بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ ششم: حدیث کو پرکھنےکا درایتی معیار

یونٹ 13: درایت حدیث

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 2: شاذ حدیث

کسی حدیث کے صحیح ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ قرآن مجید، سنت متواترہ اور دیگر صحیح احادیث سے متضاد مفہوم پیش نہ کر رہی ہو۔ اگر ایسا ہو تو اس حدیث کو "شاذ" کہا جاتا ہے اور اس خصوصیت کو "شذوذ" کہتے ہیں۔

††††††††† یہ بات ممکن ہی نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم قرآن مجید یا اپنی ہی فرمائی ہوئی بات کے متضاد کوئی بات ارشاد فرمائیں۔ بظاہر ایسا نظر آنے کی وجہ یہی ممکن ہے کہ کسی راوی نے بات کو سمجھنے یا بیان کرنے میں کوئی غلطی کر دی ہو۔

اس اصول کی وضاحت کرتے ہوئے خطیب بغدادی ابن خزیمہ کا قول نقل کرتے ہیں:

لا أعرف انه روى عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حديثان بإسنادين صحيحين متضادان فمن كان عنده فليأت به حتى اؤلف بينهما۔

مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مروی ایسی کوئی دو احادیث کا علم نہیں ہے جو آپس میں باہم متضاد ہوں۔ اگر کسی شخص کو ایسی دو احادیث ملیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان میں مطابقت پیدا کرے۔ (الکفایۃ فی اصول الروایۃ باب 141)

ایسے موقع پر درست رویہ یہ نہیں ہے کہ احادیث کو فوراً متضاد قرار دے کر انہیں مسترد کر دیا جائے۔ صحیح رویہ یہ ہے کہ ایک طالب علم احادیث میں موافقت کے اسباب تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ عام طور پر اسی حدیث کی دیگر روایتوں کے مطالعے سے ان میں موافقت پیدا ہو جاتی ہے۔ اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث میں کوئی تضاد سرے سے ہوتا ہی نہیں ہے اور محض موقع محل یا سیاق و سباق کا علم نہ ہونے کے باعث کسی کو بظاہر تضاد نظر آ رہا ہوتا ہے۔

††††††††† ایسا راوی جو اکثر اوقات شاذ احادیث بیان کرتا ہو، اس کی دیگر روایات کو بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ خطیب بغدادی نے اپنی کتاب الکفایۃ کے باب 45 کا یہی موضوع رکھا ہے اور اس ضمن میں بہت سے محدثین کی آراء نقل کی ہیں۔

سوالات اور اسائنمنٹ

شاذ حدیث سے کیا مراد ہے؟ اسے کیوں مسترد کیا جاتا ہے؟

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter