بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ پنجم: اسناد اور اس سے متعلقہ علوم

یونٹ 12: اسماء الرجال (راویوں کا علم)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 21: راویوں کے ممالک اور شہر

تعارف

اوطان، وطن کی جمع ہے اور یہ ملک کو کہتے ہیں اور بلد شہر کو کہتے ہیں۔ فن حدیث میں اس بحث کا تعلق راویوں کے ممالک اور شہروں سے ہے جہاں وہ پیدا ہوئے اور جہاں جہاں انہوں نے قیام کیا۔

فوائد

ممالک اور شہروں کی بدولت ملتے جلتے ناموں والے راویوں میں فرق کیا جا سکتا ہے۔ اس علم کی حفاظ حدیث کو بھی بہت ضرورت رہا کرتی ہے۔

عرب و عجم کے لوگوں کو کس سے منسوب کیا جاتا رہا ہے؟

دور قدیم میں اہل عرب زیادہ تر خانہ بدوش بدو تھے جو حالت سفر میں رہا کرتے تھے۔ یہ لوگ قبائل کی صورت میں رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں کسی مخصوص شہر کی بجائے قبیلے کی نسبت سے پکارا جاتا ہے۔ ظہور اسلام کے بعد ان لوگوں کی بڑی تعداد شہروں اور دیہاتوں میں آباد ہو گئی اور اس کے بعد انہیں شہر یا گاؤں کی طرف منسوب کیا جانے لگا۔

شہر تبدیل کرنے والے شخص کو کس سے منسوب کیا جائے؟

ایسے لوگ جنہوں نے اپنی رہائش کا شہر تبدیل کر لیا ہو، اور انہیں تمام متعلقہ شہروں سے منسوب کرنے کی ضرورت ہو تو پھر ابتدا پہلے شہر سے کی جاتی ہے اور پھر ترتیب سے شہروں کا نام لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص "حلب" میں پیدا ہوا اور اس کے بعد وہ مدینہ منورہ منتقل ہو گیا تو اس کے بارے میں کہا جائے گا، "فلان حلبی ثم مدنی" یعنی "فلاں حلبی اور اس کے بعد مدنی ہے"۔ اسی پر اکثر لوگوں کا عمل رہا ہے۔

††††††††† اگر تمام شہروں کا ذکر کرنا ضروری نہ ہو تو پھر کسی بھی ایک شہر سے اس شخص کو منسوب کر دیا جاتا ہے۔ ایسا بہت ہی کم کیا جاتا ہے۔

جو شخص کسی شہر کے قریبی گاؤں سے تعلق رکھتا ہو تو اسے کس سے منسوب کیا جاتا ہے؟

ایسے شخص کو اس کے گاؤں، قریبی شہر یا ملک سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص شام کے شہر حلب کے قریب "الباب" گاؤں سے تعلق رکھتا ہے۔ اس شخص کو البابی، حلبی یا شامی کہا جا سکتا ہے۔

کتنی مدت کے قیام سے کسی شخص کو اس شہر سے منسوب کیا جاتا ہے؟

عبداللہ بن مبارک کی رائے کے مطابق کسی شخص کو شہر سے منسوب کرنے کے لئے کم از کم چار سال کا قیام ضروری ہے۔

مشہور تصانیف

       اس ضمن میں قدیم ترین کتاب سمعانی کی کتاب "الانساب" ہے کیونکہ انہوں نے نسب کے ساتھ ساتھ ہر راوی کے شہر کا ذکر بھی کیا ہے۔

       ابن سعد نے "طبقات الکبری" میں بھی شہروں کا ذکر کیا ہے۔

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter