بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروںکو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

علوم الحدیث: ایک تعارف

 

کتاب کوڈاؤن لوڈکرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ ششم: حدیث کو پرکھنےکا درایتی معیار

یونٹ 13: درایت حدیث

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سبق 3: علم و عقل کے مسلمات کے خلاف حدیث

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی پوری دعوت علم و عقل کے مسلمات پر مبنی ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ حضور کوئی ایسی بات ارشاد فرمائیں جو علم و عقل کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہو۔

اس صورت حال کے بارے میں خطیب بغدادی لکھتے ہیں:

فان خبر الواحد فيها مقبول والعمل به واجب۔ ويكون ما ورد فيه شرعا لسائر المكلفين ان يعمل به۔ وذلك نحو ما ورد في الحدود والكفارات وهلال رمضان وشوال وأحكام الطلاق والعتاق والحج والزكاة والمواريث والبياعات والطهارة والصلاة وتحريم المحظورات۔ ولا يقبل خبر الواحد في منافاة حكم العقل وحكم القرآن الثابت المحكم والسنة المعلومة والفعل الجاري مجرى السنة كل دليل مقطوع به۔

خبر واحد کے ذریعے پہنچنے والی ایسی احادیث ہوتی ہیں جن پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے۔ یہ وہ احادیث ہیں جن میں شرعی احکام بیان کیے گئے ہوتے ہیں تاکہ ہر وہ شخص جو ان پر عمل کرنے کا مکلف ہے، وہ عمل کرے۔ اس قسم کی احادیث حدود، کفارے، رمضان و شوال کے چاند، طلاق، غلاموں کو آزاد کرنے، حج، زکوۃ، وراثت، تجارت، طہارت، نماز اور حرام کاموں سے متعلق احکام پر مشتمل ہوتی ہیں۔ خبر واحد کو اس صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا اگر وہ عقل عام، قرآن، سنت معلومہ کے فیصلوں اور امت میں جاری عمل کے منافی ہو اور کسی قطعی دلیل کے ذریعے اس خبر واحد کا ان کے خلاف ہونا ثابت ہو جائے۔ (الکفایۃ فی اصول الروایۃ باب 140)

جلال الدین سیوطی، جعلی احادیث کا ذکر کرتے ہوئے ابوبکر بن طیب کا قول نقل کرتے ہیں۔

أن من جملة دلائل الوضع أن يكون مخالفاً للعقل بحيث لا يقبل التأويل ، ويلتحق به ما يدفعه الحس والمشاهدة ، أو يكون منافياً لدلالة الكتاب القطعية أو السنة المتواترة أو الإِجماع القطعي ، أما المعارضة مع إمكان الجمع فلا ، ومنها ما يصرح بتكذيب رواة جميع المتواتر ، أو يكون خبراً عن أمر جسيم تتوفر الدواعي على نقله بمحضر الجمع ثم لا ينقله منهم إلا واحد ، ومنها الإِفراط بالوعيد الشديد على الأمر الصغير ، أو الوعد العظيم على الفعل الحقير ، وهذا كثير في حديث القصاص۔

حدیث کے جعلی ہونے کے دلائل میں سے یہ بات شامل ہے کہ یہ عقل کے اس طرح خلاف ہو کہ اس کی توجیہ ممکن ہی نہ ہو۔ اسی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ حدیث میں کوئی ایسی بات کہی گئی ہو جو حس و مشاہدے کے خلاف ہو۔ اسی طرح حدیث اگر قرآن مجید کی قطعی دلالت یا سنت متواترہ یا اجماع قطعی کے منافی ہو (تو وہ بھی جعلی حدیث ہو گی۔) اگر تضاد کو دور کرنا ممکن ہو تو پھر ایسا نہ ہو گا۔ (جعلی احادیث) میں سے بعض ایسی ہوتی ہیں جن کے جھوٹ ہونے کی گواہی تمام راوی تواتر سے دیتے ہیں۔ بعض ایسی ہوتی ہیں جن میں کوئی ایسا بہت عظیم واقعہ بیان کیا گیا ہوتا ہے جسے کثیر تعداد میں لوگوں کو بیان کرنا چاہیے لیکن اسے صرف ایک ہی شخص نقل کر رہا ہوتا ہے۔ بعض ایسی احادیث ہوتی ہیں جن میں چھوٹی سی غلطی پر بہت بڑے عذاب کی وعید سنائی گئی ہوتی ہے یا چھوٹی سی نیکی پر بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا گیا ہوتا ہے۔ قصے کہانیاں بیان کرنے والوں کی اکثر احادیث ایسی ہی ہوا کرتی ہیں۔ ††(تدریب الراوی، موضوع حدیث کی بحث)

امام سیوطی، محدث ابن جوزی کا قول نقل کرتے ہیں۔

إذا رأيت الحديث يباين المعقول أو يخالف المنقول أو يناقض الأصول فاعلم أنه موضوع ۔

اگر آپ کوئی ایسی حدیث دیکھیں جو عقل کے خلاف ہو، یا (قرآن و حدیث کے) نقل شدہ (احکام) کے خلاف ہو یا (دین کے) اصولوں کے متضاد ہو تو جان لیجیے کہ یہ موضوع (جعلی) حدیث ہے۔ (تدریب الراوی، موضوع حدیث کی بحث)

††††††††† اگر ہمیں کوئی ایسی حدیث ملے جو بظاہر علم و عقل کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہو تو پھر اس میں ان تینوں صورتوں میں سے ایک ہی ممکن ہے۔

       حدیث کو کسی راوی نے صحیح طور پر بیان ہی نہیں کیا جس کی وجہ سے بات کچھ کی کچھ ہو گئی ہے۔ یا

       کسی راوی نے اس حدیث کو اپنی طرف سے وضع کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے منسوب کر دیا ہے۔ یا

       عقلی بنیاد پر جو مقدمہ قائم کر لیا گیا ہے، وہی درست نہیں ہے۔ موجودہ دور میں یہی صورت زیادہ تر پائی جاتی ہے۔

††††††††† بعض لوگ عقلی طور پر چند دلائل دے کر حدیث کو مسترد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک نہایت ہی نامعقول اور غیر علمی رویہ ہے۔ محض کسی ایک شخص کے کہہ دینے سے کوئی حدیث عقل کے خلاف نہیں ہو جایا کرتی۔ اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام انسان عقلی طور پر جس بات کو درست مانتے ہوں، حدیث اس کے خلاف نہ ہو۔ اس کی مثال سوائے چند ایک روایتوں کے پورے ذخیرہ احادیث میں نہیں ملتی۔ صحیح علمی رویہ یہ ہے کہ اسی حدیث کی دیگر روایات کو اکٹھا کر کے ان کا مطالعہ کیا جائے تو بات پوری طرح سمجھ میں آ جاتی ہے۔

سوالات اور اسائنمنٹ

اگر کوئی حدیث بظاہر عقل کے خلاف معلوم ہو تو اس ضمن میں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے؟

 

اگلا سبق†††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† فہرست††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† ††††††††† پچھلا سبق

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام/سفرنامہ ترکی/††مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی/اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ ††/تعمیر شخصیت پروگرام/قرآن اور بائبلکے دیس میں/علوم الحدیث: ایک تعارف ††/کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص/اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں ††/ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ ††/الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات ††/اسلام اور نسلی و قومی امتیاز ††/اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟/مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟/دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار ††/اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت/Quranic Concept of Human Life Cycle/Empirical Evidence of Godís Accountability

 

php hit counter