہے۔ انہیں یہ لقب دیے جانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اچھے حافظے کی وجہ سے احادیث کو بجلی کی طرح تیزی سے بیان کر دیتے تھے۔

       مشکدانہ: یہ عبداللہ بن عمر الاموی کا لقب ہے۔ یہ اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے مشک کی خوشبو کا دانہ۔

       مُطین (یعنی مٹی میں لتھڑا ہوا): یہ ابو جعفر الحضرمی کا لقب ہے۔ انہیں یہ لقب اس وجہ سے دیا گیا کہ ایک مرتبہ وہ بچپن میں پانی میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ بچوں نے ان کی پیٹھ پر مٹی مل دی۔ (یہ دیکھ کر ان کے استاذ) ابو نعیم نے ان سے کہا، "اے مطین! تم آج علم کی محفل (کلاس) میں حاضر کیوں نہیں ہوئے؟"

مشہور تصانیف

قدیم اور جدید اہل علم نے اس فن سے متعلق کئی کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سب سے اچھی اور مختصر کتاب حافظ ابن حجر کی "نزھۃ الباب" ہے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter